المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. قِصَّةُ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ الْمُنَافِقِ
عبداللہ بن اُبی منافق کی موت کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 1279
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرَّحمن، عن سفيان، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابرٍ قال: كان النبيُّ ﷺ يَعودُني ليس براكبِ بغلٍ ولا بِرْذَونٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (پیدل چل کر) میری عیادت کے لیے تشریف لایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نہ کسی خچر پر سوار ہوتے تھے اور نہ ہی کسی ترکی گھوڑے «بِرْذَونٍ» پر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی صحیح میں جگہ نہیں دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1279]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی صحیح میں جگہ نہیں دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1279]
6. ثَوَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ
بیمار کی عیادت کا اجر و ثواب۔
حدیث نمبر: 1280
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عليٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن رجلٍ يعودُ مريضًا مُمسِيًا إلّا خرج معه سَبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُصبحَ، وكان له خريفٌ في الجنة، ومن أتاه مصبحًا خرج معه سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يستغفرون له حتى يُمسِي، وكان له خريفٌ في الجنة" (1) . هذا إسنادٌ صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، لأنَّ جماعةً من الرواة أوقفوه عن الحكم بن عُتَيبة ومنصور بن المعتمِر عن ابن أبي ليلى عن عليٍّ من حديث شعبةَ عنهما، وأنا على أصلي في الحُكم لراوي الزيادة.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں چنے ہوئے پھلوں کا ایک باغ «خَرِيفٌ» ہوگا، اور جو شخص صبح کے وقت عیادت کے لیے آتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں چنے ہوئے پھلوں کا باغ «خَرِيفٌ» ہوگا۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے حکم بن عتیبہ اور منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے جو کہ شعبہ کی ان دونوں سے روایت ہے، لیکن میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ زیادت (اضافی معلومات) کو قبول کیا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1280]
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے حکم بن عتیبہ اور منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے جو کہ شعبہ کی ان دونوں سے روایت ہے، لیکن میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ زیادت (اضافی معلومات) کو قبول کیا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1280]
حدیث نمبر: 1281
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفَضْل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا حَجَّاج بن محمد، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن زيد بن أرقم قال: عادَني رسول الله ﷺ من وَجَعٍ كان بعَيني (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من حديث أنس بن مالك:
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من حديث أنس بن مالك:
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ کے درد کی وجہ سے میری عیادت فرمائی۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1281]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1281]
حدیث نمبر: 1282
حدَّثَناه أبو عليٍّ الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا محمد بن يحيى بن كثير الحِمْصي، حدثنا محمد بن المصفَّى، حدثنا معاوية بن حفص، حدثنا مالك بن مِغوَلٍ، عن الزُّبير بن عَدِيّ، عن أنسٍ قال: عاد رسولُ الله ﷺ زيدَ بنَ أرقمَ من رَمَدٍ كان به (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی آنکھ کے آشوب (درد و ورم) کی وجہ سے ان کی عیادت فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1282]
حدیث نمبر: 1283
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصَّمد بن الفضل البَلْخِي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا الجُعَيد بن عبد الرحمن، عن عائشة بنت سعد، أنَّ أباها قال: اشتكيتُ بمكة، فجاءني رسول الله ﷺ يَعودُني، ووَضَع يده على جبهتي، ثم مسح صدري وبطني ثم قال:"اللهم اشْفِ سعدًا وأتمِمْ له هِجرتَه" (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1267 - لم يخرجاه بهذا اللفظ
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1267 - لم يخرجاه بهذا اللفظ
سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مکہ مکرمہ میں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک میری پیشانی پر رکھا، پھر میرے سینے اور پیٹ پر پھیرا اور پھر فرمایا: «اللهمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» ”اے اللہ! سعد کو شفا عطا فرما اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1283]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1283]
7. الدُّعَاءِ الَّذِي يَشْفِي اللَّهُ بِهِ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ
وہ دعا جس کے ذریعے اللہ اس بیمار کو شفا دیتا ہے جس کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا۔
حدیث نمبر: 1284
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم العدلُ بمَرْو، حدثنا أحمد ابن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا الرَّبيع بن يحيى، حدثنا شُعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، حدثنا يزيد أبو خالد، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال:"مَن عادَ مريضًا لم يَحضُرْ أجلُه، فقال عنده سبعَ مِرارٍ: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَك، إلّا عافاه اللهُ من ذلك المرض" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو، اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے۔“ تو اللہ تعالیٰ اسے اس مرض سے ضرور عافیت عطا فرما دے گا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1284]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1284]
حدیث نمبر: 1285
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد ربه بن سعيد، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن عادَ أخاه المسلم، فقعد عندَ رأسه، ثم قال سبعَ مرات: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم أن يَشفِيكَ، عُوفيَ إن لم يكن أجلُه حَضَر" (1) .
هذا حديث شاهد صحيح غريب من رواية المِصريِّين عن المدنيين عن الكوفيين، لم نكتبه عاليًا إلّا عنه. وقد خالف الحجاجُ بن أرطاةَ الثقاتِ في هذا الحديث عن المنهالِ بن عمرو:
هذا حديث شاهد صحيح غريب من رواية المِصريِّين عن المدنيين عن الكوفيين، لم نكتبه عاليًا إلّا عنه. وقد خالف الحجاجُ بن أرطاةَ الثقاتِ في هذا الحديث عن المنهالِ بن عمرو:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے۔“ تو اگر اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو تو اسے ضرور شفا نصیب ہوگی۔“
یہ حدیث ایک شاہد، صحیح اور غریب ہے جو مصریوں کی مدنیوں سے اور مدنیوں کی کوفیوں سے روایت ہے، جسے ہم نے صرف اسی سند سے عالی لکھا ہے۔ اس حدیث میں حجاج بن ارطاہ نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1285]
یہ حدیث ایک شاہد، صحیح اور غریب ہے جو مصریوں کی مدنیوں سے اور مدنیوں کی کوفیوں سے روایت ہے، جسے ہم نے صرف اسی سند سے عالی لکھا ہے۔ اس حدیث میں حجاج بن ارطاہ نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1285]
حدیث نمبر: 1286
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الحجّاج بن أرْطاة، عن المِنهال بن عمرو، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباسٍ، قال: قال رسول الله ﷺ:"ما من مسلمٍ عادَ أخاه، فدخل عليه ولم يَحضُرْ أجلُه، فقال: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَ فلانًا من مَرَضِه، سبعَ مراتٍ، إِلَّا شَفَاه الله منه" (1) . هذا مما لا يُعَدُّ خلافًا، فإنَّ الحجاج بن أرْطاة دون عبد ربِّه بن سعيد وأبي خالد الدَّالاني في الحفظ والإتقان، فإن ثَبَتَ حديثُ عبد الله بن الحارث من هذه الرواية فإنه شاهدٌ لسعيد بن جُبير.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی ایسا مسلمان جو اپنے کسی بھائی کی عیادت کرے اور اس کے پاس جائے جب کہ ابھی اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو، پھر وہ سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ مَرَضِهِ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ فلاں کو اس کی بیماری سے شفا عطا فرمائے۔“ تو اللہ اسے ضرور شفا عطا فرما دے گا۔“
یہ ایسی روایت نہیں جسے خلاف شمار کیا جائے، کیونکہ حجاج بن ارطاہ حفظ و اتقان میں عبد ربہ بن سعید اور ابو خالد الدالانی سے کم تر ہیں، اگر اس روایت سے عبد اللہ بن حارث کی حدیث ثابت ہو جائے تو یہ سعید بن جبیر کی حدیث کے لیے شاہد بن جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1286]
یہ ایسی روایت نہیں جسے خلاف شمار کیا جائے، کیونکہ حجاج بن ارطاہ حفظ و اتقان میں عبد ربہ بن سعید اور ابو خالد الدالانی سے کم تر ہیں، اگر اس روایت سے عبد اللہ بن حارث کی حدیث ثابت ہو جائے تو یہ سعید بن جبیر کی حدیث کے لیے شاہد بن جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1286]
حدیث نمبر: 1287
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا القَعْنبي فيما قَرأ على مالك، عن يزيد بن خُصَيفة. وحدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا يزيد بن خُصَيفة، عن عمرو بن عبد الله بن كعب السَّلَمي، أنَّ نافع بن جُبير أخبره: أنَّ عثمان بن أبي العاص قَدِم على رسول الله ﷺ وقد أخذه وَجَعٌ قد كاد يُبطِلُه، فذكر ذلك لرسول الله ﷺ، فزَعَم أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"ضَعْ يمينَك على مكانك الذي تشتكي، وامسَحْ به سبعَ مرَّاتٍ وقل: أعوذُ بِعِزَّة الله وقُدرتِه من شَرِّ ما أجدُ، في كلِّ مَسْحةٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الجُرَيري، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن عثمان بن أبي العاص، بغير هذا اللفظ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الجُرَيري، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن عثمان بن أبي العاص، بغير هذا اللفظ (1) .
سیدنا نافع بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ انہیں ایسا شدید درد لاحق تھا جس نے انہیں قریب قریب ناکارہ کر دیا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اس جگہ رکھو جہاں تمہیں تکلیف ہے اور اسے سات مرتبہ مسح کرو اور ہر بار مسح کرتے وقت یہ کہو: «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں محسوس کر رہا ہوں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1287]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1287]
حدیث نمبر: 1288
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلِحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث بن سعد، عن زِيادةَ بن محمد الأنصاري، عن [محمد بن] (2) كعب القُرَظي، عن فَضَالة بن عُبيد: أَنَّ رجلين أقبلا يَلتمِسان [لأبيهما] (1) الشفاءَ من البول، فانطُلِقَ بهما إلى أبي الدرداء، فذَكَرا وجعَ أبيهما له، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ربَّنا (2) اللهُ الذي في السماء، تقدَّسَ اسمُك، أمرُك في السماء والأرض، كما رحمتُك في السماء فاجعلْ رحمتَك في الأرض، واغفِرْ لنا ذُنوبَنا وخطايانا، إنك ربُّ الطَّيِّبين، فأنزِلْ رحمةً من رحمتِكَ، وشِفاءً من شِفائك على هذا الوَجَع، فيَبرأُ إِن شاء الله تعالى" (3) . قد احتجَّ الشيخان بجميع رواة هذا الحديث غير زيادةَ بن محمد، وهو شيخٌ من أهل مصر قليل الحديث.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنے والد کے لیے پیشاب کی بندش سے شفا کی تلاش میں نکلے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر تکلیف کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ، تَقَدَّسَ اسْمُكَ، أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ، وَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَخطَايَانَا، إِنَّكَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ، فَأَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ، وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ، فَيَبْرَأُ» ”ہمارا رب اللہ ہے جو آسمان میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین میں نافذ ہے، جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے اسی طرح اپنی رحمت زمین میں بھی کر دے، اور ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرما، بیشک تو ہی پاکیزہ لوگوں کا رب ہے، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفا میں سے ایک شفا اس درد پر نازل فرما تاکہ یہ تندرست ہو جائے۔“ تو وہ اللہ کے حکم سے تندرست ہو جائے گا۔
شیخین نے زیاد بن محمد کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جو کہ مصر کے ایک قلیل الحدیث شیخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1288]
شیخین نے زیاد بن محمد کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جو کہ مصر کے ایک قلیل الحدیث شیخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1288]