🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. يَدْعُو اللَّهُ بِالْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن اللہ مؤمن کو پکارے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1840
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفيُّ وأبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العدل، قالا: حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا عبد الأعلى بن حمّاد، حدثنا أبو عاصم العَبّاداني، عن الفضل بن عيسى، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله، عن النبيِّ ﷺ قال:"يَدْعو اللهُ بالمؤمن يومَ القيامة حتى يُوقِفَه بين يديه، فيقول: عبدي، إنِّي أَمرتُك أن تَدعُوَني، ووعدتُك أن أستجيبَ لك، فهل كنتَ تَدْعُوني؟ فيقول: نَعَم يا رب، فيقول: أمَا إِنَّك لم تَدْعُني بدعوةٍ إِلَّا استجبتُ لك، أليس دَعَوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أفُرِّجَ عنك، ففرَّجتُ عنك؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإني عجّلتُها لك في الدنيا، ودَعوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أُفرِّج عنك، فلم تَرَ فَرَجًا؟ قال: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك بها في الجنة كذا وكذا، ودَعوتَني في حاجةٍ أَقضيها لكَ في يوم كذا وكذا، فقضيتُها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإنِّي عجَّلتُها لك في الدنيا، ودَعَوتَني في يوم كذا وكذا في حاجةٍ أَقضيها لك، فلم تَرَ قضاءَها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك في الجنة كذا وكذا"، قال رسولُ الله ﷺ:"فلا يَدَعُ اللهُ دعوةً دعا بها عبدُه المؤمنُ إلَّا بيَّن له، إمّا أن يكون عَجَّل له في الدنيا، وإمَّا أن يكون ادَّخَر له في الآخرة" قال:"فيقولُ المؤمنُ في ذلك المَقَام: يا ليتَه لم يكن عُجِّل له شيءٌ من دُعائِه" (2) .
هذا حديثٌ تفرَّد به الفضل بن عيسى الرَّقَاشي عن محمد المُنكدِر، ومحلُّ الفضل بن عيسى محلُّ من لا يُتَوهَّم بالوضع.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور فرمائے گا: اے بندے! میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ مجھ سے دعا مانگو اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں تیری دعا کو قبول کروں گا، تو کیا تو نے مجھ سے دعا کی تھی؟ بندہ کہے گا: جی ہاں میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں تیری ہر دعا کو قبول نہیں کرتا رہا؟ کیا تو نے فلاں دن ایک مصیبت سے چھٹکارا پانے کی دعائیں نہیں مانگی تھیں اور میں نے تجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دے دیا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں اے میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیری دعا کو قبول کر لیا تھا۔ اور تو ایک دن ایک مصیبت میں گرفتار تھا اور اس سے چھٹکارا پانے کی دعائیں مانگ رہا تھا لیکن تم دیکھ رہے تھے کہ مصیبت سے نجات نہیں ملی۔ وہ کہے گا: جی ہاں اے میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے اس دعا کے بدلے تیرے لیے جنت میں فلاں فلاں ذخیرہ کر رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ مؤمن اللہ تعالیٰ سے جو بھی دعا مانگتا ہے، وہ تمام اس دن اس کے سامنے بیان کرے گا کہ یا تو وہ دنیا میں پوری کر دی گئی ہیں یا اس کو آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا گیا ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) فرماتے ہیں: اس مقام پر بندہ سوچے گا: کاش میری کوئی بھی دعا دنیا میں پوری نہ ہوئی ہوتی۔ ٭٭ اس حدیث کو محمد بن المنکدر سے روایت کرنے میں فضل بن عیسیٰ متفرد ہیں۔ اور فضل بن عیسیٰ کے متعلق وضع حدیث کا وہم نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1840]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ عِنْدَهُ
جو یہ جاننا چاہے کہ اللہ کے ہاں اس کا مرتبہ کیا ہے وہ دیکھے کہ اس کے دل میں اللہ کا کیا مقام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1841
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المُفضَّل، حدثنا عمر بن عبد الله مولى غُفْرة قال: سمعتُ أيوب بن خالد بن صفوان الأنصاريُّ يقول: قال جابر بن عبد الله: خَرَجَ علينا النبي ﷺ فقال:"يا أيها الناس، إنَّ لله سَرَايا من الملائكة تَحُلُّ وتقفُ على مجالس الذِّكر في الأرض، فارتَعُوا في رياض الجنة"، قالوا: وأين رياضُ الجنة يا رسول الله؟ قال:"مجالسُ الذِّكر، فاغْدُوا ورُوحُوا في ذكر الله، وذكِّروه أنفُسَكم، من كان يحبُّ أن يَعلَمَ منزلتَه عند الله، فلينظُر كيف منزلةُ الله عنده، فإنَّ الله يُنزِلُ العبدَ منه حيث أنزَلَه من نفسِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! اللہ کے ملائکہ کی کچھ جماعتیں ہیں جو (آسمان سے) روانہ ہوتی ہیں اور زمین میں ذکر کی مجالس میں ٹھہرتی ہیں، اس لیے تم لوگ جنت کی کیاریوں میں سے چر لیا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جنت کی کیاریاں کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر کی محفلیں (ہی جنت کی کیاریاں ہیں) اس لیے صبح شام اللہ کا ذکر کیا کرو اور اپنے دلوں میں اس کو یاد کیا کرو۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا مقام جاننا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ اس بات پر غور کرے کہ اس کے دل میں اللہ کا مقام کیا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کو وہی مقام دیتا ہے جو مقام بندہ، اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1841]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. فَضِيلَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ
ذکر کی مجلسوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1842
أخبرني أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار (1) بمكة على الصَّفا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن مِنْهال. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا أبو عُمَر الضرير، قالا: حدثنا حمّاد بن سلمة، أنَّ سهيل بن أبي صالح أخبرهم، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ لله ملائكةً سَيّارةً وفُضُلًا يَلتَمِسون مجالسَ الذِّكر في الأرض، فإذا أَتَوا على مجلس ذِكْرٍ حَفَّ بعضُهم بعضًا بأجنحتهم إلى السماء، فيقول ﵎: من أين جئتُم؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا جئنا من عند عبادك يُسبِّحونك ويُكبِّرونك ويَحْمَدُونك ويُهلِّلونك، ويَسألونك ويَستَجيرونك، فيقول: ما يسألونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا يسألونك الجنة، فيقول: وهل رأَوها؟ فيقولون: لا يا رب، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ فيقول: وممَّ يَستَجيرونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: من النار، فيقول: هل رأَوها؟ فيقولون: لا، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ ثم يقول: اشهَدُوا أني قد غفرتُ لهم، وأعطيتُهم ما سألوني، وأَجَرْتُهم مما استجاروني، فيقولون: ربَّنا إِنَّ فيهم عبدًا خطّاءً جلس إليهم وليس منهم! فيقول: وهو أيضًا قد غفرتُ له، هم القومُ لا يَشقَى بهم جَليسُهم" (2) .
هذا حديث صحيح، تفرَّد بإخراجه مسلم بن الحجاج مختصرًا من حديث وهيب بن خالد عن سهيل (1) !
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ صاحب فضیلت چلنے پھرنے والے ملائکہ ہیں جو زمین میں ذکر کی محفلیں تلاش کرتے ہیں۔ اور جب وہ کسی ذکر کی محفل میں آتے ہیں تو ان کو اپنے پروں کے ساتھ آسمانوں تک ڈھانپ لیتے ہیں (جب وہ لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جاتے ہیں تو) اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جانتا ہے، وہ جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل میں مصروف ہیں، جو تجھ سے مانگتے ہیں اور تیری ہی پناہ چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جانتا ہے، فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب! وہ تجھ سے جنت مانگ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: نہیں اے ہمارے رب! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر انہوں نے اس کو دیکھ لیا ہوتا (تو ان کا شوق کیسا ہوتا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری کس چیز سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ یہ بھی بہتر جانتا ہے۔ وہ جواب دیتے ہیں: آگ سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اس کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر انہوں نے جہنم کو دیکھا ہوتا (تو ان کے ڈرنے کی کیفیت کیا ہوتی؟) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے اور جو کچھ انہوں نے مجھ سے مانگا ہے، میں نے انہیں دے دیا ہے اور جس چیز سے انہوں نے میری پناہ مانگی ہے، میں نے ان کو پناہ دے دی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ان کے اندر ایک گنہگار بندہ بھی ہے۔ جو ان میں (ایسے ہی) بیٹھا ہوا ہے حلقۂ ذکر والوں میں وہ شامل نہیں تھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اسے بھی بخش دیا ہے۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں کی یہ شان ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں ہو سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ بن حجاج نے اس کو وہب بن خالد کے حوالے سے سہیل سے روایت کیا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے اور اس میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1842]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. مُدَاوَمَةُ الذِّكْرِ
ذکر کی پابندی اور دوام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1843
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا معاوية بن صالح، حدّثني عمرو بن قيس السَّكُوني، عن عبد الله بن بُسْر: أنَّ أعرابيًا قال لرسول الله ﷺ: إنَّ شرائع الإسلام قد كَثُرَتْ عليَّ، فأنبِئني بشيءٍ أَتشبَّثُ به، فقال:"لا يَزالُ لسانُكَ رَطْبًا من ذِكْرِ الله" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن بصر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے اوپر اسلام کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہو چکی ہیں، اس لیے آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جس کو میں پابندی سے کرتا رہوں۔ آپ نے فرمایا: اپنی زبان کو ہمیشہ اللہ کے ذکر کے ساتھ تر رکھ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1843]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. سَبْقُ الْمُفَرِّدِينَ
مفردون سبقت لے گئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1844
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرَقَة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"سَبَقَ المُفرِّدون" قالوا يا رسول الله، وما المُفرِّدون؟ قال:"الذين يُهْتَرونَ في ذِكْر الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مفردون سبقت لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مفردون کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مفردون ان لوگوں کو کہتے ہیں) جو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1844]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ
میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر سے حرکت کرتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1845
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا بِشْر بن بَكْر، حدثنا الأوزاعي، عن إسماعيل بن عُبيد الله، عن أم الدَّرداء، عن أبي الدَّرداء قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ الله يقولُ: أنا مع عبدي إذا هو ذَكَرَني وتحرَّكَتْ بي شَفَتاه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے ہمراہ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور میرے نام کی وجہ سے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1845]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
آدمی کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1846
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن زياد بن أبي زياد مولى ابن (1) عيّاش [عن] أبي (2) بَحْريَّة، عن أبي الدَّرداء قال: قال النبيُّ ﷺ:"ألا أُنبِّئُكم بخيرِ أعمالِكم، وأزكاها عند مَليكِكُم، وأرفعِها في درجاتِكم، وخيرٌ لكم من إعطاء الذَّهب والوَرِق، وأن تَلْقَوا عدوَّكم فتَضرِبوا أعناقَهم ويَضرِبوا أعناقَكُم؟" قالوا: وما ذاكَ يا رسول الله؟ قال:"ذِكْرُ الله ﷿". وقال معاذ بنُ جبل: ما عمل آدميٌّ من عَملٍ أنجَى له من عذاب الله من ذِكْرِ الله ﷿ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے عمل کی خبر نہ دوں؟ جو تمہارے تمام اعمال سے بہتر ہے اور تمہارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اور سب سے زیادہ ثواب والا ہے۔ اور تمہارے لیے سونا اور چاندی خیرات کرنے اور جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ذکر اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آدمی کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر اس کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1846]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1847
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى وأبو مُسلِم، قالا: حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المُفضَّل، حدثنا عُمارة بن غَزِيّة (1) ، عن صالح مولى التَّوأمة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال أبو القاسم ﷺ:"أيُّما قومٍ جَلَسوا فأطالوا الجلوس، ثم تفرَّقوا قبل أن يَذكُروا الله، أو يصلُّوا على نبيِّه (2) ﷺ، إِلَّا كانت عليهم من الله تِرَةٌ، إن شاء عذَّبهم، وإن شاء غَفَرَ لهم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وصالحٌ ليس بالساقط (4) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور کافی دیر اس میں بیٹھے رہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اُٹھ کر چلے جائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حسرت زدہ اور شرمندہ ہوں گے۔ (آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو معاف کر دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1847]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1848
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن يحيى بن سعيد، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عائشةَ قالت: ما كان رسولُ الله ﷺ يقوم من مجلسٍ إلَّا قال:"سُبحانَك اللهمَّ ربي وبحمدِك، لا إله إلَّا أَنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليك" فقلت له: يا رسول الله، ما أكثرَ ما تقول هؤلاء الكلمات إذا قمتَ! قال:"لا يقولُهنَّ أحدٌ حين يقوم من مَجلسِه، إِلَّا غُفِر له ما كان منه في ذلك المَجلِس" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے پہلے یوں کہتے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبِّی وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ میں نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آپ اٹھنے لگتے ہیں تو اکثر طور پر یہی الفاظ ادا کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بھی مجلس سے اٹھنے سے قبل یہ کلمات پڑھتا ہے اس کے اس مجلس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1848]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي أَنَا عِنْدَ ظَنِّكَ بِي
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں تیرے گمان کے مطابق تیرے ساتھ ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1849
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا محمد بن القاسم الأَسَدي، حدثنا الرَّبيع بن صَبِيح، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسولُ الله ﷺ:"قال الله ﷿: عبدي أنا عند ظَنِّك بي، وأنا معك إذا ذَكَرْتَني" (1) . ذِكْرُ الظن مخرَّج في"الصحيح" (2) ، وذِكْرُ الدعاء غريبٌ صحيح (3) ؛ فإنَّ محمد بن القاسم ثقة (4) ! وفي هذا الإسناد يقول صالح جَزَرة: حدثنا ابن عركان (5) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! تو میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے، میں اسی طرح ہوں اور جب تو میرا ذکر کرتا ہے تو میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں۔ ٭٭ ظن کے الفاظ صحیح ہیں، منقول ہیں اور دعا کا ذکر غریب صحیح ہے کیونکہ محمد بن قاسم ثقہ راوی ہیں۔ اور اس اسناد میں صالح جزرہ نامی راوی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1849]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں