كتاب الطهارة وسننها کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل 86. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ باب: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الطہارة 24 (276)، سنن النسائی/الطہارة 99 (128)، (تحفة الأشراف: 10126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 100، 113، 120، 3 13، 134، 146، 149)، سنن الدارمی/الطہارة 42 (741) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن تک کی اجازت دی ہے اور اگر پوچھنے والا اپنے سوال کو جاری رکھتا تو شاید اسے آپ پانچ دن کر دیتے ۱؎۔
تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الطہارة 60 (157)، سنن الترمذی/الطہارة 71 (95)، (تحفة الأشراف: 3528)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214، 215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر مسافر نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہیں، تو وہ ان پر تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے، واضح رہے کہ جس وقت پہنا ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ جس نماز کے وقت سے موزے پر مسح شروع کیا ہے اس کا اعتبار ہو گا، نیز نہانے کی حاجت اگر ہو جائے، تو اتارنے پڑیں گے۔ قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف سنن أبي داود (157) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن اور ان کی راتیں مسافر کے لیے موزوں پر مسح کے حکم میں داخل ہیں“۔
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! موزوں پر طہارت کی مدت کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات“۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15414) (صحیح)» (اس حدیث کی سند میں عمر الثمالی ضعیف ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف عمر بن عبد اللّٰه بن أبي خثعم ضعيف وغيره والحديث الآتي (الأصل: 556) يغني عنه انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کو رخصت دی کہ جب وہ باوضو ہو کر اپنے موزے پہنے، پھر اس کا وضو ٹوٹ جائے اور نیا وضو کرے، تو وہ اپنے موزوں پر تین دن اور تین رات تک مسح کرے، اور مقیم ایک دن، اور ایک رات تک۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11692، ومصباح الزجاجة: 229) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
|