🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. لَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ
کسی زندہ یا مردہ کی ران کی طرف مت دیکھو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7550
فأخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن مِهْران، حدّثنا عبيد الله بن موسى، حدّثنا إسرائيل، أخبرنا أبو يحيى، قال: سمعتُ مجاهدًا يُحدِّث عن ابن عباس قال: مرَّ رسول الله ﷺ على رجل، فرأى فَخِذَه مكشوفةً، فقال:"غَطِّ فخذَك، فإِنَّ فَخِذَ الرجل من عورتِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے تو اس کی ران کو کھلا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران کو ڈھانپ لو، کیونکہ مرد کی ران اس کے ستر کا حصہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ليِّن، أبو يحيى» [ترقيم الرساله 7550] [ترقيم الشركة 7459] [ترقيم العلميه 7363]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ
جب اللہ تمہیں مال عطا فرمائے تو اس (کی نعمت) کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7551
أخبرني علي بن عبد الله الحَكِيمي (3) ببغداد، حدّثنا العباس بن الدُّوري، حدّثنا وهب بن جَرير، حدّثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق، قال: سمعتُ أبا الأحوص يُحدِّث عن أبيه قال: أتيتُ النبيّ ﷺ وأنا قَشِفُ الهيئة، قال:"هل لك من مال؟" قلتُ: نعم، قال:"مِن أيِّ المال؟" قلتُ: من كلِّ المال من الإبل والرّقيق والخيل والغَنَم، قال:"فإذا آتاك اللهُ مالًا فليُرَ عليك" ثم قال:"هل تُنتَجُ إبلُ قومِك صِحاحٌ آذانُها فتَعْمِدُ إلى الموسى فتقطعُ آذانها فتقول: هذه بَحِيرةٌ، وتشقُّها - أو تشقُّ جلودَها - وتقول: هذه صُرُمٌ، فتحرِّمُها عليك وعلى أهلك؟" قال: نعم، قال:"فإنَّ ما أعطاك الله لك حِلٌّ، موسى اللهِ أَحدُّ" وربما قال:"ساعدُ اللهِ أَشدُّ من ساعدك، وموسى اللهِ أحدُّ من مُوساك"، قلتُ: يا رسول الله، أرأيت رجلًا نزلتُ به فلم يُكرِمْني ولم يَقْرِنيّ، ثم نَزَلَ بي، أَجزِيهِ كما صنع، أو أقرِيهِ؟ قال:"أَقْرِهِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7364 - صحيح
سیدنا ابواحوص اپنے والد (سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میری حالت پراگندہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال ہے، اونٹ، غلام، گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جب اللہ نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے اونٹوں سے صحیح سالم کانوں والے بچے پیدا ہوتے ہیں تو تم چھری لے کر ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ «بَحِيرةٌ» ہے، اور تم ان کے کان یا کھالیں چیر دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ «صُرُمٌ» ہیں، پھر انہیں اپنے اور اپنے گھر والوں پر حرام کر لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جو تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے، اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے (یعنی اللہ کے احکام تمہاری خود ساختہ رسموں پر غالب ہیں)۔ کبھی (راوی) یوں کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قوت تمہاری قوت سے زیادہ ہے اور اللہ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان بنوں اور وہ میری مہمانی نہ کرے، پھر وہ میرے پاس مہمان بن کر آئے، تو کیا میں اس کے ساتھ وہی سلوک کروں جو اس نے میرے ساتھ کیا یا میں اس کی مہمانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تم اس کی مہمانی کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7551] [ترقيم الشركة 7460] [ترقيم العلميه 7364]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ
بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7552
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب، حدّثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدّثنا يحيى بن حمّاد، حدّثنا شُعبة، عن أبَان بن تَغلِب، عن الفُضيل بن عمرو الفُقَيمي، عن إبراهيم، عن علقمة بن قيس، عن عبد الله بن مسعود، عن النبيّ ﷺ قال:"إنَّ الله جَميلٌ يُحِبُّ الجَمَالَ" (2) . كتب الحاكمُ بخطّه هاهنا: يُخرَّج بطوله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص من هذا الموضع
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جمیل (خوبصورت) ہے اور وہ جمال کو پسند فرماتا ہے۔
امام حاکم نے یہاں اپنے ہاتھ سے تحریر فرمایا ہے کہ اسے اس کی پوری طوالت کے ساتھ روایت کیا جانا چاہیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7552] [ترقيم الشركة 7461] [ترقيم العلميه 7365]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7553
حدَّثني علي بن عيسى الحِيرِيّ، حدّثنا الحسين بن محمد القَبّانيّ، حدّثنا يحيى بن حَكيم، حدّثنا أبو بحر عبد الرحمن بن عثمان البَكْراويّ، حدّثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النَّبِيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ حُبِّب إليَّ الجَمَالُ، وأُعطيتُ منه ما ترى، حتَّى ما أُحبُّ أن يَفوقَني أحدٌ بشِرَاكَ نَعْلي، أو شِسْع نَعْلي، أفمِنَ الكِبْر هذا؟ قال:"لا، ولكن من الكِبْر مَن بَطِرَ الحقَّ، وغَمِصَ الناسَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے جمال پسند ہے اور مجھے اس میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتوں کے تسمے یا چمڑے کے بند میں بھی کوئی مجھ سے بہتر ہو، تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تکبر تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7553]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي بحر البكراوي، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7553] [ترقيم الشركة 7462]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7554
فحدَّثناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى القُطَعي (2) ومحمد بن عبد الأعلى الصنعاني، قالا: حَدَّثَنَا بشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا ابن عَوْن، عن عمرو بن سعيد، عن حُميد بن عبد الرحمن، قال: قال ابن مسعود: كنتُ لا أُحجَبُ - أو قال: كنتُ لا أُحبَسُ - عن ثلاث عن النَّجْوى، وعن كذا وكذا، قال: فأتيتُه وعنده مالكُ بن مُرَارة الرَّهَاوي، فأدركتُ من آخر حديثه وهو يقول: يا رسولَ الله، قد أُعطِيتُ من الجَمَال ما ترى، وما أُحبُّ أنَّ أحدًا يفوقَني بشِراك نَعْلي، أفذاك من البَغْي؛ قال:"ليس ذاكَ بالبَغْي (3) ولكنَّ البغيَ مَن بَطِرَ الحقَّ - أو قال: سَفِهَ الحقَّ - وغَمِطَ الناسَ" (4) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7367 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تین باتوں یعنی سرگوشی اور فلاں فلاں کاموں سے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری سے) نہیں روکا جاتا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی موجود تھے، میں نے ان کی بات کا آخری حصہ پایا جس میں وہ عرض کر رہے تھے: اے اللہ کے رسول! مجھے جمال میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور میں پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتے کے تسمے میں بھی کوئی مجھ سے بڑھ کر ہو، تو کیا یہ سرکشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سرکشی نہیں ہے بلکہ سرکشی (تکبر) تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7554]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن حميد بن عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 7554] [ترقيم الشركة 7463] [ترقيم العلميه 7367]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. حَدِيثُ مُنَاظَرَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ الْحَرُورِيَّةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7555
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى المَدائني، حَدَّثَنَا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حَدَّثَنَا عِكْرمة بن عمّار العِجلي، حدثني أبو زُمَيل، حدثني عبد الله بن الدُّؤَل، حدثني عبد الله بن عباس قال: لما خرجتِ الحَرُوريَّةُ اجتمعوا في دارٍ وهُم (1) ستةُ آلاف، أتيتُ عليًّا فقلتُ: يا أميرَ المؤمنين، أبرِدْ بالصلاة، لعلِّي آتي هؤلاء القومَ فأُكلِّمَهم، قال: إنِّي أخافُ عليك، قال: قلتُ: كلّا، قال: فخرجتُ إليهم ولبستُ أحسن ما يكون من حُلَلِ اليمن - قال أبو زُميل: وكان ابن عباس جميلًا جهيرًا - قال ابن عَبَّاس: فأتيتُهم وهم مجتمِعون في دارٍ وهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، قالوا: مرحبًا بك يا ابنَ عباس، فما هذه الحُلَّة؟ قلتُ: ما تَعِيبُون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، وقرأتُ ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32] ؛ ثم ذكر مناظرةَ ابن عباس المشهورة معهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7368 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حروریہ (خوارج) نکلے تو وہ ایک گھر میں جمع ہوئے اور وہ چھ ہزار تھے، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے امیر المومنین! نماز کو ذرا ٹھنڈا کر کے (تاخیر سے) پڑھیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے بات کروں۔ انہوں نے کہا: مجھے آپ کے متعلق اندیشہ ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، (ابوزمیل کہتے ہیں کہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما خوبصورت اور بلند آواز والے تھے، ابن عباس کہتے ہیں کہ میں یمن کے بہترین لباس زیب تن کر کے ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! یہ لباس کیسا ہے؟ میں نے کہا: تم مجھ پر کیا عیب لگاتے ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہترین لباس دیکھے ہیں، اور میں نے یہ آیت تلاوت کی ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ آپ کہئے کہ اللہ کے اس لباس و زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے حرام کیا ہے؟ [سورة الأعراف: 32] پھر انہوں نے ان کے ساتھ اپنا مشہور مناظرہ ذکر کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7555]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن عيسى المدائني، وقد خالف فيه الثقات، فزاد بين أبي زميل» [ترقيم الرساله 7555] [ترقيم الشركة 7464] [ترقيم العلميه 7368]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7556
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا محمد بن شاذان الجَوهَري، حَدَّثَنَا سعيد بن سليمان الواسطي، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار قال: قال جابر: خرجنا مع رسول الله ﷺ في بعض مَغازيهِ، فخرج رجلٌ في ثوبين مُنْخِرِقَينِ يريد أن يَسُوقَ بالإبل، فقال له رسول الله ﷺ:"ما له ثَوْبانِ غيرُ هذا (1) ؛" قيل: إِنَّ في عَيْبتِه ثوبين جديدين، قال:"ايتُونِ بعَيْبتِه"، ففتحها، فإذا فيها ثوبانِ، فقال للرجل:"خُذْ هذينِ فَالْبَسْهما وأَلْقِ المُنخرِقَين" ففعل، ثم ساق بالإبل، فنظر رسولُ الله ﷺ في أثره كالمتعجِّب من بُخلِه على نفسه بالثوبين، فقال له:"ضربَ الله عُنقَكَ" فالْتَفتَ إليه الرجلُ، فقال:"في سبيلِ الله"، فقُتل يوم اليَمَامة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ في غير موضع بهشام بن سعد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ الحديث عند مالك عن زيد بن أسلم عن جابر:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، ایک شخص دو پھٹے پرانے کپڑوں میں نکلا جو اونٹ ہانکنا چاہتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا: کیا اس کے پاس ان کے علاوہ دو (کپڑے) اور نہیں ہیں؟ عرض کیا گیا: اس کے تھیلے میں دو نئے کپڑے موجود ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا میرے پاس لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو اس میں دو کپڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: یہ دونوں پکڑو اور انہیں پہن لو اور ان پھٹے پرانوں کو پھینک دو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور اونٹ ہانکنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیچھے اس طرح دیکھتے رہے جیسے اس کے اپنے نفس پر اس بخل سے تعجب کر رہے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری گردن مارے۔ تو وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: (اے اللہ کے رسول! کیا) اللہ کی راہ میں؟ تو وہ یمامہ کی جنگ میں شہید کر دیے گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے کئی مقامات پر ہشام بن سعد سے استدلال کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مالک کے ہاں یہ حدیث زید بن اسلم کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7556]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، هشام بن سعد حديثه حسن في المتابعات والشواهد، ولا سيما في روايته عن زيد بن أسلم، فهو أوثق الناس فيه كما قال أبو داود، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7556] [ترقيم الشركة 7465]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7557
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصر قال: عبد الله بن وهب قال: أخبرني مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن جابر بن عبد الله (3) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے امام مالک کی سند کے ساتھ بھی یہی روایت مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7557]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7557] [ترقيم الشركة 7466]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7558
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن سعد، عن قيس بن بِشْر التَّغْلِبي، قال: كان أبي جَليسًا لأبي الدَّرداء بدمشق، وكان بدمشقَ رجلٌ من أصحاب رسولِ الله ﷺ من الأنصار يقال له: ابن الحنظليَّة، وكان مُتوحِّدًا قلَّما يُجالِس الناسَ، إنما هو في صلاةٍ، فإذا انصرف فإنما هو تكبيرٌ وتسبيحٌ وتهليلٌ حتَّى يأتيَ أهلَه، فمرَّ بنا يومًا ونحن عند أبي الدرداءِ فسَلَّم، فقال أبو الدرداءِ: كلمةً تَنفعُنا ولا تضرُّك، فقال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّكم قادِمونَ على إخوانِكم، فأحسِنُوا لِباسَكم، وأصلِحُوا رِحالَكم، حتَّى تكونوا كأنكم شامَةٌ في الناس، إنَّ الله لا يُحِبُّ الفُحْشَ والتفحُّشَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه. وابنُ الحنظلية الذي لم يُسمِّه الراوي (2) هو سهلُ بن الحَنظَلية، من زُهّاد الصحابة رِضوان الله عليهم أجمعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7371 - صحيح
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم نشین تھے، دمشق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک انصاری شخص تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ گوشہ نشین تھے اور لوگوں کے ساتھ بہت کم بیٹھتے تھے، وہ نماز میں مشغول رہتے اور جب فارغ ہوتے تو اپنے گھر جانے تک تکبیر، تسبیح اور تہلیل میں مصروف رہتے۔ ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے سلام کیا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں نفع دے اور آپ کو نقصان نہ پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کے پاس پہنچنے والے ہو، لہٰذا اپنے لباس کو درست رکھو اور اپنی سواریوں کے سامان کی اصلاح کرو یہاں تک کہ تم لوگوں کے درمیان ایسے نمایاں ہو جاؤ جیسے تِل (خوبصورتی کا نشان) ہوتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بدکلامی کو پسند نہیں فرماتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ابن حنظلیہ جن کا نام راوی نے نہیں لیا وہ سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ ہیں جو صحابہ کرام کے زاہدین میں سے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7558]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، بشر والد قيس التغلبي روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وهو تابعيّ كبير، وابنه قيس تفرد بالرواية عنه هشام بن سعد، وقال عنه هشام: كان رجل صدق، وقال أبو حاتم: ما أرى بحديثه بأسًا» [ترقيم الرساله 7558] [ترقيم الشركة 7467] [ترقيم العلميه 7371]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7559
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا سعيد بن [أبي] أيوب، عن أبي مَرحُوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن (3) أنس الجُهَني، عن أبيه، عن النَّبِيِّ ﷺ قال:"مَن تركَ اللِّباسَ وهو يَقدِرُ عليه تواضعًا الله ﷿، دَعَاه الله ﷿ يومَ القيامة على رُؤوس الخلائق حتَّى يُخيِّرَه من حُلَلِ الإيمانِ يَلْبَسُ أيَّها شاءَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7372 - صحيح
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ عزوجل کی خاطر عاجزی و انکساری اختیار کرتے ہوئے (قیمتی اور فاخرانہ) لباس پہننا چھوڑ دیا حالانکہ وہ اس پر قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے پکارے گا یہاں تک کہ اسے اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے حُلّوں (لباسوں) میں سے جو چاہے پسند کر کے پہن لے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7559]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي مرحوم عبد الرحيم بن ميمون» [ترقيم الرساله 7559] [ترقيم الشركة 7468] [ترقيم العلميه 7372]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں