المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
77. مَنْ غَزَا فَلَهُ مَا نَوَى .
جو جہاد کے لیے نکلا اس کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا
حدیث نمبر: 2554
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن جَبَلة بن عطية، عن يحيى بن الوليد بن عُبادة، عن جده عبادة بن الصامِت، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن غَزَا وهو لا يَنْوي في غَزَاتِه إِلا عِقالًا، فله ما نَوَى" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث يعلى ابن مُنْية الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2522 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث يعلى ابن مُنْية الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2522 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے (اللہ کی راہ میں) غزوہ کیا اور اس نے اپنے اس غزوے میں محض ایک رسی (اونٹ باندھنے کا عقال) حاصل کرنے کی نیت رکھی، تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2554]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير يحيى بن الوليد بن عبادة بن الصامت، فلم يرو عنه غير جَبَلة بن عطية، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثه هذا ابن حبان والضياء المقدسي.» [ترقيم الرساله 2554] [ترقيم الشركة 2537] [ترقيم العلميه 2522]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2555
أخبرَنَاه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو توْبة الربيع بن نافع، حدثنا بَشير بن طلحة، عن خالد بن دُرَيك، عن يعلى ابن مُنْية، قال: كان النبيُّ ﷺ يبعثُني في سَراياهُ، فبعثني ذاتَ يوم، وكان رجلٌ يَركَبُ بَغْلي، فقلتُ له: ارحَلْ فقال: ما أنا بخَارجٍ معك، قلت: لِمَ؟ قال: حتى تجعلَ لي ثلاثةَ دنانيرَ، قلتُ: الآن حينَ ودَّعتُ النبيَّ ﷺ، ما أنا براجعٍ إليه، ارحَلْ ولك ثلاثةُ دنانيرَ، فلما رجعتُ من غَزاتي ذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"أعطِها إياهُ، فإنها حَظُّهُ مِن غَزَاتِه" (2) .
سیدنا یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے فوجی دستوں (سرايا) میں بھیجا کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تو ایک شخص میرے خچر پر سوار ہونے والا تھا، میں نے اس سے کہا: کوچ کرو (روانہ ہو جاؤ)، تو اس نے کہا: میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تک کہ تم میرے لیے تین دینار مقرر کر دو، میں نے (دل میں) کہا: اس وقت جبکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہہ چکا ہوں، اب میں آپ کے پاس دوبارہ واپس جانے والا نہیں ہوں، (چنانچہ میں نے اس سے کہا:) تم چلو اور تمہارے لیے تین دینار (طے) ہیں، پھر جب میں اپنے غزوے سے واپس آیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہ رقم دے دو، کیونکہ اس کے غزوے سے اس کا (اخروی) حصہ بس یہی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن لا يثبت أنَّ خالد بن دُريك لقي يعلى بن مُنية، لكنه لم ينفرد به فقد تابعه عبد الله بن فيروز الديلمي، كما سيأتي برقم (2562).» [ترقيم الرساله 2555] [ترقيم الشركة 2538]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
78. أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سب سے پہلے جن کا فیصلہ کیا جائے گا
حدیث نمبر: 2556
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن ابن مُكْرم، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن جُرَيج، حدثنا يوسف بن يونس (3) ، عن سليمان بن يَسَار، قال: تَفرَّق الناسُ عن أبي هريرة، فقال له أخو أهل الشام: أيها الشيخُ حدَّثْنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أول الناس يُقضَى فيه يوم القيامة رجلٌ استُشْهِد فأتي به، فعَرَّفه نِعَمَهُ، فَعَرَفَها، قال: فما عمِلتَ فيها؟ قال: قاتَلْتُ فيك حتى قُتِلْتُ قال: كَذَبْتَ، ولكن قاتَلْتَ ليُقال: هو جَريءٌ، فقد قيل، قال: ثم أَمَر به فسُحِبَ (1) على وجهه، حتى أُلقي في النار، ورجل تَعلّم العلمَ وعَلَّمَه، وقرأ القرآنَ، فأُتي به، فعَرَّفه نِعَمَه عليه، فعَرَفها، قال: ما عمِلتَ فيها؟ قال: تعلَّمتُ فيك العلمَ وعلمتُه وقرأتُ فيك القرآنَ، فيقول: كذبتَ، ولكنك تعلّمتَ العلمَ ليُقال: هو عالمٌ، وقرأتَ القرآنَ ليُقال: هو قارئٌ فقد قيل، ثم أَمَر به، فسُحِبَ على وجهه، حتى أُلقي في النار، ورجُلٌ وسَّع الله عليه، فأعطاهُ من أنواعِ المالِ، فأُتي به، فعَرَّفه نِعَمَه، فعَرَفها، فقال: ما عمِلتَ فيها؟ فقال: ما علِمتُ مِن شيءٍ تحبُّ أن يُنفَقَ فيه إلّا أنفقتُ فيه، قال: كذبتَ، ولكنك فعلتَ ليُقال: هو جَوَادٌ، فقد قيل، ثم أَمَر به، فسُحِبَ على وجهه، حتى أُلقيَ في النار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه البخاري (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2524 - لم يخرجه البخاري وهو على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه البخاري (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2524 - لم يخرجه البخاري وهو على شرطهما
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جب لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہٹ گئے تو ایک شامی شخص نے ان سے عرض کیا: اے شیخ! ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا وہ وہ آدمی ہوگا جو (ظاہر میں) شہید ہوا، اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان کا اعتراف کرے گا، اللہ پوچھے گا: تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں قتال کیا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا، اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا تھا کہ تجھے ’بہادر‘ کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اور ایک وہ شخص جس نے علم حاصل کیا، اسے سکھایا اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا اور اللہ اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تو نے ان کے بارے میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے لیے علم حاصل کیا، اسے سکھایا اور تیرے لیے قرآن پڑھا، اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے اس لیے علم حاصل کیا تاکہ تجھے ’عالم‘ کہا جائے اور اس لیے قرآن پڑھا تاکہ تجھے ’قاری‘ کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا اور اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں خرچ کرنا تجھے پسند ہو مگر وہاں تیرے لیے خرچ کیا، اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے اس لیے ایسا کیا تاکہ تجھے ’سخی‘ کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن امام بخاری نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2556]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن امام بخاری نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2556] [ترقيم الشركة 2539] [ترقيم العلميه 2524]
79. قَوْلُ الشُّهَدَاءِ رَبَّنَا بَلِّغْ قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا رَبُّنَا
شہداء کا یہ کہنا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو بتا دے کہ ہم راضی ہو گئے اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی ہو گیا
حدیث نمبر: 2557
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عطاء بن السائب، قال: سمعت أبا عُبيدة بن عبد الله يقول: قال عبد الله بن مسعود: إياكُم وهذه الشهاداتِ: أن تقولَ: قُتِل فلانٌ شهيدًا، فإنَّ الرجل يُقاتِل حَمِيَّةٌ، ويُقاتِل في طلب الدنيا، ويُقاتِل وهو جُريءُ الصَّدْر، ولكن سأحدِّثكم على ما تَشهَدون؛ إنَّ رسول الله ﷺ بعث سريَّةً ذاتَ يومٍ، فلم يلبث إلَّا قليلًا حتى قام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال:"إنَّ إخوانكم قد لَقُوا المشركين، فاقتَطَعُوهم فلم يبقَ منهم أحدٌ، وإنهم قالوا: ربَّنا بَلَّغْ قومَنا أنّا قد رَضِينا ورضي عنا ربُّنا، فأنا رسولُهم إليكم: أنهم قد رَضُوا ورُضِيَ عنهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
ابوعبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”تم ان شہادتوں (کے دعووں) سے بچو کہ تم کہو: فلاں شخص شہید ہو گیا، کیونکہ کوئی شخص (قومی) غیرت میں لڑتا ہے، کوئی دنیا کی طلب میں لڑتا ہے اور کوئی محض اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جس کی تم گواہی دے سکتے ہو؛ وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ایک فوجی دستہ روانہ فرمایا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”تمہارے بھائیوں کا مشرکین سے مقابلہ ہوا، انہوں نے انہیں شہید کر دیا اور ان میں سے کوئی باقی نہ بچا، (شہادت کے بعد) ان لوگوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم (اپنے انجام سے) راضی ہو گئے اور ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا، پس میں ان کا پیغام رساں بن کر تمہارے پاس آیا ہوں کہ وہ راضی ہو گئے اور ان سے رضا کا معاملہ کیا گیا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر یہ ارسال سے محفوظ ہو، کیونکہ ہمارے مشایخ کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ابوعبیدہ نے اپنے والد سے سنا ہے یا نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2557]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر یہ ارسال سے محفوظ ہو، کیونکہ ہمارے مشایخ کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ابوعبیدہ نے اپنے والد سے سنا ہے یا نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن أبا عُبيدة بن عبد الله» [ترقيم الرساله 2557] [ترقيم الشركة 2540] [ترقيم العلميه 2525]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2558
أخبرَنيه عبد الرحمن بن الحسن القاضي بَهَمذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس حدثنا شعبة، عن أبي قيس، عن هُزَيل (2) بن شُرَحبيل قال: خرج ناسٌ فقُتِلوا، فقالوا: فلانٌ استُشهِد، فقال عبد الله: إِنَّ الرجلَ لَيقاتلُ للدُّنيا، ويقاتلُ ليُعرَف، وإنَّ الرجلَ لَيموتُ على فراشِه وهو شهيد، ثم تلا ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ (3) أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ [الحديد: 19] (4) .
ہزیل بن شرجبیل سے روایت ہے کہ کچھ لوگ (جہاد میں) نکلے اور قتل کر دیے گئے، تو لوگوں نے کہا کہ فلاں شخص شہید ہو گیا، تب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک کوئی آدمی دنیا کے لیے لڑتا ہے اور کوئی اس لیے لڑتا ہے کہ وہ پہچانا جائے (مشہور ہو جائے)، حالانکہ ایک آدمی اپنے بستر پر بھی فوت ہوتا ہے اور وہ (اللہ کے ہاں) شہید ہوتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ ”اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔“ [سورة الحديد: 19] ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، عبدُ الرحمن بن الحسن القاضي فيه ضعفٌ، وقد توبع عليه. إبراهيم بن الحسين: هو المعروف بابن ديزيل، وأبو قيس: هو عبد الرحمن بن ثروان، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 2558] [ترقيم الشركة 2541]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
80. سَبَبُ نُزُولِ آيَةِ " فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ "
آیت «فمن كان يرجو لقاء ربه» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2559
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدّي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن المبارك، أخبرنا معمر، عن عبد الكريم الجَزَري، عن طاووس، عن ابن عباس، قال: قال رجلٌ: يا رسول الله، إني أقِفُ الموقِفَ أُريد وجهَ الله، وأُريد أن يُرى مَوطِني، فلم يَرُدَّ عليه رسولُ الله ﷺ شيئًا، حتى نَزَلَتْ ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الكهف: 110] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2527 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2527 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کسی ایسے مقام (میدانِ جنگ) میں کھڑا ہوتا ہوں جہاں میں اللہ کی رضا چاہتا ہوں، لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرا مقام (بہادری) دیکھا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ ”پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“ [سورة الكهف: 110] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2559]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فقد تفرَّد نُعيم بن حماد أو من دونه بوصله، ونعيم حسن الحديث إلَّا عند المخالفة، وقد خالفه عَبْدان المروَزي فيما سيأتي عند المصنف برقم (8138)، وهو من ثقات أصحاب ابن المبارك، فجعله عن طاووس مرسلًا، وكذلك رواه مرسلًا عبد الرزاق عن معمر، وكذلك رواه غير معمر، فهذا هو ...» [ترقيم الرساله 2559] [ترقيم الشركة 2542] [ترقيم العلميه 2527]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2560
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الله بن الحارث الجُمحي المكي، حدثنا سهيل ابن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أولُ الناسِ يدخُلُ النارَ يوم القيامة ثلاثةُ نَفَرٍ، يُؤتَى بالرجل -أو قال: بأحدهم- فيقولُ: ربِّ عَلَّمْتَني الكتابَ، فقرأتُه آناءَ الليلِ والنهارِ، رجاءَ ثوابِك، فيقال: كذبتَ، إنما كنتَ تُصلي ليُقال: إنك قارئٌ مُصَلٍّ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يُؤتَى بآخرَ، فيقول: ربِّ رَزَقْتَني مالًا فوَصَلتُ به، الرَّحِمَ وتَصدَّقتُ به على المساكين، وحَمَلتُ ابنَ السَّبيلِ، رجاءَ ثوابِك وجنّتِك، فيُقال: كذبتَ، إنما كنتَ تَتَصدّق وتَصِلُ ليقال: إنه سَمْحٌ جَوادٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يجاء بالثالث، فيقول: ربِّ خرجتُ في سَبيلِكَ، فقاتَلْتُ فيك حتى قُتِلتُ مُقبِلًا غيرَ مُدبر، رجاءَ ثوابك وجنّتِك، فيُقال: كذبت، إنما كنتَ تقاتلُ ليقال: إنك جريءٌ شجاعٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار" (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2528 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2528 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کا فیصلہ ہو گا (جو آگ میں جائیں گے)، ایک شخص کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے کتاب (قرآن) کی تعلیم دی، میں نے تیرے ثواب کی امید میں اسے دن رات پڑھا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے پڑھا تھا تاکہ کہا جائے کہ ”یہ بڑا قاری ہے“، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ، پھر دوسرے کو لایا جائے گا تو وہ کہے گا: اے رب! تو نے مجھے مال عطا کیا، میں نے تیرے ثواب اور جنت کی امید میں اس کے ذریعے صلہ رحمی کی اور صدقہ کیا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے کیا تاکہ کہا جائے کہ ”یہ بڑا سخی ہے“، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ، پھر تیسرے کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے رب! میں تیری راہ میں نکلا اور تیرے ثواب کی امید میں قتال کیا یہاں تک کہ میں پیٹھ پھیرے بغیر (دشمن کے) سامنے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے قتال کیا تھا تاکہ کہا جائے کہ ”یہ بڑا نڈر اور بہادر ہے“، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2560]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل هشام بن عمار وعبد الله بن الحارث، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن أبي هريرة بألفاظ متقاربة، كما تقدَّم التنبيه عليه برقم (2556).» [ترقيم الرساله 2560] [ترقيم الشركة 2543] [ترقيم العلميه 2528]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
81. سُؤَالٌ عَنْ شَأْنِ الْجِهَادِ وَالْغَزْوِ .
جہاد اور غزوے کے بارے میں سوال
حدیث نمبر: 2561
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا محمد بن أبي الوضّاح، عن العلاء بن عبد الله بن رافع (2) ، عن حَنان بن خارجة، عن عبد الله بن عمرو، أنه قال: يا رسول الله، أخبرني عن الجهاد والغزو، فقال:"يا عبدَ الله بنَ عمرو، إن قاتلت صابرًا محتسِبًا، بعثك الله صابرًا محتسبًا، وإن قاتلتَ مُرائيًا مُكاثرًا، بعثك الله مُرائيًا مُكاثرًا، يا عبدَ الله ابن عمرو، على أيِّ حالٍ قاتلتَ أو قُتلتَ، بعثكَ اللهُ على تلك الحالِ" (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوے کے بارے میں بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم نے صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے قتال کیا، تو اللہ تمہیں صبر کرنے والے اور ثواب پانے والے کی حیثیت سے اٹھائے گا، اور اگر تم نے دکھاوے اور فخر (تعداد و طاقت جتانے) کے لیے قتال کیا تو اللہ تمہیں دکھاوا کرنے والے اور فخر کرنے والے کی حیثیت سے اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی قتال کرو گے یا قتل کیے جاؤ گے، اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2561]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة حنان بن خارجة على اختلافٍ في رفع الحديث ووقفه كما بيناه في تحقيقنا على سنن أبي داود (2556).» [ترقيم الرساله 2561] [ترقيم الشركة 2544]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
82. أَخْذُ الْخَادِمِ أَجِيرًا لِلْغَزْوِ .
غزوے کے لیے خادم کو اجرت پر لینا
حدیث نمبر: 2562
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن أحمد بن مِهْران الثقفي الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد المالكي بالرَّي، حدثنا أحمد بن صالح بمصر، حدثني عبد الله بن وهب القرشي، أخبرني عاصم بن حَكيم، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيْباني، عن عبد الله بن الدَّيْلمي، أنَّ يعلى بن أُمية (2) قال: أَذِنَ رسول الله ﷺ بالغزو وأنا شيخ كبير ليس لي خادم، فألتمستُ أجيرًا يكفيني وأُجري له سهمَه، فوجدتُ رجلًا، فلما دنا الرحيلُ أتاني فقال: ما أدري ما السُّهْمانُ وما يَبلُغ سهمي، فسمِّ لي شيئًا كان السهمُ أو لم يكن، فسمَّيتُ له ثلاثةَ دنانير، فلما حضرتْ غنيمةٌ أردتُ أن أُجريَ له سهمه فذكرتُ الدنانيرَ، فجئتُ النبيَّ ﷺ، فذكرتُ له أمَره، فقال:"ما أجِدُ له في غزوتِه هذه في الدنيا إلّا دنانيرَه التي سمَّى" (3) . صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2530 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2530 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوے کی اجازت دی، میں ایک بوڑھا آدمی تھا اور میرا کوئی خادم نہیں تھا، میں نے ایک اجرت پر کام کرنے والے کی تلاش کی جو میری خدمت کرے اور میں اسے (مالِ غنیمت میں) حصہ دوں، ایک آدمی مل گیا لیکن اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ حصے کیا ہوتے ہیں، آپ میرے لیے کوئی رقم مقرر کر دیں خواہ حصہ ملے یا نہ ملے، میں نے اس کے لیے تین دینار طے کر دیے، پھر جب مالِ غنیمت ملا تو میں نے چاہا کہ اسے حصہ دوں مگر مجھے وہ دینار یاد آ گئے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے اس غزوے کے بدلے دنیا میں ان دیناروں کے سوا کچھ نہیں ہے جو اس نے (نیت کر کے) طے کیے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2562]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عبد الله بن الديلمي: هو ابن فيروز.» [ترقيم الرساله 2562] [ترقيم الشركة 2545] [ترقيم العلميه 2530]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
83. قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ فِي حَقِّ الشَّهِيدِ .
شہید کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے فرمان
حدیث نمبر: 2563
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا عطاء بن السائب، عن مُرّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"عَجِبَ ربُّنا ﷿ من رجلٍ غزا في سبيل الله، فانهزم أصحابُه، فعَلِمَ ما عليه ورجع حتى أُهْريقَ دمُه، فيقول الله تبارك وتعالى لملائكته: انظُروا إلى عبدي، رجع رغبةً فيما عندي، وشفقةً مما عندي حتى أُهْريقَ دمُه" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي ذر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2531 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2531 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب عزوجل اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے (تعجب فرماتا ہے) جس نے اللہ کی راہ میں غزوہ کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے، لیکن اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا اور وہ واپس لوٹا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، تب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، یہ اس (اجر) کی رغبت میں جو میرے پاس ہے اور اس (عذاب) کے خوف سے جو میرے پاس ہے، واپس لوٹا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2563]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،مُرَّة الهَمْداني: هو ابن شَرَاحيل.» [ترقيم الرساله 2563] [ترقيم الشركة 2546] [ترقيم العلميه 2531]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح