المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. دُعَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
غزوۂ اُحد کے دن رسولُ اللہ ﷺ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1889
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا ابن أبي مَسَرَّة، حدثنا خَلّاد بن يحيى، حدثنا عبد الواحد بن أيمن المكِّي، عن عُبيد بن رِفاعةَ بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه قال: [لمّا] كان يومُ أُحدٍ انكَفَأَ المشركون، فقال رسول الله ﷺ:"استَوُوا حتى أُثْنيَ على ربِّي"، فصاروا خلفَه صفوفًا، فقال:"اللهمَّ لك الحمدُ كلُّه، اللهمَّ لا مانعَ لما بَسَطْتَ، ولا باسطَ لما قَبضتَ، ولا هاديَ لمن أضللتَ، ولا مُضِلَّ لمن هديتَ، ولا مُنْطِيَ لما مَنعتَ، ولا مانعَ لما أَنْطيتَ، ولا مقرِّبَ لما باعدتَ، ولا مُباعِدَ لما قرَّبتَ، اللهمَّ ابسُطْ علينا من بَرَكاتِكَ ورَحمتِك وفَضلِكَ ورِزْقِكَ، اللهمَّ إنِّي أسألك النَّعيمَ يومَ القيامة، والأمنَ يومَ الخوف، اللهمَّ عائذٌ بك من شرِّ ما أعطيتَنا، وشرِّ ما مَنَعْتَنا، اللهمَّ حبِّب إلينا الإيمانَ وزيِّنْه في قلوبنا، وكَرِّه إلينا الكُفْرَ والفُسوقَ والعِصيانَ، واجعلنا من الرَّاشدين، اللهمَّ تَوفَّنا مُسلمِين، وأَحْيِنا مُسلمِين، وأَلْحِقْنا بالصالحين، غيرَ خزايا ولا مَفتونِين اللهمَّ قاتلِ الكفرةَ الذين يكذِّبون رُسُلَك، ويَصُدُّون عن سبيلك، واجعلْ عليهم رِجْزَكَ وعذابَك الحقَّ الحقَّ" (2) .
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احد کے دن جب مشرکین واپس پلٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفیں درست کرو، میں اپنے رب کی توصیف و ثناء بیان کروں۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا شروع کی:” اَللّٰھُمَّ لک الحمد کلہ، اللّٰھم لا مانع لما بسطت، ولا باسط لما قبضت، ولا ھادی لمن اضللت، ولا مُضلَّ لمن ھدَیتَ، ولا مُعطِیَ لما منعت، ولا مانع لما اعطیت، ولا مقرِّبَ لما باعدْتَّ، ولا مُباعِدَ لما قرَّبْتَ، اللّٰھمَّ ابْسُط علینا من برکاتکَ ورحمتک، وفضلک ورزقک، اللّٰھُمَّ انِّی اسألک النَّعیم یوم القیامۃ، والامن یوم الخوف، اللّٰھمَّ عائدٌ بکَ من شر ما اعطیتنا، وشر ما منعتنا، اللّٰھمَّ حَبِّبْ الینا الایمانَ، وزیِّنہُ فی قلوبِنا، وکرہ الینا الکفر والفسوق والعصیان، واجعلنا من الراشدین، اللّٰھمَّ توفَّنا مسلمیناَ، واَحیِنَا مُسلمین، واَلْحقنا بالصَّالحینَ، غَیرَ خزَایا، ولا مفتونینَ، اللّٰھمَّ قَاتِلِ الْکَفَرَۃَ الذین یکذِّبفون رُسُلَکَ، ویصُدُّونَ عن سبیلک، واجعلُ علیھم رجزَکَ وعذابَکَ الَہَ الحَق “ اے اللہ، تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ اے اللہ! تو جس کے لیے کشادگی کر دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس کو روک لے اس کو پھیلانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور جس کو تو بھٹکا دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو ہدایت دے دے اس کو کوئی بھٹکانے والا نہیں ہے۔ جس سے تو روک دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور جس کو تو دے دے، اس سے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو دور کر دے اس کو کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو قریب کر لے اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمتیں، اپنا فضل اور اپنا رزق کھول دے۔ اے اللہ! میں قیامت کے دن تجھ سے نعمتوں کا اور خوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو تو نے ہمیں عطا فرمائی اور اس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روکی۔ اے اللہ! ہمیں ایمان سے محبت عطا فرما۔ اور ہمارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما: (اے اللہ!) ہمیں کفر، فسق اور گناہوں سے نفرت عطا کر۔ اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں وفات دے تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور زندہ رکھ تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور ہمیں نیک لوگوں میں شمار فرما۔ ہمیں رسوا نہ کر اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال۔ اے اللہ! کافروں کو ہلاک فرما جو تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ اے میرے معبود برحق ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1889]
حدیث نمبر: 1890
أخبرنا علي بن عبد الرحمن بن ماتَى الدِّهقانُ بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا قَبِيصةُ، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عُمارةَ بن عُمَير، عن أبي عمَّار، عن حُذيفة رَفَعه قال:"يأتي عليكم زمانٌ لا يَنجُو فيه إلَّا مَن دعا دعاءَ الغَريق" (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں: تم پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس میں نجات صرف اس شخص کو ملے گی جو سیدنا یونس علیہ السلام والی دعا مانگے کا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1890]
39. الدُّعَاءُ بَعْدَ أَكْلِ الطَّعَامِ وَلُبْسِ الثَّوْبِ
کھانا کھانے اور کپڑا پہننے کے بعد کی دعا۔
حدیث نمبر: 1891
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصّمد بن الفَضْل البَلْخي، حدثنا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو مَرحُوم عبد الرحيم (1) بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن أنس، عن أبيه، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن أكل طعامًا فقال: الحمدُ لله الذي أطعَمَني هذا، ورَزَقَنيه من غير حَوْلٍ منِّي ولا قوّة، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذَنْبِه، ومَن لَبِسَ ثوبًا فقال: الحمدُ لله الذي كَسَاني هذا من غير حولٍ منِّي ولا قوة، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبه" (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا سہل بن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کھانا کھا چکے وہ یوں دعا مانگے:” الحمد للّٰہ الذی اطعمنی ھذا، ورزقنیہ من غیر حولٍ منّی ولا قوّۃ “ ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے کھلایا حالانکہ اس کی مجھ میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں ہے۔ “ اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور جو شخص لباس پہننے کے بعد یہ دعا پڑھے: ” الحمد للّٰہ الذی کسانی ھٰذا من غیرِ حولٍ مِّنّی، ولا قوّۃ “ ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ لباس پہنایا حالانکہ اس کی مجھ میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں ہے۔ “ اس کے سابقہ تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1891]
حدیث نمبر: 1892
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا صالح بن محمد الرَّازي، حدثنا أبي، حدثنا أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، حدثنا محمد بن أبي حُمَيد، عن محمد بن المُنكدر، عن جابرٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما أنعَمَ الله على عبدٍ من نعمةٍ فقال: الحمدُ لله، إلَّا وقد أَدَّى شُكْرَها، فإن قالها الثانيةَ، جَدَّدَ اللهُ له ثوابَها، فإن قالها الثالثةَ، غَفَرَ اللهُ له ذُنوبَه" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إلَّا أنهما لم يخرِّجا أبا معاوية.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إلَّا أنهما لم يخرِّجا أبا معاوية.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو کوئی نعمت عطا فرمائے اور وہ اس پر ” الحمدللّٰہ “ کہے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا۔ اگر دوسری مرتبہ پھر الحمدللّٰہ کہے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیا ثواب عطا کرتا ہے پھر اگر تیسری مرتبہ پھر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے سابقہ تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا مگر یہ کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابومعاویہ کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1892]
حدیث نمبر: 1893
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنَان القَزّاز، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَاميّ، حدثنا عكرمة بن عمَّارٍ، قال: سمعتُ شدّادًا أبا عمار يحدِّثُ، عن شدَّادِ بن أوْسٍ - وكان بدريًّا - قال: بينما هُم في سَفَرٍ إذ نَزَلَ القومُ يَتصبَّحون، فقال شدّاد: أَدْنُوا هذه السُّفرة نَعبَثْ بها، ثم قال: أَستغفرُ الله، ما تكلمتُ بكلمةٍ منذ أسلمتُ إلَّا وأنا أَزُمُّها وأَخطِمُها قبلَ كلمتي هذه، ليس كذلك قال محمدٌ ﷺ، ولكن قال:"يا شدَّادُ، إذا رأيتَ الناسَ يَكنِزونَ الذَّهبَ والفضةَ فاكنِزْ هؤلاءِ الكلمات: اللهمَّ إِنِّي أسألُك التَّثبُّتَ في الأمور، وعزيمةَ الرُّشْد، وأسألكَ شُكرَ نعمتِك، وحُسنَ عبادَتِك، وأسألكَ قلبًا سليمًا، ولسانًا صادقًا، وخُلُقًا مستقيمًا، وأستغفرُكَ لما تعلم، وأسألك من خيرِ ما تعلمُ، وأعوذُ بكَ من شرِّ ما تعلمُ، إنَّك أنتَ علَّامُ الغُيوب" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں، آپ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ یہ لوگ سفر میں تھے کہ اہلِ قافلہ ناشتہ کرنے کے لیے دسترخوان پر جمع ہوئے (جب کھانا کھا چکے) تو شداد کہنے لگے: یہ دسترخوان سمیٹو! (کچھ دیر) گپ شپ کر لیں، پھر بولے: میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں اس وقت سے آج تک کبھی بھی کوئی بات بغیر سوچے سمجھے نہیں کی سوائے آج کی اس بات کے۔ (اس لیے میری اس بات کو محفوظ نہ رکھنا بلکہ جس بات کے بارے میں یہ وضاحت کر دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس کو محفوظ کر لیا کرو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں نہیں فرمایا بلکہ آپ علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے: اے شداد! جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا اور چاندی جمع کر رہے ہیں تو تم ان کلمات کا خزانہ جمع کرنا۔” اے اللہ میں تمام امور میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں اور ہدایت کی درخواست کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے نعمتوں کا شکر کرنے اور حسنِ عبادت (کی توفیق) مانگتا ہوں۔ اور میں تجھ سے سلامتی والا دل اور سچ بولنے والی زبان اور حسنِ خلق مانگتا ہوں۔ اور میں تجھ سے ان تمام چیزوں کی معافی مانگتا ہوں تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی مانگتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے بے شک تو ہی ” علامّ الغیّوب “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1893]
40. الدُّعَاءُ لِدَفْعِ الْكَرْبِ
پریشانی دور کرنے کی دعا۔
حدیث نمبر: 1894
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا أسامة بن زيد، عن محمد بن كعبٍ القُرَظي، عن عبد الله بن شدَّاد، عن عبد الله بن جعفر، عن علي بن أبي طالبٍ قال: علَّمني رسولُ الله ﷺ إذا نَزَلَ بِي كَرْبٌ أن أقول:"لا إله إلَّا الله الحليمُ الكريم، سبحانَ الله، وتبارك اللهُ ربُّ العرش العظيم، والحمدُ لله ربِّ العالمين" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه لاختلافٍ فيه على الناقِلِين (1) ، وهكذا أقام إسنادَه محمدُ بن عَجْلان عن محمد بن كعب:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه لاختلافٍ فيه على الناقِلِين (1) ، وهكذا أقام إسنادَه محمدُ بن عَجْلان عن محمد بن كعب:
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ جب میں کسی آزمائش میں مبتلا ہوں تو یہ دعا مانگا کروں: ” لا الہ الّا اللّٰہُ الحلیم الکریم سبحان اللّٰہ، وتبارک اللّٰہُ ربُّ العرشِ العظیم، والحمدللّٰہ ربِّ العالمین “ ” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، وہ حلیم ہے، کریم ہے، اللہ کے لیے پاکی ہے اور اسی کی ذات برکت والی ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس لیے نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس میں ناقلین پر اختلاف ہے اور یونہی اس کی سند کو محمد بن عجلان نے محمد بن کعب کے واسطے سے قائم رکھا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1894]
حدیث نمبر: 1895
أخبرَناه أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزَّار بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن محمد بن عَجْلان عن محمد بن كعب، عن عبد الله بن شدّاد، عن عبد الله بن جعفر، عن عليٍّ قال: لَقَّنَني رسولُ الله ﷺ هؤلاءِ الكلماتِ إن نَزَلَ بِي شِدَّة أو كَرْبٌ أن أقولَهُنَّ:"لا إله إلَّا اللهُ الحليمُ الكريم، ﷾، تبارك اللهُ ربُّ العرش العظيم، والحمدُ لله ربِّ العالمين". قال: فكان عبدُ الله بن جعفر يلقِّنُها الميِّتَ، ويَنفُثُ بها على المَوعُوك (2) . قد أخرج البخاريُّ ومسلمٌ (1) هذا الحديث مختصرًا من حديث قتادةَ عن أبي العاليَة عن ابن عباس.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کی تلقین فرمائی کہ جب میں کسی مصیبت یا آزمائش میں مبتلا ہوں تو یہ پڑھا کروں: ” لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم، سبحانہ و تعالٰی، تبارک اللہ رب العرش العظیم، والحمدللّٰہ رب العالمین۔ “ (عبداللہ بن شداد) فرماتے ہیں: عبداللہ بن جعفر کی یہ عادت تھی کہ وہ میت کو انہی کلمات کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور بیماروں کو یہی کلمات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ ٭٭ اس حدیث کو امام بخاری نے نقل کیا ہے۔ اور یہ حدیث، اس حدیث سے مختصر ہے جو قتادہ نے ابوالعالیہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1895]
41. دُعَاءُ دَفْعِ الْهَمِّ وَالْغَمِّ
غم اور فکر دور کرنے کی دعا۔
حدیث نمبر: 1896
أخبرنا أبو بكر بن أبي دَارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حدثنا وَضَّاح بن يحيى النَّهْشَلي، حدثنا النَّضر بن إسماعيل البَجَلي، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، حدثنا القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن ابن مسعودٍ قال: كان رسول الله ﷺ إذا نَزَلَ به همٌّ أو غمٌّ قال:"يا حيُّ يا قيُّومُ، برحمتِكَ أَستَغيث" (2) .
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی پریشان ہوتے یہ پڑھا کرتے تھے:” یا حیّ، یا قیّومُ، برحمتک استغیث “ ” اے حی، اے قیوم! میں تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں۔ “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1896]
42. دُعَاءُ دَفْعِ الْكَرْبِ الْمَأْمُورُ بِتَعَلُّمِهِ
وہ دعا جسے پریشانی دور کرنے کے لیے سیکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 1897
أخبرنا محمد بن المُؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو ثابت محمد بن عُبيد الله، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، حدثني سعد بن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما كَرَبَني أَمرٌ إِلَّا تَمثَّل لي جبريلُ ﵇ فقال: يا محمد، قل: توكَّلتُ على الحي الذي لا يموت، والحمدُ لله الذي لم يَتَّخِذْ ولدًا، ولم يكن له شَريكٌ في المُلك، ولم يكن له وَليٌّ من الذُّلِّ، وكبِّره تكبيرًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے جب بھی کوئی پریشانی آتی ہے تو جبریل امین علیہ السلام میرے سامنے انسانی شکل میں آ کر فرماتے ہیں: اے محمد پڑھیے: ” توکلت علی الحی الذی لا یموت، والحمدللّٰہ الذی لم یتّخذ ولدًا، ولم یکن لَّہ شریکٌ فی الملکِ، ولم یکن لہ ولیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وکبِّرہُ تکبیرًا “ ” میں نے اس زندہ پر توکل کیا ہے جس کو موت نہیں ہے اور سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں اور کمزوری سے اس کا کوئی حمایتی نہیں اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو۔ “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1897]
43. دُعَاءٌ يُذْهِبُ الْهَمَّ وَالْحُزْنَ
وہ دعا جو غم اور رنج کو دور کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 1898
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا فُضَيل بن مرزوق، حدّثني أبو سَلَمةَ الجُهَني، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه قال: قال عبد الله بن مسعود: قال رسول الله ﷺ:"ما أصابَ مسلمًا قَطُّ همٌّ ولا حَزَنٌ فقال: اللهمَّ إِنِّي عبدُك، وابنُ أَمَتَكَ، ناصِيتي في يَدِكَ، ماضٍ فيَّ حُكمُك، عدلٌ فيَّ قضاؤُك، أسألكَ بكلِّ اسمٍ هو لك، سمَّيتَ به نفسَك، أو أنزلتَه في كتابك، أو علَّمتَه أحدًا من خَلْقِكَ، أو استأثرتَ به في عِلْمِ الغَيبِ عندك، أن تجعلَ القرآنَ رَبيعَ قلبي، وجلاءَ حُزْني، وذهابَ همِّي، إلَّا أذهَبَ الله همَّه، وأبدَلَه مكانَ حَزَنِه فَرَحًا"، قالوا يا رسولَ الله، ألا نتعلمُ هذه الكلمات؟ قال:"بلى، ينبغي لمن سَمِعَهُنَّ أن يتعلَّمَهنَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم إن سَلِمَ من إرسال عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه، فإنه مختَلَف في سماعه عن أبيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم إن سَلِمَ من إرسال عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه، فإنه مختَلَف في سماعه عن أبيه (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو کوئی تکلیف اور پریشانی آئے تو وہ یہ دعا پڑھے: ” اَللّٰھمَّ انی عبدک وابن امتک، ناصیتی فی یدک ماض فی حکمک، عدل فی قضاؤک، اسألک بکل اسم ھو لک سمّیت بہ نفسک، او انزلتہ فی کتابک، او علمتہ احدًا من خلقک، او استأثرت بہ فی علم الغیب عندک، ان تجعل القراٰن ربیع قلبی، وجلاء حزنی، وذھاب ھمِّی۔ “ ” اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں اور تیری بندی کا بچہ ہوں، میری باگ ڈور تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم گزر چکا ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے ہر اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے (خواہ) تو نے وہ خود نام بتایا ہے۔ یا اپنی کسی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ سکھایا ہے یا اپنے پاس اپنے علم غیب میں ہی اس کو رکھا ہوا ہے۔ یہ کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے، میرے غم کا آسرا بنا دے اور میرے غم غلط ہونے کا ذریعہ بنا دے “ اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی اور تکلیف کو ختم فرما دیتا ہے اور اس کی پریشانی کو خوشی اور فرحت میں تبدیل فرما دیتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم یہ کلمات سیکھ لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جو ان کلمات کو سنے اس کو چاہیے کہ انہیں یاد کرلے۔ ٭اگر اس حدیث کی سند عبدالرحمن بن عبداللہ کی ان کے والد سے ارسال سے محفوظ ہے تو یہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ” حدیث صحیح “ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عبدالرحمن کے ان کے والد سے سماع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1898]