المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
67. أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ
جس نے تمہیں امانت دی ہو اسے امانت ادا کرو اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 2327
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا طَلْق بن غَنّام، حدثنا شَريك وقيس، عن أبي حَصِين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"أدِّ الأمانةَ إلى من ائتَمَنَك، ولا تخُنْ من خانَكَ" (2) . قال العباس: قلت لطَلْق: أكتُبُ شَريك وأَدَعُ قيس؟ قال: أنت أبصَرُ. حديثُ شريك عن أبي حَصِين صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2296 - على شرط مسلم وشاهده
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2296 - على شرط مسلم وشاهده
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت اسے لوٹاؤ جس نے تم پر بھروسہ کیا، اور اس کے ساتھ خیانت نہ کرو جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو۔“
امام شریک کی یہ روایت امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2327]
امام شریک کی یہ روایت امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2327]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وقد اتفق على روايته شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وقيس - وهو ابن الربيع الأسدي - عن أبي حَصِين - وهو عثمان بن عاصم الأسدي - وفي ذلك ما يُشعر بأنهما ضبطاه، على أنَّ له شواهدَ أيضًا ذكرناها في تخريجنا لأبي داود.» [ترقيم الرساله 2327] [ترقيم الشركة 2309] [ترقيم العلميه 2296]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2328
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسن بن قُتيبة، حدثنا أحمد بن الفضل العَسْقَلاني، حدثنا أيوب بن سُويد، حدثنا ابن شَوذَب، عن أبي التَّيّاح، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"أدِّ الأمانةَ إلى من ائتَمَنَك، ولا تخُن مَن خانَك" (1) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت اسے ادا کرو جس نے تمہیں امین بنایا ہے، اور اس سے خیانت نہ کرو جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2328]
تخریج الحدیث: «حسن بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن سويد وسوء حفظه. ابن شَوذَبٍ: هو عبد الله، وأبو التَّيّاح: هو يزيد بن حميد الضّبعي.» [ترقيم الرساله 2328] [ترقيم الشركة 2310]
الحكم على الحديث: حسن بما قبله
حدیث نمبر: 2329
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى؛ قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا حُسين المُعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن طاووس، عن ابن عمر وابن عباس، عن النبي ﷺ قال:"لا يَحِلُّ للرجل يُعطي عَطِيَّةً أو يَهَبُ هِبةً، فيرجعُ فيها، إلّا الوالدَ فيما يُعطي ولدَه، ومَثَلُ الذي يُعطي العَطِيَّة ثم يَرجع فيها، كمَثَلِ الكلب يأكلُ، فإذا شَبِعَ قاءَ، ثم عاد في قَيئِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإني لا أعلم خلافًا في عدالة عمرو بن شعيب، إنما اختلفوا في سماع أبيه من جده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2298 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فإني لا أعلم خلافًا في عدالة عمرو بن شعيب، إنما اختلفوا في سماع أبيه من جده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2298 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ کوئی عطیہ یا ہبہ دے کر اسے واپس لے لے، سوائے والد کے جو اپنے بیٹے کو کچھ عطا کرے، اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے، پھر وہ اپنی ہی قے کی طرف لوٹتا (اور اسے چاٹتا) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور عمرو بن شعیب کی عدالت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2329]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور عمرو بن شعیب کی عدالت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2329]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو المثنّى: هو معاذ بن المثنى العنبري، ومُسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد، وحسين المُعلِّم: هو ابن ذكوان، وطاووس: هو ابن كيسان اليماني.» [ترقيم الرساله 2329] [ترقيم الشركة 2311] [ترقيم العلميه 2298]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
68. لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا، إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا
جب شوہر کو نکاح کا اختیار حاصل ہو تو عورت کے لیے اپنے مال میں خود مختارانہ تصرف جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 2330
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي ومحمد بن غالب، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن داود بن أبي هند وحَبيب المُعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يجُوزُ لامرأةٍ أمرٌ في مالها إذا مَلَكَ زوجُها عِصْمَتَها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2299 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2299 - صحيح
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے مال میں (بغیر اجازتِ شوہر) تصرف کرنا جائز نہیں ہے جب وہ رشتہ نکاح میں منسلک ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2330]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2330]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. حماد: هو ابن سلمة.» [ترقيم الرساله 2330] [ترقيم الشركة 2312] [ترقيم العلميه 2299]
الحكم على الحديث: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2330M
سمعت عليَّ بن عمر الحافظ يقول: سمعت أبا بكر بن زياد الفقيه النَّيسابوري يقول: سمعت محمد بن علي حَمْدانَ الوَرَّاق يقول: قلت لأحمد بن حنبل: عمرو بن شعيب سمع من أبيه شيئًا؟ فقال: هو عمرو بن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، وقد صحَّ سماعُ عمرو بن شعيب من أبيه شعيب، وصحَّ سماعُ شعيب من جده عبد الله بن عمرو.
میں نے حافظ علی بن عمر الحافظ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر بن زیاد فقیہ نیشاپوری کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے محمد بن علی حمدان الوراق کو فرماتے سنا: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ کیا عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے کچھ سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”وہ عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو ہیں، اور تحقیق عمرو بن شعیب کا اپنے والد شعیب سے سماع صحیح ہے، اور شعیب کا اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع صحیح ثابت ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2330M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2330M] [ترقيم الشركة 2312/1]
حدیث نمبر: 2331
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شريك، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن أُميّة بن صفوان بن أميّة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ استعار منه أَدرُعًا يوم حُنين، فقال: أَغَصْبٌ يا محمد؟ قال:"لا، بل عاريَّةٌ مَضْمونةٌ" (1) . وله شاهدٌ عن ابن عباس:
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریت (ادھار) مانگیں، تو انہوں نے پوچھا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا یہ غصب (زبردستی لینا) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ایسی عاریت ہے جس کی واپسی کی ضمانت دی جاتی ہے۔“
اس کا ایک شاہد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2331]
اس کا ایک شاہد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2331]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذ إسناد ضعيف لاضطرابه كما قال الطحاوي في "شرح المشكل" بإثر (4459)، وابن عبد البر في "التمهيد" 12/ 41. ذلك لأنه اختُلف فيه على عبد العزيز بن رفيع، فمرة يروى عنه عن أمية بن صفوان بن أمية عن أبيه، كما حصل هنا في رواية شريك - وهو النخعي ...» [ترقيم الرساله 2331] [ترقيم الشركة 2313]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2332
أخبرَناه أحمد بن سهل الفقيه ببُخَارى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا إسحاق بن عبد الواحد القُرَشي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن خالد الحَذّاء، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ استعارَ من صفوان بن أُميّة أدرُعًا وسِلاحًا في غزوة حُنين، فقال: يا رسول الله، أعاريّةٌ مُؤدّاةٌ؟ قال:"عاريّةٌ مُؤدّاةٌ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2301 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2301 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ ادھار مانگا، تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ایسی عاریت ہے جو واپس کر دی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ہی عاریت ہے جو واپس کر دی جائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2332]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2332]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، إسحاق بن عبد الواحد قال عنه أبو علي الحافظ: متروك الحديث، وقال الذهبي: واهٍ.» [ترقيم الرساله 2332] [ترقيم الشركة 2314] [ترقيم العلميه 2301]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 2333
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر وعبد الوهاب بن عطاء، قالا: حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال:"على اليدِ ما أَخَذَت حتى تُؤدِّيَه" (2) . ثم إنَّ الحسن نسيَ حديثَه، فقال: هو أمينُك لا ضمان عليه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2302 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2302 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ پر اس چیز کی ذمہ داری ہے جو اس نے لی، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔“ پھر امام حسن بصری اپنی اس روایت کو بھول گئے اور فرمانے لگے کہ (جس کے پاس چیز رکھی جائے) وہ تو تمہارا امین ہے، اس پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2333]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2333]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسماع الحسن» [ترقيم الرساله 2333] [ترقيم الشركة 2315] [ترقيم العلميه 2302]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
69. حِفْظُ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا، وَ حِفْظُ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا، وَ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ مَاشِيَتُهُمْ
دن کے وقت باغات کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے، اور مویشی جو نقصان کریں اس کا ذمہ بھی انہی پر ہے۔
حدیث نمبر: 2334
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الجَوهَري ببغداد، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا جُماهر بن محمد الغَسّاني بدمشق، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الفِرْيابي، عن الأوزاعي، عن الزُّهْري، عن حَرام بن محَيِّصةَ الأنصاري، عن البراء بن عازب، قال: كانت له ناقةٌ ضاريةٌ، فدخلت حائطًا، فأفسدَتْ فيه، فكُلِّم رسولُ الله ﷺ فيها، فقضى أنَّ حِفْظَ الحوائط بالنهار على أهلها، وأنَّ حِفْظَ الماشية بالليل على أهلها، وأنَّ على أهل الماشية ما أصابت ماشِيتُهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي، فإنَّ معمرًا قال: عن الزُّهْري، عن حرام بن مُحَيِّصة، عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2303 - صحيح على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي
هذا حديث صحيح الإسناد، على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي، فإنَّ معمرًا قال: عن الزُّهْري، عن حرام بن مُحَيِّصة، عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2303 - صحيح على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ایک اونٹنی بڑی منہ زور تھی، وہ کسی کے باغ میں گھس گئی اور وہاں نقصان پہنچایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں پر ہے، اور مویشیوں نے رات کو جو نقصان پہنچایا اس کی تلافی مویشی والوں کے ذمہ ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ اس کی سند میں معمر اور اوزاعی کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2334]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ اس کی سند میں معمر اور اوزاعی کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2334]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه، وهذا إسنادٌ الصحيح أنه مرسلٌ، لأنَّ حرام بن مُحيّصة - وهو حرام بن سعد، ويقال: ساعدة بن مُحيّصة - لم يسمع من البراء، والكبار من أصحاب الزُّهْري يقولون فيه: عن حرام: أنَّ ناقة للبراء، وهذا هو الصحيح. على أنه قد رواه بعضهم عن الأوزاعي بموافقة كبار أصحاب الزُّهْري ...» [ترقيم الرساله 2334] [ترقيم الشركة 2316] [ترقيم العلميه 2303]
الحكم على الحديث: صحيح بطرقه
حدیث نمبر: 2335
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سعيد بن سالم القدّاح، أخبرنا ابن جُرَيج، أنَّ إسماعيل بن أُميّة أخبره عن عبد الملك بن عُمير، قال: حضرتُ أبا عُبيدة بن عبد الله بن مسعود وأتاه رجلان تَبايَعا سِلعةً، فقال أحدهما: أخذتُ بكذا وكذا، وقال الآخرُ: بعتُ بكذا وكذا، فقال أبو عُبيدة: حدثني عبد الله بن مسعود في مثل هذا قال: حضرتُ رسولَ الله ﷺ في مثل هذا، فأمر البائعَ أن يُستحلَف، ثم يخيَّر المبتاعُ، إن شاء أَخَذ، وإن شاء تَرَك (1) .
هذا حديث صحيح إن كان سعيد بن سالم حفظ في إسناده عبدَ الملك بن عُمير.
هذا حديث صحيح إن كان سعيد بن سالم حفظ في إسناده عبدَ الملك بن عُمير.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا جب ایسا ہی ایک معاملہ پیش آیا (جس میں خریدار اور بیچنے والے میں اختلاف تھا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بیچنے والے سے حلف لیا جائے، پھر خریدار کو اختیار دیا جائے کہ اگر وہ چاہے تو سودا قبول کرے ورنہ اسے چھوڑ دے۔
یہ حدیث صحیح ہے بشرطیکہ سعید بن سالم نے اسے درست طور پر محفوظ رکھا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2335]
یہ حدیث صحیح ہے بشرطیکہ سعید بن سالم نے اسے درست طور پر محفوظ رکھا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2335]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، دون ذكر استحلاف البائع، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبد الملك بن عمير، والصواب ابن عُبيد، كما قال هشام بن يوسف في روايته عن ابن جُرَيج، أو عبد الملك بن عُبيدة، بزيادة هاء في آخره، كما قال حجاج بن محمد في روايته عن ابن جُرَيج، فلا يصح ذكر عبد ...» [ترقيم الرساله 2335] [ترقيم الشركة 2317]
الحكم على الحديث: حديث صحيح