🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. نَهْيُ التَّفْرِيقِ فِي الْمَنْزِلِ إِذَا نَزَلُوا
کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2574
أخبرني أبو بكر محمد بن حاتم العَدْل بَمْرو، حدثنا محمد بن غالب بن حَرْب، حدثنا أبو همَّام محمد بن مُحبَّب (1) ، حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضرِّب، عن فُرات بن حيّان: [أنَّ رسول الله ﷺ أمر بقتلِه، وكان عَينًا لأبي سفيان، وحَليفًا لرجلٍ من الأنصار، فقال: إني مُسلم، فقال رسول الله ﷺ] (2) :"إن منكم رجالًا نَكِلهم إلى إيمانهم، منهم فُرات بن حيّان" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2542 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (پہلے) قتل کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے، انہوں نے عرض کیا: میں مسلمان ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں (یعنی ان کے ظاہری دعوے کو مان لیتے ہیں)، فرات بن حیان بھی انہیں میں سے ایک ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2574]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل حارثة بن مضرب سفيان بن سعيد هو الثَّوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.» [ترقيم الرساله 2574] [ترقيم الشركة 2557] [ترقيم العلميه 2542]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2575
حدثنا أبو الحسن علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز المكي وموسى بن الحسن بن عبّاد الغَسّاني قالا: حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا هشام الدَّستُوائي، حدثنا قَتَادة عن الحسن، عن قيس بن عُبَادٍ، قال: كان أصحابُ النبي ﷺ يكرهون الصوتَ عند القتال (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2543 - على شرط البخاري ومسلم
قیس بن عباد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ قتال کے وقت (شور مچانے اور) آواز بلند کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الحسن: هو ابن ابي الحسن البصري، وقتادة: هو ابن دعامة السدوسي، وهشام الدستُوائي: هو ابن أبي عبد الله، وأخرجه أبو داود (2656) عن مسلم بن إبراهيم بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2575] [ترقيم الشركة 2558] [ترقيم العلميه 2543]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2576
أخبرَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار، حدثنا عبيد الله بن عمر القَواريري، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن همّام حدثني مَطَر، عن قَتَادة، عن أبي بُرْدة، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ كان يَكْرَه الصوتَ عند القِتال (1) . إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وحديث هشام الدَّستُوائي شاهدُه، وهو أَولى بالمحفوظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2544 - هذا أصح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتال کے وقت آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہشام دستوائی کی حدیث اس کی شاہد ہے اور وہی زیادہ محفوظ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2576]
تخریج الحدیث: «صحيح لكن عن قتادة عن الحسن البصري عن قيس بن عُبَاد، كما رواه هشام الدستُوائي في الطريق السابقة، ومطر» [ترقيم الرساله 2576] [ترقيم الشركة 2559] [ترقيم العلميه 2544]

الحكم على الحديث: صحيح لكن عن قتادة عن الحسن البصري عن قيس بن عُبَاد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2577
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع عن إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء، قال: لما لقي النبيُّ ﷺ المشركين يوم حُنين نزلَ عن بغلتِه فتَرجَّل (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1) ، ولم يصحَّ أنه ﷺ ترجَّل وحارَبَ راجلًا إلَّا من هذا الوجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2545 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ حنین کے دن مشرکین سے مقابلہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے نیچے اترے اور پیدل (میدان میں) چلے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور صرف اسی طریق سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے اور پیدل قتال فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2577]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2577] [ترقيم الشركة 2560] [ترقيم العلميه 2545]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2578
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن علْقمة بن عبد الله المُزَني [عن مَعقِل بن يَسار] (2) أنَّ النعمان بن مُقرِّن قال: شهدتُ رسول الله ﷺ إذا لم يقاتِل من أول النهار، أخَّرَ القتالَ حتى تزولَ الشمسُ وتهُبَّ الرياحُ (3) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2546 - على شرط مسلم
سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوات میں) حاضر رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ اگر دن کے ابتدائی حصے میں قتال شروع نہ فرماتے تو قتال کو اس وقت تک مؤخر کر دیتے جب سورج ڈھل جاتا اور ہوائیں چلنے لگتیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2578]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،حماد: هو ابن سلمة، وأبو عمران الجوني: هو عبد الملك بن حبيب.» [ترقيم الرساله 2578] [ترقيم الشركة 2561] [ترقيم العلميه 2546]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2579
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ أبا طلحة كان يرمي يوم أُحُد بين يدَي رسول الله ﷺ ورسولُ الله ﷺ خَلْفَه، وكان أبو طلحة راميًا، وكان إذا رمى يرفعُ النبي ﷺ شَخْصَه ليَنظُرَ أين يقعُ سهمُه، وكان أبو طلحة يرفع صدره ويقول: هكذا بأبي أنتَ يا رسول الله، لا يُصيبُك سهمٌ، نَحْري دون نَحْرك، وكان أبو طلحة يُودُّ (1) نفسه بين يدي رسولَ الله ﷺ فيقول: يا رسول الله، أنا جَلْدٌ قويٌّ، فمُرْني بما شئتَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2547 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر تیر اندازی کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے، ابو طلحہ ماہر تیر انداز تھے، جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں جا کر لگا ہے، تب ابو طلحہ اپنا سینہ تان لیتے اور عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ (سر مبارک بلند نہ کریں) کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے کے سامنے ڈھال ہے، ابو طلحہ خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتے اور عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! میں توانا اور مضبوط ہوں، آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 2579] [ترقيم الشركة 2562] [ترقيم العلميه 2547]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. بَقِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَثَمَانُونَ رَجُلًا
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور اسی آدمی سیدنا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باقی رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2580
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل ابن محمد الشَّعراني، حدثنا عبد الله بن محمد بن نُفَيل الحَرّاني، حدثنا محمد بن سلمة الحرّاني، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن أبي عَون، عن سعد بن إبراهيم، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال لي أُميّة بن خَلَف وأنا بينه وبين ابنه عليّ آخِذٌ بأيديهما: يا عبدَ الإله من الرجلُ منكم المُعْلَم بريشةِ نَعامةٍ في صَدْره؟ قال: قلتُ: ذاك حمزةُ بن عبد المطّلب، قال: ذاك الذي فَعَلَ بنا الأفاعِيلَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. أخرجه الإمام أبو بكر بن خُزيمة في باب الرخصة في علامة المُبارز بنفسه ليُعلَم موضعُه، فرواه عن محمد بن يحيى عن النُّفَيلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2548 - على شرط مسلم
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (بدر کے دن) امیہ بن خلف نے مجھ سے پوچھا جبکہ میں اس کا اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑے ہوئے (انہیں قیدی بنا کر لے جا رہا) تھا: اے عبد الہٰ! تمہارے لشکر میں وہ کون شخص ہے جس نے اپنے سینے پر شتر مرغ کا پر بطور نشانی لگایا ہوا ہے؟ میں نے کہا: وہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب ہیں، امیہ نے کہا: یہی وہ شخص ہے جس نے (جنگ میں) ہمارے ساتھ بڑے بڑے معرکے کیے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام ابن خزیمہ نے اسے اس باب میں روایت کیا ہے کہ جس میں میدانِ جنگ میں اپنی پہچان کے لیے کوئی علامت لگانے کی رخصت ثابت ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2580]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2580] [ترقيم الشركة 2563] [ترقيم العلميه 2548]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ السَّكِينَةِ .
آیتِ سکینہ کے نزول کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2581
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحارث بن حَصِيرة، حدثنا القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال: قال ابن مسعودٍ: كنتُ مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فولَّى عنه الناس وبقيتُ معه في ثمانين رجلًا من المهاجرين والأنصار، فكُنا على أقدامِنا نحوًا من ثمانين قدمًا ولم نُولِّهم الدُّبُرَ، وهم الذين أنزل الله عليهم السكينةَ، قال: ورسول الله ﷺ على بغلته يمضي قُدُمًا، فحادَت بغلته، فمال عن السّرِج، فشَدَّ نحوه، فقلتُ: ارتفع رفعَكَ الله، قال:"ناوِلْني كفًّا من ترابٍ" فناولتُه، فضرب به وجوهَهم، فامتلأ أعينُهم ترابًا، قال:"أين المهاجرون والأنصار؟" قلت: هم هنا، قال:"اهتِفْ بهم" فَهَتَفتُ بهم، فجاؤوا وسيوفُهم في أيمانهم كأنها الشُّهُب، وولَّى المشركون أدبارَهم (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2549 - الحارث وعبد الله ذوا مناكير هذا منها ثم فيه إرسال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے پیچھے ہٹ گئے لیکن میں مہاجرین و انصار کے اسی (80) آدمیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثابت قدم رہا، ہم اپنے قدموں پر اسی (80) قدم کے فاصلے پر جمے رہے اور ہم نے پیٹھ نہیں پھیری، یہی وہ لوگ تھے جن پر اللہ نے سکینہ نازل فرمائی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خچر پر سوار آگے بڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر بدکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زین سے ایک طرف جھک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھلے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ آپ کا مرتبہ بلند رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک مٹھی مٹی پکڑا دو، میں نے مٹی پکڑائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان (مشرکین) کے چہروں پر ماری جس سے ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟ میں نے کہا: وہ یہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں آواز دو، میں نے انہیں پکارا تو وہ اپنی تلواریں دائیں ہاتھوں میں لیے ہوئے اس طرح لپکے جیسے وہ ستارے (شہابِ ثاقب) ہوں، اور مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2581]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالسماع، ثم هو متابع. وهو في السيرة النبوية لابن هشام 1/ 632.» [ترقيم الرساله 2581] [ترقيم الشركة 2564] [ترقيم العلميه 2549]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. فَضِيلَةُ قِرَاءَةِ الِاسْتِغْفَارِ ثَلَاثًا
تین مرتبہ استغفار پڑھنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2582
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن علي بن ميمون الرَّقّي، حدثنا محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا إسرائيل، عن أبي سنان، عن أبي الأحوص، عن ابن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ: مَن قال: أستغفرُ الله الذي لا إله إلَّا هو الحىُّ القيُّومُ وأتوبُ إليه، ثلاثًا، غُفِرتْ ذنوبُه وإن كان فارًّا من الزَّحْفِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2550 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین مرتبہ یہ کہا: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، جو زندہ اور سب کو سنبھالنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں، تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگ نکلا ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2582]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح: أبو سنان: هو ضرار بن مرة، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشْمي. وأخرجه ابن خزيمة في التوكل كما في "إتحاف المهرة" 10/ 438 عن سعيد بن أبي زيد، عن الفريابي، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2582] [ترقيم الشركة 2565] [ترقيم العلميه 2550]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح: أبو سنان: هو ضرار بن مرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. ذِكْرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ
سورۂ توبہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2583
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، قال: قرأتُ على أبي اليَمَان، أنَّ حَرِيز بن عثمان حدَّثه عن عبد الرحمن بن مَيسَرة، قال: حدثني أبو راشد الحُبْراني، قال: وافَيتُ المِقدادَ بنَ الأسود فارسَ رسولِ الله ﷺ جالسًا على تابوتٍ من توابيت الصَّيارِفة (2) وفَضَلَ عنها عِظَمًا، وهو يريد الغزو، فقلت: لقد أعذَرَ اللهُ إليك، فقال: أبَتْ عليَّ سورة البَحُوث، قال الله ﷿: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] ؛ يعني: سورة التوبة" (3) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2551 - صحيح
ابوراشد حبرانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو صرافوں کے بڑے صندوقوں میں سے ایک پر بیٹھے ہوئے تھے اور اپنی بھاری جسامت کی وجہ سے اس سے باہر نکل رہے تھے، وہ غزوے کا ارادہ رکھتے تھے، میں نے (ان کی معذوری دیکھ کر) کہا: اللہ نے آپ کو (جہاد سے پیچھے رہنے کا) عذر دے رکھا ہے، تو انہوں نے فرمایا: سورہ بحوث (یعنی سورہ توبہ) نے مجھ پر (پیچھے رہنا) گراں کر دیا ہے، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ تم نکلو خواہ تم ہلکے ہو یا بوجھل۔ [سورة التوبة: 41] ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2583]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة: وهو الحضرمي الشامي. وأخرجه أبو عُبيد القاسم بن سلّام في "الناسخ والمنسوخ" (368)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 6/ 1802، وأبو بكر الجصّاص في "أحكام القرآن" 4/ 309 - 310 من طريق أبي اليمان، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2583] [ترقيم الشركة 2566] [ترقيم العلميه 2551]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں