🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. ذِكْرُ مَا اخْتَارَهُ فُقَهَاءُ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي جَوَابِ الْعَاطِسِ .
چھینک کے جواب میں فقہائے کوفہ کے پسندیدہ کلمات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7891
حدَّثَناه الأستاذ أبو الوليد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن علي، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى. قال (2) : وحدثنا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم؛ قالا: أخبرنا جَرير، عن منصور، عن هِلال بن يِساف قال: كنَّا مع سالم بن عُبيد في سَفَر، فعَطَسَ رجلٌ من القوم، فقال: السلامُ عليكم، فقال سالمٌ: السلامُ عليك وعلى أُمِّك، ثم قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا عَطَسَ أحدُكم فلَيحمَدِ الله، وليقُلْ مَن عندَه: يَرحمُك الله، وليرُدَّ عليهم: يَغْفِرُ الله لنا ولكم" (3) . الوهمُ في رواية جرير هذه ظاهرٌ، فإنَّ هلال بن يِساف لم يُدرِكْ سالمَ بن عبيد ولم يَرَه، وبينهما رجلٌ مجهول، فأما اللفظ الذي وقع لبعض الفقهاء الذي لا يُميِّز بين صحيح الأخبار وسَقِيمها في أمر النَّبِيِّ ﷺ الله العاطسَ أن يقول للمُشمَّت: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالَكم، فيُوهِمُ أنَّ هذا التشميت لأهل الكتاب دون المسلمين:
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، تو ان میں سے ایک شخص کو چھینک آئی اور اس نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» تم پر سلامتی ہو، تو سالم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلامتی ہو، پھر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ اللہ کی حمد کرے، اور جو اس کے پاس موجود ہوں وہ «يَرْحَمُكَ اللهُ» کہیں، اور وہ (چھینکنے والا) انہیں جواب دے: «يَغْفِرُ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ» اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔
جریر کی اس روایت میں وہم ظاہر ہے کیونکہ ہلال بن یساف نے سالم بن عبید کو نہیں پایا اور نہ ہی انہیں دیکھا ہے، ان کے درمیان ایک مجہول راوی ہے، رہا وہ لفظ جو بعض ان فقہاء کے کلام میں آیا ہے جو صحیح اور ضعیف روایات میں تمیز نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھینک مارنے والے کو جواب دینے والے کے لیے یہ الفاظ کہے «يَهْدِيكمُ اللهُ ويُصلِحُ بَالَكُمْ»، تو اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ یہ دعا صرف اہل کتاب کے لیے ہے مسلمانوں کے لیے نہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7891]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كسابقيه. وقد أشار المصنّف عقبه بن إلى وهم جرير» [ترقيم الرساله 7891] [ترقيم الشركة 7797]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7892
فأخبرَناه محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حَدَّثَنَا أبو نُعيم وقَبيصة، قالا: حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا حَكيم بن الدَّيلم، حَدَّثَنَا أبو بُرْدة، حَدَّثَنَا أبو موسى قال: كان اليهودُ يَتعاطَسُون عند النَّبِيِّ ﷺ يَرجُونَ أن يقولَ لهم: يَرحمُكم الله، وكان يقول لهم:"يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (1) .
هذا حديث متّصل الإسناد، وهذا الخبرُ ليس بخلاف الأخبار المأثورةِ الصحيحةِ المتفقِ عليها في الجامعين الصحيحين للإمامين محمِّد بن إسماعيل ومسلم بن الحجَّاج، لأنَّ من السُّنن الصحيحة أن يقولَ المسلمُ لأخيه العاطس: يرحمُك الله، فيجيبُه بأن يقول: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالكم. وكان ﷺ يقول لليهود إذا عطسوا:"يَهدِيكم الله ويُصلحُ بالكم" بدلَ ما أمرَ ﷺ أن يُقال للمسلم إذا عطس: يرحمُكم الله. فالمحتجُّ بذلك ليس يُميِّز بين العاطس والمُشمِّت، وقد دعا النبيُّ ﷺ لنفسه وللمسلمين بالهداية في أخبارٍ كثيرة يطولُ شرحُها في هذا الموضع، وقد أمرَ النَّبِيُّ ﷺ خليلَه وصفيَّه وخَتَنَه عليَّ بن أبي طالب ﵁ أن يسأل الله الهدايةَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7699 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (جان بوجھ کر) چھینکتے تھے اور اس بات کی امید رکھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جواب میں «يَرْحَمُكُمُ اللهُ» اللہ تم پر رحم فرمائے کہیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (جواب میں) فرماتے تھے: «يَهْدِيكمُ اللهُ ويُصلِحُ بَالَكُمْ» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے۔
یہ حدیث متصل الاسناد ہے اور یہ روایت ان صحیح اور متفق علیہ روایات کے خلاف نہیں ہے جو امام بخاری اور امام مسلم کی صحیحین میں موجود ہیں، کیونکہ صحیح سنت یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کو «يَرْحَمُكَ اللهُ» کہے اور وہ جواب میں «يَهْدِيكمُ اللهُ ويُصلِحُ بَالَكُمْ» کہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کے لیے «يَرْحَمُكُمُ اللهُ» کے بجائے صرف ہدایت اور اصلاحِ حال کی دعا فرماتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7892]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7892] [ترقيم الشركة 7798] [ترقيم العلميه 7699]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7893
كما أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا النَّضْر بن شُمَيل، أخبرنا شُعْبة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عليٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"يا عليُّ، سَلِ الله الهُدى والسَّدادَ، واذْكُرْ بالهُدى هِدايتَك الطريقَ، وبالسَّدادِ تسديدَك السَّهمَ" (2) . ثم أمر ﷺ ولدَه الحسنَ بنَ علي سيِّدَ شباب أهلِ الجنة بمثل ما أمرَ به أباه. حديث بُرَيد بن أبي مريم عن أبي الحَوْراء عن الحسن بن علي في دعاء القُنوت الذي علَّمه النَّبِيُّ ﷺ:"اللهمَّ اهدِني فيمَنْ هديتَ" (1) ، أشهرُ من أن يُذكَر إسنادُه وطرقه. رجعنا إلى الأخبار الصحيحة في الآداب ممَّا لم يُخرجها الإمامانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اللہ سے ہدایت اور استقامت (سداد) کا سوال کرو، اور ہدایت مانگتے وقت اپنے ذہن میں راستے کی ہدایت کا تصور رکھو، اور استقامت مانگتے وقت تیر کے سیدھا ہونے کا تصور رکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرزند سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھی ویسا ہی حکم دیا جیسا ان کے والد کو دیا تھا، اور دعا قنوت کے وہ الفاظ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سکھائے تھے «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ» اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت عطا فرمائی ہے، اتنے مشہور ہیں کہ ان کی سند اور طرق ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7893]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم: وهو ابن بهدلة زرّ: هو ابن حبيش» [ترقيم الرساله 7893] [ترقيم الشركة 7799] [ترقيم العلميه 7700]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. نَهَى النَّبِيُّ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ .
نبی کریم ﷺ نے لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنے سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7894
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن عبد الله، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سَلَمة، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى أن يضعَ الرجلُ إحدى رِجلَيه على الأخرى وهو مُضطجِعٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7701 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص لیٹی ہوئی حالت میں اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7894]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7894] [ترقيم الشركة 7800] [ترقيم العلميه 7701]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7895
أخبرَناه أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، حدثني أبو الزُّبير، عن جابر، عن رسولِ الله ﷺ: أنه نَهَى عن اشتِمَال الصَّمَّاء، وأن يرفعَ الرجلُ إحدى رِجلَيه على الأخرى وهو مُستَلقي على ظَهْرِه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7702 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اشْتِمَال الصَّمَّاء» (پورے جسم کو ایک ہی چادر میں اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں) سے منع فرمایا، اور اس بات سے بھی منع فرمایا کہ کوئی شخص کمر کے بل چت لیٹ کر اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر اٹھا کر رکھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7895]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح: وهو كاتب الليث المصري، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7895] [ترقيم الشركة 7801] [ترقيم العلميه 7702]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7896
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا عُبيد بن شَريك البزَّار، حَدَّثَنَا عمرو بن خالد الحرَّاني، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس عن ابن جُريج، عن إبراهيم بن مَيْسرة، عن عمرو بن الشَّريد، عن أبيه: أنَّ النَّبِيّ ﷺ مرَّ به وهو متكئٌ على أَلْيةِ يدِه خلفَ ظهرِه، فقال:"تَقعُدُ قِعدةَ المغضوبِ عليهم؟!" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7703 - صحيح
عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اپنے (بائیں) ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹیک لگائے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھے بیٹھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر (اللہ کا) غضب ہوا ہے؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7896]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبيد» [ترقيم الرساله 7896] [ترقيم الشركة 7802] [ترقيم العلميه 7703]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا .
بہترین مجلسیں وہ ہیں جو کشادہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7897
حدثني علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا عُبيد بن شَريك البزَّار، حَدَّثَنَا أبو الجُمَاهر بن عثمان التَّنُوخي، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن مصعب بن ثابت، عن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"خيرُ المجالس أوسَعُها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7704 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین مجلسیں وہ ہیں جو سب سے زیادہ کشادہ اور وسیع ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7897]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل مصعب بن ثابت: وهو الزُّبيري» [ترقيم الرساله 7897] [ترقيم الشركة 7803] [ترقيم العلميه 7704]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7898
حدثني علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حَدَّثَنَا مُعلَّى بن منصور الرازي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن أبي المَوَال، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة: أنَّ أبا سعيد الخُدْري أُوذِنَ بجنازةٍ في قومه، فجاء وقد أخذَ الناسُ مجالسَهم، فلما رأَوه تسرَّبُوا إليه فجَلسُوا في ناحية، وقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"خيرُ المجالس أوسعُها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7705 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبد الرحمن بن ابی عمرہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم میں ایک جنازے کی اطلاع دی گئی، وہ تشریف لائے تو لوگ اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے، جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو وہ سمٹ کر ایک طرف ہو گئے (تاکہ ان کے لیے جگہ بن سکے) اور وہ ایک گوشے میں بیٹھ گئے، پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بہترین مجلسیں وہ ہیں جو سب سے زیادہ کشادہ ہوں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7898]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن أبي عمرة: هو عبد الرحمن بن عمرو بن أبي عمرة كما سمّاه أبو داود وابن حبان، وسمّاه عبد البر في "التمهيد" 20/ 25» [ترقيم الرساله 7898] [ترقيم الشركة 7804] [ترقيم العلميه 7705]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. أَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةُ .
معزز ترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ رخ بیٹھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7899
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن معاوية، حَدَّثَنَا مُصادِف بن زياد المَديني - قال: وأثنى عليه خيرًا - قال: سمعتُ محمد بن كعب القُرَظي يقول: لقيتُ عمرَ بنَ عبد العزيز بالمدينة في شَبابِه وجَمالِهِ وغَضَارتِه، قال: فلمَّا استُخلِفَ قدمتُ عليه فاستأذنتُ عليه، فأَذِنَ لي، فجعلتُ أُحِدُّ النَّظر إليه، فقال لي: يا ابنَ كعب، ما لي أَراك تُحِدُّ النظرَ؟ قلت: يا أميرَ المؤمنين، لِما أرى من تغيُّر لونِك ونُحُول جسمِك وتَعَارِ شَعْرِك، فقال: يا ابنَ كعب، فكيف ولو رأيتَني بعدَ ثلاثٍ في قبري وقد انتَزَعَ النملُ مُقلتَيَّ وسالَتا على خدَّيَّ، وابْتَدَر مَنْخِرايَ وفمي صَديدًا؟! لكنتَ لي أشدَّ إنكارًا، دعْ ذاك، أعِدْ عليَّ حديثَ ابن عباس عن رسول الله ﷺ. فقلتُ: قال ابن عَبَّاس: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ لكلّ شيء شَرَفًا، وإنَّ أشرفَ المجالس ما استُقبِلَ به القِبلةُ، وإنكم تَجالَسُون بينكم بالأَمانةِ. واقتلوا الحيَّةَ والعقربَ وإن كنتُم في صلاتِكم. ولا تَسْتُروا جُدُرَكم. ولا يَنظُرْ أحدٌ منكم في كتاب أخيه إلَّا بإذنِه. ولا يُصلِّيَنَّ أحدٌ منكم وراءَ نائمٍ ولا مُحدِّث". قال: وسُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن أفضلِ الأعمال إلى الله تعالى، فقال:"مَن أدخلَ على مؤمن سُرورًا، إمَّا أطعمَه من جوع، وإما قَضَى عنه دينًا، وإما يُنفِّسُ عنه كُربةً من كُرَب الدنيا نَفَّس الله عنه كُرَبَ الآخرة، ومَن أَنظَرَ مُوسِرًا أو تجاوزَ عن مُعسِر، أظلَّه الله يومَ لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه، ومَن مشى مع أخيه في ناحيةِ القرية ليثبِّتَ حاجتَه، ثبَّتَ اللهُ ﷿ قَدَمَه يومَ تزولُ (1) الأقدامُ، ولأن يمشيَ أحدُكم مع أخيه في قضاءِ حاجتِه - وأشارَ بإصبعِه - أفضلُ من أن يَعتكِفَ في مسجدي هذا شهرَينِ"،"ألا أُخبِرُكم بشِرارِكم؟" قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"الذي يَنزِلُ وحدَه، ويَمنعُ رِفْدَه، ويَجلِدُ عبدَه" (2) . ولهذا الحديث إسناد آخر بزيادة أحرُف فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7706 - بطل الحديث
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے مدینہ میں ان کی جوانی، خوبصورتی اور شادابی کے دور میں ملا تھا، پھر جب وہ خلیفہ بنے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، انہوں نے مجھے اجازت دے دی، تو میں نے انہیں بڑے غور سے دیکھنا شروع کر دیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے ابن کعب! کیا بات ہے تم مجھے اتنے غور سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کے بدلے ہوئے رنگ، نحیف جسم اور بکھرے ہوئے بالوں کو دیکھ کر حیران ہوں، تو انہوں نے فرمایا: اے ابن کعب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم مجھے قبر میں تین دن گزرنے کے بعد دیکھو گے جبکہ چیونٹیاں میری آنکھوں کی پتلیاں نکال چکی ہوں گی اور وہ میرے گالوں پر بہہ رہی ہوں گی، اور میرے نتھنوں اور منہ سے پیپ نکل رہی ہوگی؟! اس وقت تو تم مجھے پہچاننے سے بالکل انکار کر دو گے، خیر یہ باتیں چھوڑو، مجھے ابن عباس کی وہ حدیث دوبارہ سناؤ جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی، تو میں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ہر چیز کی ایک بلندی ہوتی ہے، اور مجلسوں میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جس میں قبلہ رخ بیٹھا جائے، اور تمہاری آپس کی مجلسیں امانت کے ساتھ ہونی چاہئیں، اور سانپ اور بچھو کو مار دیا کرو خواہ تم نماز ہی میں کیوں نہ ہو، اور اپنی دیواروں کو (کپڑوں وغیرہ سے) مت ڈھانکو، اور تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تحریر میں اس کی اجازت کے بغیر نہ دیکھے، اور تم میں سے کوئی کسی سونے والے یا باتیں کرنے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین اعمال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مومن کو خوشی پہنچائی، خواہ اسے بھوک میں کھانا کھلایا، یا اس کا قرض ادا کیا، یا اس کی دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی تکلیفیں دور فرمائے گا، اور جس نے کسی آسودہ حال کو مہلت دی یا کسی تنگ دست سے درگزر کیا تو اللہ اسے اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بستی کے ایک گوشے تک اس کے ساتھ چلا تو اللہ عزوجل اس دن اس کے قدموں کو ثابت قدم رکھے گا جس دن قدم ڈگمگا رہے ہوں گے، اور تم میں سے کسی کا اپنے بھائی کی حاجت روائی کے لیے چلنا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا - میری اس مسجد میں دو ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے، (پھر فرمایا): کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: وہ جو اکیلا پڑاؤ ڈالے، کسی کی مدد نہ کرے اور اپنے غلام کو مارے۔
اس حدیث کی ایک اور سند بھی ہے جس میں کچھ حروف کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7899]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، محمد بن معاوية» [ترقيم الرساله 7899] [ترقيم الشركة 7805] [ترقيم العلميه 7706]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. لَا تَتَكَلَّمُوا بِالْحِكْمَةِ عِنْدَ الْجَاهِلِ .
جاہل کے سامنے حکمت کی باتیں نہ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7900
سمعتُ أبا سعيد الخليلَ بن أحمد القاضي، في دار الأمير السَّديد أبي صالح منصور بن نوح بحَضْرته يصيحُ برواية هذا الحديث، فقال: حَدَّثَنَا أبو القاسم بن محمد البَغَوي، حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمد العَيْشي، حَدَّثَنَا أبو المِقْدام هشام بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن كعب القُرَظي، قال: شهدتُ عمر بن عبد العزيز وهو أميرٌ علينا بالمدينة للوليد بن عبد الملك، وهو شابٌّ غليظٌ ممتلئُ الجِسم، فلما استُخلِفَ أتيتُه بخُناصِرةَ، فدخلتُ عليه وقد قاسَى ما قاسَى، فإذا هو قد تغيَّرتْ حالتُه عمَّا كان، ثم ذكر الحديث … وزاد فيه:"ومَن نظَر في كتاب أخيه بغير إذنِه، فكأنما ينظُرُ في النار، ومن أحبَّ أن يكون أقوى الناس، فليتوكَّلْ على الله، ومَن أحبَّ أن يكون أكرمَ الناس، فليتقِ الله ﷿، ومن أحبَّ أن يكون أغنَى الناس، فليكُنْ بما في يدِ الله أوثقَ مِمَّا في يده". وقال:"أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُقِيلُ عَثْرَةً، ولا يَقبلُ معذرةً، ولا يَغفِرُ ذنبًا. أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا: نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُرجَى خيرُه، ولا يُؤْمَنُ شرُّه. إنَّ عيسى ابنَ مريمَ صلواتُ الله عليه قامَ في بني إسرائيلَ، فقال: يا بني إسرائيلَ، لا تتكلَّموا بالحِكْمة عند الجاهل فتَظلِموها، ولا تَمنعُوها أهلَها فَتَظْلِمُوهم، ولا تَظلِمُوا ظالمًا، ولا تُكافِئُوا ظالمًا فيبطُلَ فَضْلُكم عند ربِّكم. يا بني إسرائيل، الأمرُ ثلاث: أمرٌ تبيَّنَ غَيُّه فاجتنِبُوه، وأمرٌ اختُلِفَ فيه فردُّوه إلى الله ﷿ (1) " (2)
هذا حديث صحيح قد اتَّفق هشام بن زياد البَصْري ومُصادِف بن زياد المَدِيني على روايته عن محمد بن كعب القرظي، والله أعلم. ولم أَستجِزُ إخلاءَ هذا الموضع منه، فقد جمع آدابًا كثيرة.
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے اس وقت ملا جب وہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے مدینہ کے گورنر تھے، وہ ایک مضبوط جسم کے کڑیل جوان تھے، پھر جب وہ خلیفہ بنے تو میں خناصرہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کی حالت پہلے سے بالکل بدل چکی تھی، پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جو شخص اپنے بھائی کی کتاب (تحریر) میں اس کی اجازت کے بغیر دیکھے تو گویا وہ آگ میں دیکھ رہا ہے، اور جو یہ چاہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ طاقتور بن جائے تو اسے اللہ پر توکل کرنا چاہیے، اور جو یہ چاہے کہ وہ سب سے زیادہ معزز بن جائے تو اسے اللہ عزوجل سے ڈرنا چاہیے، اور جو یہ چاہے کہ وہ سب سے زیادہ غنی ہو جائے تو اسے اپنے ہاتھ میں موجود چیز کے مقابلے میں اللہ کے ہاتھ میں موجود خزانے پر زیادہ بھروسہ کرنا چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بھی برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: وہ شخص جو کسی کی لغزش کو معاف نہ کرے، کسی کا عذر قبول نہ کرے اور کسی کا گناہ معاف نہ کرے۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کی خبر نہ دوں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: وہ شخص جس سے کسی خیر کی امید نہ ہو اور جس کے شر سے کوئی محفوظ نہ ہو۔ بے شک عیسیٰ ابن مریم صلوات اللہ علیہ نے بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر فرمایا: اے بنی اسرائیل! نادان کے سامنے حکمت کی بات نہ کرو ورنہ تم اس حکمت پر ظلم کرو گے، اور اہل حکمت سے اسے نہ روکو ورنہ تم ان لوگوں پر ظلم کرو گے، اور کسی ظالم پر زیادتی کر کے ظلم نہ کرو، اور نہ ہی کسی ظالم کا برا بدلہ اس طرح چکاؤ کہ تمہاری فضیلت تمہارے رب کے پاس ختم ہو جائے۔ اے بنی اسرائیل! معاملات تین طرح کے ہیں: ایک وہ معاملہ جس کی ہدایت واضح ہو تو اس کی پیروی کرو، ایک وہ جس کی گمراہی واضح ہو تو اس سے بچو، اور ایک وہ معاملہ جس میں اختلاف ہو تو اسے اللہ عزوجل کے سپرد کر دو۔
یہ حدیث صحیح ہے، ہشام بن زیاد بصری اور مصادف بن زیاد مدینی دونوں نے اسے محمد بن کعب قرظی سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، واللہ اعلم۔ میں نے اس جگہ کو اس حدیث سے خالی رکھنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس میں بہت سے آداب جمع کر دیے گئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7900]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل هشام بن زياد أبي المقدام، وهشام لم يسمعه من محمد بن كعب القرظي، بينهما رجل مجهول، فقد قال مسلم في مقدمة "صحيحه": سمعت الحسن بن علي الحلواني يقول: رأيت في كتاب عفّان حديثَ هشام أبي المقدام: حديثُ عمر بن عبد العزيز، قال هشام: حدثني رجل ...» [ترقيم الرساله 7900] [ترقيم الشركة 7806]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں