🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
619. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن نفي تغيير قلوب المؤمنين في آخر الزمان عند خروج الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں دجال کے خروج پر مومنوں کے دلوں کی تبدیلی کی نفی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6778
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ، وَإِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ"، قَالَ: فَوَصَفَهُ لَنَا، وَقَالَ:" لَعَلَّهُ أَنْ يُدْرِكَهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي، أَوْ سَمِعَ كَلامِي، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ مِثْلُهَا الْيَوْمَ؟ فَقَالَ: أَوْ خَيْرٌ" .
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کا حلیہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہو سکتا ہے اس تک کوئی ایسا شخص پہنچ جائے جس نے میری زیارت کی ہو، یا اس نے میرا کلام سنا ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس دن ہمارے قلوب آج کے دن کی مانند ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی بہتر ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6778]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6778، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8725، 8726، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4756، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2234، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1714» «رقم طبعة با وزير 6740»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «المشكاة» (5486 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
620. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن عزة الدين وإظهاره في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں دین کی عزت اور اس کا ظہور ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6779
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایک سجدہ دنیا اور اس میں موجود ساری چیزوں سے زیادہ بہتر نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6779]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2222، 2476، 3448، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6779، 6816، 6818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4185، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4078، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1174 وأحمد فى (مسنده) برقم: 7389» «رقم طبعة با وزير 6741»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «شرح الطحاوية» (500 - التاسعة)، «الصحيحة» (2457)، «قصة المسيح». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
621. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر إنذار الأنبياء أممهم الدجال نعوذ بالله من فتنته-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ انبیاء نے اپنی امتوں کو دجال سے ڈرایا، ہم اللہ سے اس کے فتنے سے پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6780
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَإِِنِّي سَأُبَيِّنُ لَكُمْ شَيْئًا تَعْلَمُونَ أَنَّهُ كَذَلِكَ، إِِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِِنَّ رَبَّكَمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإِِنَّهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ: كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتَبٍ وَغَيْرِ كَاتَبٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں تمہارے سامنے کچھ ایسی چیزیں بیان کروں گا، جس سے تمہیں پتا چل جائے گا کہ یہی (دجال) ہے، وہ کانا ہو گا حالانکہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا، جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6780]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1354، 2638، 3055، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2931، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6780، 6785، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4329، 4757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2235، 2241، 2249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4896» «رقم طبعة با وزير 6742»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الضعيفة» (1969)، «الصحيحة» (2457). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
622. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن تحذير الأنبياء أممهم فتنة المسيح نعوذ بالله منه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ انبیاء نے اپنی امتوں کو مسیح کے فتنے سے خبردار کیا، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6781
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ الأَهْوَازِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِِلا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَإِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَإِِنَّهُ كَائِنٌ فِيكُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے، میں بھی تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں، وہ تمہارے درمیان ہی ظاہر ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6781]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6781، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4580» «رقم طبعة با وزير 6743»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - انظر الحديث الآتي (6779): ق - أبي هريرة، والحديث (6750). تنبيه!! رقم (6779) = (6818) من «طبعة المؤسسة». رقم (6750) = (6788) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث ليس موجود برقم (6779) وإنما موجود برقم (6740) الموافق (6778) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قابل للتحسين لو سلم من عنعنة الحسن فإن محمد بن مروان العقيلي صدوق له أوهام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
623. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الدجال إذا خرج يكون معه المياه والطعام-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور کھانا ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6782
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مَا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " إِِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ الأَنْهَارَ وَالطَّعَامَ، قَالَ: هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں کسی نے اتنے سوالات نہیں کیے جتنے سوالات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ نہریں اور کھانا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سب کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ترین ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6782]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7122، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6782، 6800، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18442، والحميدي فى (مسنده) برقم: 782، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 27086» «رقم طبعة با وزير 6744»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2457)، «قصة المسيح»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
624. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر رؤية المصطفى صلى الله عليه وسلم ابن صياد بالمدينة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ابن صیاد کو دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6783
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً، فَقَالَ: هُوَ الدَّخُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ: لا، إِِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ، فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہارے لیے ایک بات ذہن میں سوچی ہے“، اس نے جواب دیا: وہ «الدُّخُّ» ”دخ“ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دفع ہو جاؤ، تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے“۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، اگر تو یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو پھر تم اسے قتل نہیں کر سکو گے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6783]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2924، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6783، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3680» «رقم طبعة با وزير 6745»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (751): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
625. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر وصف العرش الذي كان يراه ابن صياد في تلك الأيام-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ اس تخت کی جو ابن صیاد ان دنوں میں دیکھتا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6784
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَ: وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَى عَرْشَ إِِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، قَالَ: انْظُرْ مَا تَرَى، قَالَ: أَرَى صَادِقِينَ وَكَاذِبِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لُبِسَ عَلَى نَفْسِهِ"، فَدَعَاهُ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ابن صائد سے ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، راوی کہتے ہیں: ابن صائد اس وقت لڑکوں کے ساتھ (کھیل رہا تھا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے دریافت کیا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ اور اس کے (حقیقی اور سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کیا دیکھتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: میں پانی پر تخت دیکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں سمندر پر ابلیس کا تخت نظر آتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا دیکھتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: میں کچھ سچے اور کچھ جھوٹے لوگوں کو دیکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا معاملہ مشتبہ ہو چکا ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6784]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2926، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11809، 15397، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38664» «رقم طبعة با وزير 6746»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» -أيضاً-: م فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
626. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن الوقت الذي ولد فيه الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کے پیدا ہونے کا وقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6785
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنَ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لابْنِ صَيَّادٍ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَفَصَهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: مَاذَا تَرَى؟ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِِنْ لَمْ تُدْرِكْهُ فَلا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ" . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ سَالِمٌ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ النَّخْلَ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لابْنِ صَيَّادٍ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: لَوْ تَرَكْتِيهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ لوگوں سمیت ابن صیاد کی طرف گئے، یہاں تک کہ ان حضرات نے اسے بنو مغالہ کی عمارت کے قریب دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا، ان دنوں ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا، اسے یہ پتا نہیں چل سکا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشت پر اپنا ہاتھ مارا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے کہا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا: ”میں اللہ اور (اس کے سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تم کیا چیز دیکھتے ہو؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”میں نے تمہارے لیے ایک بات سوچی ہے“۔ ابن صیاد نے کہا: وہ دخ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم دفع ہو جاؤ، تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے“۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم اس تک پہنچ بھی گئے تو اس پر غالب نہیں آ سکو گے اور اگر تم اس تک نہ پہنچے تو پھر اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے“۔ ابن شہاب کہتے ہیں: سالم نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ابن صیاد کے آپ کو دیکھنے سے پہلے آپ اس کی طرف سے کوئی بات سن لیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی، جس میں سے بھنبھناہٹ کی آواز آ رہی تھی، جب ابن صیاد کی ماں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں کے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں، تو اس نے ابن صیاد سے کہا: (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتی (تو یہ زیادہ بہتر تھا)“۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں، ہر نبی نے اپنی قوم کو (اس سے) ڈرایا ہے۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں، جو کسی بھی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی، تم لوگ یہ بات جان لو کہ وہ کانا ہو گا اور بے شک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6785]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1354، 2638، 3055، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2931، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6780، 6785، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4329، 4757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2235، 2241، 2249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4896»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (751 و 752): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
627. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الملحمة التي تكون للمسلمين مع بني الأصفر قبل خروج المسيح الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسیح دجال کے خروج سے پہلے بنی اصفر کے ساتھ مسلمانوں کی ملحمہ کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6786
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: هَاجَتْ رِيحٌ وَنَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَغَضِبَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى عَرَفْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ،" إِِنَّ السَّاعَةَ لا تَقُومُ حَتَّى لا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِِلَى الشَّامِ، وَقَالَ: عَدُوٌّ يَجْتَمِعُ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْ هَا هُنَا فَيَلْتَقُونَ، فَتُشْتَرَطُ شُرْطَةُ الْمَوْتِ: لا تَرْجِعُ إِِلا وَهِيَ غَالِبَةٌ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، فَيَفِيءُ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ تُشْتَرَطُ الْغَدَ شُرْطَةُ الْمَوْتِ: لا تَرْجِعُ إِِلا وَهِيَ غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، فَيَفِيءُ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ تُشْتَرَطُ الْغَدَ شُرْطَةُ الْمَوْتِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ: لا تَرْجِعُ إِِلا وَهِيَ غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسَ، فَيَفِيءُ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتُفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَلْتَقُونَ فِي الْيَوْمِ الرَّابِعِ، فَيُقَاتِلُونَهُمْ وَيَهْزِمُونَهُمْ حَتَّى تَبْلُغَ الدِّمَاءُ نَحْرَ الْخَيْلِ، وَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى إِِنَّ بَنِي الأَبِ كَانُوا يَتَعَادُّونَ عَلَى مِائَةٍ، فَيُقْتَلُونَ حَتَّى لا يَبْقَى مِنْهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌ، فَأَيُّ مِيرَاثٍ يُقْسَمُ بَعْدَ هَذَا وَأَيُّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ بِهَا، ثُمَّ يَسْتَفْتِحُونَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْسِمُونَ الدَّنَانِيرَ بِالتَّرَسَةِ، إِِذْ أَتَاهُمْ فَزَعٌ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ: إِِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فِي ذَرَارِيِّكُمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ، وَيَبْعَثُونَ طَلِيعَةَ فَوَارِسَ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ يَوْمَئِذٍ خَيْرُ فَوَارِسِ الأَرْضِ، إِِنِّي لأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ" .
اسیر بن جابر بیان کرتے ہیں کہ تیز ہوا چل پڑی، ہم اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ ہمیں ان کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس ہو گئے، انہوں نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک وراثت کی تقسیم ختم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کے ذریعے خوش نہیں ہوا جاتا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے شام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس طرف دشمن مسلمانوں کے لیے اکٹھا ہو گا، پھر ان کا آمنا سامنا بھی ہو گا اور یہ شرط عائد کی جائے گی کہ مر جائیں گے (لیکن واپس نہیں جائیں گے)، تو واپس وہی جائے گا جو غالب ہو گا، یہ لوگ لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا، تو یہ لوگ واپس چلے جائیں گے اور وہ لوگ بھی واپس چلے جائیں گے، کوئی بھی غالب نہیں آیا ہو گا اور شرط کا وقت بھی ختم ہو جائے گا، پھر اگلے دن موت کی شرط رکھی جائے گی کہ وہی واپس آئے گا جو غالب ہو گا، پھر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا، یہ بھی واپس آ جائیں گے اور وہ بھی واپس چلے جائیں گے، دونوں میں سے کوئی بھی غالب نہیں آیا ہو گا اور شرط ختم ہو جائے گی، پھر اس سے اگلے دن، تیسرے دن موت کی شرط عائد کی جائے گی کہ وہی واپس آئے گا جو غالب ہو گا، وہ لوگ لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا، تو وہ گروہ بھی واپس چلا جائے گا اور یہ بھی واپس چلا جائے گا، کوئی غالب نہیں آیا ہو گا، پھر چوتھے دن ان کے درمیان لڑائی ہو گی تو یہ ان کے ساتھ لڑائی کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیں گے، یہاں تک کہ خون گھوڑوں کی گردن تک پہنچ جائے گا، اور لڑائی ہوتی رہے گی یہاں تک کہ ایک ہی باپ کے بیٹے ایک سو لوگوں کے ساتھ مقابلہ کریں گے، تو وہ مارے جائیں گے یہاں تک کہ ان میں سے صرف ایک شخص باقی رہ جائے گا، تو پھر اس کے بعد وراثت کیسے تقسیم ہو گی اور پھر کون سی غنیمت کے ہمراہ خوشی حاصل کی جائے گی؟ پھر لوگ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، ابھی وہ دینار اور ڈھالیں تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اسی دوران بڑی پریشان کن چیز ان تک آ جائے گی کہ دجال تمہاری اولادوں کے درمیان ظہور پذیر ہو گا، تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہو گا وہ اسے پھینکیں گے اور آ جائیں گے، وہ لوگ اپنے گھڑ سواروں کو بھیجیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ اس دن روئے زمین کے سب سے بہترین سوار ہوں گے، میں ان لوگوں کے نام، ان کے آباء کے نام، ان کے قبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں سے بھی واقف ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6786]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2899، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6786، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8565، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3717» «رقم طبعة با وزير 6748»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2457)، «قصة المسيح» (ص 62/ 2)، «تيسير الانتفاع / أويس»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
628. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف العلامتين اللتين تظهران عند خروج المسيح الدجال من وثاقه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسیح دجال کے بندھن سے نکلنے پر دو علامات ظاہر ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6787
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ : حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا تُحَدِّثِينِي بِشَيْءٍ لَمْ تَسْمَعِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: نَعَمْ، نُودِيَ بِالصَّلاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ وَفَزِعُوا، قَالَتْ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ حَدِيثٌ حَدَّثَنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، زَعَمَ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ فِي ثَلاثِينَ رَجُلا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، قَالَ: فَلَعِبَ بِنَا الْبَحْرُ وَرُبَّمَا قَالَ: لَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ قَذَفَ بِنَا السَّفِينَةَ إِِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ، قَالَ: فَخَرَجْنَا إِِلَيْهَا فَلَقِيَتْنَا جَارِيَةٌ تَجُرُّ شَعْرَهَا، لا نَدْرِي مُقْبِلَةٌ هِيَ أَمْ مُدْبِرَةٌ، قُلْنَا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: عَلَيْكُمْ بِصَاحِبِ الدَّيْرِ، وَهُوَ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِِذَا رَجُلٌ ذَكَرَ مِنْ عِظَمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ وَهُوَ مُوثَقٌ إِِلَى حَبَلٍ بِالْحَدِيدِ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَمَّا أَسْأَلُكُمْ عَنْهُ، قَالُوا: سَلْنَا، قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ، يُطْعَمُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: يُوشِكُ أَنْ لا يُطْعَمَ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ، بِهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: يُوشِكُ أَنْ لا يَكُونَ بِهَا مَاءٌ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ هَذَا الرَّجُلِ، هَلْ خَرَجَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِِنَّهُ صَادِقٌ فَاتَّبِعُوهُ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ" ، قَالَ كَهْمَسٌ: فَذَكَرَ ابْنُ بُرَيْدَةَ شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، إِِلا أَنَّهُ قَالَ:" تُطْوَى لَهُ الأَرْضُ، وَيَأْتِي عَلَى جَمِيعِهِنَّ فِي أَرْبَعِينَ صَبَاحًا".
یحییٰ بن معمر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو اور آپ مجھے کوئی ایسی بات نہ بتائیں، جو آپ نے براہِ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نہ سنی ہو۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ یہ اعلان کیا گیا «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» ”اکٹھے ہو جاؤ!“ تو لوگ اکٹھے ہو گئے لوگ گھبرا گئے۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم لوگوں کو کسی رغبت یا خوف کی وجہ سے جمع نہیں کیا ہے بلکہ ایک واقعہ پیش آیا ہے جو مجھے تمیم داری نے بیان کیا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ وہ تیس افراد جن کا تعلق لخم اور جذام قبیلے سے تھا وہ سمندر میں سفر کر رہے تھے اس نے یہ بیان کیا ہے کہ سمندر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) موجیں ہمارے ساتھ کھیل کرنے لگیں ایک ماہ تک ایسا ہوتا رہا پھر ہماری کشتی سمندر میں موجود ایک جزیرے تک پہنچ گئی۔ تمیم داری بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نکل کر اس جزیرے کی طرف گئے تو وہاں ہماری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی جو اپنے بال کھینچ رہی تھی ہمیں نہیں پتہ چلا کہ وہ آ رہی ہے یا جا رہی ہے۔ ہم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں «الْجَسَّاسَةُ» ”جساسہ“ ہوں۔ ہم نے کہا: تم ہمیں کچھ بتاؤ۔ اس نے کہا: تم لوگ گرجے میں موجود شخص کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں بتائے گا بھی اور تم سے اطلاعات حاصل بھی کرے گا۔ تمیم داری بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اس کے پاس گئے، تو وہ ایک ایسا شخص تھا اس کے بعد انہوں نے اس کے بڑے ہونے کا ذکر کیا وہ لوہے کی رسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا، ہم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: پہلے تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ جس کے بارے میں، میں تم سے سوال کروں گا۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہم سے سوال کرو۔ اس نے دریافت کیا: بیسان کے کھجوروں کے باغ کا کیا حال ہے کیا اس کا اناج اب بھی کھایا جاتا ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: عنقریب وہ نہیں کھایا جائے گا پھر اس نے دریافت کیا تم مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ کہ کیا اس میں پانی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: عنقریب اس میں پانی نہیں رہے گا پھر اس نے کہا: تم لوگ مجھے ان صاحب کے بارے میں بتاؤ کیا ان کا ظہور ہو گیا ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو اس نے کہا: بے شک وہ سچے ہیں تم لوگ ان کی پیروی کرو۔ ہم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں۔“ کہمس بیان کرتے ہیں: ابن بریدہ رضی اللہ عنہما نے یہاں کوئی چیز ذکر کی تھی جو مجھے یاد نہیں رہی تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لئے روئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ تمام روئے زمین کا چکر چالیس دن میں لگا لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6787]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3730، 6787، 6788، 6789، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4244، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4074، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27743» «رقم طبعة با وزير 6749»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (الملاحم): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں