صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
415. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر رمي المشركين المصطفى صلى الله عليه وسلم بالجنون-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر جنون کا الزام لگایا
حدیث نمبر: 6568
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ، فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَهُ عَلَى يَدَيَّ، قَالَ: فَلَقِيَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، وَإِِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدَيَّ مَنْ شَاءَ فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلٌّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ"، فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَذِهِ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاءِ، هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الإِِسْلامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَى قَوْمِكَ؟"، فَقَالَ: وَعَلَى قَوْمِي، قَالَ: فَبَايَعَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ: هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلاءِ شَيْئًا؟ فَقَالُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً، قَالَ: رُدُّوهَا، فَإِِنَّ هَؤُلاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ضماد نامی ایک شخص جس کا تعلق ازد شنوءہ سے تھا مکہ آیا، وہ ہوا (یعنی ذہنی خرابی) کا دم کیا کرتا تھا۔ اہل مکہ کے بے وقوف لوگ یہ کہتے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون لاحق ہو گیا ہے، اس شخص نے کہا: اگر میں اس شخص کو دیکھ لوں تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے میرے ذریعے شفا دے دے۔ راوی کہتے ہیں: اس کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس ہوا (یعنی ذہنی توازن خراب ہونے) کا دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ذریعے شفا دے دیتا ہے تو کیا آپ کو اس میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ» بے شک ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اما بعد۔“ اس شخص نے کہا: آپ اپنے یہ کلمات میرے سامنے دوبارہ دہرائیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرا دیے۔ اس شخص نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے جادوگروں کا کلام سنا ہے شاعروں کا کلام سنا ہے لیکن میں نے آپ کے ان کلمات کی مانند کوئی کلام نہیں سنا۔ آپ اپنا ہاتھ آگے کیجیے تاکہ میں آپ کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری قوم بھی کرے گی؟“ اس نے کہا: میری قوم بھی کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی۔ ان لوگوں کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو اس لشکر کے امیر نے اپنے لشکر سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟ تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے تو امیر نے کہا: تم وہ انہیں واپس کر دو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کے افراد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6568]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 868، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6568، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3278، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1893، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5882، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2793» «رقم طبعة با وزير 6534»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (3/ 12). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
416. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر جعل المشركين رداء المصطفى صلى الله عليه وسلم في عنقه عند تبليغه إياهم رسالة ربه جل وعلا-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ان کی چادر ڈالی جب وہ اپنے رب جل وعلا کی رسالت پہنچا رہے تھے
حدیث نمبر: 6569
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلا يَوْمًا رَأَيْتُهُمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ، فَقَامَ إِِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ، فَظُنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ، قَالَ: وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَائِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًَا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ؟ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أُرْسِلْتُ إِِلَيْكُمْ إِِلا بِالذَّبْحِ"، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِِلَى حَلْقِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: يَا مُحَمَّدُ، مَا كُنْتَ جَهُولا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ مِنْهُمْ" .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے قریش کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہو۔ صرف ایک دن ایسا ہوا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے، تو عقبہ بن ابومعیط اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ لوگوں نے چیخنا شروع کر دیا۔ وہ یہ سمجھے کہ شاید آپ شہید ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے دونوں بازوؤں سے پکڑا، وہ یہ کہہ رہے تھے: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایک ایسے شخص کو مارنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے؟“ پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ ان لوگوں کے پاس سے گزرے۔ وہ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! مجھے تمہاری طرف صرف ذبح کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے“ (یعنی تم سب لوگ میرے ساتھ جنگ کرتے ہوئے مارے جاؤ گے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی، تو ابوجہل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو سختی سے جواب دینے والے نہیں ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم بھی ان میں شامل ہو گے“ (یعنی جو لوگ ان میں مارے جائیں گے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6569]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6569، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11398، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7339، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37716» «رقم طبعة با وزير 6535»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر التعليق. * [أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ] قال الشيخ: في «المُصَنَّفِ» (14/ 297 / 18410)، وعنه: أبو يعلى - كما ترى -، وهو في «مسنده» (13/ 324 / 7339). وإسناده حسن، وهو صحيح بالطريق المتقدمة (6533). تنبيه هام!! في «طبعة باوزير» «ائتمروا به» بدلا من «رأيتهم» وكتب الشيخ تعليقا على هذه اللفظة فقال: [في الأصل: «رأيتهم»، والتصويب من «المصنف»، و «المسند»، و «المجمع» (6/ 16)]. تنبيه!! رقم (6533) = (6567) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
417. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر طرح المشركين سلى الجزور على ظهر المصطفى صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر اونٹنی کی اوجھری پھینکی
حدیث نمبر: 6570
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلُهُ نَاسٌ، إِِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ، فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ: أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ" ، شَكَّ شُعْبَةُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ وَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کچھ لوگ موجود تھے۔ اسی دوران عقبہ بن ابومعیط ایک (اونٹ کی) اوجھ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نہیں اٹھایا، یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اس کے خلاف دعائے ضرر کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ” «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ - أَوْ أُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ -» اے اللہ! قریش کے کچھ افراد کو اپنی گرفت میں لے؛ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابومعیط، امیہ بن خلف (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابی بن خلف۔“ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہوا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میں نے ان سب لوگوں کو دیکھا کہ ان کی (لاشوں کو) ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، صرف امیہ کو نہیں ڈالا گیا کیونکہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے، اس لیے اسے کنویں میں نہیں ڈالا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6570]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 240، 520، 2934، 3185، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1794، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 785، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6570، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 306، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3799» «رقم طبعة با وزير 6536»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (124)، «الصحيحة» (3472): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
418. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر هم أبي جهل أن يطأ رقبة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ ابو جہل نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر پاؤں رکھنے کا ارادہ کیا
حدیث نمبر: 6571
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ فَبِالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ، لأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ، قَالَ: فَمَا فَجَأَهُمْ إِِلا أَنَّهُ يَتَّقِي بِيَدِهِ، وَيَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ، فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: مَا لَكَ يَا أَبَا الْحَكَمِ؟! قَالَ: إِِنَّا بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلا وَأَجْنِحَةً، قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى سورة العلق آية 9 - 10، إِِلَى آخِرِهِ، فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سورة العلق آية 17، قَالَ قَوْمُهُ: سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ سورة العلق آية 18، قَالَ الْمَلائِكَةُ: لا تُطِعْهُ سورة العنكبوت آية 8، ثُمَّ أَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ مِنَ السُّجُودِ فِي آخِرِ السُّورَةِ، قَالَ: فَبَلَغَنِي عَنِ الْمُعْتَمِرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ دَنَا مِنِّي لاخْتَطَفَتْهُ الْمَلائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوجہل نے کہا: کیا تم لوگوں کے درمیان سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کو خاک آلود کرتے ہیں؟ اس ذات کی قسم! جس کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے، اگر میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تھوڑی ہی دیر کے بعد یوں لگا جیسے وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے کسی چیز سے بچنا چاہتا ہے اور وہ الٹے قدموں واپس مڑ گیا۔ دوسرے لوگ اس کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا: اے ابو الحکم! آپ کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق تھی اور ہولناکی تھی اور پر تھے (یعنی غیر مرئی مخلوق تھی)۔ ابومعتمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى﴾ [سورة العلق: 9-10] ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو اس بندے کو روک رہا تھا جو نماز ادا کر رہا تھا؟“ یہ آیت آخر تک ہے۔ ﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ﴾ [سورة العلق: 17] ”تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی «نَادِيَه» ”نادی“ کو بلا لے“ یعنی اپنی قوم کو بلا لے۔ ﴿سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ [سورة العلق: 18] ”ہم «الزَّبَانِيَة» ”زبانیہ“ کو بلا لیں گے“ یعنی فرشتوں کو۔ ﴿كَلَّا لَا تُطِعْهُ﴾ [سورة العلق: 19] ”تم اس کی بات نہ مانو۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ اس سورت کے آخر میں سجدہ تلاوت کرنا ہے۔ راوی کہتے ہیں: معتمر کے حوالے سے یہ روایت بھی ہم تک پہنچی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6571]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6571، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11619، 11948، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8953، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6207، والبزار فى (مسنده) برقم: 9775» «رقم طبعة با وزير 6537»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 130). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
419. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر تسمية المشركين صفي الله صلى الله عليه وسلم الصنيبير والمنبتر-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے اللہ کے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو "صنیبر" اور "منبتر" کہا
حدیث نمبر: 6572
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ كَعْبُ بْنُ الأَشْرَفِ مَكَّةَ أَتَوْهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَهْلُ السِّقَايَةِ وَالسِّدَانَةِ، وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ يَثْرِبَ، فَنَحْنُ خَيْرٌ أَمْ هَذَا الصُّنَيْبِيرُ الْمُنْبَتِرُ مِنْ قَوْمِهِ يَزْعُمُ أَنَّهُ خَيْرٌ مِنَّا؟، فَقَالَ: أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ، فَنَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ سورة الكوثر آية 3، وَنَزَلَتْ: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلا سورة النساء آية 51" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب (یہودیوں کا سردار) کعب بن اشرف مکہ آیا تو لوگ اس کے پاس آئے اور بولے: ہم سقایہ و سدانہ کی خدمات سرانجام دیتے ہیں اور آپ اہل یثرب کے سردار ہیں؛ ہم زیادہ بہتر ہیں یا یہ صاحب زیادہ بہتر ہیں جو اپنی قوم سے لاتعلق ہو چکے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بہتر ہیں؟ تو کعب بن اشرف نے کہا: تم لوگ ان سے بہتر ہو، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ ”بے شک تمہارے دشمن کا نام و نشان نہیں رہے گا“ [سورة الكوثر: 3] اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا﴾ ”کیا تم نے ان لوگوں کی طرف دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ دیا گیا لیکن وہ پھر بھی جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں سے کہتے ہیں کہ وہ لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو ایمان لائے“ [سورة النساء: 51] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6572]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6572، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 389، 390، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11643» «رقم طبعة با وزير 6538»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
420. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر سؤال المشركين رسول الله صلى الله عليه وسلم طرد الفقراء عنه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غریبوں کو اپنے سے دور کرنے کا مطالبہ کیا
حدیث نمبر: 6573
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: اطْرُدْ هَؤُلاءِ عَنْكَ، فَإِِنَّهُمْ وَإِِنَّهُمْ، وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ، وَبِلالٌ، وَرَجُلانِ نَسِيتُ أَحَدُهُمَا، قَالَ:" فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 إِِلَى قَوْلِهِ: الظَّالِمِينَ سورة البقرة آية 35" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم چھ آدمی تھے، تو مشرکین نے کہا: ”ان لوگوں کو اپنے سے دور کر دیں، یہ لوگ ایسے ہیں اور ویسے ہیں“، (راوی کہتے ہیں:) میں تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے اور دو آدمی اور تھے جن میں سے میں ایک کو بھول چکا ہوں، راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں جو اللہ کو منظور تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں خیال آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ذہن میں سوچا (کہ ہم لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [سورة الأنعام: 52] ”اور تم ان لوگوں کو پرے نہ کرو جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں اور وہ صرف اس کی رضامندی چاہتے ہیں“، یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”ظلم کرنے والے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6573]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2413، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6573، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5434، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8163، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4128، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 826» «رقم طبعة با وزير 6539»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
421. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر ما أصيب من وجه المصطفى صلى الله عليه وسلم عند إظهاره رسالة ربه جل وعلا-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اپنے رب جل وعلا کی رسالت کے ظہور کے وقت چوٹ لگی
حدیث نمبر: 6574
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالا: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَشُجَّ وَجْهُهُ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى رَبِّهِمْ"، فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہے حالانکہ وہ ان کو ان کے پروردگار کی طرف دعوت دیتا ہے“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے، خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے، بے شک یہ لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6574]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1791، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6574، 6575، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11011، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3002، 3003، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4027، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12137» «رقم طبعة با وزير 6540»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (47): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
422. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر احتمال المصطفى صلى الله عليه وسلم الشدائد في إظهار ما أمر الله جل وعلا-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل وعلا کے حکم کے ظہور میں سخت مشکلات برداشت کیں
حدیث نمبر: 6575
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ يَسْلُتُ الدَّمُ عَنْ وَجْهِ وَهُوَ يَقُولُ: " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے: ”ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کر دیتی ہے اور ان کے دانتوں کو زخمی کر دیتی ہے حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6575]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1791، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6574، 6575، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11011، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3002، 3003، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4027، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12137» «رقم طبعة با وزير 6541»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
حدیث نمبر: 6576
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَى نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ حَتَّى أَدْمَوْا وَجْهَهُ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَيَقُولُ:" رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نبی کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”ان کی قوم کے افراد نے انہیں اتنا مارا کہ ان کے چہرے کو زخمی کر دیا، تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے میرے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6576]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3477، 6929، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1792، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6576، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2511، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4025، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3681» «رقم طبعة با وزير 6542»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3175). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
حدیث نمبر: 6577
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ أَنْتَ إِِلا أُصْبُعٌ دَمِيتَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتَ" .
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ» ”تم صرف ایک انگلی ہو، جس سے خون بہہ رہا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6577]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2802، 6146، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1796، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6577، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10317، 10381، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3345، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2845، 2846، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13422، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19099» «رقم طبعة با وزير 6543»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3282): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null