المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. التَّغْلِيظُ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1453
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عمرو بن الرَّبِيع بن طارق، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا عُبيد الله بن أبي جعفر، أنَّ محمد بن عمرو بن عطاء أخبره، عن عبد الله بن شداد بن الهاد قال: دخلنا على عائشةَ زوجِ النبي ﷺ، فقالت: دَخَلَ عليَّ رسولُ الله ﷺ فرأى في يدي سِخابًا من وَرِقٍ، فقال:"ما هذا يا عائشةُ؟" فقلت: صَنَعتُهنَّ أتزيَّنُ لك فيهنَّ يا رسول الله، فقال:"أتؤدِّين زكاتَهنَّ؟" فقلتُ: لا، أو ما شاء الله من ذلك، قال:"هي حَسْبُكِ من النار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن شداد بن ہاد بیان کرتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میرے ہاتھ میں چاندی کے کچھ موٹے کڑے (سِخاب) دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ آپ کے لیے سنگھار کرنے کی خاطر بنوائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں (یا جو اللہ نے چاہا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ تمہیں آگ میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1453]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، يحيى بن أيوب صدوق حسن الحديث.» [ترقيم الرساله 1453] [ترقيم الشركة 1441]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1454
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبةَ أحمدُ بن الفَرَج، حدثنا عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار، حدثنا محمد بن مُهاجِر، عن ثابت بن عَجْلان، حدثنا عطاء، عن أُم سَلَمة: أنها كانت تَلبَس أَوْضاحًا من ذهب، فسألَتْ عن ذلك النبيَّ ﷺ فقالت: أكَنزٌ هو؟ فقال:"إذا أدَّيتِ زكاتَه، فليسَ بكَنْز" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ سونے کے زیورات (اوضاح) پہنا کرتی تھیں، انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا یہ ”کنز“ (وہ ممنوعہ خزانہ جس پر وعید آئی ہے) کے حکم میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مال کی تم زکوٰۃ ادا کر دو، وہ ”کنز“ (خزانہ) نہیں رہتا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1454]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أبو عتبة أحمد بن الفرج الحمصي حديثه حسن في المتابعات والشواهد وقد توبع، ومن فوقه ثقات إلّا أنَّ عطاء - وهو ابن أبي رباح - لم يسمع من أم سلمة فيما قاله علي بن المديني، ومع ذلك فقد صحَّحه ابن القطان في "بيان الوهم والإيهام" (2535)، وجوَّد إسناده ...» [ترقيم الرساله 1454] [ترقيم الشركة 1442]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 1455
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن المُهاجِر، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"إذا أدّيتَ زكاةَ مالِكَ، فقد أذهبتَ عنكَ شرَّه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده صحيحٌ من حديث المِصْريِّين:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده صحيحٌ من حديث المِصْريِّين:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو تم نے اس مال کا شر (برائی) اپنے آپ سے دور کر دیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اہل مصر کی روایت سے اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1455]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اہل مصر کی روایت سے اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، رجاله ثقات، لكن اختلف في رفعه ووقفه، ورجَّح وقفه أبو زرعة - كما في "علل ابن أبي حاتم" (647) - والبيهقي وابن الملقن. وقد صرَّح بالتحديث ابن جريج - وهو عبد الملك بن عبد العزيز - وأبو الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس - عند عبد الرزاق والبيهقي، لكن حيث روياه موقوفًا.» [ترقيم الرساله 1455] [ترقيم الشركة 1443]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا
6. مَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالٍ حَرَامٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ
جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا بلکہ اس کا وبال اسی پر رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 1456
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا ابن وَهْب، عن عمرو بن الحارث، عن دَرَّاجٍ أبي السَّمْح، عن ابن حُجَيرةَ الأكبرِ الخَوْلاني، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أدَّيتَ الزكاةَ فقد قَضَيتَ ما عليكَ، ومَن جَمَعَ مالًا حرامًا ثم تصدَّق به، لم يكن له فيه أجرٌ، وكان إصْرُه عليه" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے زکوٰۃ ادا کر دی تو تم نے وہ حق ادا کر دیا جو تم پر فرض تھا، اور جس شخص نے حرام طریقے سے مال جمع کیا اور پھر اسے صدقہ کر دیا، تو اسے اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس کا گناہ اسی کے سر رہے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد من أجل درّاج أبي السمح ففيه ضعف ويعتبر به في المتابعات والشواهد. ابن وهب: هو عبد الله، وابن حجيرة الأكبر: هو عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 1456] [ترقيم الشركة 1444]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1457
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيدٍ الدَّارِمي. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، وهشام بن عليٍّ، قالوا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، قال: أخذتُ من ثُمَامة بن عبد الله بن أنس كتابًا زَعَمَ أنَّ أبا بكرٍ كَتَبَه لأنسٍ، وعليه خاتَمُ رسول الله ﷺ حين بَعثَه مُصَدِّقًا، وكتبه له، فإذا فيه: هذه فريضةُ الصَّدَقةِ التي فَرَضَها رسولُ الله ﷺ على المسلمين التي أمَرَ اللهُ بها نبيَّه ﷺ فمن سُئِلها على وَجْهِها فليُعْطِها، ومن سُئِل فوقَها (2) فلا يُعطِه. فيما دونَ خَمسٍ وعشرين من الإبل الغنمُ؛ وفي كلِّ ذَوْدٍ شاةٌ، فإذا بَلَغَتْ خمسًا وعشرين ففيها ابنةُ مَخَاضٍ إلى أن تبلُغَ خمسًا وثلاثين، فإن لم يكن فيها ابنةُ مَخَاضٍ فابنُ لَبُونٍ ذكرٌ، فإذا بلغتْ ستًّا وثلاثين ففيها ابنةُ لَبُونٍ إلى خمسٍ وأربعين، فإذا بلغت ستًّا وأربعين ففيها حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الفَحْل إلى ستين، فإذا بلغتْ إحدى وستين ففيها جَذَعةٌ إلى خمس وسبعين، فإذا بلغتْ ستًّا وسبعين ففيها ابنتا لَبُونٍ إلى تسعين، فإذا بلغتْ إحدى وتسعين ففيها حِقَّتانِ طَرُوقتا الفَحْلِ إلى عشرين ومئة، فإذا زادتْ على عشرين ومئة ففي كلِّ أربعينَ ابنةُ لبونٍ وفي كلِّ خمسين حِقَّةٌ. فإذا تبايَنَ أسنانُ الإبل في فرائض الصَّدقات، فمَن بلغتْ عنده صدقةُ الجَذَعة وليست عنده جَذَعةٌ، وعنده حِقَّةٌ فإنها تُقبَلُ منه، وأن يَجعَلَ معها شاتين إن استَيْسَرَتا له، أو عشرين درهمًا، ومَن بلغتْ عنده صدقةُ الحِقَّة وليست عنده حِقَّة وعنده جَذَعةٌ فإنها تُقبَلُ منه، ويُعطيهِ المصَدِّقُ عشرين درهمًا أو شاتين، ومَن بلغتْ عنده صدقةُ بنتِ لبونٍ وليست عنده إلّا حِقَّةٌ فإنها تُقبَلُ منه، ويُعطيهِ المصَدِّق عشرين درهمًا أو شاتين، ومن بلغتْ عنده صدقةُ بنتِ لبونٍ وليس عنده إلّا ابنةُ مَخَاضٍ فإنها تُقبَلُ منه وشاتين أو عشرين درهمًا، ومن بلغتْ عنده صدقةُ بنتِ مَخاضٍ وليس عنده إلّا ابنُ لَبونٍ ذكرٌ فإنه يُقبَل (1) منه وليس معه شيءٌ، ومن لم يكن عنده إلّا أربعٌ فليس فيها شيءٌ إلّا أن يشاء ربُّها. وفي سائِمةِ الغَنَم إذا كانت أربعينَ ففيها شاةٌ إلى عشرين ومئة، فإذا زادت على عشرين ومئة ففيها شاتانِ إلى أن تَبلُغ مئتين، فإذا زادت على المئتين ففيها ثلاثُ شِياهٍ إلى أن تَبلُغ ثلاثَ مئة، فإذا زادت على ثلاث مئة ففي كلِّ مئةٍ شاةٌ. ولا تُؤخَذُ فِي الصَّدقةِ هَرِمةٌ ولا ذاتُ عَوَارٍ من الغَنَم، ولا تَيْسُ الغَنَم إلّا أن يشاء المصَّدِّق. ولا يُجمَعُ بين متفرِّقٍ ولا يُفرَّقُ بين مُجتَمِعٍ خشيةَ الصدقة، وما كانا من خَليطَين فإنَّهما يتراجعانِ بينهما بالسَّوِيَّة، فإن لم تَبلُغْ سائمةُ الرجلِ أربعينَ فليس فيها شيءٌ إلّا أن يشاء ربُّها. وفي الرِّقَةِ رُبعُ العُشْر، فإن لم يكن المالُ إلّا تسعين ومئةً فليس فيها شيءٌ إلّا أن يشاء ربُّها (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما تفرَّد بإخراجه البخاري من وجهٍ عَلَا فيه عن الأنصاري عن ثُمامةَ بن عبد الله، وحديث حماد بن سلمة أصحُّ وأشفَى وأتمُّ من حديث الأنصاري.
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما تفرَّد بإخراجه البخاري من وجهٍ عَلَا فيه عن الأنصاري عن ثُمامةَ بن عبد الله، وحديث حماد بن سلمة أصحُّ وأشفَى وأتمُّ من حديث الأنصاري.
ثمامہ بن عبداللہ بن انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک تحریر حاصل کی جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو اس وقت لکھ کر دی تھی جب انہیں زکوٰۃ وصول کرنے والا بنا کر بھیجا تھا، اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر مبارک لگی ہوئی تھی، اس میں درج تھا: ”یہ زکوٰۃ کا وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور جس کا اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے قاعدے کے مطابق زکوٰۃ مانگی جائے وہ اسے ادا کرے اور جس سے زیادہ مانگی جائے وہ نہ دے۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) چوبیس اونٹوں تک زکوٰۃ بکریوں کی صورت میں ہوگی؛ ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہوگی۔ جب تعداد پچیس سے پینتیس تک پہنچ جائے تو اس میں ایک سال کی اونٹنی (بنتِ مخاض) واجب ہوگی، اگر وہ نہ ہو تو دو سال کا اونٹ (ابنِ لبون) دیا جائے گا۔ جب تعداد چھتیس سے پینتالیس تک ہو تو دو سال کی اونٹنی (بنتِ لبون) دی جائے گی۔ چھیالیس سے ساٹھ تک تین سال کی اونٹنی (حِقّہ) دی جائے گی جو جفتی کے قابل ہو۔ اکسٹھ سے پچھتر تک چار سال کی اونٹنی (جذعہ) واجب ہوگی۔ چھہتر سے نوے تک دو عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) دی جائیں گی۔ اکیانوے سے ایک سو بیس تک دو عدد تین سالہ اونٹنیاں (حِقّہ) دی جائیں گی جو جفتی کے قابل ہوں۔ جب تعداد ایک سو بیس سے تجاوز کر جائے تو ہر چالیس پر ایک دو سالہ اونٹنی (بنتِ لبون) اور ہر پچاس پر ایک تین سالہ اونٹنی (حِقّہ) واجب ہوگی۔ اگر زکوٰۃ میں مطلوبہ عمر کا جانور میسر نہ ہو، مثلاً کسی پر چار سالہ اونٹنی (جذعہ) واجب ہو لیکن اس کے پاس نہ ہو بلکہ تین سالہ اونٹنی (حِقّہ) ہو تو وہی قبول کر لی جائے گی، بشرطیکہ وہ ساتھ میں دو بکریاں یا بیس درہم بھی ادا کرے۔ اسی طرح اگر کسی پر تین سالہ اونٹنی (حِقّہ) واجب ہو اور اس کے پاس چار سالہ اونٹنی (جذعہ) ہو تو وصول کرنے والا اسے قبول کر لے گا اور مالک کو بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا۔ اگر کسی پر دو سالہ اونٹنی (بنتِ لبون) واجب ہو اور اس کے پاس صرف تین سالہ اونٹنی (حِقّہ) ہو تو وہ قبول کی جائے گی اور وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا۔ اگر کسی پر دو سالہ اونٹنی (بنتِ لبون) واجب ہو اور اس کے پاس صرف ایک سالہ اونٹنی (بنتِ مخاض) ہو تو وہ قبول کر لی جائے گی بشرطیکہ وہ ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دے۔ اگر کسی پر ایک سالہ اونٹنی (بنتِ مخاض) واجب ہو اور اس کے پاس صرف دو سالہ نر اونٹ (ابنِ لبون) ہو تو وہ بغیر کسی اضافی چیز کے قبول کر لیا جائے گا۔ جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں اس پر کچھ واجب نہیں الا یہ کہ وہ خود اپنی خوشی سے دینا چاہے۔ بکریوں کی زکوٰۃ کا حکم یہ ہے کہ چالیس سے ایک سو بیس تک ایک بکری، ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں، دو سو ایک سے تین سو تک تین بکریاں، اور پھر ہر سو بکریوں پر ایک بکری واجب ہوگی۔ زکوٰۃ میں بوڑھا، کانا یا عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی ریوڑ کا سانڈ (نر) لیا جائے گا الا یہ کہ وصول کرنے والا اسے مناسب سمجھے۔ زکوٰۃ کے ڈر سے الگ الگ جانوروں کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اکٹھے جانوروں کو الگ کیا جائے گا، اور اگر دو شریک ہوں تو وہ آپس میں برابر حساب کر لیں گے۔ جس کے پاس چرنے والی بکریاں چالیس سے کم ہوں اس پر کچھ واجب نہیں الا یہ کہ مالک خود دینا چاہے۔ چاندی (رِقہ) میں زکوٰۃ چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) ہے، اور اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں الا یہ کہ مالک خوشی سے دینا چاہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، صرف امام بخاری اس کی تخریج میں منفرد ہیں لیکن حماد بن سلمہ کی یہ روایت انصاری کی روایت سے زیادہ صحیح اور مکمل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1457]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، صرف امام بخاری اس کی تخریج میں منفرد ہیں لیکن حماد بن سلمہ کی یہ روایت انصاری کی روایت سے زیادہ صحیح اور مکمل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو النضر الفقيه: هو محمد بن محمد بن يوسف، وموسى بن إسماعيل: هو أبو سلمة التبوذكي.» [ترقيم الرساله 1457] [ترقيم الشركة 1445]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1458
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أحمد بن سَلَمة وإبراهيم بن أبي طالب، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَّاد بن سلمة، قال: أخذْنا هذا الكتاب من ثُمامةَ بن عبد الله بن أنس، يُحدِّثُه عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ، ثم ذكر الحديث بنحوٍ من حديث موسى بن إسماعيل عن حماد بطوله (1) . ولهذه الألفاظ شاهدٌ من حديث الزُّهري عن سالم عن أبيه:
ثمامہ بن عبداللہ بن انس، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوٰۃ کے بارے میں مذکورہ بالا طویل حدیث روایت کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أحمد بن سلمة: هو ابن عبد الله أبو الفضل النيسابوري، وإسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه. وانظر ما قبله.» [ترقيم الرساله 1458] [ترقيم الشركة 1446]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1459
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفيلي، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن سالم، عن أبيه قال: كَتَبَ رسول الله ﷺ كتابَ الصدقة، فلم يُخرِجْه إلى عُمَّاله حتى قُبِض، فقَرَنَه بسيفه، فعَمِل به أبو بكر حتى قُبِض، ثم عَمِل به عمرُ حتى قُبِض، فكان فيه: في خمس من الإبل شاةٌ، وفي عشَرةٍ شاتان، وفي خمسَ عَشْرةَ ثلاثُ شِياه، وفي عشرين أربعُ شِياه، وفي خمسٍ وعشرين بنتُ مَخَاض إلى خَمسٍ وثلاثين، فإذا زادت واحدةً ففيها بنتُ لَبونٍ إلى خمسٍ وأربعين، فإذا زادت واحدةً ففيها حِقَّة إلى ستين، فإذا زادت واحدةً ففيها جَذَعة إلى خمسٍ وسبعين، فإذا زادت واحدةً ففيها بنتا لَبونٍ إلى تسعين، فإذا زادت واحدةً ففيها حِقَّتان إلى عشرين ومئة، فإن كانت الإبلُ أكثرَ من ذلك ففي كلِّ خمسين حِقَّةٌ، وفي كلِّ أربعين بنتُ لَبون. وفي الغنم في كلِّ أربعين شاةً شاةٌ إلى عشرين ومئة، فإذا زادت واحدةً فشاتان إلى مئتين، فإذا زادت واحدةً على المئتين ففيها ثلاثُ شِياه إلى ثلاث مئة، فإن كانت الغنم أكثرَ من ذلك ففي كل مئة شاةٍ شاةٌ، وليس فيها شيءٌ حتى تَبلُغَ المئةَ. ولا يُفرَّق بين مُجتَمِع، ولا يُجمَع بين متفرِّقٍ مخافةَ الصدقة، وما كان من خَليطَينِ فإنهما يتراجعان بالسَّوِيّة. ولا يُؤخَذ في الصدقة هَرِمةٌ ولا ذاتُ عيبٍ. قال الزهري: إذا جاء المصَدِّقُ قُسِمت الشاءُ أثلاثًا: ثلثًا شِرارٌ، وثلثًا خِيارٌ، وثلثًا وَسَطٌ (1) ، فيأخذُ المصَدِّقُ من الوسط. ولم يَذكُر الزهريُّ البقر (2) .
هذا حديث كبيرٌ في هذا الباب، يشهد بكثرة الأحكام التي في حديث ثُمامة عن أنس، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا لسفيان بن حسين الواسطي في الكتابين، وسفيان ابن حسين أحد أئمة الحديث، وثَّقه يحيى بن معين، ودخل خُرَاسان مع يزيد بن المهلَّب، ودخل نيسابورَ، سمع منه جماعةٌ من مشايخنا القَهَنْدَزِيُّون، مثل مُبشِّر بن عبد الله بن رَزِين وأخيه عمر بن عبد الله وغيرهما، ويُصحِّحه على شرط الشيخين حديثُ عبد الله بن المبارك عن يونس بن يزيد عن الزُّهري، وإن كان فيه أدنى إرسالٍ فإنه شاهدٌ صحيح لحديث سفيان بن حسين:
هذا حديث كبيرٌ في هذا الباب، يشهد بكثرة الأحكام التي في حديث ثُمامة عن أنس، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا لسفيان بن حسين الواسطي في الكتابين، وسفيان ابن حسين أحد أئمة الحديث، وثَّقه يحيى بن معين، ودخل خُرَاسان مع يزيد بن المهلَّب، ودخل نيسابورَ، سمع منه جماعةٌ من مشايخنا القَهَنْدَزِيُّون، مثل مُبشِّر بن عبد الله بن رَزِين وأخيه عمر بن عبد الله وغيرهما، ويُصحِّحه على شرط الشيخين حديثُ عبد الله بن المبارك عن يونس بن يزيد عن الزُّهري، وإن كان فيه أدنى إرسالٍ فإنه شاهدٌ صحيح لحديث سفيان بن حسين:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکام پر مشتمل ایک تحریر لکھوائی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور وہ اپنے عاملوں (گورنروں) کو نہ بھیج سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ رکھا ہوا تھا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات تک اسی کے مطابق عمل کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی پر عمل کیا، اس میں درج تھا کہ: پانچ اونٹوں پر ایک بکری، دس پر دو، پندرہ پر تین اور بیس پر چار بکریاں واجب ہیں۔ پچیس سے پینتیس اونٹوں تک ایک سال کی اونٹنی (بنتِ مخاض) ہے، اگر ایک بھی بڑھ جائے تو چھتیس سے پینتالیس تک دو سال کی اونٹنی (بنتِ لبون) ہے، اگر ایک بڑھ جائے تو چھیالیس سے ساٹھ تک تین سال کی اونٹنی (حِقّہ) ہے، اگر ایک بڑھ جائے تو اکسٹھ سے پچھتر تک چار سال کی اونٹنی (جذعہ) ہے، اگر ایک بڑھ جائے تو چھہتر سے نوے تک دو عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) ہیں، اگر ایک بڑھ جائے تو اکیانوے سے ایک سو بیس تک دو عدد تین سالہ اونٹنیاں (حِقّہ) ہیں۔ اس سے زیادہ ہونے پر ہر پچاس پر ایک حِقّہ اور ہر چالیس پر ایک بنتِ لبون واجب ہوگی۔ بکریوں میں چالیس سے ایک سو بیس تک ایک بکری، ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں، دو سو ایک سے تین سو تک تین بکریاں، اس سے زیادہ ہونے پر ہر سو پر ایک بکری ہوگی۔ زکوٰۃ کے ڈر سے نہ متفرق جانور اکٹھے کیے جائیں گے نہ اکٹھے الگ کیے جائیں گے، اور شراکت دار آپس میں برابر تقسیم کریں گے۔ زکوٰۃ میں بوڑھا یا عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا۔ زہری کہتے ہیں کہ جب زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو بکریوں کے تین حصے کیے جائیں گے: ایک حصہ گھٹیا، ایک حصہ بہترین اور ایک حصہ درمیانہ، پھر وصول کرنے والا درمیانے حصے سے زکوٰۃ لے گا۔
زہری نے اس میں گائے کا تذکرہ نہیں کیا۔ یہ اس باب کی عظیم حدیث ہے جو ثمامہ کی روایت میں موجود احکام کی تائید کرتی ہے، اگرچہ شیخین نے سفیان بن حسین کی روایت نہیں لی لیکن وہ ثقہ امام ہیں، اور یونس بن یزید کی زہری سے مروی روایت اس کی تائید کرتی ہے جو شیخین کی شرط پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1459]
زہری نے اس میں گائے کا تذکرہ نہیں کیا۔ یہ اس باب کی عظیم حدیث ہے جو ثمامہ کی روایت میں موجود احکام کی تائید کرتی ہے، اگرچہ شیخین نے سفیان بن حسین کی روایت نہیں لی لیکن وہ ثقہ امام ہیں، اور یونس بن یزید کی زہری سے مروی روایت اس کی تائید کرتی ہے جو شیخین کی شرط پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1459] [ترقيم الشركة 1447]
حدیث نمبر: 1460
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي وأبو بكر محمد بن أحمد المزكِّي المَروَزِيَّان بمَرْو، قالا: أخبرنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو، أخبرنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرني يونس بن يزيد. وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن ابن شِهابٍ قال: هذه نسخةُ كتاب رسول الله ﷺ التي كَتَبَ الصدقةَ، وهو عند آل عمر بن الخطاب. قال ابن شهاب: أقرأَنيها سالمُ بن عبد الله بن عمر فوَعَيتُها على وجهها، وهي التي انتَسَخَ عمرُ بن عبد العزيز من عبدِ الله بن عبد الله بن عمر وسالمِ بن عبد الله حين أُمِّر على المدينة، فأمر عُمَّاله بالعمل بها [وكتب بها إلى الوليد بن عبد الملك، فأمر الوليدُ عمَّاله بالعمل بها] (1) ثم لم تَزَلْ في الخلفاء يأمرون بذلك بعدَه، ثم أَمَر بها هشامٌ فنَسَخها إلى كلِّ عامل من المسلمين، وأَمَرهم بالعمل بما فيها ولا يتعدَّونها، وهذا كتابٌ تفسيره: لا يوجد (2) في شيءٍ من الإبل الصدقةُ حتى تَبْلُغَ خمسَ ذَوْدٍ، فإذا بلغت خمسًا ففيها شاةٌ حتى تبلغ عشرًا، فإذا بلغت عشرًا ففيها شاتان حتى تبلغ خمسَ عشْرةَ، فإذا بلغت خمسَ عشْرةَ ففيها ثلاثُ شِياهٍ حتى تبلغ عشرين، فإذا بلغت عشرين ففيها (3) أربع شياهٍ حتى تبلغ خمسًا وعشرين، فإذا بلغت خمسًا وعشرين أَفرَضَتْ، فكان فيها فَريضةٌ بنتُ مَخاضٍ، فإن لم يوجد بنتُ مخاضٍ فابن لَبُونٍ ذكرٌ حتى تبلغ خمسًا وثلاثين، فإذا بلغت ستًّا وثلاثين ففيها بنتُ لَبون حتى تبلغ خمسًا وأربعين، فإذا كانت ستًّا وأربعين ففيها حِقَّةٌ طَرُوقةُ الجَمل حتى تبلغ ستين، فإذا كانت إحدى وستين ففيها جَذَعةٌ حتى تبلغ خمسًا وسبعين، فإذا بلغت ستًّا وسبعين ففيها بنتا لَبونٍ (4) حتى تبلغ تسعين، فإذا كانت إحدى وتسعين ففيها حِقَّتان طَرُوقتا الجمل حتى تبلغ عشرين ومئة، فإذا كانت إحدى وعشرين ومئة ففيها ثلاثُ بناتِ لَبونٍ حتى تبلغ تسعًا وعشرين ومئة، فإذا كانت ثلاثين ومئة ففيها حِقَّةٌ وبنتا لبونٍ (1) حتى تبلغ تسعًا وثلاثين ومئة، فإذا كانت أربعينَ ومئة ففيها حِقَّتانِ وبنتُ لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وأربعين ومئة، فإذا كانت خمسين ومئة ففيها ثلاثُ حِقاقٍ حتى تبلغ تسعًا وخمسين ومئة، فإذا بلغت ستين ومئة ففيها أربعُ بناتِ لبون حتى تبلغ تسعًا وستين ومئة، فإذا كانت سبعين ومئة ففيها حِقَّة وثلاثُ بناتِ لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وسبعين ومئة، فإذا كانت ثمانين ومئة ففيها حِقَّتان وبنتا لبونٍ [حتى تبلغ تسعًا وثمانين ومئة] (2) ، فإذا كانت تسعين ومئة ففيها ثلاثُ حِقاقٍ وبنتُ (3) لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وتسعين ومئة، فإذا كانت مئتين ففيها أربعُ حِقاقٍ أو خمسُ بناتِ لبونٍ، أيُّ السِّنَّينِ [وُجدت] (4) فيها أُخِذَت على عِدَّة ما كَتبْنا في هذا الكتاب، ثم كلُّ شيءٍ من الإبل على ذلك يُؤخَذ على نحو ما كتبنا في هذا الكتاب. ولا يُؤخَذ من الغنم صدقةٌ حتى تبلغ أربعين شاةً، فإذا بلغت أربعين شاةً ففيها شاةٌ حتى تبلغ عشرين ومئة، فإذا كانت إحدى وعشرين ومئة ففيها شاتان حتى تبلغ مئتين، فإذا كانت شاةً ومئتين ففيها ثلاث شياهٍ حتى تبلغ ثلاث مئة، فإذا زادت على ثلاث مئة شاةٍ فليس فيها إلّا ثلاثُ شياءٍ حتى تبلغ أربعَ مئة شاةٍ، فإذا بلغت أربع مئة شاةٍ ففيها أربع شياهٍ حتى تبلغ خمس مئة شاةٍ، فإذا بلغت خمس مئة ففيها خمس شِياهٍ حتى تبلغ ست مئة شاةٍ، فإذا بلغت ست مئة شاةٍ ففيها ستُّ شياهٍ، فإذا بلغت سبعَ مئةٍ ففيها سبع شياهٍ حتى تبلغ ثمان مئة شاةٍ، فإذا بلغت ثمانَ مئة شاةٍ ففيها ثمانُ شياهٍ حتى تبلغ تسع مئة شاةٍ، فإذا بلغت تسع مئة شاةٍ ففيها تسع شياهٍ حتى تبلغ ألفَ شاةٍ، فإذا بلغت ألفَ شاة ففيها عَشْرُ شِياهٍ، ثم في كلِّ ما زادت مئةَ شاةٍ شاةٌ (1) . ومما يشهد لهذا الحديث بالصِّحة:
ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تحریر کا نسخہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے بارے میں لکھوائی تھی اور وہ آلِ عمر بن خطاب کے پاس محفوظ تھی۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ تحریر سالم بن عبداللہ بن عمر نے پڑھائی اور میں نے اسے اچھی طرح یاد کر لیا، یہ وہی نسخہ ہے جس کی نقل عمر بن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ سے اس وقت لی تھی جب انہیں مدینہ کا گورنر بنایا گیا تھا، پھر انہوں نے اپنے عاملوں کو اسی پر عمل کا حکم دیا (اور ولید بن عبدالملک کو بھی بھیجا)، پھر خلفاء اسی کے مطابق حکم دیتے رہے۔ اس تحریر کی تفصیل یہ ہے: پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰۃ نہیں، پانچ سے نو تک ایک بکری، دس سے چودہ تک دو بکریاں، پندرہ سے انیس تک تین بکریاں، بیس سے چوبیس تک چار بکریاں واجب ہیں۔ جب تعداد پچیس ہو جائے تو پچیس سے پینتیس تک ایک سالہ اونٹنی (بنتِ مخاض) واجب ہوگی، اگر وہ نہ ہو تو دو سالہ نر اونٹ (ابنِ لبون) دیا جائے گا۔ چھتیس سے پینتالیس تک دو سالہ اونٹنی (بنتِ لبون) ہے، چھیالیس سے ساٹھ تک تین سالہ اونٹنی (حِقّہ) ہے، اکسٹھ سے پچھتر تک چار سالہ اونٹنی (جذعہ) ہے، چھہتر سے نوے تک دو عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) ہیں، اکیانوے سے ایک سو بیس تک دو عدد تین سالہ اونٹنیاں (حِقّہ) ہیں۔ ایک سو اکیس سے ایک سو انتیس تک تین عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) ہیں، ایک سو تیس سے ایک سو انتالیس تک ایک تین سالہ (حِقّہ) اور دو عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) ہیں، ایک سو چالیس سے ایک سو انچاس تک دو عدد تین سالہ (حِقّہ) اور ایک عدد دو سالہ اونٹنی (بنتِ لبون) ہے، ایک سو پچاس سے ایک سو انسٹھ تک تین عدد تین سالہ اونٹنیاں (حِقّہ) ہیں۔ ایک سو ساٹھ سے ایک سو انہتر تک چار عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) ہیں، ایک سو ستر سے ایک سو اناسی تک ایک تین سالہ (حِقّہ) اور تین عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) ہیں، ایک سو اسی سے ایک سو انواسی تک دو عدد تین سالہ (حِقّہ) اور دو عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) ہیں۔ ایک سو نوے سے ایک سو ننانوے تک تین عدد تین سالہ (حِقّہ) اور ایک عدد دو سالہ اونٹنی (بنتِ لبون) ہے، اور جب تعداد دو سو ہو جائے تو اختیار ہے کہ چاہے چار عدد تین سالہ اونٹنیاں (حِقّہ) دے یا پانچ عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) دے، اس کے بعد اسی حساب سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔ بکریوں میں چالیس سے پہلے زکوٰۃ نہیں، چالیس سے ایک سو بیس تک ایک بکری، ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں، دو سو ایک سے تین سو تک تین بکریاں، تین سو ایک سے چار سو تک چار بکریاں، اور اسی طرح ہر سو کے اضافے پر ایک بکری بڑھتی جائے گی یہاں تک کہ ایک ہزار بکریوں پر دس بکریاں واجب ہوں گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وهو وإن كان فيه أدنى إرسال كما قال المصنِّف، إلّا أنه في حكم الموصول، فابن شهاب - وهو محمد بن مسلم الزهري - يقول: أقرأنيها سالم بن عبد الله بن عمر، قلنا: وسالم بن عبد الله بن عمر هل هو إلّا من آل عمر بن الخطاب، وهل أخذ ...» [ترقيم الرساله 1460] [ترقيم الشركة 1448]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 1461
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق وحَبِيب بن [أبي] (2) حَبِيب، عن عمرو بن هَرِم (3) ، أنَّ أبا الرِّجال محمد بن عبد الرحمن الأنصاري حدَّثه: أنَّ عمر بن عبد العزيز حين استُخلِف أَرسَل إلى المدينة يلتمس عهدَ النبي ﷺ في الصدقات، فوَجَدَ عند آل عمرو بن حزم كتابَ النبيِّ ﷺ إلى عمرو بن حَزْم في الصَّدقات، ووَجَدَ عند آل عمر بن الخطاب كتابَ عمرَ إلى عُمّاله في الصَّدقات، بمثلِ كتاب النبيِّ ﷺ إلى عمرو بن حَزْم، فأَمَرَ عمرُ بن عبد العزيز عمَّالَه على الصَّدقات أن يأخذوا بما في ذَينِكَ الكتابين، فكان فيهما: صدقةُ الإبل ما زادت على التسعين واحدةً ففيها حِقَّتان إلى عشرين ومئة، فإذا زادت على العشرين ومئة واحدةً ففيها ثلاثُ بنات لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وعشرين ومئة، فإذا كانت الإبلُ أكثرَ من ذلك فليس في ما لا يبلُغُ العشرةَ منها شيءٌ حتى تبلُغَ العشرة (1) . وأما كتابُ النبيِّ ﷺ لعَمْرو بن حَزْم فإنَّ إسناده من شرط هذا الكتاب، ولذلك ذكرتُ السِّياقةَ بطولها.
محمد بن عبد الرحمن الانصاری بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے جب خلافت سنبھالی تو مدینہ منورہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زکوٰۃ سے متعلق عہد نامہ تلاش کیا جائے، چنانچہ انہیں آلِ عمرو بن حزم کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط مل گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کو زکوٰۃ کے بارے میں لکھا تھا، اور آلِ عمر بن خطاب کے پاس سیدنا عمر کا وہ خط ملا جو انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا تھا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے عین مطابق تھا، چنانچہ عمر بن عبدالعزیز نے اسی کے مطابق زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا۔ اس میں یہ بھی درج تھا کہ نوے سے زیادہ اونٹ ہونے پر ایک سو بیس تک دو تین سالہ اونٹنیاں (حِقّہ) ہیں، اور ایک سو بیس سے زیادہ ہونے پر ایک سو انتیس تک تین دو سالہ اونٹنیاں (بنتِ لبون) واجب ہوں گی۔ رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرو بن حزم کو لکھا گیا خط، تو اس کی اسناد اس کتاب کی شرط پر پوری اترتی ہے، اسی لیے میں نے یہ پوری تفصیل ذکر کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1461] [ترقيم الشركة 1449]
7. زَكَاةُ الذَّهَبِ
سونے کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1462
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعيُّ ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أَبي، عن عبد الله بن أبي بكر ومحمد ابنَي أبي بكر بن عَمرو بن حَزْم، عن أبيهما، عن جدِّهما، عن رسول الله ﷺ؛ للكتابِ الذي كَتَبه رسول الله ﷺ لعَمرِو بن حَزْم: فإذا بَلَغَ قيمةُ الذهب مئتي درهمٍ، ففي كلِّ أربعينَ درهمًا درهمٌ (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، وهو دليلٌ على الكتاب المشروح المفسَّر:
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، وهو دليلٌ على الكتاب المشروح المفسَّر:
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے پوتے اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کے نام جو خط لکھا تھا اس میں یہ بھی تھا: "جب سونے کی قیمت دو سو درہم تک پہنچ جائے، تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم (زکوٰۃ) واجب ہوگی۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس مفصل و مفسر خط کی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1462]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس مفصل و مفسر خط کی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: «أصل الكتاب صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن كان المراد بجدهما: عمرَو بن حزم، فهو منقطع، لأنَّ أبا بكر بن محمد لم يدرك جده عَمْرًا، وإن كان المراد به: محمدَ بن عمرو بن حزم، فهو مرسل. أبو أويس: اسمه عبد الله بن عبد الله بن أويس.» [ترقيم الرساله 1462] [ترقيم الشركة 1450]
الحكم على الحديث: أصل الكتاب صحيح