🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. أَشْقَى الِأَشْقِيَاءِ مَنِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ فَقْرُ الدُّنْيَا وَعَذَابُ الْآخِرَةِ
بدبختوں میں سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جس پر دنیا کی فقیری اور آخرت کا عذاب جمع ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8110
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبّاس بن الوليد بن مَزْيد البَيرُوتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عُتبة بن أبي حَكيم، عن عمرو بن جاريَة، عن أبي أُميّة الشَّعْباني، قال: سألتُ أبا ثعلبةَ عن هذه الآية: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [المائدة: 105] ، فقال أبو ثعلبة: لقد سألتَ عنها خبيرًا، أنا سألت عنها رسولَ الله ﷺ قَبْلًا، فقال: يا أبا ثعلبةَ مُرُوا بالمعروف وتَناهَوْا عن المنكَر، فإذا رأيتَ شُحًّا مُطاعًا وهوى مُتَبَعًا، ودُنْيا مُؤثَرةً، ورأيتَ أمرًا لا بدَّ لك من طلبِه، فعليكَ نفسَك ودَعْهم وعَوَامَّهم، فإِنَّ وراءَكم أيامَ الصَّبر، صبرٌ فيهنَّ كقَبْضٍ على الجَمْر للعامل فيهنَّ أجرُ خمسينَ يعملُ مثلَ عملِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7912 - صحيح
سیدنا ابو امیہ شعبانی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، جب تم راہِ راست پر ہو تو جو گمراہ ہوا اس کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی [سورة المائدة: 105] ، تو انہوں نے کہا: تم نے اس کے بارے میں ایک باخبر شخص سے پوچھا ہے، میں نے اس بارے میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اے ابو ثعلبہ! تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، لیکن جب تم دیکھو کہ بخل (لالچ) کی پیروی کی جا رہی ہے، خواہشات نفسانی پر عمل ہو رہا ہے، دنیا کو (آخرت پر) ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے پر مغرور ہے، تو اس وقت تم اپنی ذات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کو چھوڑ دینا، کیونکہ تمہارے پیچھے صبر کے دن آنے والے ہیں، ان دنوں میں (دین پر) قائم رہنا ایسا ہی ہوگا جیسے مٹھی میں دہکتا ہوا انگارہ پکڑنا، ان ایام میں نیک عمل کرنے والے کے لیے ان پچاس لوگوں جتنا اجر ہوگا جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8110]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين عمرو بن جارية روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وحسن الترمذي حديثه هذا، وأبو أمية الشعباني روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ووثقه الذهبي في "الكاشف"» [ترقيم الرساله 8110] [ترقيم الشركة 8011] [ترقيم العلميه 7912]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8111
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي، حدثنا عمرو بن عاصم الكلابي، حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا قَتَادة، عن مُطرِّف بن عبد الله، عن أبيه قال: انَتهيتُ إلى النبيِّ ﷺ وهو يقرأُ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ قال:"يقول ابن آدم: مالي مالي، وهل لك مِن مالِك إِلَّا ما لَبِستَ فأبلَيتَ، أو أكلت فأفنَيتَ، أو تصدّقتَ فأمضَيتَ؟!" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7913 - صحيح
سیدنا مطرف بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلاوت فرما رہے تھے: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ [سورة التكاثر: 1-2] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! حالانکہ (اے انسان!) تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ دے کر (اپنے آگے) بھیج دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8111]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو بن عاصم الكلابي، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8111] [ترقيم الشركة 8012] [ترقيم العلميه 7913]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8112
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر، حدثنا حَرِيز بن عثمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَيْسرة، عن جُبير بن نُفَير، عن بِشر (1) بن جَحَّاش القرشي قال: إنَّ رسولَ الله ﷺ بَزَقَ في كفِّه، ثم وضع عليها إصبَعَه، ثم قال:"يقولُ الله ﵎: يا ابن آدم، تُعجِزُني وقد خلقتُك من مثل هذا، حتى إذا سوَّيتُك وَعَدَلتُك، مشيتَ وجَمَعتَ ومَنَعَتَ، حتى إذا بَلَغَتِ التَّراقيَ قلتَ: أتصدَّقُ، وأنَّى أوَانُ الصَّدقة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7914 - صحيح
سیدنا بشر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر تھوکا، پھر اس پر اپنی انگلی رکھی اور فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ یہاں تک کہ جب میں نے تجھے درست اور اعتدال پر مبنی بنا دیا تو تو (زمین پر) اکڑ کر چلا، مال جمع کیا اور (حقوق کی ادائیگی سے) ہاتھ روکے رکھا، یہاں تک کہ جب (جان) حلق تک پہنچ گئی تو تو کہنے لگا: اب میں صدقہ کرتا ہوں، حالانکہ اب صدقے کا وقت کہاں رہا؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8112]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة» [ترقيم الرساله 8112] [ترقيم الشركة 8013] [ترقيم العلميه 7914]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. مَنِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا حَوَى
جو اللہ سے کما حقہ حیا کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے سر اور اس میں موجود خیالات کی حفاظت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8113
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله بن محمد إبراهيم العَبْدي، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا مروان بن معاوية، عن أبان بن إسحاق، عن الصَّباح (3) ، عن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"استَحْيوا من الله حقَّ الحياء فقلنا: يا نبيَّ الله إنا لَنستَحْيي، قال:"ليسَ ذلك، ولكن مَن استَحْيا من الله حق الحياءِ، فليَحفَظ الرأسَ وما حَوَى، والبطن وما وَعَى، وليَذكُرِ الموتَ والبِلَى، ومن أرادَ الآخرة تَركَ زينةَ الدُّنيا، ومن فعلَ ذلك فقد استَحْيا من الله حقَّ الحياء" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7915 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ویسا حیا کرو جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم (الحمدللہ) حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا مطلب یہ نہیں ہے، بلکہ جو اللہ سے کما حقہ حیا کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ سر اور جو اس (دماغ و حواس) نے سمیٹا ہے اس کی حفاظت کرے، اور پیٹ اور جو اس نے (غذا و خیالات) جمع کیا ہے اس کا خیال رکھے، اور موت اور (قبر میں) بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے۔ اور جس نے آخرت کا ارادہ کر لیا وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ دیتا ہے، پس جس نے یہ سب کیا اس نے یقیناً اللہ سے ویسا حیا کیا جیسا حیا کرنے کا حق ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8113]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف الصباح وهو ابن محمد بن أبي حازم الأحمسي الكوفي» [ترقيم الرساله 8113] [ترقيم الشركة 8014] [ترقيم العلميه 7915]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8114
حدثني علي بن بُنْدار، الزاهد، حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثني أحمد بن بكر البالِسي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن عوف، عن الحسن بن أبي الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"يأتي على الناس زمانٌ يَتحلَّقونَ في مساجدِهم وليس هِمَّتُهم إلَّا الدنيا، ليس الله فيهم حاجةٌ، فلا تُجالِسُوهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7916 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں حلقے بنا کر بیٹھیں گے لیکن ان کا نصب العین صرف دنیا ہی ہو گا، اللہ کو ایسے لوگوں کی کوئی حاجت نہیں، پس تم ان کے پاس مت بیٹھا کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8114]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة لضعف أحمد بن بكر البالسي، وقال ابن عدي: روى أحاديث مناكير عن الثقات، وزيد بن الحباب في حديثه عن الثَّوري لين» [ترقيم الرساله 8114] [ترقيم الشركة 8015] [ترقيم العلميه 7916]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّة لضعف أحمد بن بكر البالسي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8115
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن (2) ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا مَخَلد بن يزيد، حدثنا بَشير بن زاذان (3) ، عن سيَّار أبي الحَكَم، عن طارق بن شِهَاب، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"اقتَرَبَت الساعةُ ولا يَزدادُ الناسُ على الدنيا إلَّا حرصًا، ولا يزدادون من الله إلَّا بُعدًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7917 - هذا منكر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قریب آ پہنچی ہے جبکہ لوگوں کی دنیا کے لیے حرص و لالچ میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور وہ اللہ سے دور ہی ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8115]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8115] [ترقيم الشركة 8016] [ترقيم العلميه 7917]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. مُكَالَمَةُ إِبْلِيسَ مَعَ جُنُودِهِ فِي أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ
مسلمانوں کے معاملے میں ابلیس کی اپنے چیلوں کے ساتھ گفتگو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8116
أخبرني جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا أبو مَعمَر إسماعيل بن إبراهيم الهُذَلي، حدثنا أبو أسامة، حدثنا كُلْثوم بن جَبْر الهُذَلي، حدثنا سليمان بن حَبيب المُحارِبي، قال: سمعتُ أبا أُمامة الباهلي يقول: لما بُعِثَ نبيُّ الله ﷺ أَتَتْ إبليسَ جنودَه، فقالوا: قد بُعِثَ نبيٌّ وخرجَتْ أمّتُه، فقال إبليس: أيحبُّون الدنيا؟ قالوا: نعم، قال: لَئِن كانوا يُحبُّونها ما أُبالي أن لا يَعبُدوا الأوثانَ، إنهم لن يَنفلِتوا مني وأنا أغْدُو عليهم وأرُوحُ بثلاث: أخْذِ المالِ من غير حقِّه، وإنفاقِه في غير حقِّه، وإمساكِه عن حقِّه، والشرُّ كلُّه لهذا تَبَعٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7918 - كلثوم بن جبر ضعيف
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ابلیس کے پاس اس کے کارندے آئے اور کہنے لگے: ایک نبی مبعوث ہو چکے ہیں اور ان کی امت ظاہر ہو گئی ہے، ابلیس نے پوچھا: کیا وہ دنیا سے محبت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اگر وہ دنیا سے محبت کرتے ہیں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ بتوں کی پوجا نہ کریں، وہ ہرگز مجھ سے بچ کر نہیں نکل سکیں گے، میں صبح و شام تین راستوں سے ان پر غلبہ پاؤں گا: مال کو ناحق طریقے سے حاصل کرنا، اسے غلط جگہ پر خرچ کرنا اور اسے واجب الادا حق سے روکنا، اور تمام تر برائیاں انہی باتوں کے پیچھے آتی ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8116]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، ونُرى أنَّ الحاكم أو من فوقه قد وهم في هذا الإسناد في نسبة كلثوم، فإن المعروف بالرواية عن سليمان بين حبيب هو مولاه كلثوم بن زياد المحاربي، وهذا ضعَّفه النسائي في كتابه "الضعفاء" (510)» [ترقيم الرساله 8116] [ترقيم الشركة 8017] [ترقيم العلميه 7918]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ التَّقْوَى وَحُسْنُ الْخُلُقِ .
لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں لے جانے والی چیزیں تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8117
حدثنا أبو بكر محمد بن داود، الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا سهل بن عثمان، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي هريرة قال: سُئل النبيُّ ﷺ عن أكثرِ ما يُدخِل الناسَ الجنَّةَ، قال:"التقوى وحُسْنُ الخُلُق، وسُئل عن أكثرِ ما يُدخِلُ الناسَ النَّارَ، فقال:"الأجْوَفانِ": الفمُ والفَرْجُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7919 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان اعمال کے بارے میں پوچھا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں لے جائیں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8117]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل جدِّ عبد الله بن إدريس» [ترقيم الرساله 8117] [ترقيم الشركة 8018] [ترقيم العلميه 7919]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8118
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا قيس بن أُنيف، حدثنا قُتيبة، حدثنا أبو عَوَانة، عن سِمَاك، عن النُّعمان بن بَشير؛ قال سِماكٌ: سمعتُ النُّعمانَ وهو على المنبر يقول: قد كان رسولُ الله ﷺ لا يَجِدُ ما يَملأُ بطنَه من الدَّقَل وهو جائع (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7920 - على شرط مسلم
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) فرما رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی حالت میں (بسا اوقات) اپنے پیٹ کو بھرنے کے لیے گھٹیا درجے کی کھجوریں بھی نہیں پاتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8118]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سماك» [ترقيم الرساله 8118] [ترقيم الشركة 8019] [ترقيم العلميه 7920]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِيَامُ اللَّيْلِ
مومن کا شرف رات کو قیام (تہجد) کرنے میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8119
حدثنا محمد بن سعيد المُذكِّر الرازي، حدثنا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا عيسى بن صَبيح، حدثنا زافر بن سليمان، عن محمد بن عُيينة، عن أبي حازم؛ قال مرَّةً: عن ابن عمر، وقال مرَّةً: عن سَهْل بن سعد، قال: جاء جبريلُ ﵇ إلى النبيِّ ﷺ فقال:"يا محمَّدُ، عِشْ ما شئتَ فإنك ميتٌ، وأحبِبْ مَن أحببتَ فإنك مُفارِقُه، واعمَلْ ما شئتَ فإنك مَجزِيّ به". ثم قال:"يا محمَّدُ، شَرَفُ المؤمن قيامُ الليل، وعِزُّه استغناؤُه عن النَّاس" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإنما يعرف من حديث محمد بن حُميد عن زافر، فرضي الله عن أبي زُرْعة أخبَرَناه عن شيخٍ ثقةٍ عن زافر بالشك، وترك تلك الروايةَ عن سَهْل بن سعد بلا شكٍّ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7921 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما (اور کبھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے) سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جتنا چاہیں جی لیں، بہرحال آپ کو موت آئے گی، اور جس سے چاہیں محبت کریں، بہرحال آپ کو اس سے جدا ہونا ہے، اور جو چاہیں عمل کریں، آپ کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مومن کا شرف رات کا قیام (تہجد) ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازی میں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام ابوزُرعہ نے اسے ایک ثقہ شیخ سے زافر کے واسطے سے شک کے ساتھ روایت کیا ہے، جبکہ سہل بن سعد کی روایت کو بغیر کسی شک کے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8119]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، زافر بن سليمان ليِّن الحديث، ومحمد بن عيينة قال أبو حاتم الرازي: لا يحتج به يأتي بالمناكير، بينما وثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "ثقاته"» [ترقيم الرساله 8119] [ترقيم الشركة 8020] [ترقيم العلميه 7921]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں