🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
185. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6328
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا يَسْأَلُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ النَّاسَ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، كَيْفَ" تُقْرَأُ: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15، دَالا أَوْ ذَالا؟ فَقَالَ: بَلْ دَالا"، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15، دَالا" .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو اسود بن یزید سے سوال کرتے ہوئے سنا، وہ اس وقت مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ (سوال یہ تھا) آپ یہ آیت کیسے پڑھتے ہیں؟ ﴿فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾ [سورة القمر: 17] اس میں دال پڑھتے ہیں یا ذال پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: دال پڑھتا ہوں کیونکہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ» “ تلاوت کی یعنی دال کے ساتھ پڑھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6328]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3341، 3345، 3376، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6327، 6328، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3003، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3994، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2937، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3832» «رقم طبعة با وزير 6294»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الترمذي» (3119): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
186. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر قراءة المصطفى صلى الله عليه وسلم (إني أنا الرزاق ذو القوة المتين)-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے "إني أنا الرزاق ذو القوة المتين" پڑھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6329
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت یوں پڑھنا سکھائی: ” «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» ﴿إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ [سورة الذاريات: 58] ”بے شک میں ہی رزق دینے والا، بڑی قوت والا اور نہایت مضبوط ہوں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6329]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6329، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2937، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3993، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2940، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3818» «رقم طبعة با وزير 6295»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ] قال الشيخ: ثقةٌ مِنْ شيوخ البخاري، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين، فالإسناده صحيح. وهو في «مسند أبي يعلى» (9/ 227 / 5333) بإسنادٍ آخرَ له من طريق إسرائيل، عن أبي إسحاق ... به. ومن هذا الوجه: أخرجه الترمذي (2941)، والحاكم (1/ 249) - وصحَّحاه -، ووافقه الذهبي. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
187. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر قراءة المصطفى صلى الله عليه وسلم والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے "والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى" پڑھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأُخْبِرَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَأَتَانَا، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ؟"، قَالَ: قُلْنَا: كُلُّنَا نَقْرَأُ، قَالَ:" أَيُّكُمْ أَقْرَأُ؟"، قَالَ: فَأَشَارَ أَصْحَابِي إِِلَيَّ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" أَحَفِظْتَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟"، قُلْتُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى سورة الليل آية 1 - 3، فَقَالَ:" أَنْتَ حَفِظْتُهَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" وَأَنَا وَالَّذِي لا إِِلَهَ غَيْرُهُ هَكَذَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَؤُلاءِ يُرِيدُونَ وَاللَّهِ لا أُتَابِعُهُمْ أَبَدًا" .
علقمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں شام آیا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: ”تم میں سے کون شخص میرے سامنے ”ابنِ امِ عبد“ کے طریقے کے مطابق تلاوت کر سکتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: ہم نے جواب دیا: ”ہم سب کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”تم میں قرأت کا سب سے زیادہ علم کس کو ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میرے ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تمہیں یاد ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سورۃ اللیل کیسے پڑھتے تھے؟“ میں نے کہا: یوں پڑھتے تھے: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلّٰى وَالذَّكَرِ وَالْأُنثٰى﴾ [سورة الليل: 1-3] انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ الفاظ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یاد ہیں؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں نے بھی یہ الفاظ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سیکھے ہیں، لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں (دوسرے الفاظ کے ذریعے تلاوت کروں) اللہ کی قسم! میں تو ان کی بات کبھی نہیں مانوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6330]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3287، 3742، 3743، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 824، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6330، 6331، 7127، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5424، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8241، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2939، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28182، والحميدي فى (مسنده) برقم: 400» «رقم طبعة با وزير 6296»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4943 و 4944)، م (2/ 206). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
188. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به إبراهيم عن الأعمش-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف ابراہیم نے اعمش سے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6331
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ:" ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِِلَى الشَّامِ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا، فَقَعَدَ إِِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟"، قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ:" أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ حُذَيْفَةُ؟ أَلَيْسَ فِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ؟ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السَّوَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ؟، وَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2"، فَقُلْتُ: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، قَالَ:" فَمَا زَالَ هَؤُلاءِ كَادُوا يُشَكِّكُونِي وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ شام گئے، وہ وہاں مسجد میں آئے، وہاں انہوں نے دو رکعات ادا کیں، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا» ”اے اللہ! مجھے نیک ہم نشین عطا کر۔“ پھر وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: ”تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کوفہ سے۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص راز دان موجود نہیں ہیں کہ اس راز کا ان کے علاوہ کسی کو پتا نہیں ہوتا تھا اور وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں؟ کیا تمہارے درمیان وہ صاحب موجود نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا اور وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں؟ کیا تمہارے درمیان سیاہی والے شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں ہیں؟“ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تم یہ آیت ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى﴾ [سورة الليل: 1-2] کیسے پڑھتے ہو؟“ میں نے کہا: ﴿وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى﴾ [سورة الليل: 3] ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ لوگ مسلسل مجھے اس بارے میں شبہ کا شکار کرتے رہے ہیں حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود یہ آیت ” ﴿وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى﴾ “ [سورة الليل: 3] سنی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6331]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3287، 3742، 3743، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 824، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6330، 6331، 7127، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5424، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8241، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2939، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28182، والحميدي فى (مسنده) برقم: 400» «رقم طبعة با وزير 6297»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري رجاله ثقات رجال الشيخين غير حفص بن عمر الحوضي فمن رجال البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
189. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر قراءة المصطفى صلى الله عليه وسلم يحسب أن ماله أخلده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے "يحسب أن ماله أخلده" پڑھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6332
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ الذِّمَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ: يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ سورة الهمزة آية 3" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ﴾ [سورة الهمزة: 3] ”وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ رکھے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6332]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6332، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3031، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11634، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3995، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1902» «رقم طبعة با وزير 6298»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر التعليق. * [عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ الذِّمَارِيُّ] قال الشيخ: الأصل الرمادي! والتصحيح من «الموارد»، وكتب الرجال، ويقال فيه: (عبد الملك بن عبد الرحمن بن هشام) قال الحافظ: (صدوق كان يصحف). قلت: و (يحسب) بفتح السين وبكسره، قراءتان متواترتان، فانظر التعليق على «الموارد». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
190. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر اصطفاء الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم من بين ولد إسماعيل صلوات الله عليه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسماعیل صلوات اللہ علیہ کی اولاد میں سے چنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6333
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ" .
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا، کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا۔ قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6333]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2276، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6242، 6333، 6475، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3605، 3606، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13196، 13877، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17260» «رقم طبعة با وزير 6299»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره: م تقدم تخريجه برقم (6209)، ويأتي برقم (6441). تنبيه!! رقم (6209) = (6242) من «طبعة المؤسسة». رقم (6441) = (6475) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
191. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر شق جبريل عليه السلام صدر المصطفى صلى الله عليه وسلم في صباه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ جبریل علیہ السلام نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن میں ان کا سینہ چاک کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6334
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ قَلْبَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ:" هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ"، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ، يَعْنِي: ظِئْرَهُ، فَقَالُوا: إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ: قَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شُقَّ صَدْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَبِيٌّ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، وَأُخْرِجَ مِنْهُ الْعَلَقَةُ، وَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الإِِسْرَاءَ بِهِ، أَمَرَ جِبْرِيلَ بِشَقِّ صَدْرِهِ ثَانِيًا، وَأَخْرَجَ قَلْبَهُ فَغَسَلَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ مَكَانَهُ مَرَّتَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ، وَهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ (یعنی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا واقعہ ہے) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو چیرا اور اس میں سے جما ہوا خون نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک سونے سے بنے ہوئے طشت میں رکھ کر آبِ زم زم کے ذریعے دھویا پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی دائی اماں کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا، وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں سیے جانے کا نشان دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کو شق کرنے کا واقعہ (پہلی مرتبہ) اس وقت ہوا جب آپ بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو آپ کے اندر سے جما ہوا خون نکالا گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے جانے کا ارادہ کیا تو اس نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا، انہوں نے دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو نکال کر دوبارہ اسے دھویا اور پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا، تو ایسا دو مرتبہ ہوا اور دو مختلف موقعوں پر ہوا۔ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6334]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 162، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6334، 6336، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3971، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12405» «رقم طبعة با وزير 6300»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (61): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6335
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي جَهْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ حَلِيمَةَ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدِيَّةِ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ، قَالَتْ: " خَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ نَلْتَمِسُ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ عَلَى أَتَانٍ لِي قَمْرَاءَ فِي سَنَةٍ شَهْبَاءَ لَمْ تُبْقِ شَيْئًا، وَمَعِي زَوْجِي، وَمَعَنَا شَارِفٌ لَنَا، وَاللَّهِ مَا إِِنْ يَبِضُّ عَلَيْنَا بِقَطْرَةٍ مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي صَبِيٌّ لِي إِِنْ نَنَامَ لَيْلَتَنَا مِنْ بُكَائِهِ، مَا فِي ثَدْيَيَّ مَا يُغْنِيهِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، لَمْ تَبْقَ مِنَّا امْرَأَةٌ إِِلا عُرِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأْبَاهُ، وَإِِنَّمَا كُنَّا نَرْجُو كَرَامَةَ الرَّضَاعَةِ مِنْ وَالِدِ الْمَوْلُودِ، وَكَانَ يَتِيمًا، وَكُنَّا نَقُولُ: يَتِيمًا مَا عَسَى أَنْ تَصْنَعَ أُمُّهُ بِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ صَوَاحِبِي امْرَأَةٌ إِِلا أَخَذَتْ صَبِيًّا غَيْرِي، فَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ وَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَقَدْ أَخَذَ صَوَاحِبِي، فَقُلْتُ لِزَوْجِي: وَاللَّهِ لأَرْجِعَنَّ إِِلَى ذَلِكَ الْيَتِيمِ فَلآخُذَنَّهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَأَخَذْتُهُ وَرَجَعْتُ إِِلَى رَحْلِي، فَقَالَ زَوْجِي: قَدْ أَخَذْتِيهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ وَاللَّهِ، وَذَاكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ، فَقَالَ: قَدْ أَصَبْتِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِيهِ خَيْرًا، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِِلا أَنْ جَعَلْتُهُ فِي حِجْرِي، أَقْبَلَ عَلَيْهِ ثَدْيِي بِمَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّبَنِ، فَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ، وَشَرِبَ أَخُوهُ، يَعْنِي: ابْنَهَا، حَتَّى رَوِيَ، وَقَامَ زَوْجِي إِِلَى شَارِفِنَا مِنَ اللَّيْلِ، فَإِِذَا بِهَا حَافِلٌ فَحَلَبَهَا مِنَ اللَّبَنِ مَا شِئْنَا، وَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ، وَشَرِبْتُ حَتَّى رَوِيتُ، وَبِتْنَا لَيْلَتَنَا تِلْكَ شِبَاعًا رُوَاءً، وَقَدْ نَامَ صِبْيَانُنَا، يَقُولُ أَبُوهُ يَعْنِي زَوْجَهَا: وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ، مَا أُرَاكِ إِِلا قَدْ أَصَبْتِ نَسَمَةً مُبَارَكَةً، قَدْ نَامَ صَبِيُّنَا، وَرَوِيَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْنَا، فَوَاللَّهِ لَخَرَجَتْ أَتَانِي أَمَامَ الرَّكْبِ، حَتَّى إِِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ: وَيْحَكِ، كُفَّي عنا، أَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَتَانِكِ الَّتِي خَرَجْتِ عَلَيْهَا؟ فَأَقُولُ: بَلَى وَاللَّهِ، وَهِيَ قُدَّامُنَا، حَتَّى قَدِمْنَا مَنَازِلَنَا مِنْ حَاضِرِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَقَدِمْنَا عَلَى أَجْدَبِ أَرْضِ اللَّهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ حَلِيمَةَ بِيَدِهِ، إِِنْ كَانُوا لَيُسَرِّحُونَ أَغْنَامَهُمْ إِِذَا أَصْبَحُوا، وَيَسْرَحُ رَاعِي غَنَمِي فَتَرُوحُ بِطَانًا لَبَنًا حُفَّلا، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا هَالِكَةً، مَا لَهَا مِنْ لَبَنٍ، قَالَتْ: فَنَشْرَبُ مَا شِئْنَا مِنَ اللَّبَنِ، وَمَا مِنَ الْحَاضِرِ أَحَدٌ يَحْلُبُ قَطْرَةً وَلا يَجِدُهَا، فَيَقُولُونَ لِرِعَائِهِمْ: وَيْلَكُمْ، أَلا تَسْرَحُونَ حَيْثُ يَسْرَحُ رَاعِي حَلِيمَةَ، فَيَسْرَحُونَ فِي الشِّعْبِ الَّذِي تَسْرَحُ فِيهِ، فَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ، وَتَرُوحُ غَنَمِي لَبَنًا حُفَّلا، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي شَهْرٍ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي سَنَةٍ، فَبَلَغَ سَنَةً وَهُوَ غُلامٌ جَفْرٌ، قَالَتْ: فَقَدِمْنَا عَلَى أُمِّهِ، فَقُلْتُ لَهَا، وَقَالَ لَهَا أَبُوهُ: رُدِّي عَلَيْنَا ابْنِي، فَلْنَرْجِعْ بِهِ، فَإِِنَّا نَخْشَى عَلَيْهِ وَبَاءَ مَكَّةَ، قَالَتْ: وَنَحْنُ أَضَنُّ شَيْءٍ بِهِ مِمَّا رَأَيْنَا مِنْ بَرَكَتِهِ، قَالَتْ: فَلَمْ نَزَلْ حَتَّى قَالَتِ: ارْجِعَا بِهِ، فَرَجَعْنَا بِهِ، فَمَكَثَ عِنْدَنَا شَهْرَيْنِ، قَالَتْ: فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ وَأَخُوهُ يَوْمًا خَلْفَ الْبُيُوتِ يَرْعَيَانِ بَهْمًا لَنَا، إِِذْ جَاءَنَا أَخُوهُ يَشْتَدُّ، فَقَالَ لِي وَلأَبِيهِ: أَدْرِكَا أَخِي الْقُرَشِيَّ، قَدْ جَاءَهُ رَجُلانِ، فَأَضْجَعَاهُ وَشَقَّا بَطْنَهُ، فَخَرَجْنَا نَشْتَدُّ، فَانْتَهَيْنَا إِِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ مُنْتَقِعٌ لَوْنُهُ، فَاعْتَنَقَهُ أَبُوهُ وَاعْتَنَقْتُهُ، ثُمَّ قُلْنَا: مَا لَكَ أَيْ بُنَيَّ؟ قَالَ:" أَتَانِي رَجُلانِ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، فَأَضْجَعَانِي، ثُمَّ شَقَّا بَطْنِي، فَوَاللَّهِ، مَا أَدْرِي مَا صَنَعَا"، قَالَتْ: فَاحْتَمَلْنَاهُ، وَرَجَعْنَا بِهِ، قَالَتْ: يَقُولُ أَبُوهُ: يَا حَلِيمَةُ، مَا أَرَى هَذَا الْغُلامَ إِِلا قَدْ أُصِيبَ، فَانْطَلِقِي، فَلْنَرُدَّهُ إِِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ بِهِ مَا نَتَخَوَّفُ، قَالَتْ: فَرَجَعْنَا بِهِ، فَقَالَتْ: مَا يَرُدُّكُمَا بِهِ، فَقَدْ كُنْتُمَا حَرِيصَيْنِ عَلَيْهِ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: لا وَاللَّهِ، إِِلا أَنَّا كَفَلْنَاهُ، وَأَدَّيْنَا الْحَقَّ الَّذِي يَجِبُ عَلَيْنَا، ثُمَّ تَخَوَّفْنَا الأَحْدَاثَ عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَكُونُ فِي أَهْلِهِ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: وَاللَّهِ، مَا ذَاكَ بِكُمَا، فَأَخْبِرَانِي خَبَرَكُمَا وَخَبَرَهُ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ بِنَا حَتَّى أَخْبَرْنَاهَا خَبَرَهُ، قَالَتْ: فَتَخَوَّفْتَمَا عَلَيْهِ! كَلا وَاللَّهِ، إِِنَّ لابْنِي هَذَا شَأْنًَا، أَلا أُخْبِرُكُمَا عَنْهُ؟ إِِنِّي حَمَلْتُ بِهِ، فَلَمْ أَحْمِلْ حَمْلا قَطُّ كَانَ أَخَفَّ عَلَيَّ وَلا أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ نُورًا كَأَنَّهُ شِهَابٌ خَرَجَ مِنِّي حِينَ وَضَعْتُهُ، أَضَاءَتْ لَهُ أَعْنَاقُ الإِِبِلِ بِبُصْرَى، ثُمَّ وَضَعْتُهُ، فَمَا وَقَعَ كَمَا يَقَعُ الصِّبْيَانُ، وَقَعَ وَاضِعًا يَدَهُ بِالأَرْضِ، رَافِعًا رَأْسَهُ إِِلَى السَّمَاءِ، دَعَاهُ وَالْحَقَا بِشَأْنِكُمَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا جَهْمُ بْنُ أَبِي جَهْمٍ نَحْوَهُ. حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں: میں بنو سعد بن بکر کی کچھ خواتین کے ہمراہ مکہ آئی تاکہ دودھ پلانے کے لیے کوئی بچہ حاصل کروں، میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر آئی تھی جو کہ قحط سالی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔ میرے ساتھ میرا شوہر بھی تھا۔ ہمارے ساتھ ہماری ایک اونٹنی بھی تھی، اللہ کی قسم! اس کا دودھ بہت کم نکلتا تھا۔ میرے ساتھ میرا چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ اس کے رونے کی وجہ سے ہم رات کو سو نہیں پاتے تھے کیونکہ میرے سینے میں اتنا دودھ نہیں تھا جو اس کی کفایت کر سکے، جب ہم لوگ مکہ آئے تو ہم میں سے ہر عورت کو پیش کش کی گئی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانے کے لیے لے جائے، لیکن کسی بھی عورت نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ خواتین کو یہ لالچ ہوتا تھا کہ دودھ پلانے کا معاوضہ بچے کے باپ سے وصول کریں گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے، ہم لوگ یہ کہا کرتے تھے: کسی یتیم کے بارے میں اس کی ماں کیا کر سکتی ہے۔ میرے ساتھ آنے والی خواتین میں سے ہر ایک نے کوئی نہ کوئی بچہ گود میں لے لیا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں تھی کہ میں ایسی حالت میں واپس جاؤں کہ مجھے کوئی بچہ نہ ملا ہو جبکہ میری ساتھی خواتین بچہ لے چکی ہوں۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا: اللہ کی قسم! میں اس یتیم بچے کو لے کر چلی جاؤں گی، ہم اسے ضرور حاصل کریں گے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئی، میں نے آپ کو حاصل کر لیا۔ میں اپنی رہائشی جگہ پر واپس آئی تو میرے شوہر نے کہا: تم نے اسے حاصل کر لیا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان کے علاوہ اور کوئی بچہ نہیں ملا۔ شوہر نے کہا: تم نے ٹھیک کیا ہے، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں ہمارے لیے کوئی بھلائی رکھ دے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تھے کہ اسی دوران میری چھاتی میں اللہ تعالیٰ نے اتنا دودھ پیدا کر دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور سیر ہو کر پیا۔ آپ کے رضاعی بھائی نے بھی اسے پی لیا یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نے بھی اسے پی لیا، یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہو گیا۔ رات کے وقت میرا شوہر ہماری اونٹنی کے پاس گیا تو اس کا بھی دودھ اترا ہوا تھا۔ میرے شوہر نے اس کا اتنا دودھ دوہ لیا جتنا ہم چاہتے تھے۔ اس نے پیا اور سیر ہو کر پیا، میں نے بھی پیا اور سیر ہو گئی۔ اس رات ہم نے پیٹ بھر کر اور سیر ہو کر رات گزاری۔ ہمارے بچے بھی سوتے رہے۔ بچے کے باپ یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے کہا: اللہ کی قسم! اے حلیمہ میرا یہ خیال ہے کہ تمہیں ایک مبارک وجود ملا ہے۔ ہمارے بچے آرام سے سو رہے ہیں اور وہ سیر ہیں۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے، اللہ کی قسم! میری گدھی سب سے زیادہ آگے چل رہی تھی، یہاں تک کہ میرے ساتھی یہ کہتے تھے کہ تمہارا ستیاناس ہو تم اس کو آرام سے لے کر چلو، کیا یہ تمہاری وہی گدھی نہیں ہے جس پر سوار ہو کر تم آئی تھی؟ تو میں جواب دیتی: جی ہاں! اللہ کی قسم وہی ہے، لیکن وہ بدستور آگے چلتی رہی، یہاں تک کہ ہم بنو سعد بن بکر کے علاقے میں اپنے گھر آ گئے۔ ہم ایک ایسی جگہ پر آئے تھے جو سب سے زیادہ خشک تھی۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں حلیمہ کی جان ہے! دوسرے لوگ صبح کے وقت اپنی بکریوں کو چرنے کے لیے بھیج دیتے تھے اور میری بکریوں کا چرواہا بھی میری بکریاں لے جاتا تھا، تو میری بکریاں جب شام کو واپس آتی تھیں تو دودھ سے بھری ہوئی ہوتی تھیں جبکہ ان کی بکریاں جب واپس آتی تھیں تو بھوکی ہوتی تھیں، ہلاکت کے قریب ہوتی تھیں اور ان میں دودھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم جتنا چاہتے تھے دودھ پی لیتے تھے جبکہ باقی قبیلے میں کسی کو ایک قطرہ بھی دودھ دوہنے کے لیے اور پینے کے لیے نہیں ملتا تھا، تو وہ لوگ اپنے چرواہوں سے یہ کہتے تھے کہ تمہارا ستیاناس ہو، کیا تم اپنی بکریاں اس جگہ نہیں چراتے جہاں حلیمہ کا چرواہا چراتا ہے؟ پھر وہ لوگ بھی اپنی بکریاں اسی گھاٹی میں چراتے تھے جس میں میری بکریاں چرتی تھیں، لیکن اس کے باوجود ان کی بکریاں بھوکی آتی تھیں، ان میں دودھ نہیں ہوتا تھا جبکہ میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نشوونما ایک دن میں اتنی ہو رہی تھی جتنی کسی عام بچے کی ایک مہینے میں ہوتی ہے اور آپ کی نشوونما ایک ماہ میں اتنی ہو گئی جتنی کسی بچے کی ایک سال میں ہوتی ہے، جب آپ کی عمر ایک سال ہوئی تو آپ بھرپور صحت مند لگتے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کی خدمت میں آئے۔ میں نے ان سے یہ درخواست کی اور میرے شوہر نے بھی ان سے یہ درخواست کی کہ آپ اس بچے کو ہمیں دے دیں تاکہ ہم اسے واپس لے جائیں کیونکہ ہمیں اس کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ یہ مکہ میں وبا کا شکار نہ ہو جائے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو برکت دیکھی تھی، ہمیں اس کا لالچ تھا، تو ہم مسلسل ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ فرمایا: تم اسے ساتھ لے جاؤ۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر واپس آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ماہ ہمارے پاس ٹھہرے رہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بھائی کے ساتھ گھروں کے پیچھے کھیل رہے تھے، وہ دونوں ہماری بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی تیزی سے دوڑتا ہوا ہمارے پاس آیا اور مجھ سے اور اپنے والد سے بولا: میرے قریشی بھائی کے پاس جائیں، اس کے پاس دو آدمی آئے ہیں انہوں نے اسے لٹا دیا ہے اور اس کا پیٹ چیر دیا ہے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، آپ کے چہرے کی رنگت تبدیل تھی۔ آپ کے والد نے آپ کو گلے سے لگا لیا، میں نے بھی آپ کو گلے سے لگا لیا، پھر ہم نے دریافت کیا: اے میرے بیٹے! تمہیں کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، انہوں نے مجھے لٹا لیا پھر انہوں نے میرے پیٹ کو چیر دیا، اللہ کی قسم! مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کیا کیا۔“ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے آپ کو گود میں اٹھا لیا اور آپ کو لے کر واپس آ گئے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: آپ کے رضاعی والد نے کہا: اے حلیمہ! مجھے لگتا ہے اس لڑکے کے ساتھ کوئی نہ کوئی خاص معاملہ ہے، تم چلو ہم اسے اس کے گھر والوں کے سپرد کر آتے ہیں، اس سے پہلے کہ اس کی طرف سے کوئی ایسی صورت حال سامنے آئے جس کا ہمیں اندیشہ ہے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم آپ کو لے کر واپس آئے تو سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: تم لوگ اسے واپس لے کر کیوں آ گئے ہو؟ تم تو اسے اپنے پاس رکھنا چاہ رہے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: جی نہیں، اللہ کی قسم! ہم نے اس کی کفالت کر لی ہے اور ہمارے ذمے جو حق لازم تھا وہ ہم نے ادا کر دیا ہے، پھر ہمیں اس کے بعد کسی مشکل پیش آنے کا اندیشہ ہوا (تو ہم نے یہ سوچا کہ یہ اپنے گھر میں ہی ٹھیک رہے گا)۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے؟ اللہ کی قسم! تم دونوں مجھے بتاؤ۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا مسلسل ہمارے ساتھ اصرار کرتی رہیں، یہاں تک کہ ہم نے انہیں اصل واقعہ بتا دیا۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: کیا تمہیں اس کے بارے میں خوف ہے؟ ہرگز نہیں! میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہو گی، میں تمہیں اس بارے میں بتاتی ہوں؛ جب مجھے اس کا حمل ہوا تو مجھے حمل کی کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوئی، یہ میرے لیے انتہائی آسان اور زیادہ برکت والی صورت حال تھی، پھر مجھے ایک نور دکھائی دیا جو انتہائی چمکدار تھا، جب میں نے اسے جنم دیا تو وہ نور میرے اندر سے نکلا اور اس نور کی وجہ سے بصریٰ میں موجود اونٹوں کی گردنیں میرے سامنے روشن ہو گئیں (یعنی مجھے نظر آنے لگیں) پھر میں نے اسے جنم دیا تو یہ اس طرح باہر نہیں آیا جس طرح عام طور پر بچے باہر آتے ہیں، بلکہ جب یہ باہر آیا تو اس نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور دعا مانگی، تو تم (اس واقعہ کو) اپنے والے واقعے کے ساتھ ملا کر دیکھ لو۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہب بن جریر نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نے بھی یہ روایت اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6335]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6335، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7163، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 545» «رقم طبعة با وزير 6301»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر التعليق. * [أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى] قال الشيخ: هو الحافظ أبو يعلى الموصلي، وقد أخرجه في «مسنده» (13/ 93 / 7163) ... بإسناده ومتنه هنا، وصرَّح ابن إسحاق بالتحديث في «سيرة ابن هشام» (1/ 172)، لكنَّه شكَّ فقال: عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب، أو عَمَّن حدَّثه عنه، قال ... ؛ فذكره. فلم تَطمئن النفسُ لاتصاله، ولا سيَّما وجهمٌ هذا مجهول الحال؛ لم يُوَثِّقْهُ غير ابن حبان (4/ 113)، وقال الذهبي في «الميزان» وغيره: «لا يُعرف». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط في سنده انقطاع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6336
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصَّبيانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ قَلْبَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ:" هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، فَجَاءَهُ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ، يَعْنِي: ظِئْرَهُ، فَقَالَ: إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی بات ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، آپ کو لٹایا اور آپ کے قلب مبارک کو چیر دیا، اس میں سے خون کا ایک لوتھڑا نکالا اور بولے: «هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ» ”یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا“، پھر انہوں نے سونے کے بنے ہوئے طشت میں آبِ زم زم کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو دھویا اور پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ یعنی دائی ماں کے پاس آئے اور بولے: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے“۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کے چہرے کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں اس سیون (ٹانکوں کے نشان) کو میں نے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6336]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 162، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6334، 6336، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3971، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12405» «رقم طبعة با وزير 6302»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى قريباً (6300). تنبيه!! رقم (6300) = (6334) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
192. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما خص الله جل وعلا رسوله دون البشر بما كان يرى خلفه كما كان يرى أمامه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے رسول کو دوسرے انسانوں سے مختلف بنایا کہ وہ اپنے پیچھے اسی طرح دیکھ سکتے تھے جیسے سامنے دیکھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6337
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلا رُكُوعُكُمْ، وَإِِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میری توجہ صرف قبلہ کی طرف ہوتی ہے؟ اللہ کی قسم! تمہارا خشوع اور تمہارا رکوع کرنا مجھ سے مخفی نہیں رہتا، میں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی تمہیں دیکھ لیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6337]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 418، 741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 423، 424، ومالك فى (الموطأ) برقم: 577، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 474، 664، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6337، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 867، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 871، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7451» «رقم طبعة با وزير 6303»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (418)، م (2/ 27). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں