المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. قِصَّةُ أَعْرَابِيٍّ لَمْ تَأْخُذْهُ الْحُمَّى وَالصُّدَاعُ قَطُّ
ایک اعرابی کا واقعہ جسے کبھی بخار اور سر درد نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 1299
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله لأعرابيٍّ:"هل أخَذَتْكَ أمُّ مِلْدَمٍ قطُّ؟" قال: وما أمُّ مِلْدَم؟ قال:"حرٌّ بين الجِلْد واللَّحم" قال: فما وجدتُ هذا قطّ، قال:"فهل أخَذَكَ الصُّداعُ قطّ؟" قال: وما الصُّداع؟ قال:"عِرْقٌ يَضْرِبُ على الإنسان في رأسِه" قال: ما وجدتُ هذا قط، فلمَّا ولَّى قال رسول الله ﷺ:"مَنْ سَرَّه أن يَنظُر إلى رجلٍ من أهلِ النار، فليَنظُرْ إلى هذا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پوچھا: ”کیا تجھے کبھی «أُمُّ مِلْدَمٍ» ”بخار“ لاحق ہوا ہے؟“ اس نے پوچھا: «أُمُّ مِلْدَم» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تپش ہے جو کھال اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے۔“ اس نے کہا: مجھے تو کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے کبھی «الصُّداعُ» ”سر درد“ ہوا ہے؟“ اس نے پوچھا: «الصُّداع» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک رگ ہے جو انسان کے سر میں دھڑکتی ہے۔“ اس نے کہا: مجھے تو کبھی یہ بھی نہیں ہوا، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو یہ دیکھنا پسند ہو کہ دوزخی آدمی کیسا ہوتا ہے تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1299]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1299]
حدیث نمبر: 1300
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا عِمْران بن زيد الثَّعْلبي، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن سالم بن عبد الله، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما ضَرَبَ من مؤمنٍ عِرْقٌ إلا حطَّ الله عنه به خَطِيئة، وكَتَبَ له به حَسَنة، ورفَعَ له به دَرَجة"" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعمران بن زيد الثعلبي شيخ من أهل الكوفة.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعمران بن زيد الثعلبي شيخ من أهل الكوفة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کی جب بھی کوئی رگ (تکلیف سے) دھڑکتی ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کی ایک خطا معاف کر دیتا ہے، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عمران بن زید ثعلبی کوفہ کے ایک بزرگ (شیخ) ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1300]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عمران بن زید ثعلبی کوفہ کے ایک بزرگ (شیخ) ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1300]
14. مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ عَنُه مِنْ سَيِّئَاتِهِ
مؤمن کے جسم کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1301
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يعلى بن عُبيد، حدثنا طلحة بن يحيى، عن أبي بُرْدة (1) ، عن معاوية قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما من شيءٍ يصيبُ المؤمنَ فِي جَسَده يُؤذِيهِ، إِلَّا كفَّر عنه من سَيئاته" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کو اس کے جسم میں پہنچنے والی کوئی بھی ایسی چیز جو اسے اذیت دے، وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1301]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1301]
حدیث نمبر: 1302
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن سَلْمان الحَجْريّ، عن عمرو بن أبي عمرو، عن المَقْبريّ، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الله لَيَبتلي عبدَه بالسَّقَم حتى يُكفِّرَ ذلك عنه كلَّ ذَنْب" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیماری کے ذریعے آزماتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بیماری اس کے ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1302]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1302]
15. الْمَرِيضُ يُكْتَبُ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي الصِّحَّةِ
بیمار کے لیے وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو وہ صحت کے زمانے میں کیا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 1303
أخبرني أبو النضر الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة، حدثنا قَبِيصة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذيفة؛ قالا: حدثنا سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن القاسم بن مُخَيْمِرة، عن عبد الله بن عمرو قال: قال النبيُّ ﷺ:"ما من مسلمٍ يُصابُ ببلاءٍ في جسده إلَّا أمر الله الحفَظَة الذين يحفظُونه: أن اكتُبوا لعَبْدي في كلِّ يوم وليلة من الخير على ما كان يَعملُ ما دام محبوسًا في وَثَاقي" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی کوئی مسلمان جسمانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو جو اس کی حفاظت پر مامور ہیں، یہ حکم دیتا ہے کہ: میرے اس بندے کے حق میں ہر دن اور رات وہ تمام نیکیاں لکھو جو یہ (تندرستی کی حالت میں) کیا کرتا تھا، جب تک یہ میری قید میں محبوس ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1303]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1303]
حدیث نمبر: 1304
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا ابن أبي مريم، عن نافع بن (2) يزيد، حدثني جعفر بن رَبيعَة، عن عُبيد الله (3) بن عبد الرحمن بن السائب، أنَّ عبد الحميد بن عبد الرحمن بن أزهَر حدثه عن أبيه عبد الرحمن بن أزهر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنما مَثَلُ العبدِ المؤمن من حين يُصيبُه الوَعْكُ أو الحُمَّى، كَمَثَل حَديدةٍ تدخل النار فيذهَبُ خَبَثُها ويبقى طيِّبُها" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، رواته مدنيُّون ومِصريُّون، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، رواته مدنيُّون ومِصريُّون، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بندے کی مثال اس وقت جب اسے بخار یا تپش لاحق ہوتی ہے، بالکل اس لوہے کی سی ہے جسے آگ میں ڈالا جائے تو اس کی میل کچیل دور ہو جاتی ہے اور اس کا خالص اور عمدہ حصہ باقی رہ جاتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اس کے راوی مدنی اور مصری ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1304]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اس کے راوی مدنی اور مصری ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1304]
حدیث نمبر: 1305
حدثني أبو منصور محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العَتَكيّ، حدثنا بِشْر ابن سَهْل اللَّبَّاد، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن أبي حَلْبَس يزيد بن مَيْسَرة، أنه سمع أمَّ الدرداء تقول: سمعتُ أبا الدرداء يقول: سمعتُ أبا القاسم ﷺ يقول:"إنَّ الله قال: يا عيسى إني باعثٌ من بعدِك أُمةً إن أصابهم ما يحبُّون حَمِدوا الله، وإن أصابهم ما يَكرَهون احتَسَبوا وصبروا، ولا حِلْمَ ولا عِلْمَ، فقال: يا ربِّ، كيف يكون هذا لهم ولا حِلمَ ولا عِلمَ؟! قال: أُعطِيهم من حِلْمي وعِلمي" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہارے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والا ہوں کہ اگر انہیں ان کی پسندیدہ چیز ملے گی تو وہ اللہ کی حمد بیان کریں گے، اور اگر انہیں کوئی ناگوار بات پہنچے گی تو وہ ثواب کی نیت سے صبر کریں گے، حالانکہ ان کے پاس (ذاتی طور پر) نہ اتنا حلم ہوگا اور نہ اتنا علم۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے پاس حلم اور علم نہ ہو (پھر بھی وہ ایسا کریں)؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں انہیں اپنے حلم اور اپنے علم میں سے عطا فرماؤں گا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1305]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1305]
حدیث نمبر: 1306
حدثني بُكَير بن محمد الصُّوفي (2) بمكة، حدثنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا علي بن المَدِيني، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"قال الله ﵎: إذا ابتَلَيتُ عبدي المؤمنَ، فلم يَشْكُني إلى عُوَّادِه أطلَقْتُه من أُسارِي، ثم أبدَلْتُه لحمًا خيرًا من لحمِه، ودَمًا خيرًا من دَمِه، ثم يَستأنِفُ العملَ" (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جب میں اپنے مومن بندے کو (بیماری میں) مبتلا کرتا ہوں اور وہ اپنی عیادت کرنے والوں کے سامنے میرا شکوہ نہیں کرتا، تو میں اسے اپنی قید سے آزاد کر دیتا ہوں، پھر میں اسے اس کے (پرانے) گوشت سے بہتر گوشت اور اس کے (پرانے) خون سے بہتر خون عطا کرتا ہوں، اور وہ اپنے اعمال کا نئے سرے سے آغاز کرتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1306]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1306]
حدیث نمبر: 1307
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن يونس، عن الحسن، عن عبد الله بن مُغفِّل: أنَّ امرأةً كانت بَغِيًّا في الجاهلية، فمرَّ بها رجلٌ أو مرَّت به، فبَسَطَ يدَه إليها، فقالت: مَهْ، إِنَّ الله أذهَبَ بالشرك وجاء بالإسلام، فتركها ووَلَّى، وجعل ينظرُ إليها حتى أصاب وجهُه الحائطَ، فأتى النبيَّ ﷺ لها فذَكَر ذلك له، فقال:"أنت عبدٌ أراد الله بكَ خيرًا، إنَّ الله ﵎ إذا أراد بعبدٍ خيرًا، عجَّل له عقوبةَ ذَنْبِه [في الدنيا، وإذا أراد بعبدٍ شرًّا أمسكَ عليه بذَنْبِه] (1) حتى يُوافَى به يومَ القيامة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہلیت کے دور میں ایک عورت بدکار تھی، ایک شخص اس کے پاس سے گزرا یا وہ اس کے پاس سے گزری، تو اس شخص نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس عورت نے کہا: رک جاؤ! اللہ نے شرک کو ختم کر دیا اور اسلام لے آیا ہے۔ پس وہ شخص اسے چھوڑ کر پیٹھ پھیر کر چل دیا، اور وہ (ندامت یا توجہ میں) اسے مڑ مڑ کر دیکھتا رہا یہاں تک کہ اس کا چہرہ ایک دیوار سے جا ٹکرایا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ بندے ہو جس کے ساتھ اللہ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا، کیونکہ اللہ عزوجل جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کے گناہ کی سزا دنیا ہی میں جلدی دے دیتا ہے، اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا کو روک لیتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پورا بدلہ دیا جائے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1307]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1307]
16. لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعٌ مِنْهَا عِيَادَتُهُ إِذَا مَرِضَ وَيُشَيِّعُهُ إِذَا مَاتَ
مسلمان کے مسلمان پر چار حقوق ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے اور فوت ہو جائے تو جنازے کے ساتھ جائے۔
حدیث نمبر: 1308
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي؛ قالا: حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن أبيه، عن حَكِيم بن أفلح، عن أبي مسعود الأنصاري، عن النبي ﷺ قال:"لِلمُسلم على المسلم أربعُ خِلالٍ: يجيبُه إذا دعاه، ويَعودُه إذا مَرِض ويُشمِّتُه إِذا عَطَسَ، ويُشيِّعُه إذا مات" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجاه من حديث الأوزاعي، عن الزُّهري، عن سعيد، عن أبي هريرة:"حق المسلم على المسلم خمسٌ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجاه من حديث الأوزاعي، عن الزُّهري، عن سعيد، عن أبي هريرة:"حق المسلم على المسلم خمسٌ" (2) .
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب وہ اسے دعوت دے تو قبول کرے، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، جب اسے چھینک آئے تو اس کا جواب دے، اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے اوزاعی کی زہری سے روایت کے ذریعے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1308]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے اوزاعی کی زہری سے روایت کے ذریعے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1308]