المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. خَيْرُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ
تم میں سے بہترین وہ ہے جو کھانا کھلائے
حدیث نمبر: 7931
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثنا يحيى بن عبد الله بن سالم وسعيد بن عبد الرحمن، عن هشام بن عُرْوة، عن عبَّاد بن حمزة، عن عائشة أنها قالت: يا رسولَ الله، ألا تُكنيني؟ قال:"اكتَني بابنكِ عبد الله بن الزُّبير". فكانت تُكْنَى أُمّ عبد الله (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7738 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7738 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میری کنیت کیوں نہیں رکھتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کے نام سے کنیت رکھ لو، چنانچہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کنیت ” ام عبداللہ “ رکھوائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7931]
حدیث نمبر: 7932
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلاب بهمذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن حمزة بن صُهيب، عن أبيه، عن عمر بن الخطّاب: أنه قال لصُهيب: إِنَّكَ لَرجلٌ لولا خِصالٌ ثلاثة، قال: وما هنَّ؟ قال: اكتَنيتَ وليس لك ولدٌ، وانتَميتَ إلى العرب وأنت رجلٌ من الرُّوم، وفيك سَرَفٌ في الطَّعام، قال: يا أميرَ المؤمنين، أما قولُك: اكتنيتَ وليس لك ولدٌ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ كنَّاني أبا يحيى، وأما قولُك: انتميتَ إلى العرب، فإنِّي رجلٌ من النَّمِر بن قاسِطٍ استُبِيتُ من المَوْصل بعد أن كنتُ غلامًا قد عرفتُ أهلي ونَسَبي، وأما قولُك: فيك سَرَفٌ في الطعام، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ خيرَكم مَن أطعمَ الطَّعامَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7739 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7739 - صحيح
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا صہیب رومی سے فرمایا: اگر تمہارے اندر تین عادتیں نہ ہوں تو تم بہت اچھے آدمی ہو، سیدنا صہیب نے پوچھا: وہ کون سی عادتیں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٭ تم نے کنیت رکھی ہوئی ہے جبکہ تیری تو کوئی اولاد نہیں ہے۔ ٭ تم اپنے آپ کو عربی کہلاتے ہو جبکہ تم روم کے باشندے ہو۔ ٭ اور تم کھانے میں اسراف کرتے ہو۔ سیدنا صہیب نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے کنیت رکھی ہوئی ہے اور میری کوئی اولاد نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ میری کنیت ” ابویحیی “ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں رومی ہوں اور عربی کیوں کہلاتا ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میرا تعلق نمر بن قاسط سے ہے، موصل سے مجھے قید کر لیا گیا تھا، اس وقت میں بچہ تھا، لیکن میں اپنے خاندان اور نسب کو پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ میں طعام میں اسراف کرتا ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو کھانا کھلائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7932]
حدیث نمبر: 7933
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا أبو المِنْهال عبد الرحمن بن معاوية البَكْراوي، عن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، عن أبيه قال: لمّا حاصر النبي ﷺ الطائف، تدلّيتُ ببكرة، قال: كيف صنعت؟ قلتُ: تدلَّيتُ ببَكْرة، فقال:"أنت أبو بَكْرة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7740 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7740 - صحيح
عبدالعزیز بن ابی بکرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو میں صبح سویرے (طائف کے قلعہ سے اتر کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں صبح سویرے قلعہ سے نکل آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم ابوبکرہ “ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7933]
حدیث نمبر: 7934
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو غسّان، حدثنا قيس بن الربيع، عن المِقْدام بن شُريح، عن أبيه [عن جده] (1) قال: قال لي رسول الله ﷺ:"أيُّ ولدِك أكبرُ؟" قلتُ: شُريح، قال:"فأنت أبو شُرَيح" (2) . تفرَّد به قيس عن المِقدام (3) ، وأنا ذاكرٌ بعده حديثًا تفرَّد به مُجالِد بن سعيد، وليسا من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7741 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7741 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مقدام بن شریح اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تیرا کونسا بیٹا بڑا ہے؟ میں نے بتایا: شریح۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ” ابوشریح “ ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو مقدام سے روایت کرنے میں قیس منفرد ہیں۔ اور میں اس کے بعد وہ حدیث بیان کر رہا ہوں جس کو روایت کرنے میں مجالد بن سعید منفرد ہیں۔ اور یہ دونوں ہی ہماری اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7934]
حدیث نمبر: 7935
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عَفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، عن مُجالِد، عن عامر، عن مسروق قال: [قدمتُ على عمرَ، فقال: ما اسمُك؟ قلت: مسروقٌ، قال] (4) : ابن مَنْ؟ قلتُ: ابن الأجدَع، قال: أنت مسروق بن عبد الرحمن، حدَّثَنا رسولُ الله ﷺ: أَنَّ الأجدعَ شيطانٌ. قال: وكان اسمُه في الديوان مسروقَ بنَ عبد الرحمن (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7742 - قيس ومجالد ليسا من شروط كتابنا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7742 - قيس ومجالد ليسا من شروط كتابنا
مسروق کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرا نام پوچھا، میں نے کہا: میرا نام ” مسروق “ ہے۔ آپ نے پوچھا: کس کا بیٹا ہے؟ میں نے بتایا: ابن الاجدع کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو مسروق بن عبدالرحمن ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا ہے کہ ”اجدع“ شیطان ہے۔ راوی کہتے ہیں: حکومتی معاملات میں ان کا نام ”مسروق بن عبدالرحمن“ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7935]
24. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَكْرَهُ أَنْ يَطَأَ أَحَدٌ عَقِبَهُ
رسول اللہ ﷺ اسے ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی آپ کے نقشِ قدم پر (بالکل پیچھے لگ کر) چلے
حدیث نمبر: 7936
حدثنا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى بن إسحاق الحُلْواني، حدثنا عيسى بن أبي حرب الصَّفّار، حدثنا يحيى بن أبي بُكَير، حدثنا عَديُّ بن الفضل، عن إسحاق بن سُوَيد، عن يحيى بن يَعمَر، عن ابن عمر: أَنَّ رجلًا قال: يا رسولَ الله، قال:"يا لبَّيكَ" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7743 - عدي بن الفضل تركوه
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7743 - عدي بن الفضل تركوه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں پکارا ”یا رسول اللہ“۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ”یا لبیک“ کہہ کر جواب دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7936]
حدیث نمبر: 7937
أخبرنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا شَيبان، حدثنا سليمان بن المغيرة، حدثنا ثابت البُنَاني، عن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، عن عبد الله بن عمرو قال: كان رسولُ الله ﷺ يكرهُ أن يَطَأَ أَحدٌ عَقِبَيْه، ولكن يمينٌ وشِمالٌ (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے بالکل پیچھے چلے، آپ دائیں یا بائیں چلنے کو پسند کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7937]
حدیث نمبر: 7938
وأخبرنا أبو نصر، حدثنا صالح، حدثنا علي بن الحسين الدِّرهمي، حدثنا أُمية بن خالد، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله، نحوه (1) . حديث سليمان بن المغيرة صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7745 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7745 - على شرط مسلم
سلمان بن مغیرہ نے ثابت سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے ان کے والد سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سابقہ فرمان جیسا فرمان نقل کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7938]
25. النَّهْيُ عَنْ مَشْيِ الرَّجُلِ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ .
مرد کے دو عورتوں کے درمیان چلنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7939
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا الحسن بن علي بن بحر بن بَرِّي، حدثني أبي، حدثنا سعيد بن مَسلَمة بن هشام بن عبد الملك الأُموي، حدثنا إسماعيل بن أميّة، عن نافع، عن ابن عمر قال: دخلَ رسولُ الله ﷺ المسجدَ وأبو بكر عن يمينِه وعمرُ عن شمالِه، آخذًا (2) بأيديهما، فقال:"هكذا نُبعَثُ يومَ القيامة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7746 - سعيد بن مسلمة ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7746 - سعيد بن مسلمة ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اسی طرح قیامت میں اٹھائے جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7939]
حدیث نمبر: 7940
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المُستَملي، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا سَلْم بن قُتيبة، حدثنا داود بن [أبي] (4) صالح، عن نافع عن ابن عمر قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ أن يمشيَ الرجلُ بين المرأتَين (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے منع فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7940]