المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. دُعَاءُ وَقْتِ الْخُرُوجِ مِنَ الْبَيْتِ
گھر سے نکلتے وقت کی دعا۔
حدیث نمبر: 1929
أخبرنا أبو قُتيبة سَلْم بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا محمد بن نصر بن منصور الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن عبد الله بن حُسين بن عطاء بن يَسار، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا خرج من بيتِه يقول:"باسمِ الله، لا حَولَ ولا قُوَّة إلَّا بالله، التُّكْلانُ على الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو یہ دعا مانگتے: ” بسم اللہ، لا حول ولا قوّہ الّا باللہ، التُّکلانُ علی اللہ ” کوئی طاقت اور مجال اللہ کے سوا نہیں ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1929]
64. دُعَاءُ رَدِّ الْبَصَرِ
نگاہ لوٹانے کی دعا۔
حدیث نمبر: 1930
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرم، حدثنا عثمان بن عُمر، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن أبي جعفر المَديني، قال: سمعتُ عُمارة بن خُزيمة يُحدِّث عن عثمان بن حُنَيف: أنَّ رجلًا ضريرًا أتى النبيَّ ﷺ، فقال: ادْعُ اللهَ تعالى أن يُعافِيَني، قال:"إن شئتَ أخَّرتَ ذلك، وإن شئتَ دعوتُ"، قال: فادْعُه، قال: فأمَرَه النبيُّ ﷺ أن يتوضأ فيُحسنَ الوضوءَ، ويُصليَ ركعتَين، ويدعوَ بهذا الدُّعاء:"اللهمّ إني أسألُك وأتوجَّه إليكَ بنبيِّك محمدٍ ﷺ نبيِّ الرَّحمةِ، يا محمدُ، إني أتوجَّه بك إلى ربّك في حاجَتي هذه فتَقضِيها لي، اللهم شفِّعْه فيَّ وشَفِّعْني فيه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک لاغر بیمار شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے عافیت عطا فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کو مؤخر کر لو اور چاہو تو میں دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: آپ دعا فرما دیں۔ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کر کے 2 رکعتیں ادا کرے اور پھر یوں دعا مانگے: ” اللّٰھمّ اسالک، واتوجہ الیک بنبیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی الرحمۃ، یا محمد انّی اتوجّہ بک الی ربّک فی حاجتی ھٰذہ۔ “ ” اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی، نبیٔ رحمت، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے، آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوں، اپنی اس حاجت کے سلسلے میں۔ تو میری اس حاجت کو پورا کر دے۔ اے اللہ! ان کی سفارش میرے حق میں اور میری درخواست ان کے متعلق قبول فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1930]
65. كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَبِّ أَعِنِّي
آپ ﷺ کی دعاؤں میں سے تھا: اے اللہ! میری مدد فرما۔
حدیث نمبر: 1931
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا قَبيصة ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا سفيان، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن الحارث، عن طَلِيقِ بن قيس، عن ابن عباس، قال: كان من دُعاء النبيِّ ﷺ:"ربِّ أعِنِّي ولا تُعِنْ عليَّ وانصُرني ولا تَنصُرْ عَلَيَّ، وامكُرْ لي ولا تمكُرْ علَيَّ، واهدِني ويَسِّرِ الهُدى لي، وانصُرني على مَن بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجعلْني لك شَكّارًا، لك ذَكّارًا، لك رَهّابًا، لك مِطوَاعًا، لك مُخبِتًا، لك أوّاهًا مُنِيبًا، تَقبّل تَوبتي، وأجِبْ دعوتي، واهْدِ قلبي وثَبِّتْ حُجَّتي، وسَدِّد لِساني، واسْلُلْ سَخِيمةَ قلبي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھی: ” ربّ اعنی، ولا تعن علی، وانصرنی ولا تنصر علی، وامکرلی ولا تمکر علی، واھدنی ویسر الھدٰی لی، وانصرنی علی من بغی علی، رب اجعلنی لک شکارا لک، ذکارا لک، رھابالک، مطواعا لَّک، مخبتا الیک، اوّاھًا منیباً، تقبّل توبَتِی، واجب دعوتی، واھد قلبی، وثبِّت حجتی، وسدد لسانی، واسلل سخیمۃ قلبی۔ “ ” اے میرے رب! میرے ساتھ تعاون کر اور میرے خلاف کسی دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کر اور میری مدد کر اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر اور میرے لیے تدبیر کر اور میرے خلاف کسی اور کے لیے تدبیر نہ کر اور مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان کر دے۔ اور اس شخص کے خلاف میری مدد کر جو میرے خلاف بغاوت کرے، اے میرے رب! مجھے اپنا شکرگزار بندہ بنا، اپنا ذاکر بنا، اپنے لیے الگ تھلگ رہنے والا بنا، اپنا عبادت گزار بنا، اپنی بارگاہ میں عاجزی کرنے والا بنا، آہ و زاری کرنے والا اور رجوع کرنے والا بنا، میری توبہ قبول فرما اور میری دعا کو قبول فرما، میرے دل کو ہدایت عطا فرما اور میری حجت کو ثابت فرما، میری زبان کو محفوظ رکھ، میرے دل سے کینہ کو ختم فرما۔ “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1931]
66. الدُّعَاءُ الْجَامِعُ
جامع دعا۔
حدیث نمبر: 1932
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، حدثنا مُحرِز بن سَلَمة العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن سُهيل بن أبي صالح، عن موسى بن عُقبة، عن عاصم بن أبي عُبيد، عن أم سلَمة، عن النبي ﷺ، هذا ما سألَ محمدٌ ربَّه:"اللهمَّ إني أسألُك خيرَ المَسألة، وخيرَ الدُّعاء، وخيرَ النَّجاح، وخيرَ العمَل، وخيرَ الثَّواب، وخيرَ الحياة، وخيرَ المَمات، وثَبِّتني وثَقِّل مَوازِيني، وحَقِّق إيماني، وارفَع درجتي، وتَقبّل صلاتي، واغفِر خَطيئتي، وأسألُك الدرجاتِ العُلَى من الجنة، اللهمَّ إني أسألُك فَواتحَ الخيرِ وخواتِمَه وجَوامِعَه، وأولَه، وظاهرَه، وباطنَه، والدرجاتِ العُلى مِن الجنة، آمين. اللهمَّ إني أسألُك خيرَ ما آتي، وخيرَ ما أفعلُ، وخير ما أعملُ، وخيرَ ما بَطَنَ، وخيرَ ما ظَهَرَ، والدرجاتِ العُلَى من الجنة، آمين. اللهمَّ إني أسألُك أن ترفعَ ذِكْري، وتَضَعَ وِزْري، وتُصلِحَ أمري، وتُطهِّرَ قلبي، وتُحصِّن فَرْجي، وتُنوِّر لي قلبي، وتَغفِر لي ذَنبي، وأسألُك الدرجاتِ العُلى من الجنة، آمين. اللهمَّ إني أسألُك أن تُبارك لي في نَفْسي، وفي سَمْعي، وفي بصري، وفي رُوحي، وفي خَلْقي وفي خُلُقي، وأهلي، وفي مَحْيَاي، وفي مَماتي، وفي عَمَلي، وتقبّل حَسناتي، وأسألُك الدرجاتِ العُلَى من الجنة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اُمّ المؤمنین سیدنا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتی ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ ہے: ” اللھم انّی اسالک خیر المسالۃ، وخیر الدعاء، وخیر النجاح، وخیر العمل، وخیر الثواب، وخیر الحیاۃ، وخیر الممات، وثبتنی وثقل موازینی، وحقق ایمانی، وارفع درجاتی، وتقبل صلاتی، واغفر خطیئتی، واسالک الدرجات العلی من الجنّہ، اللّٰھم انی اسألک فواتح الخیر وخواتمہ، وجوامعہ، واولہ، وظاھرہ وباطنہ، والدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین، اللھم انی اسٔلک خیر ما اٰتی، وخیر ما افعل، وخیر ما اعمل، وخیر ما بطن، وخیر ما ظھر، والدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین، اللھم انی اساَلک ان ترفع ذکری، وتضع وزری، وتصلح امری، وتطھر قلبی، وتحصن فرجی، وتنورلی قلبی، وتغفرلی ذنبی، واساَلک الدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین، اللھم انّی اسَلک ان تبارک لی فی نفسی، وفی سمعی، وفی بصری، وفی روحی، وفی خلقی، وفی خلقی، وفی اھلی، وفی محیای، وفی مماتی، وفی عملی، فتقبّل حسناتی، واساَلک الدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین۔ “ ” اے اللہ! میں تجھ سے اچھے سوال، اچھی دعا، اچھی کامیابی، اچھا ثواب، اچھے عمل، اچھی زندگی اور اچھی موت کا سوال کرتا ہوں اور مجھے ثابت قدم رکھ اور میرے میزان کو بھاری کر اور میرے ایمان کو پختہ کر، میرے درجات بلند فرما اور میری نماز کو قبول فرما، میری خطائیں معاف کر اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجہ کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے اعمال و افعال اور ظاہر و باطن کی بھلائی مانگتا ہوں اور جنت کے اعلیٰ درجے کی بھلائی مانگتا ہوں، یا اللہ قبول فرما اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرا ذکر اونچا کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت فرما اور میرے دل کو منور کر دے اور میرے گناہ معاف فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجے کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ! قبول فرما، اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے نفس میں، میری سماعت میں، میری بصارت میں، روح میں اور میری تخلیق میں، میرے اخلاق میں، میرے اہل و عیال میں، میری زندگی میں، میری وفات میں اور میرے عمل میں برکت عطا فرما، میری نیکیاں قبول فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجوں کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ! قبول فرما۔ ٭یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1932]
67. أَمْرُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ "
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی ﷺ کو یہ کہنے کا حکم: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں مانگتا ہوں اور برائیوں کو چھوڑنے کی توفیق۔
حدیث نمبر: 1933
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا خالد بن اللَّجْلاج، حدثنا عبد الرحمن بن عائش الحَضْرمي، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ وذَكَر الربَّ ﵎، فقال:"قُل: اللهمَّ إني أسألُك الطَّيباتِ، وتَرْك المُنكراتِ، وحُبَّ المساكين، وأن تَتُوب علَيَّ وتَغفرَ لي وتَرحمَني، وإذا أردتَ فتنةً في قومٍ فتوفَّني غيرَ مَفتُون"، فقال رسول الله ﷺ:"تَعلَّموهُنَّ، فوالذي نفْسي بيده إنهنَّ الحقُّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن مُعاذ بن جَبَل عن النبي ﷺ مثلُه:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن مُعاذ بن جَبَل عن النبي ﷺ مثلُه:
سیدنا عبدالرحمن بن عایش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کیا پھر یوں دعا مانگی: ” اللھم انی اساَلک الطیبات، وترک المنکرات وحب المساکین وان تتوب علیّ، وتغفرلی، وترحمنی، واذا اردت فتنۃ فی قوم فتوفّنی غیر مفتونٍ “ ” اے اللہ! میں تجھ سے اچھائیوں کا سوال کرتا ہوں اور برائیاں چھوڑنے کی توفیق مانگتا ہوں اور مسکینوں سے محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ تو میری توبہ قبول فرما، میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنہ میں مبتلا کیے بغیر وفات عطا فرما۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ دعا لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے یہ برحق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1933]
حدیث نمبر: 1934
أخبرَناهُ أبو حفص عُمر بن محمد الفقيه بِبُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا محمد بن سعيد بن سُويد القرشي بالكوفة، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه، عن معاذ بن جبل قال: أبطأ عنا رسولُ الله ﷺ صلاةَ الفجر، حتى كادتْ أن تُدرِكَنا الشمسُ، ثم خرج فصلَّى بنا فخفَّف في صلاتِه، ثم انصرفَ فأقبلَ علينا بوجهِه، فقال:"على مَكانِكم أُخبِرْكم ما بَطّأني عنكم اليومَ في هذه الصلاةِ، إني صلَّيتُ في ليلَتي هذه ما شاءَ اللهُ، ثم مَلَكتْني عيني فنِمتُ، فرأيتُ ربّي ﵎، فألهَمَني أنْ قلتُ: اللهمَّ إني أسألُك الطيّباتِ، وتَرْك المُنكراتِ، وحبَّ المَساكينِ، وأن تتوبَ علَيَّ، وتَغفرَ لي وتَرحَمَني، وإذا أردتَ في خَلْقِك فتنةً، فنجِّني إليك منها غيرَ مفتونٍ، اللهمَّ وأسألُك حبَّك وحبَّ من يُحبُّك، وحبَّ عمل يقرِّبُني إلى حُبِّك"، ثم أقبل إلينا ﷺ، فقال:"تعلَّمُوهنَّ وادرُسُوهنَّ، فإنهن حَقٌّ" (1) .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں آنے سے اتنی دیر کر دی کہ سورج طلوع ہونے میں بہت تھوڑا وقت باقی رہ گیا تھا پھر آپ تشریف لائے اور بہت مختصر نماز پڑھا کر فارغ ہوئے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آج اس نماز میں مجھے تاخیر کیوں ہوئی، میں اسی رات کافی دیر تک نماز پڑھتا رہا پھر مجھے نیند آنے لگی تو میں سو گیا، میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ اس نے مجھے یہ الہام کیا کہ میں یوں دعا مانگا کروں:” الّٰھمّ انی اسالک الطیبات، وترک المنکرات، وحب المساکین، وان تتوب علی، وتغفرلی، وترحمنی واذا اردت فی خلقک فتنۃ فنجنی الیک منھا عیر مفتون، اللّٰھمّ واسالک حبک، وحب من یحبک، وحب عمل یقربنی الی حبک۔ “ ” اے اللہ! میں تجھ سے بھلائیوں کی محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ تو میری توبہ قبول فرما، میری مغفرت فرما اور میرے اوپر رحم فرما، جب تو اپنی مخلوق میں آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے وہاں سے فتنہ میں مبتلا کیے بغیر نجات عطا فرما، اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے محبت کا سوال کرنے والوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل سے محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اس دعا کو سیکھ لو اور دوسروں کو سکھاؤ کہ یہ برحق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1934]
68. الدُّعَاءُ الْجَامِعُ الْكَامِلُ
کامل جامع دعا۔
حدیث نمبر: 1935
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدمُ بن أبي إياس، حدثنا شعبةُ. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد الجَلّاب وأبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن جَبْر بن حَبيب، عن أم كُلثوم بنت أبي بكر، عن عائشة: أنَّ أبا بكر الصديق دَخَل على رسول الله ﷺ، فكلَّمَه في شيءٍ يُخفِيه من عائشة، وعائشةُ تُصلِّي، فقال النبيُّ ﷺ:"يا عائشةُ، عليكِ بالكَوامِلِ" - أو كلمةً أخرى - فلما انصرفَتْ عائشةُ سألتْه عن ذلك، فقال لها:"قُولي: اللهمَّ إني أسألُك من الخيرِ كلِّه، عاجِلِه وآجلِه، ما علمتُ منه وما لم أعلَمْ، وأعوذُ بكَ من الشرِّ كُلِّه، عاجلِه وآجلِه، ما علمتُ منه وما لم أعلَمْ، وأسألُك الجنةَ وما قَرَّب إليها مِن قولٍ أو عملٍ، وأعوذُ بك من النار وما قَرَّب إليها مِن قولٍ أو عمل، وأسألُك خيرَ ما سألك عبدُك ورسولُك محمدٌ، وأعوذُ بك من شرِّ ما استعاذك منه عبدُك ورسولُك محمدٌ ﷺ، وأسألُك ما قَضَيتَ لي مِن أمرٍ أن تجعلَ عاقبتَه رَشَدًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اُمّ کلثوم رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کوئی ایسی بات کرنے لگے جس کو وہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھپا رہے تھے، اس وقت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نماز پڑھ رہی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! کوامل اختیار (جامع الفاظ میں دعا مانگا کرو) کرو یا شاید کوئی اور لفظ کہا۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو انہوں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا: آپ نے ان کو جواباً کہا: یوں دعا مانگو ” اے اللہ! میں تجھ سے جلدی اور دیر سے ہر بھلائی مانگتا ہوں، ان میں سے جن کو جانتا ہوں (وہ بھی) اور جن کو نہیں جانتا ہوں (وہ بھی) اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جلدی اور دیر سے پیش آنے والے شر سے، ان میں سے جن کو میں جانتا ہوں (ان سے بھی) اور جن کو میں نہیں جانتا ہوں (ان سے بھی) اور میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور ہر اس قول و فعل کا جو جنت کے قریب کر دے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ سے اور ہر اس قول و فعل سے جو جہنم کے قریب کر دے اور میں تجھ سے وہ تمام بھلائیاں مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہیں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان چیزوں کے شر سے جن سے تیرے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لیے کسی معاملے میں جو بھی فیصلہ کرے اس کا انجام میرے لیے بہتر فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1935]
حدیث نمبر: 1936
وقد حدَّثَناهُ أبو محمد (2) بنُ الخُراساني، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا عثمان بن عُمر، أخبرنا أبو نَعَامَة العَدَوي عمرو بن عيسى، حدثنا جَبْر بن حبيب، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، عن النبي ﷺ، نحوه (1) . هكذا قاله أبو نَعامة، وشعبةُ أحفظُ منه، وإذا خالفَه فالقولُ قولُ شعبةَ.
اس سند کے ہمراہ بھی اُمّ المومنین رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے۔ ٭٭ اسی طرح ابونعامہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے جبکہ شعبہ، ابونعامہ سے احفظ تھے اور جب شعبہ کی روایت ابونعامہ کے مخالف ہو تو شعبہ کا قول معتبر ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1936]
حدیث نمبر: 1937
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا هارون بن مَعروف، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا حُيَيّ بن عبد الله، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله ﷺ: أنه كان يَدعُو يقولُ:"اللهمَّ اغفِرْ لنا ذُنُوبَنا وظُلْمَنا وهَزْلَنا، وجِدَّنا وعَمْدَنا، وكلُّ ذلك عِندنا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہا کرتے تھے: ” اللّٰھمّ اغفرلنا ذنوبنا وظلمنا، وھزلنا وجدنا، وعمدنا وکل ذٰلک عندنا۔ “ ” اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمارے ظلم اور ہماری فضول گوئی اور ہماری کوششیں اور ہمارے جان بوجھ کر کیے جانے والے گناہ، اور یہ سب کی سب ہماری ہی کوتاہیاں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1937]
حدیث نمبر: 1938
أخبرنا عبد العزيز بن محمد بن إسحاق الوَرّاق، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سُنَيد بن داود، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا زُهير بن محمد، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة، أنها قالت: أتى النبيَّ ﷺ جبريلُ ﵇، فقال:"إِنَّ الله يأمُرُك أن تَدعُوَ بهؤلاءِ الكلماتِ، فإنه مُعطيكَ إحداهُنّ: اللهمَّ إني أسألُك تَعجيلَ عافيَتِك، وصَبرًا على بَليّتِك، أو خُروجًا من الدنيا إلى رَحمتِك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ ان کلمات کے ہمراہ دعا مانگا کرو کیونکہ وہ آپ کو ان میں سے کوئی ایک عطا کردے گا (دعا کے لئے الفاظ یہ ہیں):” اللّٰھمّ اِنّی اسالک تعجیل عافیتک، وصبرًا علیٰ بلیّتک، او خروجاً من الدنیا اِلیٰ رحمتک۔ “ ” اے اللہ! میں تجھ سے جلدی عافیت مانگتا ہوں اور تیری آزمائش پر صبر مانگتا ہوں یا (اگر میرے نصیب میں یہ نہیں ہے تو) دنیا سے تیری رحمت کی طرف روانگی مانگتا ہوں۔ ٭یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1938]