سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
306. الْآيَةُ (26) قَوْلُهُ تَعَالَى: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1061 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1061
سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: " لَيْسَ فِي تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ اخْتِلافٌ، إِنَّمَا هُوَ كَلامٌ جَامِعٌ يُرَادُ بِهِ هَذَا وَهَذَا" .
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سفیان رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: قرآن کی تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں ہے، دراصل وہ جامع کلام ہے جس سے یہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور وہ بھی۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وضاحت: سفیان رحمہ اللہ کا یہ قول ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے جو قرآن کی تفسیر میں بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے:
جب صحابہ کرام یا تابعین قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں اور ان میں بظاہر مختلف اقوال آتے ہیں تو یہ اختلاف تضاد والا نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ میں اتنی وسعت اور جامعیت ہوتی ہے کہ ان میں ایک سے زیادہ معانی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کسی آیت کے اندر ایک حکم، ایک نصیحت اور ایک عبرت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ پس اگر ایک مفسر ایک معنی کو بیان کرے اور دوسرا مفسر دوسرے معنی کو، تو یہ دونوں باتیں درست ہو سکتی ہیں بشرطیکہ دونوں قرآن کے الفاظ اور سیاق کے مطابق ہوں۔
یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تفسیر کرتے وقت ہمیں گھٹا کر ایک ہی مطلب پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آیت کی وسعت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
➤ مثال: آیت: «وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا» [نوح: 17]
کسی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا، اور کسی نے کہا کہ انسان کی روزی مٹی سے پیدا ہوتی ہے (یعنی زمین سے اناج نکلتا ہے)۔ تو دونوں معانی درست ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں قرآن کے مزاج کے مطابق ہیں۔
جب صحابہ کرام یا تابعین قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں اور ان میں بظاہر مختلف اقوال آتے ہیں تو یہ اختلاف تضاد والا نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ میں اتنی وسعت اور جامعیت ہوتی ہے کہ ان میں ایک سے زیادہ معانی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کسی آیت کے اندر ایک حکم، ایک نصیحت اور ایک عبرت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ پس اگر ایک مفسر ایک معنی کو بیان کرے اور دوسرا مفسر دوسرے معنی کو، تو یہ دونوں باتیں درست ہو سکتی ہیں بشرطیکہ دونوں قرآن کے الفاظ اور سیاق کے مطابق ہوں۔
یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تفسیر کرتے وقت ہمیں گھٹا کر ایک ہی مطلب پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آیت کی وسعت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
➤ مثال: آیت: «وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا» [نوح: 17]
کسی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا، اور کسی نے کہا کہ انسان کی روزی مٹی سے پیدا ہوتی ہے (یعنی زمین سے اناج نکلتا ہے)۔ تو دونوں معانی درست ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں قرآن کے مزاج کے مطابق ہیں۔
الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
307. الْآيَةُ (58) قَوْلُهُ تَعَالَى: {قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1062 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1062
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: نَا الأَجْلَحُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ"، قَالَ: قُلْتُ: سَمَّانِي لَكَ رَبِّي، قَالَ: نَعَمْ، فَتَلا: قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ سورة يونس آية 58 قَالَ: بِكِتَابِ اللَّهِ وَبِالإِسْلامِ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ قرآن تم پر پڑھوں! میں نے عرض کیا: کیا میرے رب نے آپ کو میرا نام بتایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ﴾ یعنی کہہ دو: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہو لیا کرو، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں، اور فرمایا: اللہ کی کتاب اور اسلام اس سب سے بہتر ہیں جو وہ لوگ جمع کرتے ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1226، 1227، 1228، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2964، 5361، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3980، 3981، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1062، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21525، 21526، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 547، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30937، 32978»
الحكم على الحديث:
سنده حسن لذاته، وأصل الحديث في ((الصحيحين))
ترقیم دار السلفیہ: 1063 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1063
نَا نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ سورة يونس آية 58 , قَالَ:" بِكِتَابِ اللَّهِ، وَبِالإِسْلامِ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ﴾ یعنی کہہ دیجیے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ، پس اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیے، وہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں کے بارے میں فرمایا: اللہ کی کتاب اور اسلام اس سے بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1063، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30691»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 1064 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1064
نَا نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ إِذْ جَعَلَهُمْ مِنْ أَهْلِهِ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ» یعنی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ، یعنی جب اللہ عزوجل نے انہیں اپنے اہل میں شامل فرما لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1064، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30689»
الحكم على الحديث:
- سنده ضعيف لما تقدم عن حال حجاج وعطية.
ترقیم دار السلفیہ: 1065 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1065
نَا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: " بِفَضْلِ اللَّهِ: الْقُرْآنُ، وَبِرَحْمَتِهِ: الإِسْلامُ" .
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: «بِفَضْلِ اللَّهِ» یعنی اللہ کے فضل کے ساتھ، یعنی قرآن، «وَبِرَحْمَتِهِ» یعنی اور اس کی رحمت کے ساتھ، یعنی اسلام۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف جدًا لما تقدم عن حال جويبر، وروايته هذه من التفسير الذي يرويه عن الضحاك وتساهل العلماء في روايته.
308. الْآيَةُ (64) قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1066 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1066
نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64 , قَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَبْلَكَ مُنْذُ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ، قَالَ:" هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ" .
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول ﴿لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ یعنی ان کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیک خواب ہے، جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لیے دیکھا جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 8272، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2273، 3106، 3106 م 1، 3106 م 2، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1066، 1067، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28158، 28167، 28168، 28173، 28204، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1069، والحميدي فى (مسنده) برقم: 395، 396، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 31092، 31094، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2180»
قال الدارقطني: ورواه محمد بن المنكدر عن عطاء بن يسار عن رجل من أهل مصر عن أبي الدرداء وهو الصواب، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 211)
قال الدارقطني: ورواه محمد بن المنكدر عن عطاء بن يسار عن رجل من أهل مصر عن أبي الدرداء وهو الصواب، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 211)
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لإبهام الراوي عن أبي الدرداء رضي الله عنه، ولكن يشهد له الحديثان الآتيان برقم [١٠٦٨ و ١٠٦٩] فإنهما صحيحان.
ترقیم دار السلفیہ: 1067 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1067
نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64 , قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، فَهِيَ بُشْرَاهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَبُشْرَاهُ فِي الآخِرَةِ: الْجَنَّةُ" .
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ یعنی ان کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تم نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے جس کے متعلق میں نے کسی کو سوال کرتے نہیں سنا، سوائے ایک شخص کے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیک خواب ہے، جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لیے دیکھا جائے، یہی اس کی دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے، اور آخرت میں خوشخبری جنت ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 8272، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2273، 3106، 3106 م 1، 3106 م 2، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1066، 1067، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28158، 28167، 28168، 28173، 28204، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1069، والحميدي فى (مسنده) برقم: 395، 396، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 31092، 31094، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2180»
قال الدارقطني: ورواه محمد بن المنكدر عن عطاء بن يسار عن رجل من أهل مصر عن أبي الدرداء وهو الصواب، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 211)
قال الدارقطني: ورواه محمد بن المنكدر عن عطاء بن يسار عن رجل من أهل مصر عن أبي الدرداء وهو الصواب، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 211)
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لإبهام الراوي عن أبي الدرداء، ولكن يشهد له الحديثان الآتيان برقم [١٠٦٨ و ١٠٦٩] فإنهما صحيحان.
ترقیم دار السلفیہ: 1068 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1068
نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّاسِبِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلا الْمُبَشِّرَاتُ" , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟، قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ" .
سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبوت نہیں، سوائے مبشرات کے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک خواب۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 262، 263، 264، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1068، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24318»
الحكم على الحديث:
سنده ظاهره الصحة، ولكنه معلول، وصوابه: أن أبا الطفيل يرويه عن حذيفة، وهو صحيح عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم.
ترقیم دار السلفیہ: 1069 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1069
نَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا جبکہ لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں باندھے کھڑے تھے، تو فرمایا: نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف صالح خواب باقی رہ گیا ہے جو مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ یاد رکھو! مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں حالتِ رکوع یا حالتِ سجدہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ پس رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور سجدہ میں دعا میں محنت کرو، کیونکہ دعا قبول ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 479، وابن الجارود فى "المنتقى"، 226، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 548، 599، 602، 674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1896، 1900، 6045، 6046، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1044، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 637، 711، 7576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 876، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1364، 1365، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3899، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1069، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1925، والحميدي فى (مسنده) برقم: 495، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 2573، 8143، 31096»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح أخرجه مسلم في ((صحيحه)) (١/ ٣٤٨ / رقم ٢٠٧) في كتاب الصلاة
309. الْآيَةُ (85) قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَقَالُوا عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَقَالُوا عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1070 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1070
نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: رَبَّنَا لا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ سورة يونس آية 85 , قَالَ: " لا تُسَلِّطْهُمْ عَلَيْنَا فَيَفْتُنُونَا" .
مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمیں ظالم قوم کے لیے آزمائش نہ بنا کی تفسیر میں کہا: ہمیں ان پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنے میں ڈال دیں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح، وروي عن ابن أبي نجيح ومجاهد من غير هذا الوجه بمعنى آخر.