🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
784. (551) بَابُ تَقْصِيرِ أَجْرِ صَلَاةِ الْقَاعِدِ عَنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ فِي التَّطَوُّعِ
نفل نماز بیٹھ کر ادا کرنے والے کا اجر و ثواب کھڑے ہوکر پڑھنے والے سے کم ہوجانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1236
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْمُكْتِبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلاةُ الْقَائِمِ أَفْضَلُ وَصَلاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاةِ الْقَائِمِ"
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا اجر و ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے نصف ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1115، 1116، 1117، وابن الجارود فى "المنتقى"، 254، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 979، 1236، 1249، 1250، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2513، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1190، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1659، وأبو داود فى (سننه) برقم: 951، 952، والترمذي فى (جامعه) برقم: 371، 372، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1223، 1231، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3719، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1425، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20133»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
785. (552) بَابُ ذِكْرِ مَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ الْمُصْطَفَى فِي الصَّلَاةِ قَاعِدًا فَجَعَلَ صَلَاتَهُ قَاعِدًا كَالصَّلَاةِ قَائِمًا فِي الْأَجْرِ
بیٹھ کر نماز پڑھنے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کا بیان جو اللہ تعالی نے اپنے مصطفیٰ کو عطا کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھ کر ادا کی گئی نماز کا اجر و ثواب کھڑے ہوکر ادا کی گئی نماز کے برابر بنایا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا، قُلْتُ: حُدِّثْتُ أَنَّكَ، تَقُولُ:" إِنَّ صَلاةَ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاةَ الْقَائِمِ، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ"، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى، لَمْ يَقُلْ بُنْدَارٌ: قَالَ:" أَجَلْ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو میں نے عرض کی، مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بیشک بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا اجر ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں لیکن میں تم میں سے کسی ایک شخص کی طرح نہیں ہوں، یہ ابوموسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ جناب بندار نے یہ نہیں کہا کہ ہاں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 735، ومالك فى (الموطأ) برقم: 450، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1237، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1658، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1229، وأبو داود فى (سننه) برقم: 950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4666، 13519، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6623»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
786. (553) بَابُ التَّرَبُّعِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا صَلَّى الْمَرْءُ جَالِسًا
نماز میں چار زانو بیٹھنے کا بیان جبکہ نمازی بیٹھ کر نماز پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چوکڑی مار کر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 978، 1238، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2512، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 953، 1026، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1660، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1367، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3721، 3722، 3723، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1482، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5234»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
787. (554) بَابُ إِبَاحَةِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ جَالِسًا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِالْمَرْءِ عِلَّةٌ مِنْ مَرَضٍ لَا يَقْدِرُ عَلَى الصَّلَاةِ قَائِمًا
بیٹھ کر نفل نماز پڑھنا جائز ہے، اگرچہ نمازی کو کوئی ایسی بیماری یا تکلیف بھی نہ ہو جس کے باعث وہ کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکتا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1239
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ مِنْ أَكْثَرِ صَلاتِهِ جَالِسًا" . وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، وَابْنُ صُدْرَانَ: حَتَّى كَانَ كَثِيرٌ مِنْ صَلاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے پہلے اکثر نمازیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ جناب ابن رافع اور ابن صدران کے الفاظ یہ ہیں کہ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں اس حال میں ادا ہوئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1118، 1119، 1148، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 731، ومالك فى (الموطأ) برقم: 454، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1122، 1239، 1240، 1243، 1244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2509، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1647، وأبو داود فى (سننه) برقم: 953، والترمذي فى (جامعه) برقم: 374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24706»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
788. (555) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يُكْثِرُ مِنَ التَّطَوُّعِ جَالِسًا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ مَرَضٌ بَعْدَمَا أَسَنَّ وَحَطَمَهُ النَّاسُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب عمر زیادہ ہو گئی اور لوگوں (کی پریشانی اور فکر) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرض کے بغیر بھی اکثر نفل نماز بیٹھ کر ادا کیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1240
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَإِذَا بَقِيَ مِنَ السُّورَةِ ثَلاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ رَكَعَ" غَيْرَ أَنَّ غَيْرَ أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لا يُقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا دَخَلَ فِي السِّنِّ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہونے کے بعد بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، پھر جب سورت کی تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اُن آیات کی تلاوت کرتے، پھر رکوع میں چلے جاتے۔ جبکہ جناب علی بن حجر رحمه اللَّه کی روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجّد میں بیٹھ کر تلاوت نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی (تو بیٹھ کر تلاوت کر لیتے تھے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1118، 1119، 1148، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 731، ومالك فى (الموطأ) برقم: 454، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1122، 1239، 1240، 1243، 1244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2509، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1647، وأبو داود فى (سننه) برقم: 953، والترمذي فى (جامعه) برقم: 374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24706»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1241
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، كِلاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ" . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَتْ: نَعَمْ، بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ
جناب عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو اُنہوں نے فرمایا، جب لوگوں (کی فکروں) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا تو اس کے بعد پڑھ لیتے تھے۔ جناب الدورقی کے الفاظ ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، جب لوگوں (کی پریشانیوں اور فکروں) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا اور کمزور کر دیا تو اس کے بعد (آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 717، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 539، 1241، 2132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2526، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 982، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1656، وأبو داود فى (سننه) برقم: 956، 1292، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2503، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24972»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
789. (556) بَابُ التَّرَتُّلِ فِي الْقِرَاءَةِ إِذَا صَلَّى الْمَرْءُ جَالِسًا
جب آدمی بیٹھ کر نماز پڑھے، تو تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1242
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" . لَمْ يَقُلِ ابْنُ هَاشِمٍ: فِي سُبْحَتِهِ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے ایک سال پہلے کے عرصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نفل نماز بیٹھ کر پڑھنی شروع کر دی، (جب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سورت تلاوت کر تے تو اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ طویل ترین سورت سے بھی طویل ہوجاتی۔ جناب ابن ہشام نے اپنی نفل نماز میں کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 733، ومالك فى (الموطأ) برقم: 453، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1242، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2508، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1657، والترمذي فى (جامعه) برقم: 373، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27084»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
790. (557) بَابُ إِبَاحَةِ الْجُلُوسِ لِبَعْضِ الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ لِبَعْضٍ فِي الرَّكْعَةِ الْوَاحِدَةِ
ایک ہی رکعت میں کچھ قرأت بیٹھ کر اور کچھ کھڑے ہو کر کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1243
نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ مَرَّةً، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي جَالِسًا، وَكَانَ إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ رَكَعَ"
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ اور جب سورت سے تیس یا چالیس آیات کی تلاوت باقی رہ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اُن آیات کی تلاوت کرتے، پھر رکوع۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1118، 1119، 1148، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 731، ومالك فى (الموطأ) برقم: 454، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1122، 1239، 1240، 1243، 1244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2509، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1647، وأبو داود فى (سننه) برقم: 953، والترمذي فى (جامعه) برقم: 374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24706»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1244
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الإِنْسَانُ أَرْبَعِينَ آيَةً"
اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نفل نماز میں) بیٹھ کر قرأت فرماتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر قیام کرتے (اور تلاوت کرتے) جتنی دیر میں انسان چالیس آیات کی تلاوت کر لیتا ہے۔ (پھر رکوع کرتے) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1118، 1119، 1148، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 731، ومالك فى (الموطأ) برقم: 454، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1122، 1239، 1240، 1243، 1244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2509، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1647، وأبو داود فى (سننه) برقم: 953، والترمذي فى (جامعه) برقم: 374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24706»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
791. (558) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِفَةِ صَلَاتِهِ جَالِسًا حَسِبَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ أَنَّهُ خِلَافُ هَذَا الْخَبَرِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کے متعلق مروی اس حدیث کا بیان جس کے بارے میں بعض علمائے کرام کا خیال ہے کہ وہ حدیث ہماری ذکر کردہ حدیث کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1245
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي لَيْلا طَوِيلا قَائِمًا، وَلَيْلا طَوِيلا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ"
جناب عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کی کیفیت پوچھی تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کافی دیر تک کھڑے ہوکر نماز پڑھتے اور کافی دیر تک بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر کرتے کرتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھے بیٹھے کر لیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 730، وابن الجارود فى "المنتقى"، 306، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1114، 1167، 1199، 1245، 1246، 1247، 1248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 356، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1027، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 955، 1251، والترمذي فى (جامعه) برقم: 375، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1150، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24653»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»