🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟
سب سے بہتر عورت کون سی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2715
أخبرني أبو الحُسين محمدُ بن أحمد بن تَميم الحنْظَلِي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: سئل النبيُّ ﷺ: أيُّ النساء خيرٌ؟ فقال:"خيرُ النساء مَن تَسُرُّ إذا نَظَر، وتُطيعُ إِذا أمَر، ولا تُخالِفُه في نفسِها ومالِها" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کونسی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین عورت وہ ہے جب اس کی طرف دیکھو تو وہ خوش کر دے۔ جب اس کو کوئی حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرے اور اپنی ذات اور اپنے مال کے حوالے سے تیری مخالفت نہ کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2715]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2716
حدَّثَناه أبو بكر بنُ إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا الليث بن سعد. وحدثنا أبو بكر، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد؛ كلاهما عن محمد بن عَجْلان، عن سعيد المقبُري، قال: سمعت أبا هريرة يُحدّث عن النبي ﷺ، مثلَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2682 - على شرط مسلم
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2716]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. ثَلَاثٌ مِنَ السَّعَادَةِ وَثَلَاثٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ .
تین چیزیں سعادت کی ہیں اور تین بدبختی کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2717
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبَهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبَهاني، حدثنا محمد بن بُكير الحَضْرمي، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا أبو إسحاق الشَّيباني، عن أبي بكر بن حَفْص، عن محمد بن سعد، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ثلاث من السَّعادة، وثلاث من الشَّقاوة، فمن السَّعادة: المرأةُ تراها تُعجِبُك، وتَغيبُ فتَأمنُها على نفسِها ومالِك، والدابةُ تكون وَطِيَّةً فتُلحِقُك بأصحابِك، والدارُ تكونُ واسعةً كثيرةَ المَرافقِ، ومن الشَّقاوة: المرأة تَراها فتَسوءُك، وتَحمِلُ لسانَها عليك، وإن غِبتَ عنها لم تأمنْها على نفسِها ومالِك، والدابةُ تكون قَطُوفا فإن ضربتَها أتعبَتكَ، وإن تركتَها لم تُلحِقْكَ بأصحابِك، والدارُ تكون ضيقةً قليلةَ المَرافق" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد مِن خالد بن عبد الله الواسطي إلى رسول الله ﷺ، تفرَّد به محمد بن بُكير عن خالد، إن كان حَفِظَه فإنه صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2684 - محمد قال أبو حاتم صدوق يغلط وقال يعقوب بن شيبة ثقة
سیدنا محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں سعادت کی علامت ہیں اور تین چیزیں بدبختی کی۔ سعادت میں سے یہ چیزیں ہیں: (1) ایسی عورت کہ جب تو اس کو دیکھے تو وہ تجھے خوش کرے۔ جب تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور تیرے مال کی نگرانی کرے۔ (2) تیز رفتار سواری جو تجھے تیرے ہمراہیوں کے ساتھ ساتھ رکھے۔ (3) ایسا وسیع گھر جس میں تمام سہولتیں موجود ہوں۔ (جو تین چیزیں انسان کی) بدبختی (ہیں وہ) یہ ہیں: (1) ایسی بیوی کہ جب تو اسے دیکھے تو تجھے پریشان کر دے، تیرے خلاف زبان درازی کرے اور اگر تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنی ذات کی اور تیرے مال کی حفاظت نہ کرے۔ (2) ایسی سست رفتار سواری اگر تو اس کے ساتھ پیدل چلے تو وہ تجھ کو تھکا دے اور اگر تو اس پر سواری کرے تو وہ تجھے تیرے ساتھیوں کے ساتھ ملا نہ سکے۔ (3) ایسا تنگ مکان جس میں بہت کم سہولیات ہوں۔ ٭٭ خالد بن عبداللہ واسطی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اس حدیث کو خالد سے روایت کرنے میں محمد بن بکیر منفرد ہیں، اگر یہ اس تفرد سے سلامت ہے تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2717]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ .
محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2718
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا المُستلِم بن سعيد، حدثنا منصور بن زاذان، عن معاويةَ بن قُرّة، عن مَعقِل بن يَسَار، قال: جاء رجل إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إني أَصبتُ امرأةً ذاتَ حَسَبٍ ومَنصِبٍ ومالٍ، إلّا أنها لا تَلِدُ، أفأتزوّجُها؟ فنهاهُ، ثم أتاه الثانيةَ، فقال له مثلَ ذلك، فنهاهُ، ثم أتاه الثالثةَ، فقال له مثلَ ذلك، فقال رسول الله ﷺ:"تزوّجُوا الوَدُودَ الولُودَ، فإني مُكاثِرٌ بكم الأُممَ" (1) .
هذا حديث صحيح (2) الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2685 - صحيح
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے ایک مالدار، صاحبِ مصنب، بڑے خاندان کی عورت کا رشتہ مل رہا ہے لیکن اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی، تو کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرما دیا۔ وہ ایک مرتبہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور یہی عرض کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس کو منع کر دیا۔ وہ تیسری مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی منع کر دیا اور فرمایا: محبت کرنے والی، بچے پیدا کرنے والی عورتوں سے شادی کیا کرو کیونکہ تمہاری کثرت کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2718]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2719
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني هارون بن معروف، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سعيدُ بنُ عبد الرحمن الجُمَحي، أنَّ محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب حدثه عن أبيه، عن جده علي بن أبي طالب، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"ثلاثٌ يا عليُّ لا تُؤخِّرُهُنَّ: الصلاةَ إذا أَتَتْ، والجِنازةَ إذا حَضَرتْ، والأيِّمَ إذا وَجَدَت كُفْؤًا" (3) .
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2686 - صحيح
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی: تین چیزوں میں تاخیر مت کرنا: (1) نماز، جب اس کا وقت ہو جائے۔ (2) جنازہ، جب میت تیار ہو جائے۔ (3) بیوہ (کا نکاح کرنے میں) جب اس کا ہم پلہ رشتہ مل جائے۔ ٭٭ یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2719]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ فَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ .
اپنی نسل کے لیے بہتر انتخاب کرو، ہم پلہ عورتوں سے نکاح کرو اور اپنی عورتوں کا نکاح ہم پلہ لوگوں میں کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2720
حدثنا عليُّ بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عبد الله بن سعيد الكِنْدي، حدثنا الحارث بن عمران الجَعفَري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ"تخيَّروا لنُطَفِكُم، فَأَنكِحُوا الأَكْفاءَ، وانكِحُوا إليهم" (4) . تابعه عِكْرمة بن إبراهيم عن هشام بن عُرْوة:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے نطفوں کو سنبھال کر رکھو، اپنے ہم پلہ کو رشتہ دو اور انہی سے رشتہ لو۔ اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کرنے میں عکرمہ بن ابراہیم نے حارث بن عمران کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2720]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2721
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا زياد بن أيوب، حدثنا عِكْرمة بن إبراهيم، عن هشام بن عُرْوة، فذكره بإسناده مثله (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2687 - الحارث متهم وعكرمة ضعفوه
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2721]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2722
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه الزاهد ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا الحسين بن واقِد. وأخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقِد، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ أحسابَ أهلِ الدنيا الذي يَذهبُون إليه لَهذا المالُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2689 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا والے جس خاندانی شرافت پہ مرتے ہیں، وہ یہی مال و دولت ہی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2722]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى .
حسب و نسب مال ہے اور بزرگی تقویٰ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2723
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله بن أبي داود المُنادي، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا سلَّام بن أبي مُطيع، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة قال: قال رسول الله ﷺ:"الحَسَبُ المالُ، والكَرَمُ التقوى" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2690 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2723]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. كَرَمُ الْمُؤْمِنِ دِينُهُ وَمُرُوَّتُهُ عَقْلُهُ وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ .
مومن کی بزرگی اس کا دین ہے، اس کی شرافت اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کا اخلاق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2724
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحَسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى الفرّاء، حدثنا مسلم بن خالد، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"كَرَمُ المؤمن دينُه، ومُروءتُه عقلُه، وحَسَبُه خُلُقُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2691 - الزنجي ضعيف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کا کرم اس کا دین ہے، اس کی مروت اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں