🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب حد الزاني البكر والثيب
کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 810
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أنا مَنْصُورٌ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَيُنْفَيَانِ عَامًا" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سیکھ لیں، اللہ تعالیٰ نے ان (زانیہ) عورتوں کے لیے راستہ نکال دیا ہے، شادی شدہ مرد اگر شادی شدہ عورت سے زنا کرے، تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں گے، پھر رجم کیا جائے گا اور کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی سے زنا کرے، تو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1690»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 811
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشِبْلٍ ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي، قَالَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ مِائَةَ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَسَأَلْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ: لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، " الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجیے، اس کا مد مقابل جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا، وہ بھی کھڑا ہو کر کہنے لگا: ٹھیک ہے، آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجیے اور مجھے (بات کی) اجازت دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیے، اس نے کہا: میرا بیٹا ان کے ہاں ملازم تھا، وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو گیا، مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے، تو میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک غلام دیا ہے، اس کے بعد میں نے علما سے پوچھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی عورت پر رجم کی سزا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم واپس ہوں گے اور آپ کے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، انیس! آپ اس آدمی کی بیوی کے پاس جائیں، اگر وہ اعتراف کر لے، تو اسے سنگسار کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6827، صحیح مسلم: 1697»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: إِنَّا لا نَجْدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ، أَلا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَمْلُ أَوِ الاعْتِرَافُ، أَلا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مَعَهُ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یوں نہ کہنے لگے: ہم کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے، چنانچہ وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کا انکار کر کے گمراہ ہو جائے سن لیں! جو بھی شادی شدہ زنا کرے اور اس پر دلیل مل جائے، یا حمل ہو جائے، یا وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کرنا حق ہے، سن لیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ رجم کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6830، صحیح مسلم: 1691»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 813
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لا، قَالَ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، پھر اس نے دوبارہ اعتراف کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، تو آپ نے پھر منہ موڑ لیا، حتیٰ کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا آپ دیوانے ہو؟ اس نے کہا نہیں! آپ نے دریافت کیا: کیا آپ شادی شدہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں!۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا، تو اسے عید گاہ میں سنگسار کیا گیا۔ جب پتھروں نے اسے تکلیف پہنچائی، تو وہ بھاگ اٹھا، چنانچہ اسے پکڑ کر رجم کر دیا گیا، حتیٰ کہ وہ مر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق اچھے خیالات کا اظہار کیا لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 813]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6820، صحیح مسلم: 1691/16 (مختصرًا)»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ صَامِتِ ابْنِ أَخِي أَبِي هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: " أَنِكْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: تَدْرِي مَا الزِّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلالا، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ؟ فَقَالا: نَحْنُ ذَانِ، وَقَالَ السُّلَمِيُّ: ذَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: انْزِلا فَكُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ، فَقَالا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، وَمَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكَلِ الْمَيْتَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيهَا" ، وَقَالَ السُّلَمِيُّ: يَنْقَمِصُ فِيهَا.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر چار مرتبہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے حرام طریقے سے ہم بستری کی ہے، آپ ہر مرتبہ اس سے چہرہ موڑ لیتے، پھر پانچویں دفعہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا آپ نے اس سے صحبت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: حتیٰ کہ تیری شرمگاہ اس کی شرمگاہ میں یوں داخل ہوگئی، جس طرح سلائی سرمہ دانی میں اور ڈول کی رسی کنویں میں چلی جاتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: معلوم ہے کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میں اس کے پاس حرام طریقے سے آیا ہوں، جس طرح آدمی اپنی بیوی کے پاس حلال طریقے سے آتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس قول (اقرار) سے کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو اسے رجم کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو صحابہ کو سنا، جن میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا، اس (ماعز) کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ستر پوشی کی تھی لیکن اس کے نفس نے اسے نہیں چھوڑا حتیٰ کہ کتے کی طرح سنگسار کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلے حتیٰ کہ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے، جس کی ٹانگ اٹھی ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں۔ آپ نے فرمایا: نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ آپ کو معاف فرمائے، اسے کون کھاتا ہے؟ فرمایا: تم نے ابھی ابھی اپنے بھائی کی جو ہتک کی ہے، وہ اس (مردار) کے کھانے سے بھی شدید تر ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ تو اب بھی جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مصنف عبدالرزاق: 13340، سنن أبي داود: 4428، السنن الكبرى للنسائي: 7163، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4399) اور علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 467/15) نے صحیح کہا ہے۔ عبدالرحمن بن الصامت حسن الحدیث ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا، فَقَالَتْ: أَنَا حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي، فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟ فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدَتْ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ لِلَّهِ تَعَالَى بِنَفْسِهَا؟" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر زنا کا اقرار کیا اور کہنے لگی: میں حاملہ ہو چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا، جب بچہ پیدا ہو جائے، تو مجھے بتانا۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس (عورت) کے کپڑے اس پر مضبوطی سے باندھ دیے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کا جنازہ بھی پڑھا دیا؟ فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے، تو انہیں بھی کافی ہو جائے، کیا آپ نے اس سے بہتر تو یہ بھی پائی ہے کہ اس نے اللہ کی خاطر اپنی جان ہی قربان کر دی ہے؟ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 815]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1696»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 816
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَزَّازُ ، قَالَ: ثنا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: ثنا زَائِدَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ، مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ، وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ، كَانَتْ أَمَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا، فَأَتَيْتُهَا، فَإِذَا هِيَ قَرِيبُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ، فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ، أَوْ قَالَ: أَقْتُلُهَا، فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَحْسَنْتَ" .
ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! اپنے غلاموں پر حدود قائم کریں، خواہ وہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کر لیا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے کوڑے لگاؤں، میں اس کے پاس (کوڑے لگانے) آیا تو اس نے کچھ ہی دیر پہلے بچے کو جنم دیا تھا، میں ڈر گیا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو یہ مر جائے گی، چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور آپ کے سامنے یہ بات بیان کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے ٹھیک کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1705»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ: ثني اللَّيْثُ ، قَالَ: ثني يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أَضْوَى فَعَادَ جِلْدُهُ عَلَى عَظْمٍ، فَدَخَلَتْ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ إِلَيْهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَقَالَ: اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَيَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مثل الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ، مَا هُوَ إِلا جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِائَةِ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُونَهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً" .
ابو أمامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ انہیں کسی انصاری صحابی نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی بیمار ہو گیا حتیٰ کہ وہ اس قدر کمزور ہو گیا کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا، کسی کی لونڈی اس کے پاس گئی تو وہ اس سے ہشاش بشاش اور خوش ہو گیا، اس نے اس سے جماع کر لیا، جب اس کی قوم کے لوگ اس کی تیمارداری کے لیے گئے تو اس نے انہیں اس (جماع) کے متعلق بتایا اور انہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے متعلق دریافت کرنا کہ میرے پاس ایک لونڈی آئی، تو میں اس سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ ہم نے کسی کو ایسے مرض میں نہیں دیکھا، جو مرض اسے لاحق ہے۔ اگر ہم اسے آپ کے پاس اٹھا کر لائیں، تو اس کی ہڈیاں ٹوٹ کر بکھر جائیں گی، وہ تو صرف ہڈی اور چمڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ سو باریک ٹہنیاں لیں اور ان کے ساتھ اسے ایک بار ماریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 4472»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ: أنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا زَنَى، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ، ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ أَحْصَنَ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَغَيْرُهُمَا، فقالوا إن رجلا زنى فجلد، ولم يذكر النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے زنا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، تو اسے کوڑے مارے گئے، پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ ہے، تب آپ کے حکم کے مطابق اسے سنگسار کیا گیا۔ ابو محمد کہتے ہیں: عثمان بن عمر اور ابو عاصم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے زنا کیا تو اسے کوڑے لگائے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح: سنن أبي داود: 4438، السنن الكبرى للنسائي: 72، ابن جریج مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، اس معنی کی روایت صحیح بخاری (6814) میں موجود ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بسندِ صحیح موقوفاً بھی سنن کبری نسائی (7174) میں آتی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 819
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، فَذَهَبَ، فَلَمَّا رُجِمَ وَجَدَ مِنَ الْحِجَارَةَ فَرَّ يَشْتَدُّ، فَمَرَّ بِرَجُلٌ مَعَهُ لِحْي بَعِيرٍ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَذَكَرُوا فِرَارَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَهَلا تَرَكْتُمُوهُ؟" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: میں نے زنا کیا ہے، آپ نے اس سے منہ موڑ لیا حتیٰ کہ انہوں نے چار مرتبہ اس بات کا اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے جائیں اور رجم کر دیں۔ چنانچہ وہ گئے، جب رجم کیا جانے لگا، تو پتھروں کی تکلیف کی وجہ سے بھاگ گئے، ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جس کے پاس اونٹ کا جبڑا تھا تو اس نے وہ جبڑا مار کر انہیں قتل کر دیا۔ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ وہ پتھروں کے لگنے کی تکلیف پا کر بھاگ گیا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 286/2، 287، 450، سنن الترمذي: 1428، سنن ابن ماجہ: 2554، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام حاکم رحمہ اللہ (363/4) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں