سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ
باب: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَسَلْهُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَن الْمَسْحِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ نَمْسَحَ لِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ".
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 552]
جناب شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ کیوں کہ انہیں یہ مسئلہ مجھ سے زیادہ معلوم ہے۔“ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مسح کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مسح کا حکم دیا کرتے تھے۔ مقیم کے لیے ایک دن رات اور مسافر کے لیے تین دن۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 24 (276)، سنن النسائی/الطہارة 99 (128)، (تحفة الأشراف: 10126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 100، 113، 120، 3 13، 134، 146، 149)، سنن الدارمی/الطہارة 42 (741) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 553
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا، وَلَوْ مَضَى السَّائِلُ عَلَى مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا".
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن تک کی اجازت دی ہے اور اگر پوچھنے والا اپنے سوال کو جاری رکھتا تو شاید اسے آپ پانچ دن کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 553]
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن کی مدت مقرر فرمائی ہے، لیکن اگر سائل مزید مدت کے لیے اجازت مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ دن کی بھی اجازت دے دیتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 60 (157)، سنن الترمذی/الطہارة 71 (95)، (تحفة الأشراف: 3528)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214، 215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر مسافر نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہیں، تو وہ ان پر تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے، واضح رہے کہ جس وقت پہنا ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ جس نماز کے وقت سے موزے پر مسح شروع کیا ہے اس کا اعتبار ہو گا، نیز نہانے کی حاجت اگر ہو جائے، تو اتارنے پڑیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (157)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (157)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
حدیث نمبر: 554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ"، أَحْسِبُهُ قَالَ:" وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن اور ان کی راتیں مسافر کے لیے موزوں پر مسح کے حکم میں داخل ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 554]
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن ہے۔“ غالباً یہ بھی فرمایا: ”اور تین رات۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 555
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ الثُّمَالِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الطُّهُورُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ:" لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! موزوں پر طہارت کی مدت کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 555]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! موزے پہن کر وضو کا کیا حکم ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن رات، اور مقیم کے لیے ایک دن رات (مسح کرنا درست ہے۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15414) (صحیح)» (اس حدیث کی سند میں عمر الثمالی ضعیف ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن عبد اللّٰه بن أبي خثعم ضعيف وغيره
والحديث الآتي (الأصل: 556) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
إسناده ضعيف
عمر بن عبد اللّٰه بن أبي خثعم ضعيف وغيره
والحديث الآتي (الأصل: 556) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
حدیث نمبر: 556
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَبِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ أَبُو مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ إِذَا تَوَضَّأَ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَحْدَثَ وُضُوءًا أَنْ يَمْسَحَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کو رخصت دی کہ جب وہ باوضو ہو کر اپنے موزے پہنے، پھر اس کا وضو ٹوٹ جائے اور نیا وضو کرے، تو وہ اپنے موزوں پر تین دن اور تین رات تک مسح کرے، اور مقیم ایک دن، اور ایک رات تک۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 556]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کو اجازت دی کہ ”جب وہ وضو کر کے موزے پہنے، پھر وضو کرے تو تین دن رات تک مسح کرے، اور مقیم کے لیے ایک دن رات (مسح کرنے کی اجازت دی)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11692، ومصباح الزجاجة: 229) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن