المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. لَا تَحْمُوا الْمَرِيضَ شَيْئًا
بیمار کو زبردستی کسی چیز سے پرہیز نہ کرواؤ
حدیث نمبر: 8454
حَدَّثَنَا أبو حفص أحمد بن أَحْيَدَ (2) الفقيه ببُخارَى، أخبرنا صالح بن محمد الحافظ، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن عمرو بن جَبَلة، حَدَّثَنَا عمرو بن النعمان، حَدَّثَنَا منصور بن عبد الرحمن الحَجَبي، عن أُمِّه، عن أسماء بنت أبي بكر الصِّدِّيق قالت: خرج في عُنُقي خُرَاجٌ (3) ، فذكرتُ ذلك للنبي ﷺ، فقال:"افتَحيهِ، فلا تَدَعيهِ يأكلُ اللحمَ ويَمَصُّ الدَّمَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8250 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، مَرْفُوعًا: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَةَ الْمَاءِ» عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ""_x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8250 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8250 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، مَرْفُوعًا: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَةَ الْمَاءِ» عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ""_x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8250 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میری گردن میں ایک پھوڑا نکل آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں میرا یہ مسئلہ بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھول دو، اور اس کو چھوڑنا نہیں ہے، یہ گوشت کھا لیتا ہے اور خون چوس لیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا قتادہ بن نعمان مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو دنیا سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم اپنے بیمار کو پانی سے بچاتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8454]
حدیث نمبر: 8455
أخبرنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان، حَدَّثَنَا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن جعفر، عن عُمَارة بن غَزِيّة، عن عاصم بن عمر بن قَتادة بن النُّعمان، عن محمود بن لَبيد، عن قَتَادة بن النعمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أحبَّ الله عبدًا حَمَاهُ الدنيا كما يَظَلُّ أحدُكم يَحْمِي سَقِيمَه الماءَ" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
8455 - قتادہ بن نعمان (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کو (ضرر کے خوف سے) پانی سے بچاتا ہے“۔ یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8455]
23. الْعِلَاجُ بِالْحِجَامَةِ
حجامہ کے ذریعے علاج کرنا
حدیث نمبر: 8456
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقَدَّمي، حَدَّثَنَا محمد بن مُسلم، عن يحيى بن أيوب، عن هشام بن عروة (1) ، عن أبيه، عن عائشة قالت: مَرِضتُ فَحَمَانِي أَهلي كلَّ شيء حتَّى الماءَ، فعَطِشتُ ليلةً وليس عندي أحدٌ، فدَنَوتُ من قِرْبةٍ معلَّقة فشربتُ منها شَربةً، وقمتُ وأنا صحيحةٌ، فجعلتُ أعرِفُ صِحّةَ تلك الشَّربةِ في جسدي. قال: وكانت عائشة تقول: لا تَحمُوا المريضَ شيئًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں بیمار ہو گئی، میرے گھر والوں نے ہر چیز سے میرا پرہیز کروا دیا، حتی کہ میرا پانی بھی بند کر دیا، ایک رات مجھے بہت سخت پیاس لگی، اس وقت میرے پاس بھی کوئی نہیں تھا، میں لٹکے ہوئے مشکیزے کے قریب ہوئی اور اس سے پانی پی لیا، پانی پی کر میں کھڑی ہوئی تو میں بالکل تندرست تھی، میں یہی سمجھتی ہوں کہ اسی پانی نے میرے جسم کو ٹھیک کر دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں، اپنے مریض سے کسی چیز کا پرہیز مت کروایا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8456]
حدیث نمبر: 8457
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكيرًا حدَّثه، أنَّ عاصم بن عمر بن قَتادة حدَّثه: أنَّ جابر بن عبد الله عاد المقنَّعَ، ثم قال: لا أخرجُ حتَّى يَحتجِم، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ فيه شفاءً" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8252 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8252 - على شرط البخاري ومسلم
عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع کی عیادت کی پھر فرمایا: میں اس وقت تک یہاں سے جاؤں گا نہیں جب تک کہ وہ پچھنے نہیں لگوائیں گے۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8457]
24. الْوَقْتُ الْمَحْمُودُ لِلْحِجَامَةِ
حجامہ کے لیے پسندیدہ وقت کا بیان
حدیث نمبر: 8458
حَدَّثَنَا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ ومحمد بن أحمد القَنطَري ببغداد قالا: حَدَّثَنَا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي. وحدثنا أحمد بن إسحاق الفقيه وإسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي قالا: حَدَّثَنَا أبو مُسلِم؛ [قالا] : حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"ما مَررتُ بمَلأٍ من الملائكة إلَّا أَمَروني بالحِجَامة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8253 - غير صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8253 - غير صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ملائکہ کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرا، انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کا کہا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8458]
حدیث نمبر: 8459
حَدَّثَنَا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر، حَدَّثَنَا سليمان بن داود حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ كان يَحتجِمُ لسبعَ عشرةَ وتسعَ عشرةَ وإحدى وعشرين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 17، 19 اور 21 تاریخ کو پچھنے لگوایا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8459]
حدیث نمبر: 8460
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عمر بن حفص بن عمر السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن عبدِ ربِّه الطائيُّ، حَدَّثَنَا أبو علي عثمان بن جعفر، حَدَّثَنَا محمد بن جُحَادة، عن نافع قال: قال لي ابن عمر: يا نافع، إنه قد تَبيَّغَ بيَ الدمُّ، فالتمِسْ لي حجَّامًا واجعله رفيقًا إن استطعتَ، ولا تجعله شيخًا كبيرًا، ولا صبيًّا صغيرًا، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"الحِجَامَةُ على الرِّيق أمثلُ، وفيه شفاءٌ وبركةٌ، يزيدُ في العَقْل، ويزيدُ الحافظَ حِفظًا، احتَجِموا على بركةِ الله يومَ الخميس، واجتَنِبوا يومَ الجمعة ويومَ السبت ويومَ الأحد، واحتَجِموا يومَ الاثنين والثلاثاء فإنه اليومُ الذي عافى اللهُ فيه أيوبَ من البلاء، وليس يبدأُ بَرَصٌ ولا جُذَامٌ إِلَّا يومَ الأربعاء وليلة الأربعاء، وإنما ابتُليَ أيوبُ يومَ الأربعاء" (3) . رواةُ هذا الحديث كلُّهم ثِقات غيرَ عثمان بن جعفر هذا، فإني لا أعرفُه بعدالةٍ ولا جَرْح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8255 - هو واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8255 - هو واه
سیدنا نافع فرماتے ہیں: مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے نافع! میرا بلڈ پریشر ہائی ہو رہا ہے، تم کوئی پچھنے لگانے والا ڈھونڈ کر لاؤ، اپنے جاننے والوں میں مل جائے تو بہتر ہے، بہت زیادہ بوڑھا آدمی بھی نہ ہو اور بالکل بچہ بھی نہ ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نہار منہ پچھنے لگوانا زیادہ بہتر ہے، اور اس میں برکت بھی ہے اور شفاء بھی ہے، اس سے عقل بھی بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن پچھنے مت لگواؤ، سوموار اور منگل کے دن لگواؤ، انہیں دنوں میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا دی تھی، برص اور جذام بدھ کے دن اور بدھ کی رات میں پیدا ہوتے ہیں سیدنا ایوب علیہ السلام کی بیماری بھی بدھ کے دن ہی شروع ہوئی تھی۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے عثمان بن جعفر کے۔ اس کی عدالت اور جرح کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8460]
حدیث نمبر: 8461
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلِم، حَدَّثَنَا حجَّاج بن مِنْهال، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، عن سليمان بن أرقمَ، عن الزُّهري (1) ، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن احتجَمَ يومَ الأربعاء ويومَ السبت فرأَى وَضَحًا، فلا يَلُومَنَّ إلا نفسَه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8256 - سليمان بن أرقم متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8256 - سليمان بن أرقم متروك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے بدھ یا ہفتے کو پچھنے لگوائے، پھر برص کے آثار دیکھے تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8461]
حدیث نمبر: 8462
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حَدَّثَنَا السَّرِي (1) ابن خُزيمة، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ أبا هِنْد حَجَمَ النَّبِيَّ ﷺ بوَجٍّ من وجعٍ كان به، وقال:"إنْ كان في شيءٍ ممّا تَداوَوْنَ به من خيرٍ، فالحِجامةُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8257 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8257 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے درد کے لیے ” وج “ نامی دوا کے ساتھ پچھنے لگوائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے طریقہ علاج میں کوئی بہترین طریقہ ہے تو وہ پچھنے لگانا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8462]
25. لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
اپنے مریضوں کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو
حدیث نمبر: 8463
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الدواءُ الحِجامةُ، تُذهِبُ الدمَ، وتَجلُو البصرَ، وتُخِفُّ الصُّلْبَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8258 - غير صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8258 - غير صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پچھنے لگانا بہترین علاج ہے، یہ گندہ خون نکال دیتا ہے، بینائی تیز کرتا ہے اور پشت کو ہلکا پھلکا کر دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8463]