المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. تَفَاؤُلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْمَاءِ
نبی کریم ﷺ کا ناموں سے اچھا شگون (فال) لینا
حدیث نمبر: 7921
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وأخبرني أبو عمرو (1) بن مَطَر العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد بن البَخْتَري، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شُعبة، قال: سمعتُ أبا إسحاق يُحدِّث عن خَيْثمةَ: أنَّ جده سمَّى أباه عَزيزًا، فذَكَرَ ذلك للنبي، فسمَّاه عبدَ الرحمن (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7728 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7728 - صحيح
سیدنا خیثمہ فرماتے ہیں: ان کے والد نے ان کا نام ” عزیز “ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا نام بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ” عبدالرحمن “ رکھ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7921]
حدیث نمبر: 7922
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضّل، حدثنا بشير بن ميمون، عن عمه أسامة بن أَخدري: أنَّ رجلًا من بني شَقِرة يُقال له: أَصرَمُ، كان في النَّفر الذين أتَوُا النبيَّ ﷺ، فأتاه بغلامٍ له حَبَشي اشتراه بتلك البلاد، فقال: يا رسولَ الله، إنّي اشتريتُ هذا، فأحببتُ أن تُسمِّيَه وتدعوَ له بالبَرَكة، قال:"ما اسمُك؟" قال: أصرَمُ، قال:"أنت زُرْعةُ، فما تريدُ؟" قال: أَسْمِ هذا الغلامَ، قال:"فهو عاصمٌ"، وقَبَضَ كفَّه (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7729 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7729 - صحيح
سیدنا اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی شقرہ کا ایک آدمی جس کا نام ” اصرم “ تھا، وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے، اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا ایک غلام پیش کیا جو اس نے اس علاقے سے خریدا تھا، اس نے بتایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ خریدا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام بھی رکھیں اور اس کے لیے برکت کی دعا بھی فرمائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: اصرم۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ” زرعہ “ ہو، تمہارا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اس بچے کا نام۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ” عاصم “ ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7922]
حدیث نمبر: 7923
أخبرنا أبو بكر بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو الربيع الزَّهراني، حدثنا أبو قُتَيبة سَلْم بن قُتيبة، حدثنا حَمَل بن بَشير بن أبي حَدْرَد، حدثني، عمِّي، عن أبي حَدْرَد، أن النبيَّ ﷺ قال: مَن يَسُوقُ إبلنا هذه؟" فقام رجلٌ فقال: أنا، فقال:"ما اسمُك؟" قال: فلان قال:"اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال:"ما اسمُك؟" قال: فلان، قال:"اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال:"ما اسمُك؟" قال: ناجيَةُ، قال:"أنت لها فسُقْها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7730 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7730 - صحيح
سیدنا ابوحدرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے یہ اونٹ کون چرائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: میں چراؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام بتایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ، پھر ایک اور آدمی اٹھا، اس نے کہا: میں چراؤں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام پوچھا، اس نے اپنا نام بتایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی بٹھا دیا، پھر ایک اور آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے خود کو پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام پوچھا، اس نے اپنا نام ” ناجیہ “ بتایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ چرانے کی ذمہ داری اس کے سپرد فرما دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7923]
حدیث نمبر: 7924
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إبراهيم بن سعد، حدثني أبي، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عوف قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ عَمرٍو، فسمَّاني رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7731 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7731 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جاہلیت میں میرا نام ” عبد عمرو “ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام ” عبدالرحمن “ رکھ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7924]
حدیث نمبر: 7925
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو مُسلم، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ قال الرجل:"ما اسمك؟" قال: شِهَاب، قال:"أنت هِشَام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإذا الرجلُ هشامُ بن عامر (3) الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7732 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإذا الرجلُ هشامُ بن عامر (3) الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7732 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے اس کا نام پوچھا، اس نے اپنا نام ” شہاب “ بتایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم شہاب نہیں بلکہ) تم ہشام ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ جس آدمی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نام پوچھا تھا وہ ” ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ “ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7925]
حدیث نمبر: 7926
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا المُعلَّى بن أَسدٍ (4) قال: عبد العزيز بن المُختار قال: حدثنا علي بن زيد، عن الحسن، عن هشام بن عامر قال: أتيتُ النبيَّ، ﷺ، فقال:"ما اسمُك؟" قلت: شِهَاب، قال:"بل أنت هِشامٌ" (5) .
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام پوچھا، میں نے اپنا نام ” شہاب “ بتایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم شہاب نہیں ہو) بلکہ تم ہشام ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7926]
21. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت اختیار نہ کرو
حدیث نمبر: 7927
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله (1) بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن أبيه، عن علي: أنه سمَّى ابنه الأكبر باسم عمِّه حمزةَ، وسمَّى حُسينًا بعمِّه جعفر، فدعا رسولُ الله ﷺ عليًا، فقال:"إنِّي قد أُمِرتُ أن أغيِّرَ اسمَ هذَينِ" فقال: الله ورسولُه أعلمُ، فسمَّاهما حَسنًا وحُسينًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام اپنے چچا حمزہ کے نام پر ” حمزہ “ رکھا تھا اور سیدنا حسین کا نام اپنے چچا جعفر کے نام پر ” جعفر “ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان دونوں کے نام تبدیل کر دوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام تبدیل کر کے حسن اور حسین رکھ دیئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7927]
حدیث نمبر: 7928
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة ومنصور وسليمان وحُصَين بن عبد الرحمن، قالوا سمعنا سالمَ بن أبي الجَعْد يحدِّث عن جابر بن عبد الله قال: وُلِدَ للأنصار ولدٌ فأرادوا أن يسمُّوه محمدًا، فأتَوا به رسولَ الله ﷺ، فقال:"أحسنَتِ الأنصارُ، تَسمَّوا باسمي ولا تَكْتَنُوا بكُنْيتي، فإنما بُعِثتُ قاسِمًا أَقسِمُ بينكم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وقد اتَّفقا فيه على حديث جَرير عن منصور بغير هذه السِّياقة. وقد جمع بِشرُ بن عمر الزَّهراني وأبو الوليد الطَّيالسي عن شُعبة بين الأربعة كما جمع بينهم النَّضرُ بن شُمَيل:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وقد اتَّفقا فيه على حديث جَرير عن منصور بغير هذه السِّياقة. وقد جمع بِشرُ بن عمر الزَّهراني وأبو الوليد الطَّيالسي عن شُعبة بين الأربعة كما جمع بينهم النَّضرُ بن شُمَيل:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: انصار کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، ان لوگوں کا ارادہ تھا کہ اس بچے کا نام ” محمد “ رکھیں، وہ لوگ اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار نے بہت اچھا کیا۔ تم میرے نام پر نام تو رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر کوئی کنیت نہ رکھے۔ کیونکہ تقسیم کرنے والا صرف مجھے بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اور میں ہی تمہارے درمیان (رزق اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں) تقسیم کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے جریر کی منصور کے واسطے سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے، اس کی اسناد اور ہے۔ بشر بن عمر زہرانی اور ابوالولید الطیالسی نے شعبہ سے روایت کرنے میں سلیمان، حصین، منصور اور قتادہ چاروں کو جمع کیا ہے جیسا کہ نضر بن شمیل نے چاروں کو جمع کیا ہے، جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7928]
حدیث نمبر: 7929
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، حدثنا بِشر بن عمر الزَّهراني. قال (1) : وحدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد؛ قالا: حدثنا شُعبة، عن سليمان وحُصَين ومنصور وقَتَادة، سمعوا سالمَ بن أبي الجَعْد يحدِّثُ عن جابر بن عبد الله، عن النبيِّ ﷺ، مثلَه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7735 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7735 - على شرط البخاري ومسلم
مذکور حدیث میں ابوالولید نے شعبہ کے واسطے سے روایت کی ہے، اور شعبہ کے بعد سلیمان، حصین، منصور اور قتادہ سے روایت کی ہے۔ ان سب نے سالم بن ابی الجعد کے واسطے سے جابر عبداللہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سابقہ فرمان جیسا فرمان نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7929]
22. جَوَازُ دُعَاءِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ بِاسْمِهَا
مرد کا اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکارنے کا جواز
حدیث نمبر: 7930
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسّان قالا: حدثنا فِطْر بن خَليفة، حدثني مُنذر الثَّوري قال: سمعتُ محمد ابن الحنفية يقول: سمعتُ أبي يقول: قلتُ: يا رسول الله، أرأيت إن وُلِدَ لي بعدَك ولد، أُسمِّيه باسمِك، وأُكنِّيه بكُنيتِك؟ قال:"نَعَمْ". قال عليٌّ: فكانت هذه رُخصةً لي (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا يتوهَّم أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن فِطر، وليس كذلك، فإنهما قد قَرَنا بينه وبين آخر في إسناد واحد. قد ذكر بعضُ أئمتنا في هذا الموضع بابًا كبيرًا في إباحة دعاء الرجل امرأتَه باسمها خلاف قول العامة: إنه غير جائز. وأورد فيه أخبارًا كثيرة في قول النبي ﷺ:"يا عائشة" و يا عائشُ" و"يا أمَّ سَلَمة"، وتركتُها (1) لاتفاقِهما على أكثرها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7737 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا يتوهَّم أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن فِطر، وليس كذلك، فإنهما قد قَرَنا بينه وبين آخر في إسناد واحد. قد ذكر بعضُ أئمتنا في هذا الموضع بابًا كبيرًا في إباحة دعاء الرجل امرأتَه باسمها خلاف قول العامة: إنه غير جائز. وأورد فيه أخبارًا كثيرة في قول النبي ﷺ:"يا عائشة" و يا عائشُ" و"يا أمَّ سَلَمة"، وتركتُها (1) لاتفاقِهما على أكثرها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7737 - على شرط البخاري ومسلم
محمد بن حنفیہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو، میں آپ کے نام پر اس کا نام، اور آپ کی کنیت پر اس کی کنیت رکھ سکتا ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ رخصت فقط میرے لیے تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ شاید کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے فطر کی روایات نقل نہیں کی۔ یہ وہم درست نہیں ہے۔ کیونکہ شیخین نے ایک اسناد میں ان دونوں کو جمع کیا ہے۔ ہمارے بعض ائمہ نے اس مقام پر اپنی بیوی کو اس کا نام لے کر پکارنے کے جواز میں ایک باب ذکر کیا ہے اور اس باب میں بہت ساری وہ احادیث ذکر کی ہیں جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ” یا عائشہ “ کہہ کر پکارا ہے۔ جبکہ عام لوگوں کا قول ہے کہ بیوی کو اس کا نام لے کر نہیں پکارنا چاہیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7930]