المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. الْوُضُوءُ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَمَرَّةً مَرَّةً
وضو دو دو یا ایک ایک بار اعضا دھونے سے بھی مکمل ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 540
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا زيد بن الحُبَاب. وأخبرني محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، حدثنا عبد الله بن الفضل الهاشمي.... (2) ، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت، حدثني عبد الله بن الفضل، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ توضَّأَ مرَّتين مرَّتين (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المرسَل المشهور عن معاوية بن قُرَّة عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ توضأ مرةً مرةً، ثم قال:"هذا وظيفةُ الوضوء"، ثم توضأ مرتين مرتين فقال:"هذا الوسَطُ من الوضوء الذي يُضاعِفُ الله الأجرَ لصاحبه مرتين" الحديث بطوله (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 533 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المرسَل المشهور عن معاوية بن قُرَّة عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ توضأ مرةً مرةً، ثم قال:"هذا وظيفةُ الوضوء"، ثم توضأ مرتين مرتين فقال:"هذا الوسَطُ من الوضوء الذي يُضاعِفُ الله الأجرَ لصاحبه مرتين" الحديث بطوله (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 533 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء کو دو دو مرتبہ دھو کر وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مشہور مرسل روایت ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وضو کی وہ مقدار ہے جس کے بغیر چارہ نہیں،“ پھر دو دو بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وہ درمیانہ وضو ہے جس پر اللہ اجر کو دوگنا کر دیتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مشہور مرسل روایت ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وضو کی وہ مقدار ہے جس کے بغیر چارہ نہیں،“ پھر دو دو بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وہ درمیانہ وضو ہے جس پر اللہ اجر کو دوگنا کر دیتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
حدیث نمبر: 541
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خليفة القاضي، حدثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ توضأ مرةً مرةً، وجَمَعَ بين المضمضة والاستنشاق (2) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجا الجمع بين المضمضة والاستنشاق (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 534 - أخرجا أوله
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجا الجمع بين المضمضة والاستنشاق (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 534 - أخرجا أوله
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں (اعضاء کو) ایک ایک بار دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو ایک ساتھ (ایک ہی چلو سے) جمع فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو یکجا کرنے کا ذکر روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو یکجا کرنے کا ذکر روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
حدیث نمبر: 542
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا القَعنَبي، حدثنا داود بن قيس الفَرَّاء، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسار، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ توضأ بغَرْفةٍ غَرْفةٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وضو کے ہر عضو کے لیے) ایک ایک چلو پانی لے کر وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 542]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 542]
26. الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
موزوں پر مسح کرنا۔
حدیث نمبر: 543
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا محمد بن إسحاق المسيَّبي (3) بالمدينة، حدثنا عبد الله بن نافع، عن داود بن قيس ومالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أسامة بن زيد، عن بلال قال: دخلتُ الأسوافَ (4) مع رسول الله ﷺ فذهب لحاجتِه، قال: فجاء فناولتُه ماءً فتوضأ، ثم ذهب ليُخرِجَ ذراعَيهِ من جَيْبه فلم يَقدِرْ فأخرجهما من تحت الجُبَّة، فتوضأ ومَسَحَ على خُفَّيه (5) .
هذا حديث صحيح من حديث مالك بن أنس، وهو صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفيه فائدة كبيرة وهي: أنهما لم يخرجا حديثَ صفوان بن عسَّال في مسح رسول الله ﷺ على الخُفَّين في الحَضَر وذِكْر التوقيت فيه (1) ، إنما اتفقا على أخبار علي بن أبي طالب والمغيرة بن شُعْبة في المَسح على الخُفَّين (2) ..... (3) فإنَّ الأسواف مَحَلَّة مشهورة من محَالِّ المدينة. والحديث مشهور بداود بن قيس الفرَّاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 536 - على شرطهما
هذا حديث صحيح من حديث مالك بن أنس، وهو صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفيه فائدة كبيرة وهي: أنهما لم يخرجا حديثَ صفوان بن عسَّال في مسح رسول الله ﷺ على الخُفَّين في الحَضَر وذِكْر التوقيت فيه (1) ، إنما اتفقا على أخبار علي بن أبي طالب والمغيرة بن شُعْبة في المَسح على الخُفَّين (2) ..... (3) فإنَّ الأسواف مَحَلَّة مشهورة من محَالِّ المدينة. والحديث مشهور بداود بن قيس الفرَّاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 536 - على شرطهما
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ”اسواف“ (مدینہ کے ایک باغ) میں گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر جب واپس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں بازو قمیص کے گریبان سے نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ (تنگ ہونے کی وجہ سے) نہ نکل سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو مکمل کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔
یہ حدیث امام مالک بن انس کی روایت سے صحیح ہے، اور یہ امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر بھی صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ شیخین نے مقیم کی حالت میں موزوں پر مسح اور اس کی مدت کے تعین کے بارے میں صفوان بن عسال کی حدیث روایت نہیں کی، بلکہ انہوں نے سیدنا علی اور مغیرہ بن شعبہ کی روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ”اسواف“ مدینہ کے مشہور محلوں میں سے ایک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 543]
یہ حدیث امام مالک بن انس کی روایت سے صحیح ہے، اور یہ امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر بھی صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ شیخین نے مقیم کی حالت میں موزوں پر مسح اور اس کی مدت کے تعین کے بارے میں صفوان بن عسال کی حدیث روایت نہیں کی، بلکہ انہوں نے سیدنا علی اور مغیرہ بن شعبہ کی روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ”اسواف“ مدینہ کے مشہور محلوں میں سے ایک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 543]
حدیث نمبر: 544
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعَيم، عن داود بن قيس، عن زيد بن أسلَمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن أسامة بن زيد قال: دخل النبيُّ ﷺ الأسوافَ فذهب لحاجتِه ومعه بلال، ثم خَرَجا، فسألتُ بلالًا: ماذا صنع؟ قال: توضَّأَ فغَسَلَ وجهَه ويديه ومسح برأسِه ومسح على الخُفَّين (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بداود بن قيس.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بداود بن قيس.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”اسواف“ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب وہ باہر آئے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، سر کا مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح فرمایا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے داؤد بن قیس سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 544]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے داؤد بن قیس سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 544]
حدیث نمبر: 545
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسين بن علي؛ ثم حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن أحمد بن أبي عبيد الله بمصر، حدثنا عبد العزيز بن عِمران بن مِقْلاص وحَرمَلة بن يحيى قالا: أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن حَبَّان بن واسع، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد الأنصاري قال: رأيت رسولَ الله ﷺ يتوضَّأُ، فأخذ ماءً لأُذنيه خلافَ الماءِ الذي مسح به رأسَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا سَلِمَ من ابن أبي عُبيد الله هذا، فقد احتجَّا جميعًا بجميع رواته. وقد حدَّثَناه أبو الوليد عن أبي علي. وشاهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا سَلِمَ من ابن أبي عُبيد الله هذا، فقد احتجَّا جميعًا بجميع رواته. وقد حدَّثَناه أبو الوليد عن أبي علي. وشاهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کانوں (کے مسح) کے لیے الگ سے پانی لیا جو اس پانی کے علاوہ تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح فرمایا تھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 545]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 545]
حدیث نمبر: 546
ما حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه غيرَ مرَّة، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن حَبَّان بن واسع، أنَّ أباه حدثه، أنه سمع عبدَ الله بن زيد: أنَّ النبي ﷺ مَسَحَ أُذنيه [بماءٍ] (1) غيرِ الماء الذي مسح به رأسَه. وهذا يصرِّح بمعنى الأول، وهو صحيحٌ مثله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 539 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 539 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کانوں کا مسح اس پانی کے علاوہ دوسرے پانی سے کیا جس سے سر کا مسح فرمایا تھا۔ یہ روایت پہلی روایت کے معنی کی وضاحت کرتی ہے اور اس کی طرح صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 546]
حدیث نمبر: 547
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الرُّبيِّع بنت مُعوِّذ: أنَّ النبي ﷺ مسح أُذنيه باطنَهما وظاهرَهما (2) . ولم يحتجَّا بابن عَقيلٍ، وهو مستقيم الحديث مُقدَّم في الشَّرَف.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 540 - ابن عقيل مستقيم الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 540 - ابن عقيل مستقيم الحديث
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح فرمایا۔
اگرچہ شیخین نے ابن عقیل سے احتجاج نہیں کیا، لیکن ان کی حدیث درست اور قابل قبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 547]
اگرچہ شیخین نے ابن عقیل سے احتجاج نہیں کیا، لیکن ان کی حدیث درست اور قابل قبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 547]
27. أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
جنابت سے غسل کے احکام۔
حدیث نمبر: 548
حدثنا أبو العباس، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرِير وأبو داود. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب وحفص بن عمر وحجَّاج بن مِنْهال ومسلم بن إبراهيم، قالوا: حدثنا شُعْبة، عن عَمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن سَلِمة قال: دخلنا على عليٍّ أنا ورجلان: رجلٌ منا ورجلٌ من بني أَسد، قال: فبعثهما لحاجته وقال: إنكما عِلْجانِ فعالِجَا عن دِينِكما، قال: ثم دخل المَخرَجَ ثم خرج، فدعا بماءٍ فغسل يديه، ثم جعل يقرأُ القرآنَ، فكأنَّا أَنكَرْنا، فقال: كأنكما أنكَرتُما! كان رسول الله ﷺ يقضي الحاجةَ ويقرأُ القرآنَ، ويأكلُ اللَّحمَ، ولم يكن يَحجُبُه عن قراءَتِه شيءٌ ليس الجنابةَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، والشيخان لم يحتجَّا بعبد الله بن سَلِمة، ومدار الحديث عليه، وعبد الله بن سَلِمة غيرُ مطعونٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 541 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، والشيخان لم يحتجَّا بعبد الله بن سَلِمة، ومدار الحديث عليه، وعبد الله بن سَلِمة غيرُ مطعونٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 541 - صحيح
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور دو دیگر آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے ان دونوں کو کسی کام سے بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں قوی آدمی ہو، لہٰذا اپنے دین کی حفاظت کے لیے محنت کرو۔“ پھر وہ بیت الخلاء تشریف لے گئے، واپسی پر پانی منگوایا اور ہاتھ دھوئے، پھر وہ قرآن پڑھنے لگے، ہمیں یہ بات کچھ عجیب لگی تو انہوں نے فرمایا: ”شاید تم اسے عجیب سمجھ رہے ہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد (وضو کے بغیر) قرآن پڑھ لیا کرتے تھے اور گوشت بھی تناول فرماتے تھے، اور جنابت (ناپاکی) کے علاوہ کوئی بھی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھنے سے نہیں روکتی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عبداللہ بن سلمہ سے احتجاج نہیں کیا لیکن وہ مطعون راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 548]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عبداللہ بن سلمہ سے احتجاج نہیں کیا لیکن وہ مطعون راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 548]
حدیث نمبر: 549
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير وأبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزَّار بمكة في آخرِين، قالوا: حدثنا علي بن عبد العزيز. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي؛ قالا: حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا شُعْبة، عن عاصم الأحوَل، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا أَتى أحدُكم أهلَه ثم أراد أن يَعُودَ فليتوضَّأْ، فإنه أنشَطُ للعَوْدِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما خرَّجاه إلى قوله:"فليتوضأ" فقط، ولم يذكرا فيه"فإنه أنشَطُ للعَوْد"، وهذه لفظة تفرَّد بها شعبةُ عن عاصم، والتفرُّد من مثله مقبولٌ عندهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 542 - لم يخرجا آخره
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما خرَّجاه إلى قوله:"فليتوضأ" فقط، ولم يذكرا فيه"فإنه أنشَطُ للعَوْد"، وهذه لفظة تفرَّد بها شعبةُ عن عاصم، والتفرُّد من مثله مقبولٌ عندهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 542 - لم يخرجا آخره
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ سے قربت کرے اور پھر دوبارہ (قربت کا) ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے، کیونکہ یہ دوبارہ لوٹنے کے لیے زیادہ چستی کا باعث ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ”اسے وضو کرنا چاہیے“ تک روایت کیا ہے اور اس میں چستی والے الفاظ کا ذکر نہیں فرمایا، یہ الفاظ شعبہ کی انفرادیت ہیں جو کہ شیخین کے ہاں مقبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 549]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ”اسے وضو کرنا چاہیے“ تک روایت کیا ہے اور اس میں چستی والے الفاظ کا ذکر نہیں فرمایا، یہ الفاظ شعبہ کی انفرادیت ہیں جو کہ شیخین کے ہاں مقبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 549]