صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
442. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر إشارة المصطفى صلى الله عليه وسلم إلى ما أشار به في أبي بكر رضي الله عنه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اشارہ کیا جو انہوں نے کیا
حدیث نمبر: 6598
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَكْتُبَ، فَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنونَ إِِلا أَبَا بَكْرٍ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اپنی بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلواؤ تاکہ میں تحریر لکھ دوں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص بھی (خلافت کا) خواہش مند ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں اس کا زیادہ حق دار ہوں حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ (کو خلیفہ کے طور پر) قبول کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6598]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6598، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7044، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16685، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25390، 25753، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4331، 4567، 6571» «رقم طبعة با وزير 6564»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2/ 304). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
443. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر اغتسال المصطفى صلى الله عليه وسلم من الماء الذي لم يمس بعد أن أوكي في علته التي قبض فيها صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی سے غسل کیا جو اس بیماری میں استعمال نہیں ہوا تھا جس میں وہ وفات پا گئے صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر: 6599
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِِلَى النَّاسِ"، قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ، فَمَا زِلْنَا نَصُبُ عَلَيْهِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تاکہ میں لوگوں کو کوئی تلقین کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بڑے ٹب میں بٹھایا، اس کے بعد ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی بہاتی رہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم نے ایسا کر لیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6599]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6565»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى قريبا (6562). تنبيه!! رقم (6562) = (6596) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
444. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر العلة التي من أجلها اغتسل صلى الله عليه وسلم في علته-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں غسل کیا
حدیث نمبر: 6600
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، وَعُمْرَةُ ، أحدهما أو كلاهما، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدَ إِِلَى النَّاسِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ مِنْ نُحَاسٍ، فَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِِلَى الْمَسْجِدِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں آپ نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تاکہ مجھے کچھ سکون آئے اور میں لوگوں کو ہدایت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پیتل کے بنے ہوئے ٹب میں بٹھایا، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں اشارہ کرنا شروع کیا کہ تم نے ایسا کر لیا ہے، پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6600]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6566»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
445. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف العهد الذي عزم على ذلك إلى الناس بعده الذي من أجله اغتسل وخرج إلى المسجد-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وصف کہ وصیت جو انہوں نے لوگوں کے لیے عزم کیا جس کے لیے وہ غسل کر کے مسجد گئے
حدیث نمبر: 6601
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقُلْتُ مِثْلَهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ"، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْكَ قَطُّ، قَالَتْ: فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَمَكَثَ مَكَانَهُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِذَائِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى الصَّلاةَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے پھر ویسی ہی بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجیے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: تمہاری طرف سے مجھے کبھی کوئی بھلائی دیکھنے کو نہیں ملی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کے لیے نکلے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہہ لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: ”تم اپنی جگہ پر رہو۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6601]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6567»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 335 / 548): ق، سيأتي برقم (6834). تنبيه!! رقم (6834) = (6873) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
446. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم في هذه الصلاة كان قاعدا وأبو بكر والناس قيام خلفه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ اس نماز میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور ابو بکر اور لوگ ان کے پیچھے کھڑے تھے
حدیث نمبر: 6602
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟"، فَقُلْتُ: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ"، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ مَاءً فَأَفَاقَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟"، قُلْنَا: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًَا إِِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ لَهُ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ رَجُلا رَقِيقًا أَوْ رَفِيقًا: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَفَعَلَ، وَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، ثُمَّ إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِِلَيْهِ أَنْ لا يَتَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُمَا:" أَجْلِسَانِي إِِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ"، فَأَجْلَسَاهُ إِِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ تُسَمِّ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ فَقُلْتُ: لا، فَقَالَ: هُوَ عَلِيٌّ.
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی کہ جی نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے لیے کسی بڑے برتن میں پانی رکھو۔“ ہم نے ایسا ہی کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ ہم نے عرض کی کہ جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشاء کی نماز کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، وہ پیغام رساں ان کے پاس آیا اور اس نے ان سے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، جو ایک نرم دل اور مہربان شخص تھے، انہوں نے کہا کہ اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیجیے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، ان ایام میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے، ان میں سے ایک سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان سے فرمایا: ”مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو۔“ چنانچہ ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے، حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان نہ کروں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث انہیں سنائی، انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا، تاہم انہوں نے یہ فرمایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہارے سامنے اس دوسرے شخص کا نام نہیں لیا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے جواب دیا کہ جی نہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6602]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6568»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
447. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم أوصى إلى علي بن أبي طالب رضي الله عنه في علته-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو وصیت کی
حدیث نمبر: 6603
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِِلَى عَلِيٍّ، وَلَقَدْ دَعَا بِطَسْتٍ، فَبَالَ فِيهِ، وَإِِنَّهُ لَعَلَى صَدْرِي، فَانْخَنَثَ، فَمَاتَ، وَمَا أَشْعُرُ بِهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت کی تھی (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ خلیفہ ہوں گے)، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگوایا، آپ نے اس میں پیشاب کیا، آپ میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ ڈھلک گئے اور آپ کا وصال ہو گیا، مجھے اس بات کا پتہ بھی نہیں چلا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6603]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2741، 4459، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1636، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 65، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6603، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 33، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1626، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 485، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24673، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 31587» «رقم طبعة با وزير 6569»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (323). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
448. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم أوصى إلى علي أو أسر إليه بأشياء أخفاها عن غيره-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو وصیت کی یا ان سے کچھ ایسی چیزیں چھپائیں جو دوسروں سے چھپائیں
حدیث نمبر: 6604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعَمِّمْ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً، إِِلا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبَةً: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا" ، مَنَارُ الأَرْضِ: عَلامَةٌ بَيْنَ أَرَضِينَ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ.
ابو طفیل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بطور خاص کوئی چیز عطا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور خاص کوئی چیز نہیں عطا کی تھی جو دیگر لوگوں کو عمومی طور پر عطا نہ کی ہو، البتہ میری اس تلوار کے میان میں موجود کچھ چیزیں ہیں، پھر انہوں نے ایک صحیفہ لکھا ہوا نکالا (جس میں یہ تحریر تھا): ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر (جانور کو) ذبح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو زمین کی حدود کے نشانات چوری کرتا ہے (یعنی انہیں بگاڑ دیتا ہے)، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے ماں باپ پر لعنت کرے، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «مِنَ الْأَرْضِ» سے مراد دو آدمیوں کی زمین کے درمیان موجود علامت ہے، یہ بات امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6604]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 111، 1870، 3047، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1370، 1978، وابن الجارود فى "المنتقى"، 857، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3716، 3717، 5896، 6604، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2639، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4434، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2034، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1412، 2127، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2658، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10062، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3152، وأحمد فى (مسنده) برقم: 609» «رقم طبعة با وزير 6570»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (5866). تنبيه!! رقم (5866) = (5896) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
449. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر آخر الوصية التي أوصى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم في علته-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر آخری وصیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں کی
حدیث نمبر: 6605
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ آخِرُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُغَرْغِرُ بِهَا فِي صَدْرِهِ، وَمَا كَانَ يُفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ: " الصَّلاةَ الصَّلاةَ، اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانَكُمْ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت جو آپ نے اس وقت کی جب آپ کے سینے میں سانس اٹک رہی تھی اور آپ کی زبان سے بات ادا نہیں ہو پا رہی تھی (اس وقت کی گئی آپ کی آخری وصیت) یہ تھی: «الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَاتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» ”نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا اور اپنے زیر ملکیت (غلاموں اور کنیزوں) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6605]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6605، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4413، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7057، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1625، 2697، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12352» «رقم طبعة با وزير 6571»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (468)، «المشكاة» (3356 / التحقيق الثاني)، «الإرواء» (2178). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
450. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم يوص بشيء عند فراقه أمته بالخروج إلى ما وعد الله له من الثواب-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے رخصت ہوتے وقت کسی چیز کی وصیت نہیں کی جب وہ اللہ کے وعدہ کردہ ثواب کی طرف نکلے
حدیث نمبر: 6606
أَخْبَرَنَا الْحُسْيَنُ بْنُ إِِسْحَاقَ الأَصْفَهَانِيُّ بِالْكَرْج، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ حُرَيْثٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" تَسْأَلُونِي عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلا دِرْهَمًا، وَلا شَاةً، وَلا بَعِيرًا، وَلا أَوْصَى بِشَيْءٍ" .
زر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: تم مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں دریافت کر رہے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وراثت میں کوئی دینار یا درہم یا بکری یا اونٹ نہیں چھوڑا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں وصیت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6606]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1635، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6368، 6606، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3623، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2695، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12677، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24812، والحميدي فى (مسنده) برقم: 273» «رقم طبعة با وزير 6572»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2549): م مختصرا. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
451. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر زر الذي ذكرناه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ زر کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6607
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِِنَّا لا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ"، وَإِِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، وَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ اسْتَنْكَرَ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ، وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنِ ائْتِنَا وَلا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَحْضُرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ لا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَسَى أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهِمْ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَقَالَ: إِِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرِ فَضِيلَتَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَمْ أَنْفَسْ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى أَنَّ لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرِ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصِلَ أَهْلِي وَقَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِِلا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاةَ الظُّهْرِ، رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ ذَكَرَ شَأْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحُرْمَتَهُ، وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلا إِِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا بِهِ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا: أَصَبْتَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ .
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وراثت کا مطالبہ کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں مال فے کے طور پر عطا کیا تھا اور فدک میں عطا کیا تھا اور خیبر کے خمس میں سے جو کچھ باقی بچتا تھا (اس میں سے وراثت کا مطالبہ کیا) تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک ہم (یعنی انبیاء کرام) کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم لوگ جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے اس مال میں سے کھاتے رہیں گے۔“ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:) اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کی اس صورت حال میں، میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا، جو صورت حال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں رہی اور میں اسے بھی اسی طرح استعمال کروں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے استعمال کرتے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کوئی بھی چیز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس بات پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لاتعلقی اختیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ اس دوران انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی کوئی بات نہیں کی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا۔ انہوں نے اس بات کی اطلاع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی نہیں دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی (یعنی پڑھائی)۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگ پھر بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے لیکن جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لاتعلق ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کرنے اور ان کی بیعت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حالانکہ ان مہینوں کے دوران انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے ہاں آئیں اور آپ کے ساتھ کوئی شخص نہ آئے۔ اصل میں وہ یہ بات پسند نہیں کر رہے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس وقت موجود ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ اکیلے ان کے پاس نہیں جائیں گے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ میرے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کریں گے۔ اللہ کی قسم! میں ضرور ان کے پاس جاؤں گا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور یہ بولے: اے ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت سے واقف ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے (اس سے بھی واقف ہیں) ہم ایسی کسی بھلائی کا انکار نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے لیکن آپ نے حکومت کے معاملے میں ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی وجہ سے ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو انہوں نے یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا میرے نزدیک اپنے ذاتی رشتہ داروں اور گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جہاں تک ان اموال کے بارے میں میرے اور آپ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کا تعلق ہے تو میں نے ان کے بارے میں بھلائی سے روگردانی نہیں کی اور میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا میں نے بھی وہی کیا۔ تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: بیعت کے لیے آپ سے شام کے وقت کا وعدہ ہے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کی تو وہ منبر پر چڑھے۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا پھر انہوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے معاملے کا ذکر کیا اور ان کے بیعت سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا اور اس عذر کا ذکر کیا جو انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا تھا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دعائے مغفرت پڑھی (اور اپنی تقریر ختم کی) پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کو اور ان کی حرمت کو عظیم قرار دیا اور یہ بات بتائی کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی ناراضگی کی وجہ سے یا جو فضل اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہے اس کے انکار کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ حکومت کے معاملے میں ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں بھی حصہ ملے گا تو اس حوالے سے ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اس لیے ہمارے ذہن میں کچھ الجھن تھی۔ اس بات پر مسلمان خوش ہو گئے۔ انہوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امر بالمعروف کی طرف رجوع کیا تو مسلمان بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6607]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3092، 3711، 4035، 4240، 6725، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1759، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1177، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4823، 6607، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2968، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12856، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10» «رقم طبعة با وزير 6573»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2629): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null