🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
432. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم سأل في علته نساءه أن يكون تمريضه في بيت عائشة رضي الله عنها-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں اپنی بیویوں سے درخواست کی کہ ان کی تیمارداری عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6588
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ: " اشْتَكَى، فَعَلِقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثِ آكِلِ الزَّبِيبِ، قَالَتْ: وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ، اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطَّانِ رِجْلاهُ الأَرْضَ، أَحَدُهُمَا: عَبَّاسٌ" ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لِي: مَا أَخْبَرْتَكَ بِالآخَرِ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ".
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، میں نے کہا: ”آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائیے،“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ کے بلغم میں خون آنے لگا، ہم آپ کے نکلنے والے بلغم کو خشک انگور کھانے والے کے تھوک سے تشبیہ دیتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری باری اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین سے اجازت طلب کی کہ ”آپ میرے ہاں رہیں“ اور وہ خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ دو آدمیوں کے درمیان میں زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے، ان میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں دوسرے صاحب کے بارے میں نہیں بتایا؟“ میں نے جواب دیا: ”جی نہیں،“ تو انہوں نے بتایا: ”وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6588]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6554»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (687). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
433. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر العلة التي من أجلها استثنى عمه صلى الله عليه وسلم بالأمر باللدود الذي وصفناه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر ان کے چچا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ لدود کے حکم کو استثناء کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6589
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا:" لا تَلُدُّونِي"، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ:" أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِيَ؟"، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ، فَقَالَ: " لا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِِلا لُدَّ"، وَأَنَا أَنْظُرُ إِِلَى الْعَبَّاسِ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْهُمْ .
عبید اللہ بن عبد اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کے منہ میں دوائی ٹپکا دی تو آپ نے اشارہ کیا: ”تم لوگ میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ۔“ ہم نے سوچا جس طرح بیمار شخص دوا کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح ہے)؛ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں نے تم لوگوں کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ؟“ ہم نے عرض کی: (ہم تو یہ سمجھے تھے) جس طرح بیمار شخص دوائی کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح کی صورت حال ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہی تھی کیونکہ اس وقت وہ گھر میں موجود نہیں تھے (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ٹپکائی گئی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6589]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4458، 5712، 6886، 6897، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2213، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6589، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7048، 7542، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24901، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1933» «رقم طبعة با وزير 6555»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4458)، م (7/ 24). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
434. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر قراءة عائشة المعوذتين على المصطفى صلى الله عليه وسلم في علته التي توفي فيها-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی بیماری میں جس میں وہ وفات پا گئے معوذتین پڑھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6590
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِِذَا اشْتَكَى،" نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَيَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ"، قَالَتْ: فَلَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، طَفِقْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفُثُ بِهَا عَلَى نَفْسِهِ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے اور اپنا دست مبارک پھیرا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تو میں نے معوذات پڑھ کر آپ پر دم کرنا شروع کیا، جنہیں پڑھ کر آپ اپنے اوپر دم کرتے تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک آپ کے جسم پر پھیرتی رہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6590]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4439، 5016، 5735، 5751، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2192، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2963، 6590، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7049، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3902، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3528، 3529، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25367» «رقم طبعة با وزير 6556»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3104): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
435. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر ما كان يقول المصطفى صلى الله عليه وسلم في علته عند الدعاء بالشفاء له-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر کہ مصٹفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری میں شفا کی دعا کے وقت کیا کہتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6591
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِي، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ، وَأَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا، بَلْ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الأَعْلَى، مَعَ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وإِِسْرَافِيلَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری گود میں تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شفا کی دعا مانگنا شروع کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے «الرَّفِيْقَ الْأَعْلٰى» ”رفیقِ اعلیٰ“ مانگتا ہوں۔“ یعنی جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کا ساتھ عطا کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6591]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6557»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3104). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
436. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن هذا الكلام كان من المصطفى صلى الله عليه وسلم حيث خير بين الدنيا والآخرة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ یہ کلام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جب انہیں دنیا اور آخرت کے درمیان انتخاب دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6592
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لا يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، فَجَعَلَ يَقُولُ:" مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ، وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69"، قَالَتْ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے یہ بات سن رکھی تھی کہ کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اسے دنیا میں رہنے یا آخرت میں (منتقل ہونے) کے درمیان اختیار نہیں دیا جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اس بیماری کے دوران جس میں آپ کا وصال ہوا، یہ کہتے ہوئے سنا حالانکہ اس وقت آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی، آپ یہ کہہ رہے تھے: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا﴾ [سورة النساء: 69] ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جو نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بہترین ساتھی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6592]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4435، 4586، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2444، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6592، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7066، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1620، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13548، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25092» «رقم طبعة با وزير 6558»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4435)، م (7/ 137). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
437. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف الخطبة التي خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر عمره حيث خرج ليعهد إلى الناس ما ذكرناه قبل-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وصف کہ خطبہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخر میں دیا جب وہ لوگوں کو ہمارے پہلے ذکر کردہ وصیت کے لیے نکلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6593
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى أَخْبَرَنَا، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" إِِنِّي السَّاعَةَ قَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ"، ثُمَّ قَالَ:" إِِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا، فَاخْتَارَ الآخِرَةَ"، فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِِلا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي، بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلادِنَا، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَمَا رُئِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، یہ اس بیماری کی بات ہے جس میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ میں آپ کے پیچھے پیچھے آیا، یہاں تک کہ آپ منبر پر آ کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں گویا اس وقت بھی حوض کوثر پر کھڑا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک بندے کے سامنے دنیا اور اس کی زیب و زینت پیش کی گئی تو اس بندے نے آخرت کو اختیار کر لیا۔“ حاضرین میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ ہم نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہم اپنے اموال اور اپنی جانیں اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے۔ اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا گیا۔ (یعنی اس کے بعد آپ کا وصال ہو گیا) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6593]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6593، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7851، والدارمي فى (مسنده) برقم: 78، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12043، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1155» «رقم طبعة با وزير 6559»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3654)، م (7/ 108). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
438. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المخير فيما وصفنا كان صفي الله جل وعلا صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ انتخاب میں اللہ جل وعلا کا برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6594
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ:" إِِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ لِقَائِهِ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ"، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَبِأَبْنَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ"، ثُمَّ قَالَ:" إِِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا مِنَ النَّاسِ، لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِِسْلامِ وَمَوَدَّتُهُ، أَلا لا يَبْقِيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِِلا سُدَّتْ إِِلا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ" ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ، فَقُلْتُ: الْعَجَبُ يُخْبِرُنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَهَذَا يَبْكِي، وَإِِذَا الْمُخَيَّرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِِذَا الْبَاكِي أَبُو بَكْرٍ، وَإِِذَا أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمُنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اس بات کا اختیار دیا کہ اسے اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش و زیبائش عطا کر دے یا اپنی بارگاہ میں حاضری عطا کر دے تو اس شخص نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کو اختیار کیا“، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے عرض کی: ہم اپنے آباؤ اجداد اور اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! تم خاموش رہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے ساتھ اور مال کے اعتبار سے لوگوں میں میرے ساتھ سب سے اچھا سلوک ابوبکر نے کیا، اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا، البتہ اسلام کا بھائی چارہ اور محبت تو ہے ہی، خبردار! مسجد میں موجود ہر دروازہ بند کر دیا جائے۔ صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کی اطلاع دے رہے ہیں کہ ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا ہے اور یہ صاحب (یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) رو رہے ہیں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ اختیار دیے گئے شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور رونے والے شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6594]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 466، 3654، 3904، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2382، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6594، 6861، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8049، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11303» «رقم طبعة با وزير 6560»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
439. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم في الخرجة التي وصفناها للعهد إلى الناس صلى على شهداء أحد قبل الخطبة التي ذكرناها-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ وصیت کے لیے نکلنے میں احد کے شہداء پر ہمارے ذکر کردہ خطبہ سے پہلے دعا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَاثْنَيْ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَإِِنِّي عَلَيْكُمْ لَشَهِيدٌ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عليكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، وَكَانَتْ آخِرُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ احد کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر آپ واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوں اور میں تم لوگوں کا گواہ ہوں گا۔ اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن گزشتہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں۔ مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم ان میں دلچسپی لو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے، پھر آپ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کر لیا۔ یہ وہ آخری خطبہ تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (آپ کی روح مبارکہ کو) قبض کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6595]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1344، 3596، 4042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3198، 3199، 3224، 6595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1953، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3223، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6910، 6911، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1849، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17617» «رقم طبعة با وزير 6561»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3188). تنبيه!! رقم (3188) = (3198) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
440. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن قول عقبة بن عامر صلى على قتلى أحد أراد به أنه دعا واستغفر لهم لا أنه صلى عليهم كما يصلي على الموتى-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ عقبہ بن عامر کے قول "احد کے مقتولین پر دعا کی" سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ان کے لیے دعا اور استغفار کیا، نہ کہ ان پر اس طرح نماز پڑھی جیسے مردوں پر پڑھی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6596
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ أَوْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدَ إِِلَى النَّاسِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تاکہ مجھے تھوڑا سا سکون آئے، تاکہ میں لوگوں کو کوئی ہدایت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تانبے کے بنے ہوئے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بڑے برتن میں بٹھا دیا، ہم نے آپ پر پانی انڈیلا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگوں نے کام پورا کر دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ان شہداء کے بارے میں دعائے مغفرت کی جو غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6596]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6562»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (198). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
441. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر إرادة المصطفى صلى الله عليه وسلم كتبة الكتاب لأمته لئلا يضلوا بعده-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ ان کے بعد گمراہ نہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6597
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا"، قَالَ عُمَرُ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، قَالَ: فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، لَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالأَحَادِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا" ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت قریب آیا تو گھر میں کچھ لوگ موجود تھے جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دیتا ہوں، تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا اثر غالب ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے، ہمارے لیے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے، تو گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ان کی آوازیں اور گفتگو زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ یہاں سے اٹھ جاؤ۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ یہ بہت بڑی مصیبت تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تحریر لکھنے کے درمیان لوگوں کا اختلاف اور ان کا شور شرابا رکاوٹ بن گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6597]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 114، 3053، 3168، 4431، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1637، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6597، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5821، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3029، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18815، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1960» «رقم طبعة با وزير 6563»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (466): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں