المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِيِّ السِّقَاءِ .
رسولُ اللہ ﷺ نے گندی خوراک کھانے والے جانور کا دودھ پینے، باندھ کر مارے گئے جانور کا گوشت کھانے اور مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 2278
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن لبن الجَلَّالة، وعن أكل المُجَثَّمة، وعن الشُّرب من في السِّقَاء (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن عبد الله بن عُمر وأبي هريرة، أما حديث ابن عُمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2247 - على شرط البخاري_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن عبد الله بن عُمر وأبي هريرة، أما حديث ابن عُمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2247 - على شرط البخاري_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کے دودھ، مجثمہ (قید کر کے نشانہ بنائے گئے جانور) کو کھانے اور مشکیزے کے منہ سے براہِ راست پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2278]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء، فهما صدوقان لا بأس بهما، وقد توبعا.» [ترقيم الرساله 2278] [ترقيم الشركة 2260] [ترقيم العلميه 2247]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2279
فأخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، أخبرنا محمد بن عمّار المَوصِلي، حدثنا عيسى بن يونس، عن محمد بن إسحاق، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال: نهى رسول الله ﷺ عن أكل الجَلّالة وألبانها (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کے گوشت اور اس کے دودھ سے منع فرمایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، إلّا أنَّ فيه عنعنة محمد بن إسحاق - وهو ابن يَسار، صاحب المغازي - ثم إنه خالفه سفيان الثَّوري، فرواه عن ابن أبي نجيح عن مجاهد مرسلًا، وكذلك رواه جماعة عن مجاهد، فأرسلوه.» [ترقيم الرساله 2279] [ترقيم الشركة 2261]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2280
وأخبرني أبو الوليد الفقيه، حدثنا محمد بن نُعيم، حدثنا أحمد بن أبي سُريج الرازي، حدثنا عبد الله بن الجَهْم، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن أيوب السَّخْتِياني، عن نافع، عن ابن عمر، قال: نهى رسول الله ﷺ عن الجَلّالة - يعني: الإبل - أن يُركَبَ عليها، أو يُشربَ من ألبانها (1) . وأما حديث أبي هريرة:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ یعنی (گندگی کھانے والے) اونٹ پر سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2280]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن الجهم وعمرو بن أبي قيس الرازيّين، لكنهما متابعان في الطريق السالفة قبله، وفيما سيأتي.» [ترقيم الرساله 2280] [ترقيم الشركة 2262]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2281
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عبد الصمد بن النعمان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أيوب، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة، قال: نهى رسول الله ﷺ عن المُجثَّمة والجَلّالة (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجثمہ (نشانہ بازی کے لیے باندھے گئے جانور) اور جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) سے منع فرمایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2281]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وعبد الصمد بن النعمان» [ترقيم الرساله 2281] [ترقيم الشركة 2263]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
45. نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الشَّاةِ بِاللَّحْمِ
نبی ﷺ نے بکری کو گوشت کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 2282
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا إسماعيل بن يزيد الأصبهاني، حدثنا يحيى بن الضُّرَيس، عن إبراهيم بن طَهْمان، عن الحجّاج بن الحجّاج، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة: أنَّ النبي ﷺ نهى عن بيع الشاةِ باللَّحْم (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، رواتُه عن آخرهم أئمةٌ حفاظٌ ثقاتٌ، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ البخاريُّ بالحسن عن سمرة. وله شاهدٌ مرسلٌ في"موطأ مالك":
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2251 - احتج البخاري بالحسن عن سمرة
هذا حديث صحيح الإسناد، رواتُه عن آخرهم أئمةٌ حفاظٌ ثقاتٌ، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ البخاريُّ بالحسن عن سمرة. وله شاهدٌ مرسلٌ في"موطأ مالك":
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2251 - احتج البخاري بالحسن عن سمرة
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کے عوض بکری فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے تمام راوی مستند ائمہ اور حافظِ حدیث ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام بخاری نے حسن بصری کی سمرہ سے روایت سے احتجاج کیا ہے، اور اس کا ایک مرسل شاہد امام مالک کی موطا میں بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2282]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے تمام راوی مستند ائمہ اور حافظِ حدیث ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام بخاری نے حسن بصری کی سمرہ سے روایت سے احتجاج کیا ہے، اور اس کا ایک مرسل شاہد امام مالک کی موطا میں بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2282]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي،، وصحَّحه البيهقي في "السنن الكبرى"، وسماع الحسن من سمرة صحيح كما بينّاه عند الحديث المتقدم برقم (151).» [ترقيم الرساله 2282] [ترقيم الشركة 2264] [ترقيم العلميه 2251]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2283
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع، أخبرنا الشافعي، أخبرنا مالك، عن زيد بن أسلم، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ النبي ﷺ نَهى عن بيع اللَّحْم بالحَيوان (1) .
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے گوشت کی بیع سے منع فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2283]
تخریج الحدیث: «صحيح الإسناد إلى سعيد بن المسيب، وهو مرسل، ومراسيل سعيد من أصح المراسيل وأقواها. وقال ابن عبد البر 4/ 322: إسناد هذا المرسل أحسن أسانيد الحديث.» [ترقيم الرساله 2283] [ترقيم الشركة 2265]
الحكم على الحديث: صحيح الإسناد إلى سعيد بن المسيب
46. مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ، فَقَدْ شَرَكَ فِي عَارِهَا وَإِثْمِهَا
جو شخص چوری کا مال جانتے بوجھتے خریدے وہ اس کی رسوائی اور گناہ میں شریک ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2284
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، قالا: حدثنا الحسن بن عبد الصمد بن عبد الله بن رَزِين السُّلَمي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا مسلم بن خالد الزَّنْجي، عن مصعب بن محمد المدني، عن شُرَحبيل مولى الأنصار، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال:"مَن اشترى سَرِقةً، وهو يعلم أنها سَرِقةٌ، فقد شَرِكَ في عارِها وإثمِها" (2) . شُرَحبيل هذا: هو ابن سعد الأنصاري، قد روى عنه مالك بن أنس بعد أن كان يُسيءُ الرأيَ فيه، والحديثُ صحيحٌ، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چوری شدہ چیز خریدی جبکہ وہ جانتا تھا کہ یہ چوری کی ہے، تو وہ اس کی رسوائی اور گناہ میں برابر کا شریک ہو گیا۔“
شرحبیل بن سعد انصاری سے امام مالک نے بھی روایت لی ہے، یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2284]
شرحبیل بن سعد انصاری سے امام مالک نے بھی روایت لی ہے، یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2284]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل مسلم بن خالد الزَّنْجي وشرحبيل بن سعد مولى الأنصار، وقد اختلف في إسناده على مصعب بن محمد، فخالف مسلمًا الزنجيَّ فيه سفيان الثَّوري وسفيانُ بنُ عيينة، فروياه عن مصعب بن محمد، عن رجل من أهل المدينة، عن النبي ﷺ؛ يعني مرسلًا، وقال الدارقطني في "العلل" (2104): ...» [ترقيم الرساله 2284] [ترقيم الشركة 2266]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
47. أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلٍ أَوْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ للْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا
جو مرد ایک یا دو آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدے تو وہ پہلے خریدار کا حق ہے، اور جس عورت کے دو ولی ہوں تو وہ پہلے ولی کے نکاح میں ہوگی۔
حدیث نمبر: 2285
أخبرني عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو الوليد الطَّيالِسي وعَفّان بن مسلم ومسلم بن إبراهيم، قالوا: حدثنا هشام بن أبي عبد الله، حدثنا قَتَادة، عن الحسن، عن سمُرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"أيُّما رجلٍ باع بيعًا مِن رجلٍ أو رجلَين، فهو للأول منهما، وأيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَليّانِ، فهي للأول منهما" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2254 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2254 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی چیز ایک یا دو آدمیوں کے ہاتھ فروخت کی تو وہ پہلے خریدار کی ہوگی، اور جس عورت کا نکاح دو ولیوں نے (الگ الگ) کر دیا تو وہ پہلے شوہر کی ہوگی۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2285]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2285]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسماع الحسن - وهو البصري - من سَمُرة - وهو ابن جُندب - صحيح، كما بيناه عند الحديث السالف برقم (151). وقد صحَّحَ هذا الحديثَ أبو زرعة وأبو حاتم، كما في "البدر المنير" لابن الملقن 7/ 590، وانتقاه ابنُ الجارود (622)، وحسّنه الترمذي.» [ترقيم الرساله 2285] [ترقيم الشركة 2267] [ترقيم العلميه 2254]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
48. إِذَا سَرَقَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ سَرِقَتَهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا
جب کسی شخص کی چوری شدہ چیز مل جائے تو جہاں بھی ملے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 2286
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّي، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جُرَيج. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى وعلي بن عبد العزيز وموسى بن الحسن بن عبّاد وإسحاق بن الحسن بن ميمون الحَرْبي، قالوا: حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا ابن جُرَيج، حدثني عِكْرمة بن خالد، أنَّ أُسَيد بن حُضَير بن سِماك حدّثه، قال: كتبَ معاويةُ إلى مروان: إذا سُرِق للرجل فوجد سَرِقتَه فهو أحقُّ بها حيثُ وَجَدَها، قال: فكتب إلي بذلك مروانُ وأنا على اليمامة، فكتبتُ إلى مروانَ: أنَّ نبي الله ﷺ قضى إذا كان عند الرجل غير المتَّهَمِ، فإن شاء سيّدُها أَخذَها بالثمنِ، وإن شاء اتَّبَع سارقَه، ثم قضى بذلك بعدَه أبو بكر وعمر وعثمان، قال: فكتب مروانُ إلى معاويةَ بكتابي، فكتب معاويةُ إلى مروان: إنك لستَ أنتَ ولا أُسيد تقضيان عليَّ فيما وَلِيتُ، ولكني أَقضي عليكما، فانفُذْ لما أمرتُك به، وبعثَ مروانُ بكتابِ معاويةَ إليه، فقال: واللهِ لا أَقضي به أبدًا (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2255 - أسيد هذا مات زمن عمر ولم يلقه عكرمة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2255 - أسيد هذا مات زمن عمر ولم يلقه عكرمة
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا: جب کسی شخص کا مال چوری ہو جائے اور وہ اسے پا لے تو جہاں بھی وہ اسے پائے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، مروان کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے اس بارے میں لکھا جبکہ میں یمامہ کا گورنر تھا، تو میں نے مروان کو جواباً لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر چوری شدہ مال کسی ایسے شخص کے پاس ملے جو مشکوک نہ ہو تو اگر اس کا اصل مالک چاہے تو قیمت ادا کر کے اسے لے لے، ورنہ اپنے چور کا پیچھا کرے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی یہی فیصلہ کیا تھا، مروان نے میرا خط معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو انہوں نے مروان کو لکھا: تم اور اسید میرے حکمرانی کے معاملات میں مجھ پر فیصلہ صادر کرنے والے نہیں ہو بلکہ میں تم دونوں پر فیصلہ کروں گا، لہٰذا جو میں نے حکم دیا ہے اسے نافذ کرو، مروان نے معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط ان کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کے مطابق کبھی فیصلہ نہیں کروں گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2286]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2286]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2286] [ترقيم الشركة 2268] [ترقيم العلميه 2255]
49. بِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ إِنْ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ؟
اگر آسمانی آفت آجائے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس حق سے حلال سمجھتا ہے؟
حدیث نمبر: 2287
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن الفضل بن موسى القُسْطاني، حدثنا هارون بن موسى، حدثنا أبو ضَمْرة، عن يحيى بن سعيد، أخبرني ابن جُرَيج، حدثنا أبو الزُّبَير، أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله ﷺ:"إن بعْتَ أخاك تمَراتٍ، فأصابَتْه جائحةٌ، فلا يَحِلُّ لك أن تأخذَ منه شيئًا، لِمَ تأخذُ مالَ أخيكَ بغيرِ إذنه؟!" (1) .
هذا حديث غريب صحيح على شرط الشيخين. ورواه محمد بن ثَور عن ابن جُرَيج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2256 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث غريب صحيح على شرط الشيخين. ورواه محمد بن ثَور عن ابن جُرَيج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2256 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے اپنے بھائی کے ہاتھ کھجوریں فروخت کیں اور پھر اسے کوئی آسمانی آفت پہنچ جائے، تو تمہارے لیے اس سے کچھ بھی لینا حلال نہیں ہے، تم اپنے بھائی کا مال ناحق کیسے لے سکتے ہو؟!“
یہ حدیث غریب اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2287]
یہ حدیث غریب اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2287]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفضل بن موسى القُسْطاني، فهو صدوق، وقد توبع. هارون بن موسى: هو الفَرْوي، وأبو ضمرة: هو أنس بن عياض.» [ترقيم الرساله 2287] [ترقيم الشركة 2269] [ترقيم العلميه 2256]
الحكم على الحديث: حديث صحيح