🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمِدِ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَنَامَ كُلَّ لَيْلَةٍ
نبی کریم ﷺ ہر رات سونے سے پہلے تین مرتبہ اثمد سرمہ لگاتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8454
حَدَّثَنَا أبو حفص أحمد بن أَحْيَدَ (2) الفقيه ببُخارَى، أخبرنا صالح بن محمد الحافظ، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن عمرو بن جَبَلة، حَدَّثَنَا عمرو بن النعمان، حَدَّثَنَا منصور بن عبد الرحمن الحَجَبي، عن أُمِّه، عن أسماء بنت أبي بكر الصِّدِّيق قالت: خرج في عُنُقي خُرَاجٌ (3) ، فذكرتُ ذلك للنبي ﷺ، فقال:"افتَحيهِ، فلا تَدَعيهِ يأكلُ اللحمَ ويَمَصُّ الدَّمَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8250 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، مَرْفُوعًا: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَةَ الْمَاءِ» عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ""_x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8250 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری گردن پر ایک پھوڑا نکل آیا، میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چیر دو (کھول دو)، اسے اس حال میں نہ چھوڑو کہ یہ گوشت کو کھانا شروع کر دے اور خون چوسنے لگے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8454]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، عبد الرحمن بن عمرو بن جبلة متهم بالكذب والوضع، قال أبو حاتم الرازي: كان يكذب، وقال الدارقطني في "سننه" (603): متروك يضع الحديث» [ترقيم الرساله 8454] [ترقيم الشركة 8352] [ترقيم العلميه 8250]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. لَا تَحْمُوا الْمَرِيضَ شَيْئًا
بیمار کو زبردستی کسی چیز سے پرہیز نہ کرواؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8455
أخبرنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان، حَدَّثَنَا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن جعفر، عن عُمَارة بن غَزِيّة، عن عاصم بن عمر بن قَتادة بن النُّعمان، عن محمود بن لَبيد، عن قَتَادة بن النعمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أحبَّ الله عبدًا حَمَاهُ الدنيا كما يَظَلُّ أحدُكم يَحْمِي سَقِيمَه الماءَ" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے (تاکہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے)۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8455]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إسحاق بن محمد الفروي، وقد توبع فيما سلف برقم (7652)» [ترقيم الرساله 8455]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8456
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقَدَّمي، حَدَّثَنَا محمد بن مُسلم، عن يحيى بن أيوب، عن هشام بن عروة (1) ، عن أبيه، عن عائشة قالت: مَرِضتُ فَحَمَانِي أَهلي كلَّ شيء حتَّى الماءَ، فعَطِشتُ ليلةً وليس عندي أحدٌ، فدَنَوتُ من قِرْبةٍ معلَّقة فشربتُ منها شَربةً، وقمتُ وأنا صحيحةٌ، فجعلتُ أعرِفُ صِحّةَ تلك الشَّربةِ في جسدي. قال: وكانت عائشة تقول: لا تَحمُوا المريضَ شيئًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں بیمار ہوئی تو میرے گھر والوں نے مجھے ہر چیز سے پرہیز کروایا یہاں تک کہ پانی سے بھی، ایک رات مجھے سخت پیاس لگی اور میرے پاس کوئی موجود نہ تھا، میں ایک لٹکی ہوئی مشک کے قریب ہوئی اور اس سے ایک گھونٹ پانی پی لیا، میں صبح اٹھی تو بالکل تندرست تھی اور میں اپنے جسم میں اس ایک گھونٹ کی برکت محسوس کر رہی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: مریض کو کسی چیز سے (سختی کے ساتھ) پرہیز نہ کرواؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8456]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل محمد بن مسلم» [ترقيم الرساله 8456] [ترقيم الشركة 8353] [ترقيم العلميه 8251]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. الْعِلَاجُ بِالْحِجَامَةِ
حجامہ کے ذریعے علاج کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8457
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكيرًا حدَّثه، أنَّ عاصم بن عمر بن قَتادة حدَّثه: أنَّ جابر بن عبد الله عاد المقنَّعَ، ثم قال: لا أخرجُ حتَّى يَحتجِم، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ فيه شفاءً" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8252 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے مقنع نامی شخص کی عیادت کی اور فرمایا: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ سنگی (حجامہ) نہ لگوا لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اس میں شفاء ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8457]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أحمد بن عيسى» [ترقيم الرساله 8457] [ترقيم الشركة 8354] [ترقيم العلميه 8252]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8458
حَدَّثَنَا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ ومحمد بن أحمد القَنطَري ببغداد قالا: حَدَّثَنَا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي. وحدثنا أحمد بن إسحاق الفقيه وإسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي قالا: حَدَّثَنَا أبو مُسلِم؛ [قالا] : حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"ما مَررتُ بمَلأٍ من الملائكة إلَّا أَمَروني بالحِجَامة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8253 - غير صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں (شبِ معراج) فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا، انہوں نے مجھے حجامہ (سنگی لگوانے) کا حکم دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8458]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا كما سلف بيانه برقم (7663)» [ترقيم الرساله 8458] [ترقيم الشركة 8355] [ترقيم العلميه 8253]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. الْوَقْتُ الْمَحْمُودُ لِلْحِجَامَةِ
حجامہ کے لیے پسندیدہ وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8459
حَدَّثَنَا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر، حَدَّثَنَا سليمان بن داود حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ كان يَحتجِمُ لسبعَ عشرةَ وتسعَ عشرةَ وإحدى وعشرين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (قمری مہینے کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو حجامہ کروایا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8459]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره بهذا اللفظ، وهذا إسناد ضعيف» [ترقيم الرساله 8459] [ترقيم الشركة 8356]

الحكم على الحديث: حسن لغيره بهذا اللفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8460
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عمر بن حفص بن عمر السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن عبدِ ربِّه الطائيُّ، حَدَّثَنَا أبو علي عثمان بن جعفر، حَدَّثَنَا محمد بن جُحَادة، عن نافع قال: قال لي ابن عمر: يا نافع، إنه قد تَبيَّغَ بيَ الدمُّ، فالتمِسْ لي حجَّامًا واجعله رفيقًا إن استطعتَ، ولا تجعله شيخًا كبيرًا، ولا صبيًّا صغيرًا، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"الحِجَامَةُ على الرِّيق أمثلُ، وفيه شفاءٌ وبركةٌ، يزيدُ في العَقْل، ويزيدُ الحافظَ حِفظًا، احتَجِموا على بركةِ الله يومَ الخميس، واجتَنِبوا يومَ الجمعة ويومَ السبت ويومَ الأحد، واحتَجِموا يومَ الاثنين والثلاثاء فإنه اليومُ الذي عافى اللهُ فيه أيوبَ من البلاء، وليس يبدأُ بَرَصٌ ولا جُذَامٌ إِلَّا يومَ الأربعاء وليلة الأربعاء، وإنما ابتُليَ أيوبُ يومَ الأربعاء" (3) . رواةُ هذا الحديث كلُّهم ثِقات غيرَ عثمان بن جعفر هذا، فإني لا أعرفُه بعدالةٍ ولا جَرْح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8255 - هو واه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نافع سے کہا: اے نافع! میرا خون جوش مار رہا ہے، میرے لیے کوئی حجام (سنگی لگانے والا) تلاش کرو اور اگر ہو سکے تو وہ نرم خو ہو، کسی بوڑھے یا چھوٹے بچے کو نہ لانا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: نہار منہ حجامہ کروانا زیادہ بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، یہ عقل اور حافظہ کو بڑھاتا ہے، تم اللہ کی برکت کے ساتھ جمعرات کے دن حجامہ کروایا کرو اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن اس سے پرہیز کرو، اور پیر و منگل کو حجامہ کروایا کرو کیونکہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو آزمائش سے عافیت دی تھی، اور برص و جذام کی بیماریاں بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتی ہیں کیونکہ ایوب علیہ السلام بدھ کے دن ہی آزمائش میں مبتلا ہوئے تھے۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے عثمان بن جعفر کے کہ میں ان کی عدالت یا جرح کے بارے میں نہیں جانتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8460]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، عثمان بن جعفر ذكره ابن حجر في "لسان الميزان" 5/ 375 وقال: عنه عبد الملك بن عبد ربه الطائي بحديث منكر في الحجامة» [ترقيم الرساله 8460] [ترقيم الشركة 8357] [ترقيم العلميه 8255]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8461
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلِم، حَدَّثَنَا حجَّاج بن مِنْهال، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، عن سليمان بن أرقمَ، عن الزُّهري (1) ، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن احتجَمَ يومَ الأربعاء ويومَ السبت فرأَى وَضَحًا، فلا يَلُومَنَّ إلا نفسَه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8256 - سليمان بن أرقم متروك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بدھ یا ہفتے کے دن حجامہ کروایا اور پھر اسے برص (سفید داغ) کی بیماری لاحق ہو گئی، تو وہ اپنے علاوہ کسی کو ملامت نہ کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8461]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن أرقم، فإنه متروك الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"» [ترقيم الرساله 8461] [ترقيم الشركة 8358] [ترقيم العلميه 8256]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن أرقم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8462
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حَدَّثَنَا السَّرِي (1) ابن خُزيمة، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ أبا هِنْد حَجَمَ النَّبِيَّ ﷺ بوَجٍّ من وجعٍ كان به، وقال:"إنْ كان في شيءٍ ممّا تَداوَوْنَ به من خيرٍ، فالحِجامةُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8257 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوہند نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی تکلیف کی وجہ سے حجامہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری دواؤں میں کوئی خیر ہے تو وہ حجامہ میں ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8462]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي» [ترقيم الرساله 8462] [ترقيم الشركة 8359] [ترقيم العلميه 8257]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8463
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الدواءُ الحِجامةُ، تُذهِبُ الدمَ، وتَجلُو البصرَ، وتُخِفُّ الصُّلْبَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8258 - غير صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجامہ بہترین دوا ہے، یہ (فاسد) خون کو نکال دیتا ہے، بینائی کو روشن کرتا ہے اور کمر کو ہلکا کرتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8463]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل عباد بن منصور» [ترقيم الرساله 8463] [ترقيم الشركة 8360] [ترقيم العلميه 8258]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں