🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
257. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما مثل المصطفى صلى الله عليه وسلم نفسه وأمته به-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنی امت کی مثال کیا دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6408
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ، أَقْبَلَ خَشَاشُ الأَرْضِ وَفَرَاشُهَا، وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقْتَحِمُ النَّارَ، فَتُقْتَحَمُ فِيهَا، وَهُوَ يَذُبُّهَا عنها، فَأَنَا الْيَوْمَ آخِذُ بِحُجَزِ النَّاسِ: هَلُمُّوا إِِلَى الْجَنَّةِ، هَلُمُّوا عَنِ النَّارِ، فَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری اور لوگوں کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے اردگرد کی جگہ روشن ہو گئی تو اس میں کیڑے مکوڑے اور پتنگے گرنا شروع ہو گئے، وہ شخص انہیں اس میں داخل ہونے سے روکتا ہے، تو میں لوگوں کے پہلو پکڑ کر (یہ کہتا ہوں) جنت کی طرف آ جاؤ اور جہنم سے بچو، لیکن وہ اس میں گرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6408]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3426، 6483، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2284، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6408، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2874، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8232، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1068، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3275» «رقم طبعة با وزير 6374»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» (3082): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
258. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر مغفرة الله جل وعلا لصفيه صلى الله عليه وسلم ما تقدم من ذنبه وما تأخر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6409
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ لا يُجِيبُكَ، قَالَ عُمَرُ: فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى قَدَّمْتُهُ أَمَامَ النَّاسِ، وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِي قُرْآنٍ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ"، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر آپ سے دریافت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دریافت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں کوئی جواب نہیں دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا: اے عمر! تمہاری ماں تمہیں روئے، تم نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی اور لوگوں کے آگے آ کر چلنے لگا۔ مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ میں نے کسی کو سنا جو بلند آواز میں مجھے بلا رہا تھا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا * لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ [سورة الفتح: 1-2] ”بے شک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6409]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4177، 4833، 5012، ومالك فى (الموطأ) برقم:، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6409، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11435، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3262، وأحمد فى (مسنده) برقم: 214، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 148، والبزار فى (مسنده) برقم: 264، 265» «رقم طبعة با وزير 6375»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4833). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
259. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر مغفرة الله جل وعلا ما تقدم من ذنوب صفيه صلى الله عليه وسلم وما تأخر منها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6410
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 2، مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ"، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: هَنِيًّا مَرِيًّا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ، فَمَا يَفْعَلُ بِنَا؟ فَنَزَلَ عَلَيْهِ: لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5، حَتَّى فَوْزًا عَظِيمًا سورة النساء آية 73 .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ ”تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے“ [سورة الفتح: 2] ، یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک روئے زمین پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت لوگوں کے سامنے تلاوت کی، تو لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ کو بہت بہت مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ بات بیان کر دی ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا، لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا (یہ نہیں پتا چلا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ”تاکہ اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ان جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ [سورة الفتح: 5] ، یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿فَوْزًا عَظِيمًا﴾ ”بڑی کامیابی“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6410]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4172، 4834، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1786، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 370، 371، 6410، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3733، 3734، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11434، 11438، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12410» «رقم طبعة با وزير 6376»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد، وشطره الأول في «الصحيحين» - «الترمذي» / التفسير. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
260. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر العلم الذي جعل الله جل وعلا لصفيه صلى الله عليه وسلم الذي إذا ظهر له يجب أن يسبحه ويحمده ويستغفره-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر اس علم کا جو اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کہ جب وہ ظاہر ہو تو انہیں تسبیح، حمد اور استغفار کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6411
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ قَبْلَ مَوْتِهِ أَنْ يَقُولَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَأَتُوبُ إِِلَيْهِ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّكَ لِتُكْثِرَ مِنْ دُعَاءٍ، لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" إِِنَّ رَبِّي جَلَّ وَعَلا أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَيُرِينِي عِلْمًا فِي أُمَّتِي، فَأَمَرَنِي إِِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعِلْمَ أَنْ أُسَبِّحَهُ، وَأَحْمَدَهُ، وَأَسْتَغْفِرَهُ، وَإِِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، فَتْحُ مَكَّةَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال سے کچھ عرصہ پہلے بکثرت «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ، میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“ پڑھا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ دعا بکثرت پڑھتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے آپ یہ دعا نہیں پڑھا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ عنقریب مجھے میری امت کے بارے میں نشانی دکھا دے گا۔ اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ جب میں یہ نشانی دیکھ لوں تو اس کی تسبیح بیان کروں، اس کی حمد بیان کروں اور اس سے مغفرت طلب کروں، تو میں نے وہ چیز دیکھ لی ہے۔ (وہ یہ آیت ہے) ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی“ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6411]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 794، 817، 4293، 4967، 4968، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 484، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 605، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1929، 1930، 6411، 6412، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 877، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 889، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24699» «رقم طبعة با وزير 6377»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (2/ 50). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
261. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان يستغفر الله جل وعلا بعد نزول ما وصفنا عند الصلوات-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیان کردہ نازل ہونے کے بعد نمازیں ادا کرتے وقت اللہ جل وعلا سے استغفار کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6412
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأشجُّ ، وَعُثْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 إِِلَى آخِرِهَا، مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةً إِِلا قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی۔“ نازل ہوئی، یہ سورت کے آخر تک ہے، تو اس کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ جب بھی نماز ادا کرتے تھے تو یہ ضرور پڑھتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”تو پاک ہے اللہ، حمد تیرے لیے مخصوص ہے، اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6412]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 794، 817، 4293، 4967، 4968، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 484، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 605، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1929، 1930، 6411، 6412، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 877، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 889، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24699» «رقم طبعة با وزير 6378»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
262. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما خص الله جل وعلا به المصطفى صلى الله عليه وسلم من إطعامه وسقيه عند وصاله-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال کے وقت کھانا اور پانی عطا کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6413
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصِّيَامِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّاسَ، فَوَاصَلُوا، فَنَهَاهُمْ، وَقَالَ: " إِِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صومِ وصال رکھنا شروع کیے، جب اس بات کی اطلاع لوگوں کو ملی تو انہوں نے بھی صومِ وصال رکھنا شروع کر دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور مجھے پلا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6413]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1965، 1966، 6851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1103، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2068، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3575، 3576، 6413، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3251، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4240، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8462، 8463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7283» «رقم طبعة با وزير 6379»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
263. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما خص الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم عند الوصال بالسقي والإطعام دون أمته-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال کے وقت پانی اور کھانا عطا کیا جو ان کی امت کو نہیں دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6414
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " لَوْ مُدَّ لِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صوم وصال رکھنا شروع کیے۔ آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے بھی صوم وصال رکھنا شروع کر دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ مہینہ اور طویل ہوتا تو میں اتنا عرصہ صوم وصال رکھتا رہتا کہ شدت کرنے والے لوگ اپنی شدت کو ترک کر دیتے۔ میں ایسے وقت گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور مجھے پلا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6414]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1961، 7241، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1104، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2069، 2070، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3574، 3579، 6414، والترمذي فى (جامعه) برقم: 778، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1746، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12432» «رقم طبعة با وزير 6380»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2044). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
264. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما بارك الله في اليسير من بركة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے تھوڑی چیز میں برکت دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6415
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ عِنْدَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ، فَمَا زِلْنَا نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَالَتْهُ الْجَارِيَةُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ، وَلَوْ لَمْ تَكِلْهُ، لَرَجَوْتُ أَنْ يَبْقَى أَكْثَرُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ نے ہمارے ہاں تھوڑے سے جَو چھوڑے، ہم انہیں کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ کنیز نے انہیں ماپ لیا، تو اس کے بعد وہ جلدی ختم ہو گئے۔ اگر وہ کنیز انہیں نہ ماپتی تو مجھے یہ امید ہے کہ وہ زیادہ عرصہ باقی رہتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6415]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3097، 6451، 6456، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2082، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6415، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4146، 4147، 4187، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1761، 2467، 2469، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3345، 3635، 4151، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13443، 13444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24846» «رقم طبعة با وزير 6381»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 116 / 41): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
265. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر معونة الله جل وعلا رسوله صلى الله عليه وسلم على الشيطان حتى كان يسلم منه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شیطان پر مدد کی حتیٰ کہ وہ اس سے محفوظ رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6416
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِِلا وَلَهُ شَيْطَانٌ"، قَالُوا: وَلَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلِي، إِِلا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَكَذَا قَالَهُ بِالنَّصْبِ.
سیدنا شریک بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ اس کا مخصوص شیطان ہوتا ہے“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) راوی نے یہ لفظ اسی طرح نصب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6416]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6416، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 7218، 7219، 7220، 7221، 7222، 7223» «رقم طبعة با وزير 6382»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد: م (8/ 139) - ابن مسعود وعائشة. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
266. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم في خبر شريك بن طارق إلا أن الله أعانني عليه فأسلم أراد بقوله فأسلم بالنصب لا بالرفع-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ شریک بن طارق کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اللہ نے مجھے اس پر مدد دی تو وہ مطیع ہوگیا" سے مراد نصب ہے نہ کہ رفع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6417
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِِلا وَقَدْ وُكِلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ"، قَالُوا: وَإِِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَإِِيَّايَ، إِِلا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، فَلا يَأْمُرَنِي إِِلا بِخَيْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ شَيْطَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمَ حَتَّى لَمْ يَأْمُرْهُ إِِلا بِخَيْرٍ، لا أَنَّهُ كَانَ يَسْلَمُ مِنْهُ وَإِِنْ كَانَ كَافِرًا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا ہم نشین جن مقرر کر دیا گیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا، اب وہ مجھے صرف بھلائی کے لیے کہتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص شیطان مسلمان ہو گیا تھا، یہاں تک کہ وہ آپ کو صرف بھلائی کے لیے کہتا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شیطان کی طرف سے محفوظ ہو گئے تھے خواہ وہ شیطان کافر ہی رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6417]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2814، 2814، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 658، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6417، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2776، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3722» «رقم طبعة با وزير 6383»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (62): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں