🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ
اللہ کا اتنا زیادہ ذکر کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ دیوانہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1860
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا سعيد بن كَثير، وأصْبَغُ بن الفَرَج. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى. وحدثنا محمد بن صالح، حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو الطاهر؛ قالوا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، قال: وأخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ درَّاجًا أبا السَّمْح حدَّثه عن أبي الهيثم، عن أبي سعيدٍ الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أكْثِرُوا ذِكرَ الله حتى يقولوا: مجنونٌ" (1) . هذه صحيفةٌ للمِصريين صحيحة الإسناد، وأبو الهيثم سليمان بن عُبيد العُتْواري من ثِقات أهل مِصر.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں پاگل سمجھیں۔ ٭٭ یہ مصریوں کا صحیفہ ہے اس کی سند صحیح ہے اور ابوالہیثم سلیمان بن عتبہ العتواری ثقہ، اہلِ مصر میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1860]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1861
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن علي الأبّار، حدثنا هشام بن خالد الأزرق، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد، عن منصور بن عبد الرحمن، عن أُمِّه، عن عائشةَ أُمِّ المؤمنين قالت: كان النبيُّ ﷺ إذا أتاه الأمرُ يَسُرُّه قال:"الحمدُ لله الذي بنِعمتِه تَتِمُّ الصالحاتُ"، وإذا أتاه الأمرُ يَكرَهُه قال:"الحمدُ لله على كلِّ حالٍ" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوش کن معاملہ پیش آتا تو اس پر یوں دعا مانگتے: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمتوں کے صدقے نیکیاں مکمل ہوتی ہیں۔ اور جب کوئی پریشان کن معاملہ پیش آتا تو یوں دعا مانگتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَال ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1861]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1862
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا أبي، حدثنا موسى بن سالم (1) ، عن عون بن عبد الله بن عُتْبة، عن أبيه، عن النعمان بن بَشِيرٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"الذين يَذكُرون مِن جَلالِ الله التحميدَ والتَّسبيحَ والتكبيرَ والتهليلَ، يَتعاطَفْنَ حولَ العرش، لهنَّ دَوِيٌّ كدَوِيِّ النحل، يَقُلنَ (2) لصاحبِهنَّ، [أفلا] يحبُّ [أحدُكم] (3) أن يكون له عندَ الرَّحمن شيءٌ يُذكِّره به" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں یعنی اس کی بزرگی اور جلال کا اور تسبیح کرتے ہیں اور تکبیر کہتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں، (ان کی یہ تسبیح و تمجید، تکبیر و تہلیل) عرش کے گرد گھومتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے، وہ اپنے پڑھنے والے سے کہتی ہیں: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لیے اللہ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز ہو جس کے سبب اللہ اس کا ذکر کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1862]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
جس کا آخری کلام لا إله إلا الله ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1863
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهْدي بن رُسْتُم. وحدثنا أبو الحُسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطَري، حدثنا أبو قِلَابة الرَّقاشي (2) . وحدثنا أبو بكر بنْ إسحاق الفقيه وأبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالوا: حدثنا أبو مسلم؛ قالوا: حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن أبي عَرِيب، عن كَثِير بن مُرَّةَ، عن معاذ بن جبلٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن كان آخرَ كلامِه لا إله إلَّا الله، دَخَلَ الجنة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله قصةٌ لأبي زُرعةَ الرازي قد ذكرتُها في كتاب"المعرفة". حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر رمضان سنة ستٍّ وتسعين وثلاث مئة:
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی زندگی کا آخری کلام لا الٰہ الّا اللّٰہ ہوا وہ جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور انہوں نے ابوزرعہ کا ایک قصہ بھی بیان کیا ہے جس کو میں نے کتاب المعرفۃ میں نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1863]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1864
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أبو قِلَابةَ، حدثنا سهل بن حمّاد وحجّاج بن مِنْهال وأبو ظَفَرٍ، قالوا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابتٍ وداودَ بن أبي هند، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن قال في يومٍ مئةَ مرة: لا إله إلا الله وحده لا شريكَ له، له الملكُ وله الحمد، وهو على كلِّ شيءٍ قديرٌ، لم يَسبِقْهُ أحدٌ كان قبلَه ولا يُدرِكُه أحدٌ كان بعدَه، إلَّا مَن عمل عملًا أفضلَ من عملِه" (1) .
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک دن میں 100 مرتبہ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر پڑھے، نہ تو سابقہ لوگوں میں سے کوئی اس سے زیادہ ثواب حاصل کر سکتا ہے اور نہ بعد میں آنے والوں میں سے کوئی اس کے ثواب کو پہنچ سکتا ہے البتہ جو آدمی اس سے بھی افضل عمل کرے (وہ اس سے آگے نکل سکتا ہے)۔ ٭٭ امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ اسحاق بن ابراہیم کا بیان نقل کرتے ہیں کہ جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو تو یہ سند ایوب عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما کے درجے کی سند قرار پاتی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے کتاب کے شروع سے لے کر اس مقام تک عمرو بن شعیب کی کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے۔ اور کتاب الدعاء والتسبیح کے آغاز میں، میں نے امام ابوسعید عبدالرحمن بن مہدی کا یہ مذہب بیان کر دیا تھا کہ فضائلِ اعمال سے متعلق احادیث کی سند کے معاملے میں قدرے نرم انداز اپنایا جاتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1864]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1864M
سمعت الأستاذ أبا الوليد القرشي ﵁ يقول: سمعت إبراهيم بن أبي طالبٍ يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحنظليَّ يقول: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً، فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر. قال الحاكم: لم أُخرِّج من أول الكتاب إلى هذا الموضع حديثًا لعمرو بن شعيب (1) ، وقد ذكرتُ في أول كتاب الدعاء والتسبيح مذهبَ الإمام أبي سعيد عبد الرحمن بن مَهدي في المسامحة في أسانيدِ فضائل الأعمال.
میں نے استاذ ابوالولید القرشی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابراہیم بن ابی طالب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) کو یہ فرماتے سنا: جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو، تو یہ سند (مضبوطی میں) ایسی ہی ہے جیسے ایوب کی نافع سے اور نافع کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہوتی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے کتاب کے آغاز سے لے کر اس مقام تک عمرو بن شعیب کی کوئی (فقہی) حدیث تخریج نہیں کی، اور میں نے ’کتاب الدعاء والتسبیح‘ کے شروع میں امام ابو سعید عبدالرحمن بن مہدی کا وہ موقف ذکر کر دیا ہے جس میں انہوں نے فضائلِ اعمال کی اسانید میں نرمی برتنے کی اجازت دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1864M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. رَفْعُ الْأَيْدِي عِنْدَ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَمْرُ غَلْقِ الْبَابِ
لا إله إلا الله کہتے وقت ہاتھ اٹھانا اور دروازہ بند کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1865
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إسماعيل بن عيَّاش، عن راشد بن داود، عن يعلى بن شدّاد قال: حدثني أبي شدّادُ بن أوس، وعبادةُ بن الصامت حاضرٌ يصدِّقُه، قال: إِنا لَعِندَ رسول الله ﷺ إذ قال:"هل فيكم غَريبٌ؟" - يعني أهلَ الكتاب - قلنا: لا يا رسول الله، فأمر بغَلْقِ الباب، فقال:"ارفَعوا أيدِيَكُم فقولوا: لا إله إلَّا الله" فرفعنا أيدِيَنا ساعةً، ثم وَضَعَ رسول الله ﷺ يدَه ثم قال:"الحمدُ لله، اللهم إنَّك بَعَثْتَني بهذه الكلمة، وأمرتَني بها، ووعدتَني عليها الجنةَ، إنك لا تُخْلِفُ الميعاد" ثم قال:"أبشِروا، فإنَّ الله قد غَفَرَ لكم" (2) . قال الحاكم: حالُ إسماعيل بن عياش يَقرُب من الحديث قبلَ هذا، فإنه أحد أئمة أهل الشام، وقد نُسِبَ إلى سُوء الحفظ، وأنا على شَرْطي في أمثاله.
سیدنا یعلیٰ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد شداد بن اوس نے مجھے حدیث بیان کی اور اس وقت عبادہ بن صامت وہاں موجود تھے، انہوں نے ان کی تصدیق کی ہے۔ (میرے والد) فرماتے ہیں: ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی (یعنی اہلِ کتاب) ہے؟ ہم نے کہا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دروازہ بند کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: اپنے ہاتھوں کو اٹھاؤ اور پڑھو لا اِلٰہ الّا اللّٰہُ تو ہم نے ایک لمحے کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ نیچے کر لیے پھر یوں دعا مانگی: (الحمدللہ، اللّٰھمّ انک بعثتنی بھٰذہ الکلمۃ، وامرتنی بھا، ووعدتنی علیھا الجنّۃ، انّک لا تخلف المیعاد) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اے اللہ! تو نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا ہے اور اسی کا تو نے مجھے حکم دیا ہے اور اس پر تو نے میرے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ہے۔ ٭٭ امام حاکم فرماتے ہیں: اسماعیل بن عیاش کا حال اس سے قبل بھی حدیث کے قریب ہے کیونکہ یہ اہلِ شام کے آئمہ میں سے ہیں اور ان کو سوء حفظ کی جانب منسوب کیا گیا ہے اور میں اس طرح کی حدیث روایت کرنے میں اپنے معیار پر قائم ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1865]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ فَهُوَ كَعِتَاقِ نَسَمَةٍ
جس نے لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير دس مرتبہ کہا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1866
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا الحسن بن عطية، حدثنا محمد بن طلحة بن مُصرِّف، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عَوْسَجة، عن البراء بن عازب، عن النبي ﷺ قال:"مَن قال: لا إله إلَّا الله، وحدَه لا شريكَ له، له الملكُ وله الحمدُ، وهو على كلِّ شيءٍ قديرٌ، عشرَ مِرارٍ، فهو كعَتَاقِ نَسَمة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو دس مرتبہ (لا الٰہ الّا اللّٰہ وحدہُ لا شریک لہُ، لہُ الملک، ولہ الحمد، وھو علیٰ کلِّ شیئٍ قدیرٌ) پڑھے، اس کو ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1866]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ
اللہ کو سب سے محبوب کلام سبحان ربی وبحمده ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1867
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثنا إسماعيل ابن عُلَية، حدثنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري - حيٌّ من عَنَزَة - عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: قلت: يا رسولَ الله، بأبي وأُمِّي، أيُّ الكلام أحبُّ إلى الله؟ قال:"ما اصْطَفاهُ الله لملائكتِه: سبحانَ ربِّي، وبحمدِه سبحانَ ربِّي وبحمدِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں اللہ تعالیٰ کو کون سی بات سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بات جو اس نے اپنے ملائکہ کے لیے منتخب فرمائی ہے (وہ یہ ہے): (سبحانَ ربِّی وبِحمدہ، سُبحَانَ رَبِّی وبِحَمدہ)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1867]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ
جس نے سبحان الله العظيم کہا اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1868
حدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن الحجّاج الصَّوّاف، عن أبي الزُّبير، عن جابر، أنَّ النبي ﷺ قال:"من قال: سُبحانَ الله العظيم، غُرِسَتْ له نَخلةٌ في الجنة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے (ایک مرتبہ) سبحان اللہ الظیم کہا، اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1868]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں