المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ کے احکام کی کتاب۔
حدیث نمبر: 1443
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمرٌو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا عِمْران بن داوَرَ (1) القَطَّان، حدثنا مَعمَر بن راشد، عن الزُّهري، عن أنس بن مالكٍ، قال: لما تُوفِّي رسولُ الله ﷺ ارتَدَّتِ العرب، فقال عمر بن الخطّاب: يا أبا بكر، أتريدُ أن تُقاتِلَ العرب؟ قال: فقال أبو بكر: إنَّما قال رسولُ الله ﷺ:"أُمِرتُ أن أقاتلَ الناس حتى يَشْهَدُوا أن لا إله إلّا الله، وأنِّي رسول الله، ويُقِيمُوا الصلاة، ويُؤتُوا الزكاة"، والله لو مَنَعوني عَنَاقًا مما كانوا يُعطُونَ رسولَ الله ﷺ، لأُقاتِلنَّهم عليه. قال عمر: فلمَّا رأيتُ رأيَ أبي بكرٍ قد شُرِحَ عليه، عَلِمتُ أنه الحقّ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجا عِمْرانَ القَطَّان، وليس لهما حُجَّة في تركه، فإنه مستقيم الحديث. وشاهدُه حديث أبي العَنْبَس ولم يُخرجاه:
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجا عِمْرانَ القَطَّان، وليس لهما حُجَّة في تركه، فإنه مستقيم الحديث. وشاهدُه حديث أبي العَنْبَس ولم يُخرجاه:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور عرب کے لوگ (زکوٰۃ کے معاملے میں) مرتد ہو گئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے ابوبکر! کیا آپ عربوں سے جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہی فرمایا تھا کہ: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں“، پس اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی دینے سے انکار کیا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کی خاطر ان سے ضرور جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اس رائے کے لیے کھول دیا ہے تو میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عمران قطان کی روایت نہیں لی لیکن ان کے پاس اسے ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ان کی حدیث درست ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1443]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عمران قطان کی روایت نہیں لی لیکن ان کے پاس اسے ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ان کی حدیث درست ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1443]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن من حديث أبي هريرة، عمران بن داور القطان لا تحتمل مخالفته، وقد خالفه هنا عبد الرزاق فرواه (6916) - وعنه أحمد في "المسند" 1/ (335) - عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عتبة بن مسعود، عن أبي هريرة. وتابع معمرًا جمعٌ في روايته عن الزهري، ...» [ترقيم الرساله 1443] [ترقيم الشركة 1431]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1444
أخبرَناه أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الهَيثَم بن خالد، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا أبو العَنْبَس سعيد بن كَثِير، حدثني أَبي، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"أُمرتُ أن أقاتلَ الناس حتى يَشهَدوا أن لا إله إلّا الله، ويُقيمُوا الصَّلاة، ويُؤتُوا الزَّكاة، ثم حُرِّمت عليَّ دماؤُهم وأموالُهم وحِسابُهم (1) على الله ﷿" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر مجھ سے ان کے خون اور ان کے اموال محفوظ ہو جائیں گے اور ان کا (باطنی) حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہوگا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1444] [ترقيم الشركة 1432]
2. أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ
سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین افراد اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1445
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا أبو المُثنَّى العَنْبري، حدثنا علي بن عبد الله المَدِيني، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن يحيى بن أبي كَثِير، وحدثني عامرُ العُقَيلي (3) ، أنَّ أباه أخبره، أنه سمع أبا هريرةَ يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"عُرِضَ عليَّ أولُ ثلاثةٍ يَدخُلون الجنة، وأولُ ثلاثةٍ يَدخُلون النار، فأمّا أولُ ثلاثةٍ يدخلونَ الجنةَ: فالشهيدُ، وعبدٌ مملوكٌ أحسَنَ عِبادةَ ربِّه ونَصَحَ لسيِّده، وعَفِيفٌ مُتعفِّفٌ ذو عِيالٍ، وأما أولُ ثلاثةٍ يدخلونَ النار: فأميرٌ مُسلَّط، وذو ثَرُوةٍ من مالٍ لا يؤدِّي حقَّ الله في ماله، وفقيرٌ فَجُور" (1) . عامر بن شَبيب العُقَيلي شيخٌ من أهل المدينة مستقيم الحديث. وهذا أصلٌ في هذا الباب تفرَّد به عنه يحيى بن أبي كَثِير، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث الأعمش عن عبد الله بن مُرَّة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین افراد اور سب سے پہلے جہنم میں جانے والے تین افراد پیش کیے گئے۔ رہے وہ تین جو سب سے پہلے جنت میں جائیں گے، تو وہ شہید ہے، اور وہ غلام جس نے اپنے رب کی بہترین عبادت کی اور اپنے آقا کی خیر خواہی کی، اور وہ پاک دامن و عفت مآب شخص جو کثیر العیال ہونے کے باوجود (حرام اور سوال سے) بچتا رہا۔ اور رہے وہ تین جو سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے، تو وہ جابر حکمران ہے، اور وہ دولت مند جو اپنے مال میں اللہ کا حق ادا نہیں کرتا، اور وہ فقیر جو تکبر کرنے والا اور بدکار ہو۔“
عامر بن شبیب عقیلی مدینہ کے ایک بزرگ ہیں جن کی حدیث درست ہے۔ اس باب میں یہ اصل ہے جس کی روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر منفرد ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد اعمش کی عبداللہ بن مرہ سے روایت ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1445]
عامر بن شبیب عقیلی مدینہ کے ایک بزرگ ہیں جن کی حدیث درست ہے۔ اس باب میں یہ اصل ہے جس کی روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر منفرد ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد اعمش کی عبداللہ بن مرہ سے روایت ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1445]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1445] [ترقيم الشركة 1433]
3. آكِلُ الرِّبَا مَلْعُونٌ
سود کھانے والا ملعون ہے۔
حدیث نمبر: 1446
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني عمرو بن محمد النَّاقِد، حدثنا يحيى بن عيسى الرَّمْلي، عن الأعمش، عن عبد الله بن مُرَّة، عن مسروقٍ، قال: قال (1) عبدُ الله: آكلُ الربا، ومُوكِلُه، وشاهداهُ إذا عَلِماهُ، والواشِمةُ والمُوتَشِمةُ، ولاوِي الصَّدقةِ، والمرتدُّ أعرابيًّا بعد الهجرة، مَلعُونُون (2) على لسانِ محمدٍ ﷺ يومَ القيامة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بيحيى بن عيسى الرَّمْلي، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بيحيى بن عيسى الرَّمْلي، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سود کھانے والا، اسے کھلانے والا، اس کے دونوں گواہ اگر وہ اس کے سود ہونے کا علم رکھتے ہوں، جسم گودنے والی اور گودوانے والی، زکوٰۃ میں ٹال مٹول کرنے والا، اور ہجرت کے بعد دوبارہ جاہلانہ دیہاتی زندگی کی طرف لوٹ جانے والا، یہ سب قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر ملعون قرار دیے گئے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے یحییٰ بن عیسیٰ رملی سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1446]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے یحییٰ بن عیسیٰ رملی سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1446] [ترقيم الشركة 1434]
4. زَكَاةُ الْبَهَائِمِ وَالْحَبِّ .
جانوروں اور اناج کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1447
أخبرني دَعْلَج بن أحمد السِّجْزِي ببغداد، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا سعيد بن سَلَمة بن أبي الحُسام، حدثنا عِمْران بن أبي أَنَس، عن مالك بن أَوْس بن الحَدَثان، عن أبي ذرٍّ: أَنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"في الإبلِ صَدَقتُها، وفي الغَنَم صَدَقتُها، وفي البقر صَدَقتُها، وفي البَزِّ صَدَقتُه، ومَن رَفَعَ دنانيرَ أو دراهمَ أو تِبْرًا أو فضةً لا يُعِدُّها لغَريمٍ، ولا يُنفِقُها في سبيلِ الله، فهو كَنزٌ يُكوَى به يومَ القيامة" (1) . تابعه ابن جُرَيج عن عِمْران بن أبي أَنَس:
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں میں ان کی زکوٰۃ ہے، بکریوں میں ان کی زکوٰۃ ہے، گائے میں اس کی زکوٰۃ ہے اور تجارتی سامان «بَزِّ» میں اس کی زکوٰۃ ہے، اور جس نے دینار، درہم یا کچا سونا و چاندی جمع کر کے رکھا جسے وہ نہ تو کسی قرض خواہ کے لیے تیار رکھتا ہے اور نہ ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، تو وہ کنز (خزانہ) ہے جس کے ذریعے اسے قیامت کے دن داغا جائے گا۔“
اسے ابن جریج نے عمران بن ابی انس سے بھی روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1447]
اسے ابن جریج نے عمران بن ابی انس سے بھی روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1447]
تخریج الحدیث: «ضعيف، وهذا إسناد ظاهره السلامة، إلّا أنَّ الصواب أنَّ سعيد بن سلمة بن أبي الحسام لم يروه عن عمران، بينهما موسى بن عبيدة الرَّبَذي، وهو ضعيف، فقد أخرجه الدارقطني في "السنن" (1933) - ومن طريقه البيهقي 4/ 147 - عن دعلج السجزي، عن هشام بن علي، عن عبد الله بن ...» [ترقيم الرساله 1447] [ترقيم الشركة 1435]
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1448
أخبرناه أبو قُتيبةَ سَلْم بن الفَضْل الأَدَمي بمكة، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا زهير بن حَرْب، حدثنا محمد بن بَكْر، عن ابن جُرَيج، عن عِمْران بن أبي أَنس، عن مالك بن أوس بن الحَدَثان، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"في الإبل صَدَقتُها، وفي الغنم صَدَقتُها، وفي البَزِّ صَدَقتُه" (1) . كلا الإسنادين صحيحان (2) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں میں ان کی زکوٰۃ ہے، بکریوں میں ان کی زکوٰۃ ہے اور تجارتی سامان میں اس کی زکوٰۃ ہے۔“
یہ دونوں اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1448]
یہ دونوں اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ ابن جريج - وهو عبد الملك بن عبد العزيز - مدلس وقد عنعنه، بل صرَّح بأنه لم يسمعه من عمران عند أحمد في "المسند" 35/ (21557)، وكذلك قال البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "العلل الكبير": ابن جريج لم يسمع من عمران بن أبي أنس، يقول: ...» [ترقيم الرساله 1448] [ترقيم الشركة 1436]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1449
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سُليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني سليمان بن بلال، عن شَرِيك بن عبد الله بن أبي نَمِر، عن عطاء بن يَسَار، عن معاذ بن جَبَل: أنَّ رسولَ الله ﷺ بَعَثَه إلى اليمن، فقال:"خُذِ الحَبَّ من الحَبِّ، والشَّاةَ من الغَنَم، والبَعيرَ من الإبل، والبقرةَ من البَقَر" (3) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين إن صَحَّ سماعُ عطاء بن يسار من معاذ بن جبل، فإنِّي لا أُتقِنُه (4) .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”اناج میں سے اناج بطور زکوٰۃ لو، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ اور گائے میں سے گائے لو۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ عطاء بن یسار کا سیدنا معاذ بن جبل سے سماع ثابت ہو جائے کیونکہ مجھے اس کا حتمی طور پر علم نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1449]
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ عطاء بن یسار کا سیدنا معاذ بن جبل سے سماع ثابت ہو جائے کیونکہ مجھے اس کا حتمی طور پر علم نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ عطاء بن يسار لم يدرك معاذ بن جبل، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 1449] [ترقيم الشركة 1437]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
5. التَّغْلِيظُ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1450
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن سالم بن أبي الجَعْد الغَطَفاني، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري، عن ثَوْبان قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن تَرَكَ بعدَه كَنزًا، مُثِّل له يومَ القيامة شُجاعًا أقرَعَ له زَبِيبتان، يَتْبَعُ فَاهُ، فيقول: وَيلَكَ ما لكَ؟ فيقول: أنا كنزُك الذي تَركتَه بعدَك، فلا يزال يَتبعُه حتى يُلْقِمَه يدَه فيَقْضَمُها، ثم يُتبِعُه سائرَ جسدِه" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه أيضًا:
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه أيضًا:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے پیچھے کنز (ایسا خزانہ جس کی زکوٰۃ نہ دی ہو) چھوڑا، قیامت کے دن وہ اس کے لیے ایک نہایت زہریلے اور گنجے سانپ کی شکل میں پیش کیا جائے گا جس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس کے منہ کا پیچھا کرے گا، بندہ کہے گا: ہائے تیرا برا ہو تو کیا چیز ہے؟ وہ جواب دے گا: میں وہی تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا، وہ مسلسل اس کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا اور وہ اسے چبا ڈالے گا، پھر وہ اس کے باقی جسم کو بھی نگل جائے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ان کی شرط پر موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1450]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ان کی شرط پر موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1450]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو المثنى: هو معاذ بن معاذ، وثوبان: هو مولى رسول الله ﷺ.» [ترقيم الرساله 1450] [ترقيم الشركة 1438]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1451
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو صالح وابنُ بُكَير، قالا: حدثنا الليث، عن ابن عَجْلان، عن القَعْقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"يكون كنزُ أحدِكم يومَ القيامةِ شُجاعًا أقرَعَ ذا زَبِيبَتَين، يَتبَعُ صاحبَه، وهو يتعوَّذُ منه، فلا يَزالُ يَتبَعُه وهو يَفِرُّ منه حتى يُلقِمَه إصبَعَه" (2) . قد اتّفقَ الشيخان على إخراج حديث ابن مسعود وابن عُمَر في هذا الباب على سبيل الاختصار، في التغليظ المانع من الزكاة، غيرَ أنهما لم يخرجا حديث أبي هريرة وثَوْبان (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تم میں سے کسی کا (وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو) ایک گنجے سانپ کی شکل میں ظاہر ہوگا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نشان ہوں گے، وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، مالک اس سے پناہ مانگے گا لیکن وہ مسلسل اس کے پیچھے رہے گا یہاں تک کہ جب مالک بھاگتے ہوئے تھک جائے گا تو وہ سانپ اس کی انگلی کو لقمہ بنا لے گا۔“
امام بخاری اور امام مسلم نے اس باب میں سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم کی احادیث تو اختصار کے ساتھ (زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کے طور پر) روایت کی ہیں، لیکن انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہما کی یہ مخصوص حدیث روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1451]
امام بخاری اور امام مسلم نے اس باب میں سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم کی احادیث تو اختصار کے ساتھ (زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کے طور پر) روایت کی ہیں، لیکن انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہما کی یہ مخصوص حدیث روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن عجلان: واسمه محمد وقد توبع. أبو صالح الراوي عن الليث: هو عبد الله بن صالح كاتب الليث، ومتابعه ابن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، والليث: هو ابن سعد، وأبو صالح الراوي عن أبي هريرة: هو ذكوان السمان.» [ترقيم الرساله 1451] [ترقيم الشركة 1439]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1452
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْرُ بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي يحيى سُلَيم بن عامر الكَلَاعي، قال: سمعتُ أبا أُمامةَ يقول: قام رسولُ الله ﷺ فينا في حَجَّةِ الوداع وهو على ناقتِه الجَدْعاء، قد جَعَلَ رِجلَيه في غَرْزَي الرِّكاب، يَتَطاوَل ليُسمِعَ الناس، فقال:"ألا تَسْمَعُون صوتي؟"، فقال رجلٌ من طوائف الناس: فما تَعهَدُ إلينا؟ فقال:"اعبُدوا ربَّكم، وصَلُّوا خَمْسَكم، وصُومُوا شهرَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وأَطِيعُوا ذا أَمرِكم، تدخُلُوا جنَّةَ ربِّكم". قال: قلتُ: يا أبا أمامة، فمِثلُ مَن أنتَ يومئذٍ؟ قال: أنا يا ابنَ أخي يومئذٍ ابنُ ثلاثين سنةً، أُزاحِمُ البعيرَ أُزَحزِحُه قُربًا إلى رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سلیم بن عامر کلاعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی ”جدعاء“ پر سوار ہو کر ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں رکاب میں ڈالے ہوئے تھے اور آواز بلند فرما رہے تھے تاکہ تمام لوگ سن سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟“ تو مجمع میں سے ایک شخص نے عرض کیا: (جی ہاں) آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نمازیں پڑھو، (رمضان کے) مہینے کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے ابوامامہ! اس دن آپ کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں اس وقت تیس سال کا تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے کے لیے (لوگوں کے) اونٹوں کے درمیان سے جگہ بناتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1452]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1452]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1452] [ترقيم الشركة 1440]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح