🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. الْحَثُّ عَلَى النَّفِيرِ
نکل کھڑے ہونے اور جہاد کے لیے آمادگی کی ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2584
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا عبد المؤمن بن خالد الحنفي، حدثنا نَجْدة ابن نُفيع، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ استنفر حيًّا من العرب، فتثاقَلُوا، فنزلت ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ [التوبة:39] ، قال: كان عذابَهم حبسَ المطرِ عنهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعبد المؤمن بن خالد الحنفي من ثِقات المَراوزة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2552 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے ایک قبیلے کو غزوے کے لیے بلایا لیکن انہوں نے سستی دکھائی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ اگر تم (جہاد کے لیے) نہیں نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا [سورة التوبة: 39] ، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان سے بارش روک لی گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2584]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة نجدة بن نُفيع.» [ترقيم الرساله 2584] [ترقيم الشركة 2567] [ترقيم العلميه 2552]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. اسْتِئْذَانُ الْعَبْدِ سَيِّدَتَهُ لِلْجِهَادِ .
غلام کا جہاد کے لیے اپنی مالکہ سے اجازت لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2585
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى بن موسى الأَنطاكي، أخبرنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن ابن جُرَيج، أخبرني عبد الله بن أبي أُميَّة، عن الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة: أنَّ رسول الله ﷺ كان في بعض مغازيه مَرَّ بأناس من مُزَينة، فاتّبَعه عبدٌ لامرأة منهم، فلما كان في بعض الطريق سلّم عليه، فقال:"فلانٌ؟" قال: نعم، قال:"ما شأنُك؟" قال: أُجاهِد معك، قال:"أذِنَتْ لك سيدتُك؟" قال: لا، قال:"ارجع إليها، فإن مَثَلَك مَثَلُ عبدٍ لا يُصلي إن متَّ قبل أن تَرجِعَ إليها، واقرأْ عليها السلامَ" فرجع إليها، فأخبرها الخبرَ، فقالت: اللهِ هو أمَرَ أن تقرأ عليَّ السلام؟ قال: نعم، قالت: ارجِعْ فجاهِدْ معه (2) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2553 - صحيح
حارث بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میں تھے کہ آپ کا گزر قبیلہ مزینہ کے پاس سے ہوا، ان میں سے ایک عورت کا غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب راستے میں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: فلاں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تمہارا کیا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہاری مالکن نے تمہیں اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف واپس چلے جاؤ، کیونکہ اگر تم واپس جانے سے پہلے مر گئے تو تمہاری مثال اس غلام جیسی ہوگی جو نماز نہیں پڑھتا، اور اسے میرا سلام کہنا، چنانچہ وہ واپس گیا اور اپنی مالکن کو خبر دی، اس نے پوچھا: کیا اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حکم دیا ہے کہ مجھے سلام کہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو اس نے کہا: اب واپس جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن أبي أُمية، ولإرساله أيضًا، وقد نبَّه الحافظ ابن حجر على إرساله في "الإصابة" 2/ 195، لكن غَفَلَ عن إعلاله أيضًا بجهالة عبد الله بن أبي أمية، فإنه لم يرو عنه غير ابن جُرَيج، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات"، وقيل: اسمه عبد ربّه، ...» [ترقيم الرساله 2585] [ترقيم الشركة 2568] [ترقيم العلميه 2553]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن أبي أُمية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ .
شہید کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں سوائے قرض کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2586
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا يزيد بن مَوهَب الرَّمْلي، حدثنا المفضَّل بن فَضَالة، عن عيّاش بن عبَّاس القِتْباني، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُعْفَرُ للشهيدِ كلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّينَ" (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث سهل بن حُنيف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2554 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے سوائے قرض کے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يزيد بن مَوهَب: هو ابن خالد بن مَوهب، نسبه لجده، وعبد الله بن يزيد: هو أبو عبد الرحمن الحُبُلي، مشهور بكنيته.» [ترقيم الرساله 2586] [ترقيم الشركة 2569] [ترقيم العلميه 2554]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. أَوَّلُ مَا يُهْرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذَنْبُهُ .
شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2587
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن سعد المُزني، عن سَهْل بن أبي أُمامة ابن سهل بن حُنيف، عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ أول ما يُهْرَاقُ من دمِ الشهيد تُغفَر له ذنوبه" (2) .
سیدنا سہل بن ابی امامہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبد الرحمن بن سعد المزني.» [ترقيم الرساله 2587] [ترقيم الشركة 2570]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. مَنْ لَقِيَ فَصَبَرَ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُغْلَبَ لَمْ يُفْتَنْ فِي قَبْرِهِ
جو دشمن سے مقابلہ کرے اور صبر کرے یہاں تک کہ قتل ہو جائے یا غالب آ جائے تو وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الزُّبيدي، أنَّ عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار حدثهم قال: حدثنا أبو مُطِيع معاوية بن يحيى، عن نصر بن علقمة عن أخيه محفوظ بن علقمة، عن أبي أيوب الأنصاري، قال: قال رسول الله ﷺ:"من لَقيَ فصبَرَ حتى يُقتَلَ أَو يَغلِبَ، لم يُفتَنْ في قبره" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2556 - معاوية ضعيف
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دشمن سے ملا اور صبر کے ساتھ ڈٹا رہا یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا یا غالب آگیا، تو اسے اس کی قبر میں آزمائش میں نہیں ڈالا جائے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن محفوظ بن علقمة لم يسمع هذا الحديث من أبي أيوب، بينهما فيه واسطة وكأنه لم يُدرك أبا أيوب أصلًا، فلا تعرف له رواية عن أحد من الصحابة إلّا عن سلمان الفارسي وقيل فيها بأنها مرسلة، وجُلُّ رواية محفوظ هذا عن عبد ...» [ترقيم الرساله 2588] [ترقيم الشركة 2571] [ترقيم العلميه 2556]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. قِصَّةُ شَهَادَةِ حَمْزَةَ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالشُّهَدَاءِ كُلِّهِمْ وَإِحْيَاءِ وَالِدِ جَابِرٍ
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت، ان پر اور دیگر شہداء پر نماز اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد کے زندہ کیے جانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزاري، عن أبي حماد الحَنَفي، عن ابن عَقيل، قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: فَقَدَ رسولُ الله ﷺ حمزةَ حين فاءَ الناسُ من القتال، فقال رجل: رأيتُه عند تلك الشجّرات، وهو يقول: أنا أسدُ الله وأسدُ رسوله، اللهم أبرأُ إليك ممّا جاء به هؤلاء؛ أبو سفيان وأصحابه، وأعتذرُ إليك ممّا صنع هؤلاء بانهزامِهم، فحَنَا رسولُ الله ﷺ نحوَه، فلما رأى جنْبَه بكى، ولما رأى ما مُثِّل به شَهَقَ، ثم قال:"ألا كُفِّنَ"، فقام رجل من الأنصار فرمى بثوب عليه، ثم قام آخرُ من الأنصار فرمى بثوبٍ عليه، فقال:"يا جابر"، هذا الثوبُ لأبيك، وهذا لعمِّي حمزة"، ثم جيء بحمزة فصَلَّى عليه، ثم يُجاء بالشهداء فتُوضع إلى جانب حمزة، فيصلِّي عليهم، ثم تُرفَع ويُترك حمزة، حتى صلِّى على الشهداء كلهم. قال: فرجعتُ وأنا مُثقَلٌ قد تَرَك أبي عليَّ دَينًا وعيالًا، فلما كان عندَ الليل أرسل إلىَّ رسولُ الله ﷺ، فقال:"يا جابر، إنَّ الله ﵎ أحيا أباك وكلَّمه" قلت: وكلّمه كلامًا! قال:"قال له: تَمَنَّ، فقال: أتمنَّى أن تَرُدَّ روحي وتُنشئ خَلْقى كما كان، وتَرْجِعَني إلى نبيّك، فأقاتلَ في سبيلك فأُقتلَ مرةً أخرى، قال: إني قضيتُ أنهم لا يَرجِعون". قال: وقال ﷺ:"سيدُ الشهداءِ عند الله يومَ القيامة حمزةُ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2557 - أبو حماد هو المفضل بن صدقة قال النسائي متروك
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ لڑائی سے واپس پلٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا، ایک شخص نے بتایا کہ میں نے انہیں ان درختوں کے پاس دیکھا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ "میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور ان (ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں) کے لائے ہوئے شر سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اور ان (مسلمانوں) کی بزدلی (شکست) پر تجھ سے معذرت خواہ ہوں"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف مڑے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو کو دیکھا تو رو پڑے اور جب ان کے جسم کے ساتھ کی گئی بے حرمتی (مثلہ) دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکی بندھ گئی، پھر فرمایا: "کیا ان کے لیے کفن نہیں ہے؟" ایک انصاری شخص نے ان پر اپنی ایک چادر ڈال دی، پھر دوسرے انصاری نے اپنی چادر ان پر ڈال دی، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے جابر! یہ کپڑا تمہارے باپ (عبداللہ بن حرام) کے لیے ہے اور یہ میرے چچا حمزہ کے لیے ہے"۔ پھر سیدنا حمزہ کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، پھر دوسرے شہداء کو لایا جاتا اور حمزہ کے پہلو میں رکھا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب پر نماز پڑھتے، پھر ان شہداء کو اٹھا لیا جاتا اور حمزہ وہیں رہتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شہداء کی نماز جنازہ (حمزہ کے ساتھ ملا کر) پڑھ لی۔ جابر کہتے ہیں کہ میں بہت بوجھل دل کے ساتھ واپس لوٹا کیونکہ میرے والد مجھ پر قرض اور عیال چھوڑ گئے تھے، جب رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: "اے جابر! اللہ عزوجل نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے براہ راست کلام فرمایا"، میں نے پوچھا: کیا واقعی کلام فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ نے ان سے فرمایا: (اے میرے بندے!) کوئی تمنا کر، انہوں نے عرض کیا: میری تمنا ہے کہ تو میری روح کو واپس لوٹا دے اور میری تخلیق دوبارہ ویسی ہی کر دے جیسی تھی اور مجھے دوبارہ اپنے نبی کے پاس بھیج دے تاکہ میں تیری راہ میں قتال کروں اور پھر سے شہید کر دیا جاؤں، اللہ نے فرمایا: میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ وہ (دنیا میں) واپس نہیں لوٹیں گے"۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک شہداء کے سردار حمزہ ہوں گے"۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبي حماد الحنفي - واسمه المفضَّل بن صدقة، وقد توبع على بعض ألفاظ الحديث، وابن عقيل - وهو عبد الله بن محمد بن عَقيل - يُحسَّن حديثه في المتابعات والشواهد، وقد توبع على بعض ألفاظ الحديث أيضًا، ولكن انفرد هو أو أبو حماد الحنفي بقصة الصلاة على ...» [ترقيم الرساله 2589] [ترقيم الشركة 2572] [ترقيم العلميه 2557]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أبي حماد الحنفي - واسمه المفضَّل بن صدقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. كَيْفِيَّةُ كَفَنِ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةَ .
سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے کفن کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، حدثني الزُّهْري، عن أنس بن مالك قال: كُفِّن حمزة في نَمِرةٍ كانوا إذا مَدُّوها على رأسِه، خرجتْ رجلاهُ، وإذا مَدُّوها على رجلَيه خرج رأسُه، فأمرهم النبي ﷺ أن يَمُدُّوها على رأسِه، ويجعَلُوا على رجلَيه من الإذخِر، وقال رسول الله ﷺ:"لولا أن تَجزَعَ صفيةُ، لتركنا حمزةَ فلم ندفنْه، حتى يُحشَرَ حمزةُ من بُطون الطير والسِّباع" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2558 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک چھوٹی دھاری دار چادر (نمرہ) میں کفن دیا گیا، وہ چادر اتنی چھوٹی تھی کہ جب اسے ان کے سر پر ڈالتے تو ان کے پاؤں نکل جاتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر کھل جاتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ چادر سر کی طرف کر دیں اور پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر مجھے صفیہ (حمزہ کی بہن) کے غم زدہ ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو میں حمزہ کو (میدان میں ہی) چھوڑ دیتا اور انہیں دفن نہ کرتا، یہاں تک کہ حمزہ پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے (قیامت کے دن) محشور کیے جاتے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد -وهو الليثي- فقد خالفه الليث بن سعد، فرواه عن الزُّهْري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، ولا شكَّ بتقدُّم الليث على أسامة في الحفظ والإتقان، فقول الليث هو الصحيح، كما ...» [ترقيم الرساله 2590] [ترقيم الشركة 2573] [ترقيم العلميه 2558]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. قِصَّةُ فَتْحِ مَكَّةَ وَالطَّائِفِ وَهَجَرَ .
فتحِ مکہ، طائف اور ہَجَر کے واقعات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا طلحة بن جَبر الأنصاري، عن المُطَّلب بن عبد الله، عن مصعب بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن ابن عوف، قال: افتَتَح رسول الله ﷺ مكةَ، ثم انصرف إلى الطائف فحاصَرَهم ثمانيةً أو سبعةً، ثم أوْغَلَ غَدوةً أو رَوحةً، ثم نزل ثم هَجَّر، ثم قال:"أيها الناس، إني لكم فَرَطٌ، وإني أُوصيكم بعِتْرتي خيرًا، موعدكم الحوضُ، والذي نفسي بيده، لَتقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتون الزكاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا مني -أو كنفسي- فليَضْرِبَنَّ أعناقَ مُقاتِليهم، ولَيسبِيَنَّ ذَرارِيَّهم"، قال: فرأى الناسُ أنه يعني أبا بكر أو عمر، فأخذ بيدِ عليٍّ، فقال:"هذا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2559 - طلحة ليس بعمدة
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور سات یا آٹھ دن ان کا محاصرہ کیا، پھر صبح یا شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پھر قیام فرمایا اور دوپہر گزاری، پھر فرمایا: اے لوگو! میں (حوض پر) تمہارا پیش رو ہوں، اور میں تمہیں اپنی عترت (اہلِ بیت) کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں، تمہارے ساتھ میرا وعدہ حوضِ کوثر پر ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے، ورنہ میں تم پر ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو مجھ سے ہے - یا فرمایا کہ میری جان کی مانند ہے - جو ان کے لڑنے والوں کی گردنیں مارے گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لے گا راوی کہتے ہیں: لوگوں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ ہے وہ شخص۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث: «في إسناده ضعف، طلحة بن جبر مختلف فيه، وثقه ابن معين في رواية، وضعَّفه في رواية أخرى، ووهّاه أبو إسحاق الجُوزجاني، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم يرو هذا الحديث غيره، ومع ذلك فقد صحَّح حديثه هذا المصنّف ومن قبله الطبري في "تهذيب الآثار" في الجزء المفرد بتحقيق علي رضا ص 159.» [ترقيم الرساله 2591] [ترقيم الشركة 2574] [ترقيم العلميه 2559]

الحكم على الحديث: في إسناده ضعف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُ عِدْلُ مُحَرَّرٍ .
جو اللہ کی راہ میں تیر چلائے اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو قُدامة ومحمد بن المثنَّى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجعد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، عن أبي نجيح السُّلَمي، قال: حاصَرْنا قَصْر الطائف، فسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن رمى بسَهُمٍ في سبيل الله فله عَدْلُ محرّر، ومن بَلَغَ بسهمٍ في سبيل الله فله درجةٌ في الجنة"، فبلَّغتُ ستةَ عشَرَ سهمًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ أبا نَجِيح هذا هو عَمرو بن عَبَسة السُّلَمي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2560 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر چلایا تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے اللہ کی راہ میں (دشمن تک) تیر پہنچایا تو اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا چنانچہ میں نے (اس دن) سولہ تیر پہنچائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ابونجیح دراصل عمرو بن عبسہ سلمی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو قُدامة: هو عبيد الله بن سعيد السرخسي، وهشام: هو ابن أبي عبد الله سنْبَر الدستُوائي، وقتادة: هو ابن دعامة، وأبو نجيح السُّلَمي: هو عمرو بن عَبَسَة.» [ترقيم الرساله 2592] [ترقيم الشركة 2575] [ترقيم العلميه 2560]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحسن بن علي القَبّاني (1) ، حدثنا المنذر بن الوليد الجارودي، حدثنا عبد الأعلى (2) ، حدثنا يحيى بن سعيد الأنصاري، حدثني أبو الزُّبَير، عن جابر بن عبد الله، قال: كنا مع رسولَ الله ﷺ بالطائف في غزوة حُنين، فلما بلغ الجغرانةَ قَسَم فِضَةً بين الناس (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2561 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف میں موجود تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں چاندی تقسیم فرمائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى - وهو ابن محمد - كما بيناه قريبًا، وشيخه يحيى بن سعيد قُيِّد هنا بالأنصاري، وقد روى هذا الحديثَ يحيى بنُ سعيد بن قيس الأنصاري الثقة الكبير، لكن الظاهر أنه هنا الفارسي التميمي المازني، وربما نُسب أنصاريًا أيضًا، وربما قيل فيه: رجل ...» [ترقيم الرساله 2593] [ترقيم الشركة 2576] [ترقيم العلميه 2561]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں