🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ
رسولُ اللہ ﷺ نے درندوں میں سے دانتوں والے جانوروں کے کھانے اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2307
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا بُكير بن عامر، عن ابن أبي نُعْم، حدثنا رافع بن خَديج: أنه زَرَعَ أرضًا، فمرَّ به النبيُّ ﷺ وهو يسقيها، فسأله:"لمن الزرعُ؟ ولمن الأرضُ؟" فقال: زرعي ببَذْري وعَمَلي، لي الشطرُ ولبني فلانٍ الشطرُ، فقال:"أربَيتُما، فَرُدَّ الأرضَ على أهلها، وخُذ نَفَقَتَك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على مناظرةِ عبد الله بن عُمر ورافع بن خَديج فيه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2276 - بكير ضعيف
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک زمین کاشت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے جبکہ وہ اسے پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: بیج اور محنت میری ہے، اس لیے آدھی پیداوار میری اور آدھی بنو فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے سود کا معاملہ کیا ہے، لہٰذا زمین اس کے مالکوں کو واپس کر دو اور اپنی محنت کا خرچہ لے لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے اس معاملے میں ابن عمر اور رافع بن خدیج کے مناظرے پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف بُكير بن عامر، كما قال الذهبي في "تلخيصه". ابن أبي نُعْم: هو عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 2307] [ترقيم الشركة 2289] [ترقيم العلميه 2276]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف بُكير بن عامر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2308
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى (2) العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع وحُميد بن عبد الرحمن الرُّؤاسي، عن مغيرة بن زيادة، عن عُبادة بن نُسَيّ، عن الأسود بن ثعلبة، عن عبادة بن الصامت، قال: عَلَّمْتُ ناسًا من أهل الصُّفَّة الكتابةَ والقرآنَ، وأهدى إلي رجلٌ منهم قوسًا، فقلتُ: ليست بمالٍ، وأَرمي عليها في سبيل الله، لآتِيَنَّ رسولَ الله ﷺ، فلأَسألنّه، فأتيتُه، فقلتُ: يا رسول الله، رجلٌ أهدى إليَّ قوسًا ممَّن كنتُ أُعلِّمُه الكتابةَ والقرآنَ، وليست بمالٍ، وأَرمي عليها في سبيل الله، قال: إن كنتَ تحبُّ أن تُطَوَّقَ طَوقًا من نار فاقبَلْها" (3) .
هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2277 - مغيرة بن زياد صالح الحديث وقد تركه ابن حبان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اہل صُفہ کے کچھ لوگوں کو لکھنا اور قرآن پڑھانا سکھایا تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیہ کی، میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ یہ کوئی مال تو نہیں ہے اور میں اسے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے استعمال کروں گا، لیکن میں نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ضرور پوچھوں گا، چنانچہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جس شخص کو میں لکھنا اور قرآن سکھاتا تھا اس نے مجھے ایک کمان ہدیہ کی ہے، وہ کوئی نقدی تو نہیں ہے اور میں اسے فی سبیل اللہ جہاد میں استعمال کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری گردن میں آگ کا طوق ڈالا جائے تو اسے قبول کر لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2308]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الأسود بن ثعلبة، ومغيرة بن زياد فيه كلام، وخالفه بشر بن عبد الله بن يسار السُّلَمي فيما سيأتي عند الحاكم (5625)، وهو حسن الحديث، فرواه عن عبادة بن نُسَيّ، عن جُنادة بن أبي أمية، عن عبادة بن الصامت. وجنادة هذا تابعي كبير مخضرم، وقد ...» [ترقيم الرساله 2308] [ترقيم الشركة 2290] [ترقيم العلميه 2277]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ
حجام کی کمائی ناپاک ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2309
حدثنا الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة، قالا: حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، عن السائب بن يزيد، عن رافع بن خَديج، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"كسبُ الحجّام خَبيثٌ، وثَمنُ الكلب خَبيثٌ، ومَهْر البغيّ خَبيثٌ" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2278 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجام کی کمائی خبیث ہے، کتے کی قیمت خبیث ہے اور زانیہ کی اجرت خبیث ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل إبراهيم بن قارظ.» [ترقيم الرساله 2309] [ترقيم الشركة 2291] [ترقيم العلميه 2278]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. النَّهْيُ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ الْغَزْلِ وَالْخَبْزِ وَالنَّفْشِ
لونڈی کی کمائی سے منع کیا گیا سوائے اس کام کے جو وہ اپنے ہاتھ سے کرے، جیسے کاتنا، روٹی پکانا اور روئی دھونکنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2310
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النضر هاشم بن القاسم، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا طارق بن عبد الرحمن القرشي، قال: جاء رفاعةُ بن رافع إلى مجلس الأنصار، فقال: لقد نهانا رسولُ الله ﷺ اليومَ؛ فذكر أشياء، فقال: نهانا عن كَسْبِ الأَمَة إلَّا ما عَمِلَتْ بيدها (1) ؛ وقال هكذا بإصبعه، نحو الغَزْل والخَبْزِ والنَّقْش (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن رافع بن خَديج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2279 - طارق فيه لين ولم يذكر أنه سمعه من رفاعة
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور بتایا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ چیزوں سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لونڈی کی کمائی (جس کی وہ پابند کی گئی ہو) سے منع فرمایا سوائے اس کے جو وہ اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کمائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک سے اشارہ کر کے مثال دی جیسے سوت کاتنا، روٹی پکانا یا کڑھائی و نقش نگاری کرنا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد محتمل للتحسين إلّا أنه مرسلٌ، لأنَّ رفاعة بن رافع هذا تابعي، وهو ابن خَديج، وليس هو رافع بن رفاعة كما وقع مسمَّى في رواية أحمد وأبي داود، وقد جاء على الصواب في رواية المصنف هنا، وكذلك في رواية ابن منده في "معرفة الصحابة" 1/ 586 من ...» [ترقيم الرساله 2310] [ترقيم الشركة 2292] [ترقيم العلميه 2279]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. النَّهْيُ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ .
لونڈی کی کمائی سے منع کیا گیا جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2311
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العدل، حدثنا علي بن الحُسين بن الجُنيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثني ابن أبي فُديك، عن عُبيد الله بن هُرَير، عن أبيه (1) ، عن جده رافع بن خَديج، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن كَسبِ الأَمَة حتى يُعلَمَ مِن أين هو (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2280 - أخرجناه شاهدا
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ (کس ذریعے سے) حاصل ہوئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2311]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، عُبيد الله بن هُرير - وهو ابن عبد الرحمن بن رافع بن خديج - روى عنه جمع كما في "الجرح والتعديل" لابن أبي حاتم، و"تهذيب الكمال" للمزي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وترجم له ابنُ سعد في "طبقاته" 7/ 588 وبَيَّن ما وُلِد له من الأبناء، فهو معروف، ...» [ترقيم الرساله 2311] [ترقيم الشركة 2293] [ترقيم العلميه 2280]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. النَّهْيُ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ
نر جانور کے ملاپ کی اجرت لینے سے ممانعت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2312
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن علي بن الحَكَم، عن نافع، عن ابن عمر، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن عَسْبِ (3) الفَحْلِ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وعلي بن الحكم البُنَاني ثقة مأمون من أعزِّ البصريين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2281 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور کی جفتی کی اجرت ( «عسب الفحل») لینے سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن حکم بنانی بصری ثقہ اور معتبر راویوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسماعيل بن إبراهيم: هو المعروف بابن عُلَيَّة.» [ترقيم الرساله 2312] [ترقيم الشركة 2294] [ترقيم العلميه 2281]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2313
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرم، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حَيّان بن عُبيد الله العَدَوي، قال: سألت أبا مِجلَزٍ عن الصَّرْف، فقال: كان ابنُ عباس لا يرى به بأسًا زمانًا من عمره ما كان منه عَينًا - يعني يدًا بيد - وكان يقول: إنما الربا في النَّسيئة، فلَقِيَه - أبو سعيد الخُدْري، فقال له: يا ابن عباس، ألا تتَّقي اللهَ، إلى متى تُوكِل الناسَ الربا؟! أمَا بَلَغَك أنَّ رسول الله ﷺ قال ذات يوم وهو عند زوجته أم سَلَمة:"إني لأشتَهي تمرَ عَجْوةٍ"، فبعثَتْ صاعَين من تمرٍ إلى رجلٍ من الأنصار، فجاءت بدلَ صاعَينِ صاعًا من تمرِ عَجْوةٍ، فقامت فقدَّمتْه إلى رسول الله ﷺ، فلما رآهُ أعجبَه، فتناولَ تمرةً ثم أمسَكَ، فقال:"من أين لكم هذا؟" فقالت أم سَلَمة: بعثتُ صاعَين من تمرٍ إلى رجل من الأنصار، فأتانا بدلَ صاعَين هذا الصاعُ الواحدُ، وها هو، كُلْ، فألقى التمر من بين يديه، قال:"رُدُّوه، لا حاجةَ لي فيه: التمرُ بالتمرِ، والحنطةُ بالحنطةِ، والشعيرُ بالشعيرِ، والذهبُ بالذهبِ، والفضةُ بالفضةِ، يدًا بيد، عينًا بعين، مِثلًا بمِثل، فمن زاد فهو رِبًا". ثم قال:"كذلك ما يُكال أو يُوزن أيضًا". فقال ابن عباس: جزاك الله يا أبا سعيدٍ الجنةَ، فإنك ذكَّرتني أمرًا كنت نُسِّيتُه، أستغفرُ اللهَ وأتوبُ إليه. فكان ينهى عنه بعد ذلك أشدَّ النَّهْي (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة
حیان بن عبید اللہ عدوی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابومجلز سے بیعِ صرف (زر کا زر سے تبادلہ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی زندگی کے ایک طویل عرصے تک اس میں (نقد تبادلے کی صورت میں) کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ سود تو صرف ادھار میں ہے، پھر ان کی ملاقات سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہوئی جنہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کب تک لوگوں کو سود کھلانے کا ذریعہ بنو گے؟ کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں قیام کے دوران فرمایا تھا: میرا دل عجوہ کھجور کھانے کو چاہ رہا ہے، تو انہوں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری شخص کے پاس بھیجیں (تاکہ تبادلہ کر سکیں) اور اس کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجور لے آئیں، انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کھجوریں پسند آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور کھانے کے لیے اٹھائی مگر پھر رک گئے اور پوچھا: تمہارے پاس یہ کہاں سے آئی؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سارا قصہ سنا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں اپنے سامنے سے ہٹا دیں اور فرمایا: اسے واپس کر دو، مجھے اس کی حاجت نہیں؛ کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی کا تبادلہ ہاتھوں ہاتھ، نقد اور برابر سرابر ہونا چاہیے، جس نے زیادہ کیا تو وہ سود ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح ہر وہ چیز ہے جسے ناپا یا تولا جاتا ہو۔ یہ سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے ابوسعید! اللہ آپ کو جنت کی جزا دے، آپ نے مجھے وہ بات یاد دلا دی جسے میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، چنانچہ اس کے بعد وہ اس سے نہایت سختی سے منع فرمانے لگے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2313]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل حيّان بن عُبيد الله العَدَوي. أبو مجلَز: هو لاحق بن حُميد، وأخرجه محمد بن نصر المروَزي في "السنة" (177)، وأبو القاسم بن بشران في "أماليه" (1442)، وابن حزم في "المحلى" 8/ 479 من طريق إسحاق بن راهويه، عن روح بن عُبادة، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2313] [ترقيم الشركة 2295] [ترقيم العلميه 2282]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2314
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مخْرَمة بن بُكير، عن أبيه، عن عمران بن أبي أنس، قال: سمعتُ أبا عياشٍ يقول: سألتُ سعدَ بن أبي وقّاص عن اشتراء السُّلْت بالتمر، فقال سعد: أبينهما فَضْلٌ؟ قالوا: نعم، قال: لا يصلحُ، وقال سعد: سُئل رسولُ الله ﷺ عن اشتراء الرُّطب بالتمر، فقال رسول الله ﷺ:"أبينَهما فَضْلٌ؟" قالوا: نَعَم، الرُّطب ينقُصُ، فقال رسول الله ﷺ:"فلا يَصلُح" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سلت (جو کی ایک قسم) کے بدلے کھجور کی خریداری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا ان کے درمیان وزن یا مقدار میں فرق ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: یہ درست نہیں ہے، اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجور کے بدلے خشک کھجور خریدنے کے متعلق پوچھا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان کے درمیان وزن میں کمی کا فرق ہوتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، تازہ کھجور خشک ہونے پر کم ہو جاتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ سودا جائز نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2314]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل مخرمة بن بكير: وهو ابن عبد الله بن الأشج. إلّا أنَّ قوله فيه: "اشتراء السلت بالتمر" خطأ من بعض رواته، إذ لا تفاضل بينهما فهما جنسان مختلفان، ولذلك زاد البيهقي في روايته لهذا الحديث عن الحاكم في كتابه "معرفة السنن والآثار" لما رواه: "أو قال: بالبُرِّ"، ...» [ترقيم الرساله 2314] [ترقيم الشركة 2296]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2315
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ سُئل عن … (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (کسی معاملے کے متعلق) پوچھا گیا...
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2315]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2315] [ترقيم الشركة 2297]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2316
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْري، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر، قال: كنت أبيعُ الإبل بالبقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذُ الدراهمَ، وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانيرَ، فوقع في نفسي مِن ذلك، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو في بيت حفصة - أو قال: حين خرج من بيت حفصة - فقلتُ: يا رسول الله، رُوَيدَك أسألْك، إني أبيعُ الإبلَ بالبَقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذ الدراهمَ، وأبيعُ بالدراهم وآخذ الدنانير، فقال:"لا بأسَ أن تأخذَهُما بسعر يومِهما ما لم تتفرّقا وبينكما شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2285 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، میں سودا دیناروں میں کرتا مگر وصولی درہموں میں کر لیتا، اور کبھی درہموں میں بیچ کر دینار وصول کر لیتا، میرے دل میں اس بارے میں کھٹک پیدا ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے (یا وہاں سے نکل رہے تھے)، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ذرا ٹھہریے، میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں، دینار کے عوض بیچ کر درہم لے لیتا ہوں اور درہم کے عوض بیچ کر دینار وصول کر لیتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اس وقت کے بازار کے ریٹ کے مطابق وصولی کر لو جب تک کہ تم ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے حساب مکمل کر لو اور تمہارے درمیان کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2316]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل سماك بن حرب، وقد صحَّح روايتَه هذه جماعة غير المصنف، منهم ابن الجارود (655)، وابن حبان (4920)، وابن عبد البر في "التمهيد" 6/ 292، وابن تيمية في "مجموع الفتاوى" 29/ 510، وابن قيم الجوزية في "حاشيته على سنن أبي داود" 5/ 153، واحتجَّ به ابن المنذر في ...» [ترقيم الرساله 2316] [ترقيم الشركة 2298] [ترقيم العلميه 2285]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں