صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
405. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر كتبة النبي صلى الله عليه وسلم كتابه إلى بكر بن وائل-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکر بن وائل کو خط لکھا
حدیث نمبر: 6558
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَنْ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا" ، قَالَ: فَمَا قَرَأَهُ إِِلا رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ، فَهُمْ يُسَمَّوْنَ بَنِي الْكَاتِبِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکر بن وائل کو خط لکھا: ”محمد جو اللہ کے رسول ہیں ان کی طرف سے بکر بن وائل کی طرف (یہ خط ہے) تم لوگ اسلام قبول کر لو تم لوگ سلامت رہو گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو یہ خط ان میں سے ایک شخص نے پڑھا جس کا تعلق بنو ضبیعہ سے تھا، اسی لیے ان کا نام بنو کاتب ہے (یعنی وہ پڑھنا لکھنا جانتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6558]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6558، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2426، 2427، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2947، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2021، وأخرجه البزار فى (مسنده) برقم: 7238، وأخرجه الطبراني فى (الصغير) برقم: 307» «رقم طبعة با وزير 6524»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (رقم 22). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
406. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر كتبة المصطفى صلى الله عليه وسلم كتابه إلى أهل اليمن-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا
حدیث نمبر: 6559
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَحَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ، وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا:" مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، قِيلَ ذِي رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ وَهَمْدَانَ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْغَنَائِمِ خُمُسَ اللَّهِ، وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ، وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ كَانَ سَيْحًا أَوْ بَعْلا، فَفِيهِ الْعُشْرُ إِِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَمَا سُقِيَ بِالرَّشَاءِ، وَالدَّالِيَةِ، فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الإِِبِلِ سَائِمَةً شَاةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلاثِينَ، فَإِِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسَةً وَسَبْعِينَ، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى تِسْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، وَفِي كُلِّ ثَلاثِينَ بَاقُورَةُ تَبِيعُ جِزْعُ أََوْ جَزْعَةٌ، وَفِي كُلِّ أََرْبَعِينَ بَاقُورَةُ بَقَرَةٍ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةً وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِئَتَانِ، فَإِِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَثَلاثَةُ شِيَاهٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلاثَ مِائَةٍ، فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، وَلا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلا عَجْفَاءُ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسُ الْغَنَمِ، وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خِيفَةَ الصَّدَقَةَ، وَمَا أُخِذَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ، فَإِِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمٍ، فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ" ." وَإِِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلا لأَهْلِ بَيْتِهِ، وَإِِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ فِي فُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَيْسَ فِي رَقِيقٍ وَلا مَزْرَعَةٍ وَلا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِِذَا كَانَتْ تُؤَدَّى صَدَقُتُهَا مِنَ الْعُشْرِ، وَلَيْسَ فِي عَبْدِ الْمُسْلِمِ وَلا فَرَسِهِ شَيْءٌ" ." وَإِِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الإِِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ الْحَقِّ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ، وَتَعَلُّمُ السَّحَرِ، وَأَكَلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ" ." وَإِِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الأَصْغَرِ" ." وَلا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِِلا طَاهِرٌ" ." وَلا طَلاقَ قَبْلَ إِِمْلاكٍ، وَلا عِتْقَ حَتَّى يُبْتَاعَ" . " وَلا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَلا يَحْتَبِيَنَّ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ، وَلا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ عَاقِصًا شَعْرَهُ" ." وَإِِنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلا عَنْ بَيِّنَةٍ، فَهُوَ قَوَدٌ، إِِلا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ" ." وَإِِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي الأَنْفِ إِِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنَ الأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ" ، لَفْظُ الْخَبَرِ لِحَامِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ هَذَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْخَوْلانِيُّ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ لا شَيْءَ، وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک مکتوب بھجوایا جس میں فرائض، سنن اور دیت کے متعلق کچھ احکام تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ذریعے وہ مکتوب بھجوایا تھا، وہ اہل یمن کے سامنے پڑھا گیا اس کا نسخہ یہ ہے (یعنی اس میں یہ تحریر تھا): ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی کی طرف سے شرحبیل بن عبدکلال، حارث بن عبدکلال اور نعیم بن عبدکلال کی طرف ہے۔ «أَمَّا بَعْدُ!» ”اما بعد!“ تمہارا پیغام رساں واپس جا چکا ہے، تمہیں جو غنیمت عطا کی گئی اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر زمین کے عشر کے حوالے سے لازم قرار دیا ہے (وہ تمہیں بھی ادا کرنا ہو گا)؛ جو زمین بارش کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا بہتے ہوئے پانی کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا اس کی جڑیں زمین سے پانی کھینچ لیتی ہیں، اس میں عشر کی ادائیگی لازم ہو گی جب (اس کی پیداوار) پانچ وسق تک پہنچ جائے اور جسے ڈول کے ذریعے یا مصنوعی طور پر سیراب کیا جائے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی جب (اس کی پیداوار) پانچ وسق ہو جائے۔ ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد چوبیس ہو جائے؛ جب وہ چوبیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر بنت مخاض نہیں ملتی تو ابن لبون نر کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 35 ہو جائے؛ جب وہ 35 سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 45 ہو جائیں؛ جب وہ 45 سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی جو جفتی کے قابل ہو، یہاں تک کہ ان کی تعداد 60 ہو جائے؛ جب ان اونٹوں کی تعداد ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 75 ہو جائے؛ جب وہ 75 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 90 تک پہنچ جائیں؛ جب وہ 90 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی جو جفتی کے قابل ہوں، ان کی ادائیگی کی جائے گی۔ ہر 30 (گایوں) میں باقورہ ہو گا۔ ہر 40 سائمہ بکریوں میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 120 ہو جائے۔ جب وہ 120 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں 2 بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 200 ہو جائے اور اگر ایک بھی زیادہ ہو تو تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 300 تک پہنچ جائیں، پھر اگر وہ اس سے زائد ہوں تو ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زکات میں بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور وصول نہیں کیا جائے گا اور زکات سے بچنے کے لیے متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔ دو شراکت داروں سے جو کچھ وصول کیا جائے گا تو اس کی (واپسی کی) ادائیگی ان دونوں میں برابری کی بنیاد پر کی جائے گی اور پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، جو اس سے زیادہ ہو تو ہر 40 درہم میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، لیکن پانچ اوقیہ سے کم میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔ ہر 40 دینار میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی۔ بے شک صدقہ (یعنی زکات) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گھر والوں کے لیے حلال نہیں ہے، یہ وہ زکات ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کر لو گے۔ یہ اہل ایمان کے غریب لوگوں کو دی جائے گی اور اللہ کی راہ میں دی جائے گی۔ غلام میں، کھیت میں اور وہاں کام کرنے والوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی جب کہ (کھیت) کا عشر ادا کر دیا گیا ہو اور مسلمان کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں کوئی چیز (زکات) لازم نہیں ہوتی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑے کبیرہ گناہ: کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا، کسی مومن شخص کو ناحق طور پر قتل کرنا، جنگ کے دن اللہ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) فرار اختیار کرنا، والدین کی نافرمانی، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا (شامل ہیں)۔ عمرہ چھوٹا حج ہے، قرآن کو صرف پاک شخص ہاتھ لگائے، اور مالک ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی، اور (غلام کو) اس وقت تک آزاد نہیں کیا جا سکتا جب تک اسے خرید نہ لیا جائے، اور کوئی بھی شخص ایک کپڑا پہن کر ہرگز نماز ادا نہ کرے کہ اس کے کندھے پر کوئی چیز نہ ہو، اور کوئی بھی ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر اس طرح نہ لپیٹے کہ اس کے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز نہ ہو (یعنی اس کی شرمگاہ پر پردہ نہ ہو)، کوئی بھی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس کا ایک پہلو ظاہر ہو رہا ہو، اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس نے اپنے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو۔ اور جو شخص کسی مومن کو قتل کرنے کے جرم میں پکڑا جاتا ہے اور ثبوت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، البتہ اگر مقتول کے ورثاء راضی ہوں (تو حکم مختلف ہو گا)۔ بے شک جان کی دیت 100 اونٹ ہے؛ جب ناک کو مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو اس میں بھی (مکمل) دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زبان (کاٹنے میں) دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں ہونٹوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں خصیوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ عضو تناسل میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ پشت میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں آنکھوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ ایک ٹانگ میں نصف دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ مامومہ (زخم میں) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جائفہ (زخم میں) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ منقلہ (زخم میں) پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی میں دس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دانت میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ موضحہ زخم میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ آدمی کو عورت کے بدلے میں قتل کر دیا جائے گا، اور سونے کا لین دین کرنے والوں میں (دیت کی شکل میں) ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم ہو گی۔”روایت کے الفاظ حامد بن محمد بن شعیب کے نقل کردہ ہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلیمان بن داؤد نامی راوی سلیمان بن داؤد خولانی ہیں، یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ثقہ اور مامون ہیں جب کہ سلیمان بن داؤد یمامی نامی راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان دونوں راویوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6559]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 847، 849، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6559، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1450، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4868، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 411، 1501، والدارقطني فى (سننه) برقم: 438، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 56» «رقم طبعة با وزير 6525»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الإرواء» (122)، «المشكاة» (465). * [بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم] قال الشيخ: سقطت مِنَ الأصل، ومِن «طبعة المؤسسة» - أيضا - (14/ 501)! واستدركُتها من «الموارد» (793)، و «المستدرك» (1/ 395)، و «سنن البيهقي» (4/ 89) - وقد أخرجاه بتمامه -. وقد خَفِيَ هذا على مُحقِّق «إحسان المؤسسة»! مع أَنَّهُ أَحسنَ تخريجه واستوعبه!! تنبيه!! البسملة التي بين المعقوفين من «طبعة باوزير» وغير موجود في «طبعة المؤسسة» وانظر إلى تعليق الشيخ عليها. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
407. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم قد أوذي في إقامة الدين ما لم يؤذ أحد من البشر في زمانه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے قیام میں اس ایذاء کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے زمانے میں کسی بشر کو نہ ہوا
حدیث نمبر: 6560
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلاثٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي طَعَامٌ إِِلا مَا وَارَاهُ إِِبِطُ بِلالٍ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ کی راہ میں مجھے جتنا ستایا گیا اتنا کسی اور کو نہیں ستایا گیا، اور اللہ کی راہ میں مجھے جتنا ڈرایا گیا اتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا ؛ اور مجھ پر لگاتار تین دن اور راتیں ایسی بھی گزریں کہ میرے پاس کھانے کے لیے کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے بلال کی بغل چھپا سکتی ہو (یعنی بہت ہی قلیل مقدار میں کھانا تھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6560]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6560، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2472، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 151، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12395» «رقم طبعة با وزير 6526»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (116)، «الصحيحة» (2222). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
408. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر صبر المصطفى صلى الله عليه وسلم على أذى المشركين وشفقته على أمته باحتساب الأذى في الرسالة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصٹفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی ایذاء پر صبر کیا اور رسالت میں ایذاء کے حساب سے اپنی امت پر شفقت کی
حدیث نمبر: 6561
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ عَلَيْكَ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ:" لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمَكِ، وَكَانَ أَشَدُّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي، فَنَظَرْتُ، فَإِِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَنَادَانِي، فَقَالَ: إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِِلَيْكَ مَلَكُ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، إِِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ"، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہاری قوم کی طرف سے جس سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا وہ عقبہ کے دن تھی، جب میں نے ابنِ عبدِ یالیل بن کلال کو (اسلام کی) دعوت دی تو میری جو خواہش تھی اس نے اس کے مطابق مجھے جواب نہیں دیا۔ میں پریشانی کے عالم میں جا رہا تھا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو وہاں ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا۔ جب میں نے جائزہ لیا تو اس میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے۔ انہوں نے مجھے بلند آواز میں پکارا اور کہا: آپ کی قوم نے جو آپ کو جواب دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور انہوں نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے (وہ دیکھ لیا ہے)، اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کی طرف بھیجا ہے، آپ ان لوگوں کے بارے میں اسے جو چاہیں حکم دے دیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے مخاطب کیا، اس نے مجھ پر سلام بھیجا اور پھر بولا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم نے آپ کو جو کہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ آپ کے پروردگار نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنی مرضی کے مطابق حکم دیں، اگر آپ چاہیں تو میں یہ پہاڑ ان پر الٹ دوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(جی نہیں) مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں میں سے ان لوگوں کو پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6561]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3231، 7389، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1795، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6561، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7659، والبزار فى (مسنده) برقم:، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8902» «رقم طبعة با وزير 6527»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «بداية السول» (ص 68). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
409. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر مقاساة المصطفى صلى الله عليه وسلم ما كان يقاسي من قومه في إظهار الإسلام-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے اسلام کے ظہور میں جو مشقتیں برداشت کیں
حدیث نمبر: 6562
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ تُفْلِحُوا"، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ، وَقَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وكعبيهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لا تُطِيعُوهُ، فَإِِنَّهُ كَذَّابٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قِيلَ: هَذَا غُلامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قُلْتُ: فَمَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبٍ . قَالَ: فَلَمَّا ظَهَرَ الإِِسْلامُ، خَرَجْنَا فِي ذَلِكَ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا، فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ، إِِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ، قَالَ: وَمَعَنَا جَمَلٌ، قَالَ: أَتَبِيعُونَ هَذَا الْجَمَلَ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ؟، قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَأَخَذَهُ وَلَمْ يَسْتَنْقِصْنَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ تَوَارَى بِحِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَتَلاوَمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ رَجُلا لا تَعْرِفُونَهُ؟، قَالَ: فَقَالَتِ: الظَّعِينَةُ لا تَلاوَمُوا، فَإِِنِّي رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ لَمْ يَكُنْ لِيَحْقِرَكُمْ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ، أَتَانَا رَجُلٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا حَتَّى تَشْبَعُوا، وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا" ، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْغَدِ، فَإِِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: " يَدُ الْمُعْطِي يَدُ الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، أُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلانًَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا مِنْهُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِِبْطَيْهِ، وَقَالَ:" أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ، أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ" .
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہہ دو، تم کامیاب ہو جاؤ گے۔“ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارتا جا رہا تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں اور ٹخنوں کو لہولہان کر دیا تھا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! تم اس کی بات نہ مانو، یہ جھوٹ بولتا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ تو بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں، میں نے دریافت کیا کہ جو شخص ان کے پیچھے آ کر انہیں پتھر مار رہا ہے وہ کون ہے؟ تو اس نے بتایا کہ یہ عبدالعزیٰ ابولہب ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) جب اسلام غالب آ گیا تو ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ پر ٹھہر گئے، ہمارے ساتھ ایک عورت بھی تھی، ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا، اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس نے سلام کیا اور دریافت کیا: ”آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟“ ہم نے جواب دیا: ”ربذہ سے۔“ (راوی کہتے ہیں:) ہمارے ساتھ اونٹ بھی تھے، اس شخص نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ اس اونٹ کو فروخت کرو گے؟“ ہم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ اس نے دریافت کیا: ”کتنے کے عوض؟“ ہم نے جواب دیا: ”کھجوروں کے اتنے اور اتنے صاع کے عوض۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص سے سودا طے کر لیا اور اس نے ہمیں قیمت کم کرنے کے لیے نہیں کہا، وہ بولا: ”میں یہ لے لیتا ہوں“، پھر وہ (اس اونٹ کو لے کر) مدینہ کے اندر چلے گئے اور (ہم سے اوجھل ہو گئے)، ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کی اور کہا: ”تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے شخص کو دے دیا ہے جس سے تم واقف ہی نہیں ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے کہا: ”تم لوگ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو، کیونکہ میں نے ان صاحب کے چہرے پر ایک ایسی چیز دیکھی ہے کہ وہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے، میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو ان کے چہرے سے زیادہ چودھویں رات کے چاند سے مشابہت رکھتی ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب شام کا وقت ہوا تو ایک شخص ہمارے پاس آیا، اس نے ہمیں سلام کیا اور بولا: ”میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام رساں ہوں، وہ یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ تم اس طرح کھاؤ کہ سیر ہو جاؤ اور اتنا ماپ لو کہ پوری ادائیگی کر لو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے، پھر ہم نے ماپ لیا، یہاں تک کہ ہم نے پوری وصولی کر لی، پھر ہم اگلے دن مدینہ منورہ کے اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرما رہے تھے: ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور تم اپنے زیرِ کفالت افراد سے خرچ کا آغاز کرو؛ تمہاری ماں، تمہارا باپ، تمہاری بہن اور تمہارا بھائی ہے، پھر درجہ بہ درجہ قریبی لوگ ہیں۔“ پھر ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو ثعلبہ بن یربوع نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے بدلہ دلوائیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! ماں بچے کی غلطی کی سزا نہیں بھگتے گی، خبردار! ماں بچے کے جرم کا تاوان ادا نہیں کرے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6562]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 159، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3341، 6562، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4242، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2531، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2670، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 358، 11215، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2976» «رقم طبعة با وزير 6528»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (834)، «مشكلة الفقر» (44). تنبيه هام!! في «طبعة باوزير» «لِيَخْفِرََكُمْ» بدلا من «لِيَحْقِرَكُمْ» وكتب الشيخ تعليق على هذه اللفظة فقال: [من (الخفر)، والأصل: (ليحقركم)! وهو خطأ، انظر «صحيح الموارد» (28 - مغازي / 1401 - 1683)]. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
410. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر سب المشركين القرآن ومن أنزله ومن جاء به-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے قرآن، اس کے نازل کرنے والے اور اسے لانے والے کی توہین کی
حدیث نمبر: 6563
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بمكة متوار، فكان " إذا صلى بأصحابه رفع صوته، وإذا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ، سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، فَتُسْمِعَ الْمُشْرِكِينَ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، عَنْ أَصْحَابِكَ، أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ، وَلا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110، بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور تم اپنی نماز میں اپنی آواز کو زیادہ بلند بھی نہ کرو اور بالکل پست بھی نہ رکھو“ کے بارے میں نقل کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پوشیدہ طور پر رہ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تھے تو بلند آواز میں تلاوت کرتے تھے، جب مشرکین اس آواز کو سنتے تھے تو وہ قرآن کو اور اسے نازل کرنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا کہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات نازل فرمائی: ”تم بلند آواز میں نماز ادا نہ کرو (یعنی قرأت نہ کرو)“ یوں کہ تم مشرکین تک آواز پہنچا دو، ”اور تم اسے پست بھی نہ رکھو“ یعنی یہ کہ تمہارے ساتھیوں تک بھی آواز نہ جائے، تم انہیں آواز پہنچاؤ لیکن زیادہ بلند آواز نہ کرو ”اور تم ان کے درمیان کا راستہ تلاش کرو“ یعنی زیادہ بلند اور پست کے درمیان کا راستہ تلاش کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6563]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4722، 7490، 7525، 7547، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1587، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1796، 6563، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1010، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3145، 3146، وأحمد فى (مسنده) برقم: 157» «رقم طبعة با وزير 6529»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (6430): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
411. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر تكذيب المشركين رسول الله صلى الله عليه وسلم وردهم عليه ما آتاهم به من الله عز وجل-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور اللہ عز وجل سے جو کچھ انہوں نے لایا اسے رد کیا
حدیث نمبر: 6564
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : خَرَجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ، حَتَّى نَزَلْنَا، فَقَالَ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَائِهِمُ: اخْرِجُوا إِِلَيَّ رَجُلًَا يُكَلِّمُنِي وَأُكَلِّمُهُ، فَقُلْتُ: لا يَخْرُجُ إِِلَيْهِ غَيْرِي، فَخَرَجْتُ وَمَعِي تُرْجُمَانِي وَمَعَهُ تُرْجُمَانَهُ، حَتَّى وُضِعَ لَنَا مِنْبَرٌ، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ؟، فَقُلْتُ:" إِِنَّا نَحْنُ الْعَرَبُ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا، وَأَشَدَّهُمْ عَيْشًا، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ، وَيَغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ بِأَشَدِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا، وَلا أَكْثَرَنَا مَالا، وَقَالَ:" أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِِلَيْكُمْ"، يَأْمُرُنَا بِمَا لا نَعْرِفُ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا، فَكَذَّبْنَاهُ، وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ، حَتَّى خَرَجَ إِِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا، فَقَالُوا: نَحْنُ نُصَدِّقُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَتَّبِعُكَ، وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ، فَخَرَجَ إِِلَيْهِمْ، وَخَرَجْنَا إِِلَيْهِ، فَقَاتَلْنَاهُ، فَقَتَلْنَا، وَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِي مِنَ الْعَرَبِ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ، لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِِلا جَاءَكُمْ حَتَّى يُشْرِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ، فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: إِِنَّ رَسُولَكُمْ قَدْ صَدَقَ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَ بِهِ رَسُولُكُمْ، فَكُنَّا عَلَيْهِ حَتَّى ظَهَرَتْ فِينَا مُلُوكٌ، فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ بِأَهْوَائِهِمْ، وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الأَنْبِيَاءِ، فَإِِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ، لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِِلا غَلَبْتُمُوهُ، وَلَمْ يُشَارِكْكُمْ أَحَدٌ إِِلا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ، فَإِِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ نَبِيِّكُمْ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ، فَخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، لَمْ تَكُونُوا أَكْثَرَ عَدَدًا مِنَّا، وَلا أَشَدَّ مِنَّا قُوَّةً، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلا قَطُّ أَمْكَرَ مِنْهُ.
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا، میں ان لوگوں کا امیر تھا، یہاں تک کہ ہم نے اسکندریہ میں پڑاؤ کیا تو ان کے رئیس نے یہ کہا: ایک شخص کو میرے پاس بھیجو جو میرے ساتھ بات چیت کرے اور میں اس کے ساتھ بات چیت کروں۔ تو میں نے کہا: اس کے پاس میرے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا۔ میں وہاں سے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ میرا ترجمان تھا۔ اس کے ساتھ اس کا ترجمان تھا، یہاں تک کہ ہمارے لیے منبر رکھا گیا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون لوگ ہو؟ میں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں، ہم کانٹوں اور پتے والے لوگ ہیں (یعنی ہمارے علاقے میں سبزہ اور ہریالی نہیں ہوتی)، ہم اللہ کے گھر کے پاس رہنے والے لوگ ہیں۔ ہماری زمین سب سے زیادہ تنگ تھی اور ہماری زندگی سب سے زیادہ سخت تھی۔ ہم مردار اور خون بھی کھا لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ ہم بدترین حالت میں تھے یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا جو اس وقت قدر و منزلت کے اعتبار سے ہم سب سے زیادہ عظیم نہیں تھے اور نہ ہی مال و دولت کے اعتبار سے زیادہ مال والے تھے۔ انہوں نے یہ کہا: ”میں اللہ کا رسول ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں۔“ انہوں نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا جن سے ہم آشنا نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ان چیزوں سے منع کیا جن پر ہم عمل پیرا ہوتے تھے اور جن پر ہمارے باپ دادا چلتے تھے۔ ہم نے ان کی تکذیب کی، ہم نے ان کی بات کو مسترد کر دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ایک قوم آئی جو ہم سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں، ہم آپ پر ایمان لاتے ہیں، ہم آپ کی پیروی کرتے ہیں اور جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا، ہم اس کے ساتھ لڑیں گے۔ تو وہ رسول ان کی طرف تشریف لے گئے، پھر ہم ان کی طرف جانے کے لیے نکلے، ہم نے ان کے ساتھ جنگ کی۔ انہوں نے ہمیں قتل کیا اور ہم پر غالب آ گئے۔ اس کے بعد وہ آس پاس کے دیگر عرب قبائل کی طرف بڑھے، انہوں نے ان کے ساتھ جنگیں کیں، یہاں تک کہ ان پر بھی غالب آ گئے؛ اور میرے پیچھے موجود عربوں کو اس بات کا پتا چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی ناز و نعمت والی زندگی گزار رہے ہو تو وہاں موجود ہر شخص تمہارے پاس آ جائے گا اور تم لوگ جس ناز و نعمت میں ہو اس بارے میں تمہارا حصہ دار بن جائے گا۔ اس پر وہ (یعنی کفار کا امیر) ہنس پڑا، پھر وہ بولا: تمہارے رسول نے سچ کہا ہے؛ ہمارے پاس بھی اسی طرح رسول آئے تھے جس طرح تمہارے رسول تشریف لائے۔ ہم بھی ان کی ہدایت پر گامزن رہے، یہاں تک کہ ہمارے درمیان بادشاہوں نے غلبہ حاصل کر لیا، انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کے احکام کو ترک کر دیا؛ تو تم لوگ جب تک اپنے نبی کے حکم پر کاربند رہو گے تمہارے ساتھ جو بھی لڑے گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور جو شخص تمہارا حصہ دار بننے کی کوشش کرے گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے۔ اور جب تم لوگ وہ طرزِ عمل اختیار کرو گے جو ہم نے کیا اور تم لوگ نبی کے حکم کو ترک کر دو گے اور تم لوگ وہ عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا تھا جنہوں نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کی تھی تو پھر تم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکو گے، کیونکہ عددی اعتبار سے تم ہم سے زیادہ نہیں ہو اور قوت کے اعتبار سے تم ہم سے زیادہ زبردست نہیں ہو۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی ایسے کسی شخص کے ساتھ گفتگو نہیں کی جو اس شخص سے زیادہ مکار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6564]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6564، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7353، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4370» «رقم طبعة با وزير 6530»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «تيسير الانتفاع» / عمرو بن علقمة. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
412. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر تعيير المشركين رسول الله صلى الله عليه وسلم في الأحوال-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے مختلف حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کی
حدیث نمبر: 6565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرائيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ ، يَقُولُ: " أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ وُدِّعَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3" .
سیدنا جندب بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کچھ عرصے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے تو مشرکین نے کہنا شروع کر دیا کہ انہیں چھوڑ دیا گیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ [سورة الضحى: 3] ”نہ تو تمہارے پروردگار نے تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ہی ناپسند کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6565]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1124، 1125، 4950، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6565، 6566، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11617، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4795، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19098، والحميدي فى (مسنده) برقم: 795» «رقم طبعة با وزير 6531»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
413. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر السبب الذي من أجله قيل للمصطفى صلى الله عليه وسلم ما وصفناه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہمارے بیان کردہ القابات کہے گئے
حدیث نمبر: 6566
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: " اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِِلا قَدْ تَرَكَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یا دو رات تک کھڑے نہیں ہو سکے (یعنی باہر تشریف نہیں لائے) تو ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خیال ہے آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے، تو اس بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿چاشت کے وقت کی قسم ہے اور رات کی قسم ہے جب وہ چھا جائے، تمہارے پروردگار نے نہ تو تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ہی ناپسند کیا ہے﴾ [سورة الضحى: 1-3] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6566]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1124، 1125، 4950، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6565، 6566، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11617، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4795، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19098، والحميدي فى (مسنده) برقم: 795» «رقم طبعة با وزير 6532»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
414. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر بعض أذى المشركين رسول الله صلى الله عليه وسلم عند دعوته إياهم إلى الإسلام-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی دعوت دینے پر کچھ ایذاء دی
حدیث نمبر: 6567
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ؟، قَالَ: قَدْ حَضَرْتُهُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ فِي الْحِجْرِ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّهَ أَحْلامَنَا، وَشَتَمَ آبَاءَنَا، وَعَابَ دِينَنَا، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِهَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ، أَوْ كَمَا قَالُوا، فَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، فَمَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ، غَمَزُوهُ بِبَعْضِ الْقَوْلِ، قَالَ: وَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ، غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ"، قَالَ: فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِِلا لَكَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتَّى إِِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَطْأَةً قَبْلَ ذَلِكَ يَتَوَقَّاهُ بِأَحْسَنِ مَا يُجِيبُ مِنَ الْقَوْلِ، حَتَّى إِِنَّهُ لَيَقُولُ: انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، انْصَرِفْ رَاشِدًا، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ، حَتَّى إِِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ، وَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَثَبُوا إِِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، وَأَحَاطُوا بِهِ، يَقُولُونَ لَهُ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ؟، قَالَ:" نَعَمْ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ، وَقَالَ: وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي: أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ؟! ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ، فَإِِنَّ ذَلِكَ لأَشُدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ .
یحییٰ بن عروہ اپنے والد (عروہ) کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عداوت کے اظہار کے لیے جو کچھ کیا اس میں آپ نے سب سے زیادہ (شدت والی) کیا چیز دیکھی؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ایک مرتبہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا، ان کے معززین حطیم میں موجود تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر ہمیں اتنا صبر سے کام لینا پڑا ہو جتنا اس شخص کے حوالے سے لینا پڑ رہا ہے؛ انہوں نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف قرار دیا، ہمارے آباؤ اجداد کو برا کہا، ہمارے دین کو غلط قرار دیا، ہماری اجتماعیت کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور ہمارے معبودوں کو برا کہا؛ ہم نے ان کی طرف سے ایک بڑے معاملے پر صبر سے کام لیا ہے، یا جیسے بھی انہوں نے کہا۔ ابھی وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازے کسے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر (ناپسندیدگی) کا اندازہ ہو گیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازے کسے، جس کے (ملال) کا اندازہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہو گیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے پھر اسی طرح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں تمہارے پاس ذبح «جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ» ”ذبح (کی خبر)“ کے ہمراہ آیا ہوں۔“ (یعنی تم سب لوگ مارے جاؤ گے)۔ یہ سن کر انہیں سانپ سونگھ گیا، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک شخص کی یہ حالت ہو گئی جیسے اس کے سر پر پرندہ بیٹھا ہوا ہے، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طرف سے اس سے پہلے بھی شدید صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نرمی سے جواب دیا کرتے تھے۔ (اتنا سخت جواب سن کر) انہوں نے یہ کہا: اے ابوالقاسم! آپ تشریف لے جائیے، آپ ایسی حالت میں تشریف لے جائیے کہ آپ رہنمائی کرنے والے ہوں۔ اللہ کی قسم! آپ تو جہالت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ (یعنی کلام میں شدت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو وہ لوگ پھر حطیم میں اکٹھے ہوئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تمہیں یاد ہے تم نے انہیں کیا بات کہی تھی اور انہوں نے تمہیں کیا بات کہی تھی؟ یہاں تک کہ جب انہوں نے تمہارے سامنے اس چیز کو ظاہر کیا جو تمہیں پسند نہیں آئی تو پھر تم نے انہیں چھوڑ دیا؟ ابھی یہ لوگ یہی باتیں کر رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو وہ سب مل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ہی نے یہ بات کہی تھی اور یہ بات کہی تھی؟ یعنی وہ باتیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پہنچی تھیں کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کو غلط قرار دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں نے یہ بات کہی تھی۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے، وہ رو رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟“ پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) قریش کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برے سلوک کی یہ سب سے سخت صورت حال تھی جو میں نے دیکھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6567]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3678، 3856، 4815، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6567، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17801، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7027» «رقم طبعة با وزير 6533»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر التعليق. * [ابْنِ إِسْحَاقَ] قال الشيخ: هو محمد بن إِسحاق، صاحب «السيرة»، وهو مُدَلِّسٌ، ولكنَّه صَرَّحَ بالتحديث؛ فالإسناد حسنٌ لأنَّ بَقِيَّةَ الرجال ثقات، رجال الشيخين؛ غير عبد الحميد - ويقال: عبد؛ بغير إضافة -، وهو ثقةٌ من رجال مسلم. وهو في «السيرة» لابن هشام من هذا الوجه. ومن طريقه: أحمد (2/ 218). ثُمَّ أَخْرَجَه (2/ 204)، والبخاري (3678) من طريق مُحمَّد بن إِبراهِيم، عن عُروة بن الزبير ... به مُختَصراً بقصَّة الإيذاء، ودفع أبي بكر عنه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null