المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. الْعَسَلُ لِشِفَاءِ الْمَعِدَةِ
معدے کی شفا کے لیے شہد کا استعمال
حدیث نمبر: 8424
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا شَبيبُ بن شَيْبة، حَدَّثَنَا عطاء بن أبي رَبَاح، حَدَّثَنَا أبو سعيد الخُدْري، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"إِنَّ الله لم يُنزِلُ (3) داءً - أولم يَخلُق داءً - إِلَّا أَنزَل - أو خَلَق - له دواءً، عَلِمَه من عَلِمَه، وجَهِلَه من جَهِلَه، إِلَّا السَّامَ" قالوا: يا رسول الله، وما السامُ؟ قال:"الموتُ" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8220 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8220 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ بنی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ” سام “ كے علاوہ جس بیماری كو پیدا كیا ہے، اس كا علاج بھی پیدا كیا ہے، جو جانتا ہے، اسی كو پتا ہے، جو نہیں جانتا، اس كو كیا پتا۔ صحابہ كرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” سام “ كیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8424]
5. الْخَرْنُوبُ لِخَرَابِ الْمَوْضِعِ
کسی جگہ کی ویرانی کے لیے "خرنوب" (درخت) کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8425
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن شُعبة، عن قَتَادة، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رجلًا جاء إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إِنَّ أخي يَشتكي بطنَه، فقال:"اسْقِهِ العَسَل" قال: قد سقيتُه فلم يَزِدْهُ إِلَّا استطلاقًا، فقال رسول الله ﷺ في الثالثة أو الرابعة:"صَدَقَ اللهُ وكَذَبَ بَطنُ أخيك"، فذهب فَسَقَاه فبَرَأَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8221 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8221 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی کے پیٹ میں مروڑ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس کو شہد پلایا ہے، اس سے اس کی بیماری اور بڑھ گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین یا چار مرتبہ شہد پلانے کا ہی کہا، تیسری یا چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کے بعد اس کے بھائی کا پیٹ ٹھیک ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8425]
6. التَّدَاوِي مِنْ قَدَرِ اللَّهِ
دوا کے ذریعے علاج کرنا بھی اللہ کی تقدیر ہی کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 8426
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة موسى بن مسعود، حَدَّثَنَا إبراهيم بن طَهْمان، عن عطاء بن السَّائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"كان سليمانُ نبيُّ الله إذا قام في مُصلَّاه رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فيقول: ما اسمُكِ؟ فتقول: كذا، فيقول: لأيِّ شيء أنتِ؟ فتقولُ: لكذا وكذا، فإنْ كانت لدواءٍ كُتِبَت، وإن كانت لِغَرْسٍ غُرِسَت، فبينما هو يُصلّي يومًا إذ رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فقال لها: ما اسمُكِ؟ قالت: الخُرْنوب، قال: لأيّ شيء أنتِ؟ قالت: لِخَراب هذا البيت، قال سليمان: اللهمَّ عَمَّ على الجِنِّ مَوْتي حتَّى يَعلَمَ الإنسُ أَنَّ الجنَّ لا تَعلمُ الغيب، قال: فنَحَتَها عَصًا فتوكَّأ عليها، قال: فأَكَلَتها الأَرَضَةُ فَسَقَطَ، فَحَزَرُوا آكِلَتَها الأَرَضِةُ فوجدوه حَولًا (1) فتبيَّنت الإنسُ أَنَّ الجنَّ لو كانوا يعلمون الغيبَ ما لَبِثوا حولًا في العذاب المُهِين - وكان ابن عباس يقرؤها هكذا - فشَكَرَت الجنُّ الأَرَضَةَ، فكانت تأتيها بالماء حيثُ كانَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8222 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8222 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو کوئی ایک بوٹی آپ کے سامنے اگتی، آپ اس سے اس کا نام پوچھتے، وہ اپنا نام بتاتی، آپ اس سے پوچھتے کہ تو کس کام آتی ہے؟ وہ اپنے فوائد بتاتی، اگر وہ کسی دوا میں کام آنے کی ہوتی تو آپ اس کا نسخہ لکھ لیتے اور اگر وہ کاشت کرنے کی ہوتی تو اس کو کاشت کر دیتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اپنے سامنے ایک بوٹی اگتی ہوئی دیکھی، آپ نے اس سے نام پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام ” خرنوب “ ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تو کس لیے بنائی گئی ہے؟ اس نے بتایا کہ مجھے گھر اجاڑنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دعا مانگی کہ یا اللہ! جنات سے میری موت کو پوشیدہ رکھنا، تاکہ انسانوں کو یقین ہو جائے کہ جنات غیب نہیں جانتے۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ایک عصا تیار کروایا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، (اسی کیفیت میں آپ کی روح پرواز کر گئی، اور آپ برابر ٹیک لگا کر کھڑے رہے) زمین نے اس عصا کو کھا لیا، تب وہ عصا گر گیا، اور سلیمان علیہ السلام گر گئے، تب جنات کو پتا چلا کہ آپ تو گزشتہ ایک سال سے وفات پا چکے ہیں، اس سے انسانوں کو یقین ہو گیا کہ اگر جنات غیب جانتے ہوتے تو یہ پورا سال اس قدر مشقت میں نہ رہتے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس اسی طرح سنایا کرتے تھے، جنات نے زمین کا شکریہ اس انداز میں ادا کیا کہ زمین میں ہر جگہ پر انہوں نے پانی پہنچا دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8426]
7. عَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ
تم گائے کا دودھ پیا کرو (کیونکہ اس میں شفا ہے)
حدیث نمبر: 8427
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلِم، حَدَّثَنَا إبراهيم بن حُميد الطويل، حَدَّثَنَا صالح بن أبي الأخضر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن حَكيم بن حِزَام أنه قال: يا رسول الله، رُقًى كُنّا نَستَرقى بها، وأدويةٌ كنا نَتداوى بها، هل تردُّ من قَدَر الله؟ فقال:"هو من قَدَرِ الله" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8223 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8223 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم جو دم کرواتے ہیں اور جو دوائیں لیتے ہیں، کیا ان کی وجہ سے تقدیر بدل جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ بھی تقدیر ہی میں لکھا ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8427]
حدیث نمبر: 8428
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيّ، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن الرُّكَين بن الرَّبيع، عن قيس بن مُسلم، عن طارق بن شِهاب، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسولُ الله ﷺ:"عليكم بألْبانِ البقرِ، فإنَّها تَرُمُّ من كل شَجَر، وهو شفاءٌ من كل داء" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8224 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8224 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گائے کا دودھ پیا کرو، کیونکہ یہ ہر طرح کے درخت سے چر لیتی ہے اور یہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8428]
8. الْحُمَّى مِنَ النَّارِ فَأَبْرِدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ
بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو
حدیث نمبر: 8429
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد، حَدَّثَنَا زيد بن الحُبَاب، حَدَّثَنَا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوص (1) ، عن عبد الله قال: قال النَّبِيّ ﷺ:"عليكم بالشَّفاءَينِ: العَسَلِ والقرآنِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8225 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8225 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو چیزیں باعث شفاء ہیں ان کو لازمی استعمال کیا کرو، شہد اور قرآن کریم۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8429]
حدیث نمبر: 8430
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب بن حَرْب والحُسين بن بشَّار (3) الخيّاط، قالا: حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمدٍ ابن عائشةَ، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ (4) قال:"إذا حُمَّ أحدُكم، فليَشُنَّ (5) عليه الماءَ الباردَ من السَّحَر ثلاثَ ليالٍ" (6) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8226 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8226 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو بخار ہو تو اس کو چاہئے کہ تین دن سحری کے وقت اس کے جسم پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سابقہ حدیث کی شاہد حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو بخار چڑھے تو اس پر تین دن سحری کے وقت ٹھنڈا پانی ڈالا جائے۔ اس کی ایک شاہد حدیث یہ بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8430]
حدیث نمبر: 8431
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان الرازيّ، حَدَّثَنَا الجَرّاح بن الضَّحاك الكندي، عن كُريب بن سُليم، عن أَمَةَ امرأةِ الزُّبير، قالت: كان النَّبِيّ ﷺ إذا حُمَّ الزُّبيرُ يأمرُنا أن نَبرُدَ الماءَ ثم نَحدُرَه عليه (1) .
کریب بن سلیم کی والدہ سیدنا زبیر كی زوجہ بیان کرتی ہیں کہ جب کبھی زبیر کو بخار ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کریں، اور پھر اس کو کوئی چادر اوڑھا دیتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8431]
حدیث نمبر: 8432
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حَدَّثَنَا عفّان، حَدَّثَنَا همَّام، حَدَّثَنَا أبو جَمْرة، قال: كنتُ أدفعُ الزِّحامَ عن ابن عباس، قال: فاحتَبستُ عنه أيامًا، فقال: ما حَبَسَك؟ قلت: الحُمّى، فقال: إِنَّ رسول الله ﷺ قال:"الحُمّى من فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَابْرُدُوها بالماء" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8228 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8228 - على شرط البخاري ومسلم
ابوحمزہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے لوگوں کی بھیڑ ختم کیا کرتا تھا، پھر کئی دن میں آپ کی خدمت میں نہ جا سکا، جب کئی دنوں کے بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے اتنے دن غیر حاضر رہنے کی وجہ پوچھی، میں نے بتایا کہ مجھے بخار تھا، آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بخار جہنم کی گرمی ہوتی ہے، اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8432]
9. الْهِلِيلَجُ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ
ہلیلج (ہڑ) میں ہر بیماری سے شفا ہے
حدیث نمبر: 8433
أخبرني أبو عبد الرحمن بن [أبي] (3) الوَزير، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرَّازيّ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الأنصاري، حَدَّثَنَا إسماعيل بن مُسلم، عن الحَسَن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"إنَّ الحُمَّى قِطعةٌ من النار، فابرُدُوها عنكم بالماء". قال: وكان رسول الله ﷺ إذا حُمَّ دعا بقِرْبةٍ من ماء فَأَفَرَغَها على قَرْنِه فاغتَسَل (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8229 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8229 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخار دوزخ کا ٹکڑا ہے، اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بخار ہوتا تو آپ پانی کا مشکیزہ منگواتے اور اپنے سر پر بہا لیتے اور غسل کر لیتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس زیادتی کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8433]