🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
106. مَسَارَّتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ وَفَاةِ مَعَ عَلِيٍّ .
وفات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ انس و مسرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4722
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الله بن محمد بن أبي شَيْبة؛ قال عبد الله بن أحمد: وقد سمعتُه أنا من عبد الله بن محمد بن أبي شَيْبة، قال: حدثنا جَرير بن عبد الحميد، عن مُغيرة، عن أم (1) موسى، عن أم سلمة قالت: والذي أحلِفُ به إن كان عليٌّ لأقربَ الناسِ عهدًا برسولِ الله ﷺ، عُدْنا رسولَ الله ﷺ غَداةً وهو يقول:"جاء عليٌّ؟ جاء عليٌّ؟" مرارًا، فقالت فاطمةُ: كأنك بعثتَه في حاجةٍ، قالت: فجاء بعدُ، قالت أم سلمة: فظننتُ أنَّ له إليه حاجةً فخرجْنا من البيت، فقعدنا عند الباب وكنتُ مِن أدناهم إلى البابِ، فأكبَّ عليه رسولُ الله ﷺ، وجعل يُسارِرُه ويُناجِيه، ثم قُبض رسولُ الله ﷺ من يومِه ذلك، فكان عليٌّ أقربَ الناسِ عهدًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4671 - صحيح
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتی ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب تھے، ہم ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئی ہوئی تھیں، آپ بار بار پوچھ رہے تھے: علی آ گئے؟ علی آ گئے؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں: یوں لگتا ہے جیسے آپ نے ان کو کسی کام سے بھیجا ہے، آپ فرماتی ہیں: کچھ دیر بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں سمجھ گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کوئی ضروری کام ہے۔ چنانچہ ہم حجرہ سے باہر نکل گئیں، لیکن بالکل دروازہ کے قریب ہی بیٹھ گئیں، اور میں تو سب سے زیادہ دروازے کے قریب تھی، (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جھک کر سرگوشی میں کوئی راز کی بات کہ رہے تھے، پھر اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4722]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. إِخْبَارُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِقَتْلِ عَلِيٍّ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4723
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا علي بن عبد الله المَديني وإبراهيم بن محمد بن عَرْعَرة، قالا: حدثنا حَرَمي بن عُمَارة، حدثني الفضل بن عَمِيرة، أخبرني مَيمونٌ الكُردي، عن أبي عثمان النَّهدي، أنَّ عليًّا قال: بينما رسولُ الله ﷺ آخِذٌ بيدِي ونحن في سِكَك المدينة، إذ مَرَرْنا بحديقةٍ، فقلتُ: يا رسول الله، ما أحسنَها مِن حديقةٍ، قال:"لك في الجنة أحسنُ منها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4672 - صحيح
ابوعثمان نھدی فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ تھامے ہوئے مدینہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے، جب ہم ایک باغ کے پاس پہنچے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ باغ کس قدر خوبصورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت باغ ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4723]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
108. إِخْبَارُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِمُقَاتَلَةِ عَلِيٍّ النَّاكِثِينَ وَغَيْرَهُمْ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے اس بات کی خبر کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناکثین اور دیگر گروہوں سے قتال کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4724
حدثنا دَعلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا عبد العزيز بن معاوية البصري، حدثنا عبد العزيز بن الخطَّاب، حدثنا ناصح بن عبد الله المُحلِّمي، عن عطاء بن السائب، عن أنس بن مالك قال: دخلتُ مع النبيِّ ﷺ على عليّ بن أبي طالب يعودُه وهو مريضٌ، وعنده أبو بكر وعمر، فتحوَّلا حتى جلس رسولُ الله ﷺ، فقال أحدُهما لصاحبِه: ما أُراه إلَّا هالكًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"إنه لن يموتَ إلَّا مقتولًا، ولن يموتَ حتى يُملأَ غَيظًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4673 - إسناد واه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیمار تھے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس گیا، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، وہ دونوں وہاں سے ایک طرف ہٹ گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اب علی نہیں بچیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو شہادت کی موت آئے گی، اور یہ اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک غیظ سے بھر نہ جائیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4725
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن حُميد، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني أبو زيد الأحول، عن عَتّاب بن ثعلبة، حدثني أبو أيوب الأنصاري في خلافة عمر بن الخطّاب، قال: أمَرَ رسولُ الله ﷺ عليَّ بن أبي طالب بقتالِ الناكِثينَ والقاسِطينَ والمارِقينَ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4674 - لم يصح
سیدنا عقاب بن ثعلبہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مجھے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ناکثین (بیعت توڑنے والوں یعنی اصحاب جمل)، قاسطین (بغاوت کرنے والے یعنی اہل صفین) اور مارقین (دین سے نکل جانے والوں یعنی خوارج) سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4725]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4726
حدّثَناه أبو بكر بن بالَوَيهِ حدثنا محمد بن يونس القرشي، حدثنا عبد العزيز بن الخطّاب، حدثنا علي بن غُراب، عن علي بن أبي فاطمة، عن الأصبَغ بن نُبَاتة، عن أبي أيوب الأنصاري، قال: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول لعَليّ بن أبي طالب:"تُقاتِلُ الناكِثين والقاسِطين والمارِقين بالطُّرُقات والنَّهْروانات وبالشَّعَفات (1) "، قال أبو أيوب قلتُ: يا رسول الله، مع من نقاتلُ هؤلاءِ الأقوام؟ قال:"مع عليّ بن أبي طالبٍ" (2) .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو ناکثین، قاسطین اور مارقین سے گزرگاہوں میں، دریائی راستوں میں اور پہاڑی راستوں میں جہاد کرو گے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ کس شخص سے لڑیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4726]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4727
حدثنا أبو حفص عمر بن أحمد الجُمَحي بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا هُشيم، عن إسماعيل بن سالم، عن أبي إدريس الأَوْدي، عن علي قال: إنَّ ممّا عَهِدَ إِليَّ النبيُّ ﷺ أَنَّ الأُمَّةَ سَتَغدِرُ بي بعدَه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4676 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو عہد لئے منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ ان کے بعد امت ہمارے ساتھ بغاوت کرے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4727]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4728
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا سهل بن المتوكِّل، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا محمد بن فُضيل، عن أبي حيَّان التيمي، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: قال النبي ﷺ لِعليٍّ:"أمَا إنك ستَلْقى بَعدي جَهْدًا"، قال: في سَلامةٍ من دِيني؟ قال:"في سَلامةٍ من دِينِك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4677 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے بعد مشقت میں مبتلا ہو گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حالات میں) میرا ایمان سلامت ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا دین سلامت ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4728]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
109. وَجْهُ تَلْقِيبِ عَلِيٍّ بِأَبِي تُرَابٍ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کا لقب دیے جانے کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4729
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا إبراهيم بن بشّار، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن أَعْيَن، عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيْلي، عن أبيه، عن علي، قال: أتاني عبدُ الله بن سَلَام وقد وَضَعتُ رِجْلي في الغَرْزِ وأنا أُريد العراقَ، فقال: لا تأتي (1) العراقَ، فإنك إن أتيتَه أصابكَ به ذُبابُ السَّيف، قال عليُّ: وايْمُ اللهِ، لقد قالها لي رسولُ الله ﷺ قَبلَك. قال أبو الأسود: فقلتُ في نفسي: يا للهِ! ما رأيتُ كاليوم، رجلٌ محاربٌ يُحدِّث الناسَ بمثلِ هذا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4678 - ابن بشار ذو مناكير وابن أعين غير مرضي
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے، اس وقت میں عراق کی طرف روانگی کے لئے سواری پر سوار ہو چکا تھا، انہوں نے کہا: آپ عراق تشریف نہ لے جایئے۔ اس لئے کہ اگر آپ وہاں گئے تو جنگ میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! تم سے پہلے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھ سے فرما چکے ہیں۔ سیدنا ابوالاسود فرماتے ہیں: میں نے اپنے دل ہی دل میں کہا: یا خدایا! میں نے اس جیسا جنگجو لوگوں سے یوں باتیں کرتا آج تک نہیں دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4729]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4730
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر بن بَرِّي، حدثنا أبي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا علي بن بحر بن بَرِّي، حدثنا عيسى بن يونس حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني يزيد بن محمد بن خُثَيم المُحارِبي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن محمد بن خُثيم أبِ (3) يزيد بن محمد، عن عمار بن ياسر قال: كنت أنا وعليٌّ رفيقَين في غزوة ذات العُشَيرة، فلما نزلها رسولُ الله ﷺ وأقام بها، رأينا ناسًا من بني مُدلِجٍ يعملون في عَينٍ لهم في نَخلٍ، فقال لي عليٌّ: يا أبا اليَقْظان هل لك أن تأتيَ هؤلاءِ فننظرَ كيفَ يعملُون؟ فجئناهم فنظرنا إلى عملهم ساعةً، ثم غَشِيَنَا النومُ، فانطلقتُ أنا وعليٌّ فاضطجعنا في صَوْرٍ من النخل في دَقْعاءَ من التراب فنِمْنا، فواللهِ ما أَيقَظَنَا إِلَّا رسولُ الله ﷺ يُحرّكُنا برِجْلِه، وقد تَترّبْنا من تلك الدَّقْعاء، فقال رسولُ الله ﷺ:"يا أبا تُراب"، لمَا يَرى عليه من التُّراب، فقال رسول الله ﷺ:"ألا أُحدِّثُكما بأشقى الناسِ رجلَين؟" قلنا: بلى يا رسول الله، قال:"أُحَيمِرُ ثَمُودَ الذي عَقَر الناقةَ، والذي يَضربُك يا عليُّ على هذه - يعني قَرْنَه - حتى تُبَلَّ [هذه] (1) من الدَّمِ" يعني لحيتَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة، إنما اتَّفقا على حديث أبي حازم عن سهل بن سعد:"قُمْ أبا تُرابٍ".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4679 - على شرط مسلم
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ ذی العشیرۃ کے موقع پر میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کے فریق تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کیا تو ہم نے بنی مدلج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو ایک باغ میں ایک چشمے پر کام کر رہے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابوالیقظان کیا خیال ہے؟ ہم وہاں چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہم وہاں پر جا پہنچے کچھ دیر ہم ان کو دیکھتے رہے پھرہم پر نیند کا غلبہ ہو گیا، اس لئے میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ درختوں کے ایک جھنڈ میں مٹی پر لیٹ کر سو گئے، خدا کی قسم! (ہم بہت دیر تک سوتے رہے) حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر خود ہمیں اپنے پاؤں سے ہلا کر اٹھایا، زمین پر لیٹنے کی وجہ سے ہمارے جسم خاک آلود ہو چکے تھے، (ہمارے بدن پر مٹی کا اثر دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان دو آدمیوں کی خبر نہ دوں جو سب سے زیادہ بدبخت ہیں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (1) قوم ثمود کا احیمر جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں۔ (2) وہ شخص جو تیرے یہاں پر (یعنی سر پر) مارے گا حتی کہ خون سے تیری یہ (یعنی داڑھی مبارک) تر ہو جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس اضافے کے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوحازم کی سہل بن سعد سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے جس میں قم اباتراب کے الفاظ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4730]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
110. النَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف نظر کرنا عبادت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4731
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكن، حدثنا الحارث بن منصور، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن جُرَيّ بن كُلَيب العامِري قال: لما سارَ عليٌّ إلى صِفّين كرهتُ القتالَ، فأتيتُ المدينةَ، فدخلتُ على مَيمونةَ بنت الحارث، فقالت: ممن أنتَ؟ قلت: من أهل الكوفة، قالت: من أيِّهم؟ قلت: من بني عامر، قالت: رُحْبًا على رُحْبٍ، وقُربًا على قُرب، مَجيءٌ ما جاءَ بك؟ قال: قلتُ: سارَ عليٌّ إلى صِفِّينَ وكرهتُ القتالَ، فجئنا إلى هاهنا، قالت: أكنتَ بايعتَه؟ قال: قلت: نعم، قالت: فارجِعْ إليه، فكُن معه، فواللهِ ما ضَلَّ ولا ضُلَّ به (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4680 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جری بن کلیب عامری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی جانب روانہ ہوئے، مجھے یہ لڑائی پسند نہ تھی، میں مدینۃ المنورہ میں آ گیا اور ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: کوفہ والوں میں سے۔ آپ نے مزید پوچھا: ان میں کس قبیلے سے تعلق ہے؟ میں نے کہا: بنی عامر سے۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہہ کر مقصد آمد دریافت کیا۔ میں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی جانب روانہ ہوئے ہیں جبکہ مجھے یہ لڑائی اچھی نہیں لگ رہی، اس لئے میں یہاں چلا آیا، انہوں نے پوچھا: کیا تم ان کی بیعت کی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: تم لوٹ جاؤ اور ان کے لشکر میں شریک ہو جاؤ۔ خدا کی قسم وہ نہ خود گمراہ ہے اور نہ ان کے ساتھ رہنے والا گمراہ ہو سکتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4731]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں