🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. الدَّوَاءُ الْخَبِيثُ الْخَمْرُ
خبیث دوا (شراب) سے علاج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8464
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الفَضْل بن محمد الشَّعْراني و محمد بن محمد بن رجاءٍ الإسفرايِنيُّ، قالا حَدَّثَنَا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حَدَّثَنَا محمد بن العلاء النَّبْقي (2) ، حدثني خالي الوليد بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تُكرِهوا مَرْضاكم على الطعام والشراب، فإِنَّ الله يُطعِمُهم ويَسقِيهم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد. رواتُه كلهم مدنيون (4) ، ولم يُخرجاه. وعندنا فيه حديثُ مالك عن نافع الذي تفرَّد به محمد بن الوليد اليَشكُري عنه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8259 - صحيح
ولید بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے بیماروں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کے تمام راوی مدنی ہیں، اس سلسلے میں ہمارے پاس مالک کی نافع سے روایت کردہ وہ حدیث ہے، جس کو محمد بن محمد بن الولید الیشکری روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8464]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعَ
نبی کریم ﷺ نے مینڈک کو مارنے سے منع فرمایا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8465
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، عن مجاهد، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسول الله ﷺ عن الدواءِ الخبيث (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. الدواءُ الخبيث هو الخمرُ بعَينِه بلا شكٍّ فيه. وقد اتَّفق الشيخانِ ﵄ على حديث الثَّوْري وشُعبة عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله: إنَّ الله تعالى لم يَجْعَلْ شفاءَكم فيما حرَّم عليكم (3) . وأخرج مسلم وحدَه (4) حديثَ شُعبة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن علقمة بن وائل، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ:"إنها ليست بدواءٍ، ولكنها داءٌ".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8260 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام دوا سے منع فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حرام دوا سے مراد شراب ہے، جس میں کوئی شک نہ ہو۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ثوری اور شعبہ کی منصور کے واسطے سے ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز تم پر حرام کی ہے اس میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ کے واسطے سے سماک بن حرب کے ذریعے علقمہ بن وائل کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرام چیز دوا نہیں ہے بلکہ وہ تو خود بیماری ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8465]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8466
أخبرني عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حَدَّثَنَا عُمر (1) بن حفص السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عاصم بن علي، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئْب، عن سعيد بن خالد، عن سعيد بن المسيّب، عن عبد الرحمن بن عثمان التَّيْمي قال: ذكر طبيبٌ (2) الدواءَ عند رسول الله ﷺ، فذكر الضِّفْدعَ يكون في الدّواء، فنهى النَّبِيُّ ﷺ عن قتله (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد أدّت الضَّرورةُ إلى إخراج حديث الليث بن أبي سُلَيم ﵀ ولم يَمضِ فيما تقدم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8261 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان التیمی فرماتے ہیں: ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دوا کا ذکر کیا، اس میں اس نے یہ بھی بتایا کہ دوا میں مینڈک بھی استعمال ہوتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک مارنے سے منع فرما دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ہم لیث بن ابی سلیم کی حدیث یہاں ذکر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی کوئی حدیث نہیں گزری۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8466]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. التَّمْرُ يَضُرُّ بِالرَّمَدِ
آنکھوں کی بیماری (آشوبِ چشم) میں کھجور نقصان دہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8467
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن يونس القُرشي، حَدَّثَنَا بشر بن حُجْر السامِيّ (4) ، حَدَّثَنَا فُضيل بن عِيَاض، عن ليث، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"ما من أحدٍ إِلَّا وفي رأسه عُروقٌ من الجُذَامِ تَنعَرُ، فإذا هاجَ سلَّط الله عليه الزُّكامَ، فلا تَداوَوْا له" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8262 - كأنه موضوع
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر شخص کے سر میں جذام کی ایک رگ ہے جس میں خون جوش مارتا رہتا ہے، جب اس کا جوش حد سے زیادہ بڑھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر زکام مسلط فرما دیتا ہے، اس لیے زکام کی دوا مت لیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8467]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. ضَرَرُ الْجُلُوسِ فِي الشَّمْسِ
دھوپ میں بیٹھنے کے نقصان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8468
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني عبد الحميد بن صَيْفيّ بن عبد الله بن صُهيب، عن أبيه، عن جدِّه، أنَّ صُهيبًا قال: قَدِمتُ على النَّبِيّ ﷺ وبين يديه تمرٌ وخبزٌ، فقال:"ادنُهْ فكُلْ" فأخذتُ آكلُ من التمر، فقال:"تأكلُ تمرًا وبك رَمَدٌ؟!" فقلت: يا رسول الله، إني أمضَعُ من الناحية الأُخرى، فتبسَّم النَّبِيُّ ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8263 - صحيح
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ، کھاؤ، میں کھجوریں کھانے لگ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری آنکھیں آئی ہوئی ہیں اور تم کھجوریں کھا رہے ہو؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرا دیے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8468]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. السَّفَرْجَلَةُ تُجِمُّ الْفُؤَادَ
سفرجل (بہی) دل کو سکون پہنچاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8469
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمّار بن هارون، حَدَّثَنَا محمد بن زياد الطَّحّان، حَدَّثَنَا ميمون بن مِهْران، عن ابن عباس قال: قال رسول الله رسول الله ﷺ:"إياكم والجلوسَ في الشمس، فإنها تُبْلي الثَّوبَ، وتُنتِنُ الريحَ، وتُظهِرُ الداءَ الدَّفِين" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8264 - ذا من وضع الطحان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دھوپ میں بیٹھنے سے گریز کرو، کیونکہ یہ کپڑے پرانے کر دیتی ہے، بدبو پیدا کرتی ہے، اور دفین کی بیماری (یہ ایک پوشیدہ بیماری ہے جس کے ظاہر ہونے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے) پیدا کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8469]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں