سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. باب : موضع الصلاة في البيت
باب: بیت اللہ (کعبہ) میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2910
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ وَدَنَا خُرُوجُهُ وَوَجَدْتُ شَيْئًا، فَذَهَبْتُ وَجِئْتُ سَرِيعًا، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا، فَسَأَلْتُ بِلَالًا" أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2910]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ ادھر آپ کے باہر نکلنے کا وقت قریب تھا۔ ادھر مجھے حاجت پیش آ گئی۔ میں قضائے حاجت کے لیے گیا اور پھر جلدی جلدی واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا چکے تھے۔ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ مشرفہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، (اگلی صف کے بائیں جانب والے) دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 693
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 693]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے دروازہ بند کر لیا (تاکہ لوگ رش نہ کریں)۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا تو میں سب سے پہلے داخل ہوا۔ میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا۔ میں نے ان سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے میں نماز پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، آپ نے (اگلی صف کے بائیں طرف والے) دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (468)، 96 (504، 505)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598، 1599)، الجھاد 127 (2988) مطولاً، المغازي 49 (4289) مطولاً، 77 (4400) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن ابی داود/الحج 93 (2023، 2024، 2025)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 79 (3063)، (تحفة الأشراف: 2037)، موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد 2/23، 33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15، سنن الدارمی/المناسک 43 (1909)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 750، 2908، 2909، 2910، 2911 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 750
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً، عَلَيْهُ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ:" مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر لیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کعبہ کے اندر) کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھمبا (ستون) اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے، (ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا) پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 750]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کعبے میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے میں کیا کیا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون اپنے بائیں کیا اور دو ستون اپنے دائیں کیے اور تین ستون اپنے پیچھے، ان دنوں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور اپنے اور قبلے کی دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نمازی اپنے اور سترہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ رکھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 822
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قال: كُنَّا مَعَ أَنَسٍ فَصَلَّيْنَا مَعَ أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ" فَدَفَعُونَا حَتَّى قُمْنَا وَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَجَعَلَ أَنَسٌ يَتَأَخَّرُ وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں (بھیڑ کی وجہ سے) دھکیلا یہاں تک کہ ہم نے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو انس رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس سے بچتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 822]
حضرت عبدالحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگوں نے ہمیں دھکیل دیا حتیٰ کہ ہم کھڑے ہوئے اور دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ ستونوں والی صف سے پیچھے ہٹنے لگے اور فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس (ستونوں کے درمیان صف بنانے) سے بچا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 95 (673) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 55 (229)، (تحفة الأشراف: 980)، مسند احمد 3/131 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1493
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاتِكُمْ هَذِهِ" وَذَكَرَ كُسُوفَ الشَّمْسِ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اسی نماز کی طرح دو رکعت نماز پڑھی، اور انہوں نے سورج گرہن لگنے کا ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 1493]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس نماز (نماز کسوف) کی طرح دو رکعتیں پڑھی تھیں اور انہوں نے سورج گرہن کا ذکر کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1460 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَاب، فَمَكَثُوا فِيهَا مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَاب، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبْتُ الدَّرَجَةَ، وَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ:" أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: هَا هُنَا وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى فِي الْبَيْتِ؟".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اندر داخل ہو چکے تھے، اور (ان کے اندر جاتے ہی) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (اور آپ کے نکلتے ہی) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2908]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کعبہ مشرفہ کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیت اللہ کے اندر تشریف لے جا چکے تھے اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ (کعبے کے حاجب) نے (داخل ہو کر) دروازہ بند کر دیا تھا۔ وہ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر (عثمان بن طلحہ حاجب نے) دروازہ کھولا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ میں سیڑھی پر چڑھ کر بیت اللہ میں داخل ہو گیا اور میں نے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: یہاں، البتہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2909
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَبِلَالٌ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَاب:، فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ بِلَالًا، قُلْتُ:" أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2909]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما، عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں ٹھہرے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر باہر تشریف لائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملا۔ میں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟“ انہوں نے فرمایا: ”(اگلی صف کے بائیں جانب والے) دو ستونوں کے درمیان۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2911
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا , يَقُولُ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، فَأَقْبَلْتُ، فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ، وَأَجِدُ بِلَالًا عَلَى الْبَاب: قَائِمًا، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ ," أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ".
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ (دیکھئیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ابھی ابھی) کعبہ کے اندر گئے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل چکے ہیں، اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: بلال! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں۔ پھر آپ وہاں سے نکلے، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2911]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ گھر میں تھے کہ کسی نے آکر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:) میں آیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا چکے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ ابھی دروازے ہی پر کھڑے تھے۔ میں نے کہا: اے بلال! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے میں نماز پڑھی ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں۔ میں نے کہا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دو ستونوں کے درمیان دو رکعات پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر تشریف لا کر کعبہ مشرفہ کے دروازے کے عین سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري