🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. دُعَاءُ حُصُولِ النَّفْعِ بِالنَّفْعِ
نفع حاصل ہونے کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1899
أخبرني أبو عبد الله محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا محمد بن سعيد بن سابق، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عطاء بن السائب، عن يحيى بن عُمارة، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: كان النبيُّ ﷺ يدعو يقول:"اللهمَّ قنِّعْني بما رزَقْتَني، وبارِكْ لي فيه، واخلُفْ عليَّ كلَّ غائبةٍ لي بخير" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللّٰھم قنِّعنی بما رزقتنی، وبارک لی فیہ، واخلف علٰی کل غائبۃٍ لی بخیرٍ اے اللہ! جو کچھ تو مجھے عطا کرے، مجھے اس پر قناعت عطا فرما او میرے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ اور جو مجھ سے غائب ہے اس کو بھی بھلائی عطا فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1899]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1900
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ سليمان بن موسى حدَّثه عن مكحول: أنه دَخَلَ على أنس بن مالكٍ، قال: فسمعتُه يَذكُرُ أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول:"اللهمَّ انفَعْني بما علَّمْتَني، وعلِّمْني ما يَنفَعُني، وارزُقْني عِلْمًا تَنفَعُني به" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: انفعنی بما علمتنی، وعلمنی ما ینفعنی، وارزقنی علما تنفعنی بہ اے اللہ! تو مجھے اس چیز سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھائی اور مجھے وہ سکھا جو مجھے فائدہ دے اور مجھے ایسا علم عطا فرما جو مجھے نفع دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1900]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. دُعَاءُ وِقَايَةِ شَرِّ النَّفْسِ
نفس کے شر سے حفاظت کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1901
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل بن يونس، عن منصور، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن عِمران بن حُصَين، عن أبيه: أنَّه أتَى النبيَّ ﷺ قبل أن يُسلِمَ، فلما أراد أن ينصرف قال: ما أقول؟ قال:"قُل: اللهمَّ قِنِي شَرَّ نفسي، واعزِمْ لي على رُشْدِ أمري"، فقالها، ثم انصرف ولم يُسلِمْ، ثم أسلم، قال: يا رسول الله، فما أقول الآن وقد أسلمتُ؟ قال:"قُل: اللهمَّ قِنِي شرَّ نفسي، واعزِمْ لي على رُشْدِ أمري، اللهمَّ اغفر لي ما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أخطأتُ وما عَمَدتُ، وما عَلِمتُ وما جَهِلتُ" (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لانے سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، جب وہ لوٹنے لگے تو پوچھا: میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور مجھے میرے نیک ارادے میں کامیاب فرما۔ انہوں نے یہ کہا اور پلٹ گئے اور اسلام قبول نہ کیا۔ پھر بعد میں جب وہ اسلام لائے تو عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں، کیا دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں دعا مانگا کرو: اللّٰھم قنی قرَّ نفسی، واعزم لی علی ارشد امری، اللھم اغفرلی ما اسررت وما اعلنت، وما اخطات وما عمدت، وما علمت وما جھلت اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور مجھے ہدایت کے راستے پر ثابت قدم فرما اے اللہ! میرے ظاہر اور باطن سب گناہوں کو معاف فرما اور جو میں نے خطائیں کیں یا قصداً غلطیاں کیں اور جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا (سب گناہ معاف فرما)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1901]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. فَضِيلَةُ الِاسْتِغْفَارِ
استغفار کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1902
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا شعبة قال: سمعتُ أبا إسحاق قال: سمعتُ أبا المغيرةِ - أو المغيرةَ أبا الوليد - يحدِّثُ عن حذيفة أنه قال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ ذَرِبُ اللسانِ، وإنَّ عامَّة ذلك على أهلي، فقال:"فأينَ أنتَ من الاستغفار؟ إنِّي لأَستغفرُ الله في اليوم والليلة - أو الليلةِ، أو في اليوم - مئةَ مرَّة" (1) . قال الحاكم: هذا عُبيدٌ أبو المغيرة بلا شكٍّ، وقد أتى شعبةُ بالإسناد والمتن بالشك، وحَفِظَه سفيانُ بن سعيد فأَتى به بلا شكٍّ في الإسناد والمتن:
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت تیز زبان شخص ہوں اور یہ عادت میرے پورے گھر میں پائی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو استغفار کیوں نہیں کرتا؟ میں اللہ تعالیٰ سے دن رات میں 100 مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ ٭٭ امام حاکم فرماتے ہیں: اس عبید ابوالمغیرہ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے جبکہ شعبہ نے اس سند اور متن کو شک کے ساتھ پیش کیا ہے جبکہ سفیان بن سعید نے اس کو محفوظ رکھا ہے اور مجھے اس سند اور متن میں کوئی شک نہیں ہے۔ (سفیان بن سعید کا روایت کردہ متن اور سند درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1902]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. الِاسْتِغْفَارُ وَالتَّوْبَةُ مِائَةَ مَرَّةٍ فِي الْيَوْمِ
روزانہ سو مرتبہ استغفار اور توبہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1903
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا قَبِيصَةُ، حدثنا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيانُ، عن أبي إسحاق، عن عُبيدٍ أبي المغيرة، عن حذيفةَ قال: كنتُ ذَرِبَ اللسانِ على أهلي، قلتُ: يا رسول الله، قد خشيتُ أن يُدخِلَني لساني النارَ؟ قال:"فأينَ أنتَ من الاستغفار؟ إنِّي لأستغفرُ الله في اليوم مئةَ مرَّة". قال أبو إسحاق: فذكرتُ ذلك لأبي بُرْدة، فقال:"وأتوبُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنَّما أخرج مسلم حديث أبي بُردةَ، عن الأغرِّ المُزْني، عن النبي ﷺ:"إنه لَيُغانُ على قلبي، وإنِّي لأستغفرُ الله في اليوم مئةَ مرة". وكذلك حديثُ نافع، عن ابن عمر: إِنْ كُنَّا لَنَعُدَّ لرسولِ الله ﷺ (2) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے سلسلے میں بہت تیز زبان تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : مجھے اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں لے جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تم استغفار کیوں نہیں کرتے ہو؟ میں تو اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں 100 مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ ابواسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر ابوبردہ سے کیا تو انہوں نے کہا (کہ استغفار کے ساتھ) توبہ کا بھی ذکر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوبردہ کی سند کے ہمراہ اغرمزنی کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حوالے سے یہ روایت کی ہے (کہ آپ نے فرمایا:) میرے دل پر خواہشات غلبہ کرتی ہیں اور میں ایک دن میں 100 مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور اسی طرح نافع کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ حدیث میں یہ ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار گِنا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1903]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. وَرَدَ اسْتِغْفَارٌ آخَرُ
ایک اور استغفار کے الفاظ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1904
أخبرنا مُكْرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أبو قِلَابة الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، عن حسين المعلِّم، عن عبد الله بن بُريدةَ، عن أبي موسى الأشعريِّ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"اللهمَّ إِنِّي أستغفرُكَ لما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أعلنتُ وما أسررتُ، أنت المقدِّمُ، وأنت المؤخِّر، وأنت على كلِّ شيءٍ قديرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ استغفار پڑھتے سنا ہے: اللّٰھم انی استغفرک لما قدمت وما اخرت، وما اعلنت وما اسررت، انت المقدّم، وانت المؤخر، وانت علی کل شیء قدیر۔ اے اللہ! میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں، اپنے اگلے پچھلے اور ظاہر و باطن اعمال سے، تو ہی مقدم ہے اور تو ہی مؤخر ہے اور تو ہر چاہت پر قادر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1904]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. فَضْلُ الِاسْتِغْفَارِ
استغفار کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1905
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيْرَفي، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا إسرائيل، عن أبي سِنَان، عن أبي الأحْوَص، عن ابن مسعودٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن قال: أستغفرُ الله الذي لا إله إلَّا هو الحيُّ القَيُّومُ وأتوبُ إليه، ثلاثًا، غُفِرت له ذُنوبُه وإن كان فارًّا من الزَّحْف" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تین مرتبہ یہ دعا مانگ لے، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ جنگ سے بھاگنے والا کیوں نہ ہو (وہ دعا یہ ہے): استغفر اللّٰہ العظیم الذی لا الٰہ الّا ھو الحیّ القیّوم، واتوب اِلیہ ثلاثا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1905]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَخٍ بَخٍ بِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ
پانچ اعمال کی فضیلت کہ وہ میزان میں بہت بھاری ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1906
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سليمان بن أحمد الواسطي، حدثنا الوليد بن مُسلم، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني أبو سَلّام الأسودُ، حدثني أبو سلمى راعي رسولِ الله ﷺ ولقيتُه في مسجد الكوفة - قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"بخٍ بخٍ بخمسٍ ما أثقلَهُنَّ في الميزان: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إلهَ إِلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، والولدُ الصالحُ يُتوفَّى للمسلمِ فيَحتسبُه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
ابوسلام اسود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے، سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد کے دروازے کے پاس مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوشی کے عالم میں ارشاد فرمایا: ان پانچ کلمات پر خوش ہو جاؤ کہ میزان پر ان سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہے (وہ 5 کلمات یہ ہیں): سبحان اللّٰہ، والحمدللّٰہ، ولا الٰہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر اور کسی مسلمان کا نیک بچہ فوت ہو جائے تو وہ اس (کی بخشش کے لیے کافی ہے۔ ٭٭ یہ حدث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1906]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. فَضِيلَةُ التَّسْبِيحِ
تسبیح کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1907
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي سِنَان، عن أبي صالح، عن أبي سعيد وأبي هريرة، قالا: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله اصطَفَى من الكلامِ: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إله إلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، فإذا قال العبدُ: سبحانَ الله، كَتَبَ اللهُ له عشرين حسنةً، أو حَطَّ عنه عشرين سيئةً، وإذا قال: اللهُ أكبرُ، فمثلُ ذلك، وإذا قال: لا إلهَ إلَّا الله، فمثلُ ذلك، وإذا قال العبدُ: الحمدُ لله ربِّ العالمين، من قِبَل نفسِه، كُتبتْ له ثلاثون حسنةً، وحُطَّ عنه ثلاثون سيئةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ کلام منتخب فرمایا ہے: سبحان اللّٰہ، والحمدللّٰہ، ولا الہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر۔ بندہ جب سبحان اللہ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے 20 نیکیاں لکھتا ہے اور 20 گناہ مٹاتا ہے اور جب اللہ اکبر کہتا ہے تو بھی اسی طرح (اس کے لیے 20 نیکیاں لکھتا ہے اور 20 گناہ مٹاتا ہے) اور جب لا الٰہ الّا اللہ کہتا ہے تو بھی اسی طرح (20 نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور 20 گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں) اور جب بندہ الحمدللہ رب العالمین کہتا ہے اپنے دل سے، تو اس کے لیے 30 نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے تیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1907]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي سِنَان، عن عثمان بن أبي سَوْدة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مرَّ به وهو يَغرِسُ غَرْسًا، فقال:"ما تَصنعُ يا أبا هُريرة؟" قال: أغرِسُ غرسًا، فقال رسول الله ﷺ:"ألا أدلُّك على غَرْسٍ خيرٍ لك منه؟" قلت: ما هو؟ قال:"سبحانَ اللهِ، والحمدُ للهِ، ولا إلهَ إلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، يُغرَسُ لك بكلِّ واحدةٍ شجرةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن جابر:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ درخت لگا رہے تھے کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں درخت لگا رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اس سے بہتر شجرکاری کے بارے میں تمہیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللّٰہ، والحمدللّٰہ، ولا الہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر۔ (ہر تسبیح کے بدلے تیرے لیے ایک درخت لگا دیا جائے گا۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1908]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں