🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
423. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف غسل الدم عن وجه المصطفى صلى الله عليه وسلم حين شج-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وصف کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون دھویا گیا جب وہ زخمی ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6578
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ : بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي شَنَّةٍ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ، فَأُحْرِقَ، فَدُووِيَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابوحازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر کس چیز کے ذریعے دوا لگائی گئی تھی؟ تو انہوں نے فرمایا: اب لوگوں میں کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکیزے میں پانی لے کر آئے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون کو دھو رہی تھیں، پھر چٹائی لی گئی، اسے جلایا گیا تو اسے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر) لگا دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6578]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 243، 2903، 2911، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1790، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 973، 6578، 6579، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6504، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9191، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2085، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3464، 3465، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2847، 2848، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23262، 23293، والحميدي فى (مسنده) برقم: 958» «رقم طبعة با وزير 6544»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
424. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن رباعية المصطفى صلى الله عليه وسلم لما كسرت هشمت البيضة على رأسه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر بیان کہ جب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی رباعیہ ٹوٹی تو ان کے سر پر خود ٹوٹ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6579
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًَا سَأَلَهُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " جُرِحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْكُبُ الْمَاءَ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْمَاءَ لا يَزِيدُ الدَّمَ إِِلا كَثْرَةً، أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهُ، حَتَّى إِِذَا صَارَ رَمَادًا، أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ" .
ابوحازم کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے تھے اور خود (لوہے کی ٹوپی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر لگا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون کو دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ڈھال کے ذریعے اس پر پانی بہا رہے تھے، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے کے نتیجے میں خون زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے جلایا، یہاں تک کہ جب وہ راکھ بن گئی تو انہوں نے وہ راکھ اس زخم پر لگا دی تو خون رک گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6579]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 243، 2903، 2911، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1790، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 973، 6578، 6579، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6504، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9191، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2085، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3464، 3465، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2847، 2848، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23262، 23293، والحميدي فى (مسنده) برقم: 958» «رقم طبعة با وزير 6545»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (263): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
425. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر عناد بعض أهل الكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ اہل کتاب میں سے بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عناد کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6580
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" يَا فُلانُ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" وَالإِِنْجِيلَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" وَالْقُرْآنَ"، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ أُنْشِدَهُ، فَقَالَ: " تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالإِِنْجِيلِ؟"، قَالَ: نَجْدُ مِثْلَكَ، وَمَثَلَ أُمَّتِكَ، وَمَثَلَ مُخْرِجَكَ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ فِينَا، فَلَمَّا خَرَجْتَ، تَخَوَّفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ، فَنَظَرْنَا، فَإِِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ، قَالَ:" وَلِمَ ذَاكَ؟" قَالَ: إِِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلا عِقَابَ، وَإِِنَّ مَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ، قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لأَنَا هُوَ، وَإِِنَّهَا لأُمَّتِي، وَإِِنَّهُمْ لأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا، وَسَبْعِينَ أَلْفًا، وَسَبْعِينَ أَلْفًا" .
سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف دیکھا جو مسجد میں چل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم تورات کی تلاوت کرتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”انجیل کی؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”قرآن کی؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر میں چاہوں تو اس کا علم بھی حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم نے میرا ذکر تورات اور انجیل میں پایا ہے؟“ تو اس نے بتایا: ہمیں (تورات میں) آپ کا، آپ کی اُمت کا، آپ کے نکلنے کا (یا ہجرت کے مقام کا) ذکر ملتا ہے اور ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمارے درمیان (یعنی یہودیوں کے درمیان) مبعوث ہوں گے، لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ وہ آپ نہ ہوں، لیکن جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو وہ آپ نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نبی کے ہمراہ ان کی اُمت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر کوئی حساب نہیں ہوگا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہوگا، جب کہ آپ کے ساتھ تو بہت تھوڑے سے لوگ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ (نبی جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ہے) وہ میں ہی ہوں اور یہ میری اُمت ہے اور (اس کے جنت میں داخل ہونے والے) لوگوں کی تعداد (ستر ہزار اور مزید ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ ہوگی۔)“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6580]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6580، والبزار فى (مسنده) برقم: 3700، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3855، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 854، 855» «رقم طبعة با وزير 6546»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ] قال الشيخ: وكذا في الطبعة الأخرى! وفي «الموارد»: (سلام)، وهو الصواب، وقد نسبه المُؤلِّف إلى جَدِّهِ، واسم أبيه: (مُنيب)، وهو ثقه مترجم في «التهذيب». ولم يتفرَّد به، فقال عفان: ثنا عبد الواحد بن زياد ... به. وأخرجه البزَّار (4/ 207 / 3544)، والطبراني (18/ 332 / 854)، وقرن هذا بعفان: يحيى الحِمَّانِي. فصحَّ الإسنادُ، والحمدُ لله. وتابعه صالحُ بنُ عمر: عند الطبراني، والبيهقي في «الدلائل» (6/ 273). وصالح: هو الواسطيُّ، ثِقَه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
426. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر بعض ما كان يقاسي المصطفى صلى الله عليه وسلم من المنافقين بالمدينة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں منافقین سے کچھ مشقتیں برداشت کیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6581
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَكِبَ حِمَارًا وَعَلَيْهِ إِِكَافٌ وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَرَكِبَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي بَنِي الْحَارِثِ بنِ الْخَزْرَجِ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَعَبْدَةُ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودُ، وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلُولٍ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَدَعَاهُمْ إِِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولٍ: أَيُّهَا الْمَرْءُ، لأَحْسَنُ مِنْ هَذَا إِِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَلا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلِ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا، فَإِِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَثُورُوا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ، فَدَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعَ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبِيٍّ، قَالَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْفُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ، شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ الَّذِي عَمِلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان موجود تھا اور اس کے نیچے چادر تھی۔ آپ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے بنو حارث کے محلے کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ کا گزر ان کی ایک محفل سے ہوا جس میں کچھ مسلمان اور مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہودی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ اس محفل میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب اس جانور کے پاؤں کی غبار اس محفل تک پہنچی تو عبداللہ نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی، پھر اس نے کہا: ”ہم پر غبار نہ اڑائیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں کے پاس ٹھہر گئے، آپ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: ”اے صاحب! آپ جو باتیں کر رہے ہیں، اگر وہ سچی ہیں تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں ہماری محفل میں تکلیف نہ پہنچائیں۔ آپ اپنی رہائشی جگہ پر تشریف لے جائیں، ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آیا کرے آپ اس کے سامنے یہ سب کچھ بیان کر دیا کریں۔“ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلکہ آپ ہمارے ہاں ہماری محفل میں تشریف لایا کریں، ہمیں یہ بات پسند ہے۔“ اس بات پر مسلمانوں، مشرکین اور یہودیوں کے درمیان تکرار ہو گئی، یہاں تک کہ ان لوگوں نے لڑنے کا ارادہ کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کروانے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے آئے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے سنا کہ ابوحباب نے کیا کہا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عبداللہ بن ابی تھا، ”اس نے یہ یہ بات کہی ہے۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس سے درگزر کیجیے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو مرتبہ اور مقام عطا کیا ہے، اس سے پہلے یہاں کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ اسے یہاں کا بڑا سردار بنا دیں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی تشریف آوری کے ذریعے اس کی یہ خواہش پوری نہیں کی تو وہ اس بات پر جل بھن گیا۔ اسی وجہ سے اس نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے درگزر کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6581]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2987، 4566، 5663، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6581، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7460، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2702، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6928، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22181» «رقم طبعة با وزير 6547»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (24): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6582
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لِلأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ:" دَعُوهَا، فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ: قَدْ فَعَلُوهَا، لَئِنْ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ:" دَعْهُ، لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ"، يُرِيدُ: أَنَّهُ لا قِصَاصَ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ: فَإِِنَّهَا ذَمِيمَةٌ وَمَا أَشْبَهَهَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر اور ایک انصاری نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ انصاری نے کہا: ”اے انصار! (میری مدد کے لیے آؤ)“، مہاجر نے کہا: ”اے مہاجرین! (میری مدد کے لیے آؤ)“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زمانہ جاہلیت کی طرح پکارنے کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس چیز کو چھوڑ دو کیونکہ یہ «مُنْتِنَةٌ» ”بودار“ ہے۔“ اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا: ”انہوں نے ایسا کیا ہے، ﴿لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو ہم میں سے عزت دار لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے““، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو ورنہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”یہ چیز بودار ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اس میں قصاص نہیں ہوگا۔ اسی طرح لوگوں کا یہ کہنا: ”یہ چیز قابلِ مذمت ہے“ یا اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں (ان سے یہی مراد ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6582]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3518، 4905، 4907، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2584، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5990، 6582، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8812، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3315، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2795، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17939، 20530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14691» «رقم طبعة با وزير 6548»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3155): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
427. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف ما طب النبي صلى الله عليه وسلم بعد قدومه المدينة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وصف کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد کیا علاج کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6583
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ، يُقَالُ لَهُ: لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى إِِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ؟ قَدْ جَاءَنِي رَجُلانِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَجَلَسَ الآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي ذَرْوَانَ"، قَالَ: فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، فَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤوسُ الشَّيَاطِينِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلا أَحْرَقْتَهُ أَوْ أَخْرَجْتَهُ؟ قَالَ:" أَمَّا أَنَا، فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَيْئًا"، فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی، جس کا نام لبید بن اعصم تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن اور ایک رات تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی کیفیت رہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے رہے پھر دعا مانگتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کا جواب دے دیا ہے جس کے بارے میں میں نے اس سے دریافت کیا تھا؟ میرے پاس دو آدمی (یعنی دو فرشتے) آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا، جو میرے پاؤں کے قریب بیٹھا تھا اس نے میرے سرہانے موجود شخص سے دریافت کیا: ان صاحب کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے جواب دیا: ان پر جادو ہوا ہے، اس نے دریافت کیا: ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی میں اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں، پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی زروان کے کنویں میں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ اس کنویں کے پاس آئے، جب آپ وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! اس کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھول دی گئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سر شیطان کے سروں کی طرح تھے“، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے جلوا کیوں نہیں دیا یا نکلوا کیوں نہیں دیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کے حوالے سے لوگوں میں کوئی خرابی پیدا کروں“، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6583]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3175، 3268، 5763، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2189، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6583، 6584، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7569، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3545، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16590، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24874» «رقم طبعة با وزير 6549»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3175). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
428. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر دوسری خبر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6584
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سُحِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَحَرَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ، يُقَالُ لَهُ: لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِِلَيْهِ أَنَّهُ فَعَلَ الشَّيْءَ وَلَمْ يَفْعَلْهُ، حَتَّى إِِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ؟ أَتَانِي مَلَكَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ فَقَالَ الآخَرُ: مَطْبُوبٌ، فَقَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ؟، قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ، قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ"، قَالَتْ: وَأَتَاهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ رَأْسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلا اسْتَخْرَجْتَهَا؟ قَالَ:" قَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْهُ شَرًّا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا۔ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی شخص نے آپ پر جادو کیا۔ اس شخص کا نام لبید بن اعصم تھا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ ایک دن یہی حالت رہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے میں نے اللہ تعالیٰ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بارے میں بتا دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے دریافت کیا: ان صاحب کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے نے دریافت کیا: ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں۔ پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ذروان کے کنویں میں ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے (واپس آ کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اس کنویں کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھولی ہوئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سرے یوں تھے جیسے شیاطین کے سر ہوں۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے نکلوا کیوں نہیں دیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اس کے حوالے سے مسلمانوں کے درمیان کوئی خرابی پھیلاؤں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6584]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3175، 3268، 5763، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2189، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6583، 6584، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7569، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3545، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16590، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24874» «رقم طبعة با وزير 6550»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
429. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم على المشركين بالسنين-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین پر قحط سالی کی دعا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6585
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، وَمَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي كِنْدَةَ، قَالَ: يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، قَالَ: فَفَزِعْنَا، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَغَضِبَ، فَجَلَسَ، وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَلِمَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ شَيْئًا، فَلْيَقُلِ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لَمَّا لا يَعْلَمُ لا أَعْلَمُ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، إِِنَّ قُرَيْشًا دَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسِنِي يُوسُفَ"، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا، فَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ، وَيَرَى الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَقَوْمُكَ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ، فَقَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الدخان آية 10 - 11، إِِلَى قَوْلِهِ: إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، فَيَكْشِفُ عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِِذَا جَاءَ، ثُمَّ عَادُوا إِِلَى كُفْرِهِمْ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى سورة الدخان آية 16، فَذَلِكَ يَوْمُ بَدْرٍ، فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا سورة الفرقان آية 77، يَوْمَ بَدْرٍ، وَ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ سورة الروم آية 1 - 3، وَالرُّومُ قَدْ مَضَى، وَقَدْ مَضَتِ الأَرْبَعُ .
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص کندہ میں حدیث بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن دھواں آئے گا تو وہ منافقین کی سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لے گا جبکہ مومن کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہو گی، راوی کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے گھبرا گئے پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا (انہیں یہ بات بتائی)، وہ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، وہ غصے میں آ گئے اور پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: اے لوگو! جو شخص کسی چیز کے بارے میں علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ یہ کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ علم ہونے میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی کو جس چیز کے بارے میں علم نہیں ہے وہ اس کے بارے میں یہ کہہ دے: ”میں نہیں جانتا“، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86] ”تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں“، (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے خلاف دعائے ضرر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ» ”اے اللہ! تو ان لوگوں کے خلاف میری مدد کر (قحط کے) ان سات سالوں کے ذریعے جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کے (قحط کے) سات سالوں کی طرح ہوں“، (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، یہاں تک کہ وہ لوگ اس قحط سالی کے دوران ہلاکت کا شکار ہونے لگے، وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے لگے، ان میں سے کوئی شخص جب آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے (بھوک کی شدت کی وجہ سے) دھواں سا محسوس ہوتا تھا، ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلہ رحمی کا حکم دینے کے لیے تشریف لائے ہیں جبکہ آپ کی قوم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة الدخان: 10-11] ”تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا، جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور یہ دردناک عذاب ہو گا“، یہ کلام یہاں تک ہے: ﴿إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 15] ”اگر ہم تھوڑا سا عذاب کم کر دیں تو تم لوگ دوبارہ (کفر کی طرف) لوٹ جاتے ہو“، جب وہ عذاب (قحط) آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں سے دور کر دیا تو وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے“ سے مراد غزوہ بدر ہے، اور (ارشاد باری تعالیٰ:) ﴿فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا﴾ [سورة الفرقان: 77] ”تو عنقریب لزام ہو گا“ سے مراد بھی غزوہ بدر ہے، (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿الٓمٓ * غُلِبَتِ الرُّومُ * فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ﴾ [سورة الروم: 1-3] ”الف لام میم، رومی مغلوب ہو گئے زمین کے قریب ترین حصے میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے“، (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) رومیوں والا معجزہ رونما ہو چکا ہے اور دیگر چار (معجزات بھی) یعنی دھواں، بطشہ، لزام اور چاند کا پھٹنا گزر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6585]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1007، 1020، 4693، 4767، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4764، 6585، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3254، والدارمي فى (مسنده) برقم: 179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6521، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3683» «رقم طبعة با وزير 6551»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (1020)، م (8/ 130 - 131). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
430. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6586
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ عُتْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَجَعَ إِِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ، وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهْ، قَالَ:" بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ، وَا رَأْسَاهْ"، ثُمَّ قَالَ: " وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، ثُمَّ دَفَنْتُكِ؟"، قُلْتُ: لَكَأَنِّي بِكَ أَنْ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَدْ رَجَعْتَ إِِلَى بَيْتِي، فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں جنازے میں شریک ہونے کے بعد میرے ہاں واپس تشریف لائے۔ مجھے سر میں درد محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے کہا: ہائے میرا سر! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ اے عائشہ! مجھے یہ کہنا چاہیے: ہائے میرا سر۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں تو کوئی نقصان نہیں ہے، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو جاتی ہو تو میں تمہیں غسل دوں گا، میں تمہیں کفن دوں گا، میں تمہاری نمازِ جنازہ ادا کروں گا، پھر میں تمہیں دفن کروں گا۔“ میں نے عرض کی: جی ہاں، جب آپ ایسا کر لیں گے تو اس کے بعد آپ واپس میرے گھر تشریف لے جائیں گے اور وہاں اپنی نئی زوجہ محترمہ کے ساتھ رات گزاریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کا آغاز ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6586]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6586، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7042، 7043، والدارمي فى (مسنده) برقم: 81، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1465، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6758، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1827، 1828، 1829، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26548» «رقم طبعة با وزير 6552»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «أحكام الجنائز» (50)، «الإرواء» (700)، «دفاع عن الحديث» (53 - 54). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
431. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن العلة قد بدت برسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيت ميمونة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میمونہ کے گھر میں شروع ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6587
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ، قَالَ: وَتَشَاوَرُوا فِي لَدِّهِ، فَلَدُّوهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ:" مَا هَذَا؟ أَفِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَا مِنْ هَا هُنَا؟"، وَأَشَارَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ، فَقَالُوا: كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِِنْ كَانَ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَقْذِفَنِي بِهِ، لا يَبْقِيَنَّ أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِِلا لُدَّ إِِلا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، يَعْنِي عَبَّاسًا ، قَالَ: فَلَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ، وَإِِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہوگئی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ گھر والوں نے اس بارے میں مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکائی جائے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکا دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا چیز ہے؟ کیا یہ ان خواتین کا فعل ہے جو اس طرف سے آئی ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں شامل تھیں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں یہ گمان ہوا کہ شاید آپ کو ذات الجنب کی بیماری لاحق ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ بیماری ہے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے مبتلا نہیں کرے گا۔ اب گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوا ٹپکائی جائے گی۔ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ساتھ ایسا نہیں کیا جائے گا یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس دن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی دوا پی حالانکہ انہوں نے اس دن روزہ رکھا ہوا تھا لیکن انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار پر ایسا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6587]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6587، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7539، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28114، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9754، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1935، والطبراني فى(الكبير) برقم: 372» «رقم طبعة با وزير 6553»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد - وصحَّحه الحافظ في «الفتح» (8/ 148). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں