صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
599. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المدحض قول من نفى كون المسخ في هذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اس امت میں مسخ نہیں ہوگا
حدیث نمبر: 6758
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَاتِمُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا الطِّلاءَ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، فَتَذَاكَرْنَا، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَشْرَبُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُضْرَبُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْقَيْنَاتِ، يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمُ الأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اسْمُ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ: الْحَارِثُ بْنُ مَالِكٍ، وَقَدْ قِيلَ: إِِنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ اسْمُهُ كَعْبُ بْنُ عَاصِمٍ.
مالک بن ابومریم بیان کرتے ہیں کہ ہم «الطِّلَاء» کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے، اسی دوران عبدالرحمن بن غنم ہمارے پاس آئے، ہم نے یہ گفتگو شروع کی تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے، لیکن وہ اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے، ان کے سرہانے آلاتِ موسیقی بجائے جائیں گے اور گانے والیاں ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں تبدیل کر دے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کا نام حارث بن مالک ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کا نام کعب بن عاصم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6758]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5590، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6754، 6758، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3688، 4039، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4020، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6183، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23366، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24227» «رقم طبعة با وزير 6721/م2»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (90). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
600. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المدحض قول من نفى كون القذف في هذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اس امت میں قذف نہیں ہوگا
حدیث نمبر: 6759
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ سُفْيَاَنَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت میں زمین میں دھنسائے جانے، شکلیں تبدیل ہونے اور پتھر برسائے جانے (کا عذاب نازل نہیں ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6759]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6759، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8443، والبزار فى (مسنده) برقم: 8636، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5061» «رقم طبعة با وزير 6722»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (1787). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
601. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن من أمارة آخر الزمان مباهاة الناس بزخرفة المساجد-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان کی علامتوں میں سے لوگوں کا مساجد کی زینت پر فخر کرنا ہے
حدیث نمبر: 6760
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ مساجد (کی تعمیر) میں ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کا اظہار نہیں کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6760]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1321، 1322، 1323، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1613، 1614، 6760، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 449، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1448، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 739، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4367، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12574» «رقم طبعة با وزير 6722/م»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (476)، «المشكاة» (719). * قال الناشر: هذا الحديث - بتبويبه - ساقط من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة». نعم؛ تقدم مُكَرَّراً - سنداً ومتناً - باختلاف التبويب، ورقم «التقاسيم والأنواع» برقم (1612). تنبيه!! رقم (1612) = (1614) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
602. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن من أمارة آخر الزمان اشتغال الناس بحديث الدنيا في مساجدهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان کی علامتوں میں سے لوگوں کا مساجد میں دنیا کی باتوں میں مشغول ہونا ہے
حدیث نمبر: 6761
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ النَّصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ، لَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو التَّقِيِّ هَذَا هُوَ: أَبُو التَّقِيِّ الْكَبِيرُ، اسْمُهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، وَأَبُو التَّقِيِّ الصَّغِيرُ هُوَ: هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، وَهُمَا جَمِيعًا حِمْصِيَّانِ ثِقَتَانِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو مساجد میں دنیاوی گفتگو کریں گے، ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوتقی نامی راوی ابوتقی کبیر ہے، اس کا نام عبدالحمید بن ابراہیم ہے، یہ حمص سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ ابوتقی صغیر کا نام ہشام بن عبدالملک یزنی ہے اور یہ دونوں راوی حمص سے تعلق رکھتے ہیں، یہ دونوں ثقہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6761]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6761، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10452» «رقم طبعة با وزير 6723»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1163). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
603. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عما ينقص الخير في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں خیر کی کمی ہوگی
حدیث نمبر: 6762
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، فَرَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا:" أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ" . ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، قَالَ: " يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، حَتَّى يُقَالَ: إِِنَّ فِي بَنِي فُلانٍ رَجُلا أَمِينًا، وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَطْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ، وَلَيْسَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُهُ، لَئِنْ كَانَ مُؤْمِنًَا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايعُ إِِلا فُلانًا وَفُلانًا" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائی تھیں، ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اندر نازل ہوئی اور قرآن نازل ہوا تو انہوں نے قرآن کا علم حاصل کیا اور سنت کا علم حاصل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے بارے میں بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو قبض کر لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا تھوڑا سا نشان باقی رہ جائے گا، جو دھبے کے نشان کی مانند ہو گا، پھر وہ شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا اتنا نشان باقی رہ جائے گا جتنا اس آبلے کا ہوتا ہے جو کسی انگارے کے تمہارے پاؤں پر لگنے کی وجہ سے ہوتا ہے، تمہیں وہ پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خرید و فروخت کریں گے، لیکن کوئی بھی شخص امانت ادا نہیں کرے گا، یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے گی کہ بنو فلاں میں ایک امین آدمی ہے، یہاں تک کہ ایک شخص کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ وہ کتنا تیز، کتنا سمجھ دار، کتنا عقل مند ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی بھلائی نہیں ہو گی۔“
(سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہوں، کیونکہ اگر وہ مومن ہو گا تو اس کا دین میرے ساتھ دھوکہ دہی سے باز رکھے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہو گا تو کوتوال اسے (ایسا کرنے سے) باز رکھے گا، لیکن اب تو میں صرف فلاں اور فلاں کے ساتھ لین دین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6762]
(سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہوں، کیونکہ اگر وہ مومن ہو گا تو اس کا دین میرے ساتھ دھوکہ دہی سے باز رکھے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہو گا تو کوتوال اسے (ایسا کرنے سے) باز رکھے گا، لیکن اب تو میں صرف فلاں اور فلاں کے ساتھ لین دین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6762]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6497، 7086، 7276، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 143، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6762، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2179، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4053، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20445، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23727» «رقم طبعة با وزير 6724»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
604. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن اعتداء الناس في الدعاء والطهور في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں لوگوں کا دعا اور طہارت میں زیادتی کرنا
حدیث نمبر: 6763
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، قَالَ: سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ ابْنًا لَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ، قَالَ: يَا بُنَيَّ، إِِذَا سَأَلْتَ، فَاسْأَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطُّهُورِ" .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا» ”اے اللہ! میں تجھ سے جنت کے دائیں طرف محل کا سوال کرتا ہوں،“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! جب تم نے مانگنا ہو، تو اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو اور جہنم سے اس کی پناہ مانگو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو دعا مانگنے اور طہارت کے حصول میں حد سے تجاوز کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6763]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6763، 6764، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 583، 1986، وأبو داود فى (سننه) برقم: 96، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3864، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 964، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17070» «رقم طبعة با وزير 6725»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (86). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
605. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن إحدى الروايتين اللتين تقدم ذكرنا لها وهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ ہمارے پہلے ذکر کردہ دو روایات میں سے ایک غلط ہے
حدیث نمبر: 6764
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغَفَّلِ ، سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِِذَا دَخَلْتُهَا، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطُّهُورِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ وَأَبِي نَعَامَةَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو دعا میں یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف سفید محل ملے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو اور جہنم سے اس کی پناہ مانگو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب اس امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو دعا مانگنے اور طہارت حاصل کرنے میں حد سے تجاوز کریں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت جریری نے یزید بن عبداللہ کے حوالے سے اور ابونعامہ کے حوالے سے سنی ہے، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6764]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6763، 6764، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 583، 1986، وأبو داود فى (سننه) برقم: 96، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3864، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 964، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17070» «رقم طبعة با وزير 6726»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 171)، «صحيح أبي داود» (86). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
606. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن تمني المسلمين رؤية المصطفى صلى الله عليه وسلم في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں مسلمان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تمنا کریں گے
حدیث نمبر: 6765
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لا يَرَانِي، ثُمَّ لأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کسی ایک شخص پر کوئی ایسا دن ضرور آئے گا جب وہ مجھے نہیں دیکھے گا، حالانکہ اس وقت اس کا میری زیارت کرنا، اس کے نزدیک اس کے اہل خانہ اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6765]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2364، 2832، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6765، 7231، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7083، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8257» «رقم طبعة با وزير 6727»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3589)، م (8/ 145). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
607. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عما يظهر في آخر الزمان من الكذب في الروايات والأخبار-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں روایات اور خبروں میں جھوٹ ظاہر ہوگا
حدیث نمبر: 6766
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلا آبَاؤُكُمْ، فَإِِيَّاكُمْ وَإِِيَّاهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو میری امت سے تعلق رکھتے ہوں گے، وہ تمہیں ایسی باتیں بتائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباؤ اجداد نے سنی ہوں گی، تو تم اپنا خیال رکھنا اور ان سے بچ کر رہنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6766]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى "مقدمة صحيحه"، 6، 7، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6766، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 351، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8383» «رقم طبعة با وزير 6728»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 9). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
608. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن ظهور الزنى وكثرة الجهر به في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں زنا کا ظہور اور اس کا کھلم کھلا ہونا
حدیث نمبر: 6767
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَسَافَدُوا فِي الطَّرِيقِ تَسَافُدَ الْحَمِيرِ" ، قُلْتُ: إِِنَّ ذَاكَ لَكَائِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ لَيَكُونَنَّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم لوگ راستے میں اس طرح صحبت نہیں کرو گے، جس طرح گدھا کرتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کیا ایسا ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، ایسا ضرور ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6767]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6767، والبزار فى (مسنده) برقم: 2353، 2354، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4504، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38432، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 14180» «رقم طبعة با وزير 6729»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (481). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح