المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. لَا يَطُوفُ أَحَدٌ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ
کوئی شخص بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہ کرے
حدیث نمبر: 7540
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا بحر بن نصر الخَوْلانيّ، حدّثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو صَخْر، عن ابن قُسَيط، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن لم يَرحَمْ صغيرَنا، ويعرف حقَّ كبيرِنا، فليس منَّا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب البر والصلة [كتاب اللباس] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7353 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب البر والصلة [كتاب اللباس] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7353 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو ہمارے بچوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کا احترام نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7540]
حدیث نمبر: 7541
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي. وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن أبي نصر المروَزيّ، قالا: أخبرنا محمد بن غالب، حدّثنا أبو حُذيفة، حدّثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبيَّ ﷺ بعثه يومَ الحجّ الأكبر بأربع: أن لا يطوفَ أحدٌ بالبيت عُرْيان، ولا يدخلَ الجنَّةَ إلا نفسٌ مُسلِمة، ولا يَحُجَّ مشركٌ بعد عامِه هذا، ومن كان بينه وبينَ رسولِ الله ﷺ، عهدٌ، فأجَلُه إلى مُدَّتِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7354 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7354 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حج اکبر کے موقع پر چار چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا۔ 1۔ کوئی شخص برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ 2۔ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی نہیں جا سکتا۔ 3۔ اس سال کے بعد کبھی کوئی مشرک حج نہیں کرے گا۔ 4۔ جس شخص (یا قبیلے) کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے، وہ سب ایک معینہ مدت تک ہے (اس مدت کے گزرنے کے بعد تمام معاہدے کالعدم سمجھے جائیں گے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی (درج ذیل) حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7541]
2. أَوَّلُ مَا رَآهُ النَّبِيُّ مِنَ النُّبُوَّةِ أَنْ قِيلَ لَهُ اسْتَتِرْ
نبوت کی ابتدائی علامات میں سے یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ خود کو ڈھانپ لیں
حدیث نمبر: 7542
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدّثنا وهب بن جَرير وسعيد بن عامر، قالا: حدّثنا شُعبة، عن المغيرة، عن الشَّعبيّ، عن مُحرَّر بن أبي هريرة، عن أبيه قال: كنتُ مع علي بن أبي طالب حينَ بعثَه رسولُ الله ﷺ إلى أهلِ مكةَ ببراءةَ، فقيل: ما كنتم تُنادُون؟ فقال: كُنَّا نناديّ: أنه لا يدخلُ الجنَّةَ إلّا نفسٌ مؤمنة، ولا يطوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ومن كان بينه وبينَ رسولِ الله ﷺ عهدٌ، فأجَلُه ومدّةُ عهدِه إلى أربعة أشهر، فإذا مضت الأربعةُ الأشهرِ، فإِنَّ الله بريءٌ من المشركين ورسولُه، ولا يَحُجُّ بعد العام مشركٌ، فكنتُ أنادي حتى صَحِلَ صوتي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7355 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7355 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اعلان براءت کے لیے اہل مکہ کی جانب بھیجا، اس وقت میں بھی ان کے ہمراہ تھا، ان سے پوچھا گیا: تم نے کیا اعلان کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہمارا اعلان یہ تھا: جنت میں صرف مومن شخص ہی جائے گا۔ کوئی شخص برہنہ حالت میں طواف نہیں کرے گا۔ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے وہ محدود مدت کے لیے ہے، اور اس کی مدت چار ماہ ہے۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے گی، تو (تمام معاہدے کالعدم ہو جائیں گے اور) اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں۔ اس سال کے بعد کبھی کوئی مشرک حج نہیں کرے گا۔ میں یہ اعلان مسلسل کرتا رہا حتیٰ کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7542]
حدیث نمبر: 7543
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدّثنا أبو يحيى الحِمَّاني عبدُ الحميد بن عبد الرحمن، حدّثنا النَّضر أبو عُمر (2) الخزّاز، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: كان أبو طالب يُعالج زمزمَ، وكان النبيُّ ﷺ ممن يَنقُلُ الحِجارةَ، وهو يومئذٍ غلامٌ، فأخذ النبيُّ ﷺ إِزارَه فتعرَّى واتَّقى به الحَجَر، فقيل لأبي طالب: أدرِكِ ابنَك، فقد غُشِي عليه، فلما أفاقَ النبيُّ ﷺ من غَشْيتِه، سأله أبو طالب عن غَشيتِه، فقال:"أتاني آتٍ عليه ثيابٌ بِيضٌ، فقال ليّ: استَتِرْ". فقال ابن عباس: فكان ذلك أولَ ما رآه النبيُّ ﷺ من النبوة أن قيل له: استَتِرُ، فما رُئِيَتْ عورتُه من يومِئذٍ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث أبي الطُّفيل:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7356 - النضر أبو عمر الخزاز ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث أبي الطُّفيل:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7356 - النضر أبو عمر الخزاز ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطالب زمزم کنویں کی مرمت کر رہے تھے۔ ان دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بہت کم تھی، آپ کنویں سے پتھر اٹھا اٹھا کر باہر نکال رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دامن سمیٹ کر اس میں پتھر ڈال لیے، جس کی وجہ سے آپ کا ستر مبارک ظاہر ہو گیا، (ستر ظاہر ہوتے ہی) آپ بے ہوش ہو گئے، سیدنا ابوطالب کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا بیٹا بے ہوش ہو گیا ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے غشی ختم ہوئی تو سیدنا ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بے ہوشی کا سبب پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس کوئی شخص ان کے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا: اپنا ستر ڈھانپو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی جو علامات دیکھی ہیں ان میں سب سے پہلی علامت یہی تھی کہ آپ کو کہا گیا ” اپنا ستر ڈھانپو “۔ چنانچہ اس دن کے بعد کبھی بھی آپ کا ستر ظاہر نہیں ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوالطفیل سے مروی درج ذیل حدیث اس کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7543]
حدیث نمبر: 7544
أخبرَناه محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، أبي الطُّفيل قال: لما بُنيَ البيتُ كان الناسُ يَنقُلُون الحجارةَ والنبيُّ ﷺ يَنقُلُ معهم، فأخذ الثوبَ ووضعه على عاتقه، فنُودي: لا تَكشِفْ عورتَك، فألقى الحَجَر ولَبِسَ ثوبَه (1) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7357 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7357 - صحيح
ابوالطفیل فرماتے ہیں: جب بیت اللہ کی تعمیر ہو رہی تھی، لوگ اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ہمراہ پتھر لا رہے تھے، آپ نے اپنا دامن سمیٹ کر اپنے کندھے پر رکھ لیا (تاکہ ان کے اوپر پتھر باآسانی لے جائے جا سکیں)، اسی وقت (ہاتف غیبی سے) آواز آئی ” اپنا ستر مت ظاہر ہونے دو “ (یہ آواز سنتے ہی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینک دیئے اور کپڑے پہن لیے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7544]
3. التَّشْدِيدُ فِي كَشْفِ الْعَوْرَةِ
ستر (عورت) کھولنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 7545
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن هشام بن مَلَّاس النُّمَيريّ، حدّثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدّثنا الحسن بن مُكرَم، حدّثنا يزيد بن هارون؛ قالا: حدّثنا بَهْز بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، عوراتُنا ما نأتي منها، وما نَذَرُ؟ قال:"احفَظ عورتَك إلَّا من زوجتِك، أو ما مَلَكَت يمينُك" قلت: أرأيتَ إنْ كان قومٌ بعضُهم فوق بعض؟ قال:"إن استطعتَ أن لا يراها أحدٌ، فلا يَرَيَنَّها" قلت: أرأيتَ إنْ كان أحدُنا خاليًا؟ قال:"فالله أحقُّ أن يُستحيَى منه" ووضع يدَه على فَرْجِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7358 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7358 - صحيح
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کس سے پردہ کریں اور کس سے نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ستر کی حفاظت کر، سوائے اپنی بیوی کے اور اپنی لونڈی کے۔ میں نے کہا: اگر کچھ لوگ اوپر کے مقام پر اور دوسرے لوگ نیچے کے مقام پر رہتے ہوں، تو پردے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس حد تک ممکن ہو، ان پر نظر پڑنے سے خود کو بچاؤ اور عورتیں بھی نہ دیکھیں۔ میں نے کہا: اگر انسان خالی جگہ پر ہو جہاں اس کو کوئی بھی دیکھنے والا نہ ہو، تو ستر کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ تو اس کو دیکھ رہا ہے) اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ اس سے حیاء کیا جائے۔ (کچھ اور نہیں تو کم از کم) اپنی شرمگاہ پر ہاتھ ہی رکھ لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7545]
4. إِنَّ الْفَخِذَيْنِ عَوْرَةٌ
بے شک دونوں رانیں ستر میں شامل ہیں
حدیث نمبر: 7546
حدَّثني علي بن حَمْشاذَ العدل، حدّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعلي بن الصَّقْر السُّكريّ، قالا: حدّثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري (2) ، حدّثنا إبراهيم بن علي الرافعيّ، حدَّثني علي بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن جدِّه، أنَّ النبيّ ﷺ قال:"عَوْرةُ الرجل على الرجل كعَوْرة المرأةِ على المرأة (3) ، وعورةُ المرأةِ على المرأة كعورةِ المرأة على الرجل (1) " (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7359 - الرافعي ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7359 - الرافعي ضعفوه
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مرد کو مرد سے اپنی شرمگاہ چھپانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا عورت سے چھپانا ضروری ہے۔ اور عورت کو عورت سے اپنی شرمگاہ چھپانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا مرد سے چھپانا ضروری ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7546]
حدیث نمبر: 7547
أخبرنا أحمد بن سليمان المَوصِليّ، حدّثنا علي بن حرب، حدّثنا سفيان، عن سالم أبي النَّضر، عن زُرْعة بن مسلم بن جَرْهَد، عن جدِّه جَرهَد: أنَّ النبيّ ﷺ أبصرَه وقد انكشفَ فَخِذُه في المسجد، وعليه بُردةٌ، فقال:"إِنَّ الفَخِذَ من العَوْرة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث محمد بن جَحْش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7360 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث محمد بن جَحْش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7360 - صحيح
سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، اس وقت میں مسجد میں اپنی ران ننگی کیے ہوئے بیٹھا تھا، حالانکہ میں نے بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ران بھی ستر کا حصہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ محمد بن جحش سے مروی درج ذیل حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7547]
5. لَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ
کسی زندہ یا مردہ کی ران کی طرف مت دیکھو
حدیث نمبر: 7548
حدّثنا الأستاذ أبو الوليد، حدّثنا محمد بن نُعيم بن عبد الله، حدّثنا قُتيبة بن سعيد وعلي بن حُجْر، قالا: حدّثنا إسماعيل بن جعفر (1) ، حدّثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن (2) أبي كَثير مولى محمد بن جَحْش، عن محمد بن جَحْش، أنه قال: مرَّ رسول الله ﷺ و أنا معه على مَعمَرٍ وفَخِذاه مكشوفتانِ، فقال:"يا معمرُ، غَطِّ فَخِذَيْك، فإنَّ الفَخِذَينِ عورةٌ" (3) . وقد رُوي عن علي بن أبي طالب وعبدِ الله بن عباس عن النبيِّ ﷺ نحوُه. أما حديث علي ﵁:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7361 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7361 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن جحش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا معمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، معمر اپنی رانیں ننگی کیے بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معمر! اپنی رانیں ڈھک لو، کیونکہ رانیں بھی ستر میں شامل ہیں۔ اسی مفہوم کی حدیث سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7548]
حدیث نمبر: 7549
فأخبرنَاه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدّثنا رَوْح بن عُبادة، حدّثنا ابن جُريج، عن حبيب بن أبي ثابت، عن عاصم بن ضَمْرة، عن عليٍّ قال: قال النبيّ ﷺ:"لا تُبْرِزْ فَخذَيْكَ، ولا تَنظُرْ إِلى فَخِذِ حَيٍّ ولا مَيتٍ" (1) . وأمّا حديثُ عبد الله بن عباس ﵁:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی ران ننگی مت کرو، اور نہ ہی کسی دوسرے زندہ یا مردہ شخص کی ران کی جانب نگاہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7549]