🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. النَوْمَةُ التِي يَكْرَهُهَا اللَّهُ .
وہ نیند جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7901
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثني أبي حَدَّثَنَا الأوزاعي، أخبرني يحيى بن أبي كَثير (1) ، عن محمد ابن إبراهيم، عن قيس الغِفاري، عن أبيه قال: أتانا رسولُ الله ﷺ ونحن في الصُّفَّة بعد المغرب، فقال:"يا فلانُ انطلِقُ مع فلان، ويا فلانُ انطلِقْ مع فلان" حتَّى بقيتُ في خمسة أنا خامسُهم، فقال:"قُوموا معي (1) "ففعلنا فدخَلْنا على عائشةَ وذلك قبل أن ينزِلَ الحجابُ، فقال:"يا عائشةُ، أطعِمينا"، فقرَّبَتْ جَشِيشةً، ثم قال:"يا عائشةُ، أطعِمِينا" فقرَّبَتْ حَيْسًا مثل القَطَاة، ثم قال:"يا عائشةُ، اسقِينا" فجاءت بعُسٍّ، ثم قال:"إنْ شِئتُم نِمتُم عندنا، وإنْ شِئتُم انجَلَيتُم إلى المسجد فنِمتُم فيه". قال: فنِمْنا في المسجد، فأتاني النَّبِيُّ ﷺ في آخرِ الليل، فأصابَني نائمًا على بَطْني، فَرَكَضَني برِجلِه، وقال:"ما لك وهذه النَّومةَ؟ هذه نَومةٌ يكرهُها الله - أو يُبغِضُها الله -" (2) .
هذا حديث مختَلفٌ في إسناده على يحيى بن أبي كثير، وآخره أنَّ الصواب قيس بن طِخْفة الغِفاري. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
قیس غفاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ مغرب کے بعد ہم لوگ صفہ میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور کچھ اصحاب صفہ کو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ (کھانا کھانے کے لیے) بھیج دیا، ہم پانچ لوگ بچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: تم لوگ میرے ساتھ چلو، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل دیئے، ہم ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، یہ واقعہ پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں کچھ کھلاؤ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حشیشہ (مخصوص کھانا، جو آٹے کو پکا کر اس میں گوشت یا کھجوریں وغیرہ ڈال کر بنایا جاتا ہے) پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں کچھ کھلاؤ، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ایک کبوتر جتنا حیس (ایک قسم کا کھانا جو گھی ستو اور جو سے تیار کیا جاتا ہے) پیش کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں کچھ پلاؤ، ام المومنین نے ایک پیالے میں پانی پیش کیا، یہ پینے کے بعد۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اب تم سونا چاہو تو یہاں سو جاؤ، اور مسجد میں جانا چاہو تو وہاں جا کر سو جاؤ، راوی کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد میں آ کر سو گئے، رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں پیٹ کے بل الٹا سویا ہوا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں کی ٹھوکر مار کر جگایا اور فرمایا: تم اس طرح کیوں سوئے ہوئے ہو؟ اس انداز میں سونا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ ٭٭ اس حدیث کی اسناد میں یحیی بن ابی کثیر پر اختلاف ہے۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ قیس بن طخفہ غفاری درست ہیں۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7901]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7902
حَدَّثَنَا أبو زكريا العَنْبري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أن النَّبِيّ ﷺ مَرَّ برجلٍ مُضطجِعٍ على بَطْنِه، فضربه برجله وقال:"إنَّها ضِجْعةٌ لا يحبُّها الله ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے آدمی کے پاس سے ہوا جو کہ پیٹ کے بل سویا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کی ٹھوکر مار کر اس کو جگایا اور فرمایا: اس انداز میں لیٹنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7902]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7903
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا هِشام بن علي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَجَاء، حَدَّثَنَا همَّام، عن (1) قَتَادة، عن كَثير بن أبي كَثير، عن أبي عِيَاض، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ أن يَجْلِسَ الرجلُ بين الشمسِ والظِّلِّ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7710 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور چھاؤں کے درمیان میں بیٹھنے سے منع فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7903]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7904
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حَدَّثَنَا مِنْجاب بن الحارث، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن أبيه قال: رآني النَّبِيُّ ﷺ وأنا قاعدٌ في الشمس، فقال:"تحوّل إلى الظلِّ فإنه مبارَكٌ" (1) .
قیس بن ابی حازم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، میں دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سائے میں چلے جاؤ، کیونکہ وہ برکت والا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7904]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. لَا تَمْسَحْ يَدَكَ بِثَوْبِ مَنْ لَا تَمْلِكُ .
اپنے ہاتھ کسی ایسے شخص کے کپڑے سے نہ پونچھو جس پر تمہارا حق (ملکیت) نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7905
حَدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعْبة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: رأى النَّبِيُّ ﷺ أَبي وهو قاعدٌ في الشمس، فقال:"تحوَّلْ إلى الظلِّ فإنه مباركٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد وإن أرسله شعبةُ، فإِنَّ مِنْجَابَ بن الحارث وعليَّ بن مُسهِر ثقتان.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد محترم کو دیکھا، وہ دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھاؤں میں ہو جاؤ، کیونکہ وہ برکت والی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگرچہ شعبہ نے اس میں ارسال کیا ہے۔ کیونکہ منجاب بن حارث اور علی بن مسہر ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7905]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. النَّهْيُ عَنْ مَجْلِسَيْنِ وَمَلْبَسَيْنِ .
دو طرح کی مجلسوں اور دو طرح کے لباس کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7906
أخبرنا عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حَدَّثَنَا حامد بن سهل، حَدَّثَنَا عمرو بن مرزوق، حَدَّثَنَا شُعبة، عن عبد ربِّه بن سعيد، عن أبي عبد الله مولى أبي موسى الأشعَري، عن سعيد بن أبي الحسن قال: كنَّا في بيتٍ في شهادةٍ فدخل علينا أبو بَكْرةَ، فقام إليه رجلٌ عن مجلسِه، فقال أبو بكرةَ: قال رسول الله ﷺ:"لا يقيمُ الرجلُ الرجلَ من مجلسِه ثم يَقعُدُ فيه، ولا تَمسَحْ يدَك بثَوبِ من لا تَملِكُ" (2) . قد اتَّفق الشيخان على حديث القِيام (1) ، ولم يُخرجا حديث الثّوب، وهو صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7713 - صحيح
سیدنا سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں: ہم ایک گھر میں گواہی دینے کے لیے موجود تھے، سیدنا ابوبکرہ ہمارے پاس آئے، مجلس میں سے ایک آدمی ان کی جانب اٹھا، سیدنا ابوبکرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی آدمی، دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ خود نہ بیٹھے، اور اپنا ہاتھ اس کپڑے کے ساتھ صاف نہ کریں جو تمہارا نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قیام والی بات نقل کی ہے، اور کپڑے والی بات نقل نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7906]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7907
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرُو، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن حاتم، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقيق، حَدَّثَنَا أبو تُمَيلة، حدثني أبو المُنِيب عُبيد الله (2) بن عبد الله العَتَكي، حدثني عبدُ الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن مَجلِسَينِ ومَلْبَسَينِ، فأما المَجلِسانِ: فجلوسٌ بين الظلِّ والشمس، والمجلِسُ الآخرُ أَن تَحتبِيَ في ثوبٍ يُفضِي إلى عورتِك. والمَلْبسان: أحدُهما أن تصلِّيَ في ثوب ولا تَوشَّحَ به، والآخرُ أَن تُصلِّيَ فِي سَراوِيلَ ليس عليك رِداءٌ (3) .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مجلسوں سے اور ملبوسات سے منع فرمایا۔ دو مجلسیں یہ ہیں۔ ٭ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان بیٹھنا۔ ٭ ایک چادر میں یوں لپٹ کر بیٹھنا کہ اپنی شرمگاہ پر نظر پڑتی ہو۔ اور دو ملبوسات یہ ہیں۔ ٭ ایک کپڑے میں یوں نماز پڑھنا کہ کپڑا پہنا ہوا نہ ہو۔ ٭ قمیص یا کوئی چادر اوڑھے بغیر صرف شلوار پہن کر نماز پڑھنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7907]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. كَانَ النَّبِيُّ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا
نبی کریم ﷺ جب کوئی بات فرماتے تو اسے تین بار دہراتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7908
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُوري، حَدَّثَنَا عثمان بن عمر، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن مَيْسَرةَ بن حَبيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن عائشة أمِّ المؤمنين قالت ما رأيتُ أحدًا أشبهَ سَمْتًا ودَلًّا وهَديًا برسولِ الله ﷺ في قيامِها وقعودِها من فاطمة بنتِ رسول الله ﷺ. قالت: وكانت إذا دخلَتْ على النَّبِيِّ ﷺ، قامَ إليها فقبَّلها وأجلسَها في مَجلِسِه، وكان النبيُّ ﷺ إذا دخلَ عليها قامَتْ من مَجلِسِها، فقبَّلَتْه وأجلسَتْه في مَجْلِسِها، فلمَّا مَرِضَ النبيُّ ﷺ دخلَتْ فاطمةُ فأكبَّتْ عليه فقبَّلَته، ثم رفعت رأسَها [فبكَتْ، ثم أكبَّتْ عليه ورفعت رأسَها] (1) فضَحِكَت. فقلتُ: إني كنتُ أظنُّ أنَّ هذه من أعقلِ نسائِنا، فإذا هي من النِّساء، فلمَّا توفي النَّبِيّ ﷺ قلتُ لها: رأيتُكِ حين أكببتِ على النَّبِيِّ فرفعتِ رأسَك فبكيتِ، ثم أكببتِ عليه فرفعتِ رأسَك فضحكتِ، ما حَمَلَكِ على ذلك؟ قالت: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ، أخبرني أنه ميِّتٌ من وجعِه هذا فبكيتُ، ثم أخبرني أنِّي أسرعُ أهل بيتِه لُحوقًا به، فذاك حين ضحكتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عائشة ﵂ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7715 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے گفتگو، سمجھانے کے انداز اور گفتار میں، فاطمہ سے زیادہ کسی کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت نہیں دیکھی، اٹھنا، بیٹھنا سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تھا۔ آپ فرماتی ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے استقبال کے لیے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور ان کو اپنے ساتھ بٹھاتے۔ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیتیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک گئیں، کچھ دیر بعد سر اوپر اٹھایا اور آپ رو پڑیں، اس کے بعد دوبارہ آپ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئیں، کچھ دیر بعد سر اوپر اٹھایا اور آپ مسکرا پڑیں، میں نے سوچا: میں تو ان کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتی تھی، لیکن یہ بھی دوسری عورتوں کی طرح نکلی، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو (بعد میں) میں نے ان سے پوچھا: میں نے تمہیں دیکھا، تھا تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی، پھر تم نے سر اوپر اٹھایا اور رو پڑی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی، پھر سر اٹھایا اور مسکرا دی، اس کی وجہ کیا تھی؟ سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت کی) نذر مانی ہوئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ اس درد میں میری وفات ہو جائے گی، اس لیے میں رو پڑی تھی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ پورے گھر میں سب سے پہلے میں اپنے ابا سے ملوں گی، یہ سن کر میں خوش ہو گئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبی کے ذریعے، مسروق کے واسطے سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7908]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7909
حَدَّثَنَا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل بالرَّي، حَدَّثَنَا أبو حاتم، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله (2) عبد بن المثنَّى الأنصاري، حدثني أبي، حَدَّثَنَا ثُمَامة، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا تكلَّم بكَلِمةٍ، أعادها ثلاثًا لتُعقَلَ عنه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7716 - أخرجه البخاري سوى قوله لتعقل عنه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب (کوئی خاص) بات کرتے تو ایک ایک کلمہ تین تین مرتبہ دہراتے، تاکہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7909]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. ذِكْرُ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ مَعَ مَعْنَاهَا .
نبی کریم ﷺ کے اسماءِ گرامی اور ان کے معانی کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7910
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجَوهري، حَدَّثَنَا المُعلَّى بن منصور، حَدَّثَنَا هُشَيم، أخبرنا منصور بن زاذان، عن ابن سِيرِين، عن ابن العلاء [بن] (4) الحَضْرمي، عن أبيه: أنه كتبَ إلى النَّبِيِّ ﷺ فَبَدَأَ بنفسِه (5) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7717 - على شرط البخاري ومسلم
ابن العلاء بن الحضرمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب ایک خط لکھا، اس کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7910]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں