المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
100. قُتِلَ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِثْلُ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ
غزوۂ حنین میں طائف کے لوگوں میں سے مارے جانے والے، غزوۂ بدر میں مارے جانے والوں کے برابر ہیں
حدیث نمبر: 2594
أخبرني أبو الحُسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطري، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري، أخبرني عبد الله بن عِياض ابن الحارث الأنصاري، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ أتى هَوازِنَ فِي اثني عشر ألفًا، فقُتِل مِن أهل الطائف يومَ حُنين مثلُ مَن قُتِل يومَ بدر، فأخذ رسول الله ﷺ كَفًّا من حَصْباء فرَمَى بها وجوهَنا فانهَزَمنا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2562 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2562 - صحيح
عبداللہ بن عیاض بن حارث انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ قبیلہ ہوازن کے مقابلے پر تشریف لائے، غزوہ حنین کے دن اہل طائف کے اتنے ہی لوگ قتل ہوئے جتنے جنگِ بدر میں مارے گئے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریاں لیں اور انہیں ہمارے چہروں کی طرف پھینکا جس سے ہم (کفار) شکست کھا کر بھاگ نکلے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2594]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2594]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن عياض. أبو قِلابةَ: هو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وعبد الله بن عبد الرحمن: هو ابن يعلى بن كعب الطائفي، وانفرد أبو قِلابةَ في روايته هنا بنسبة عبد الله بن عبد الرحمن وشيخه عبد الله بن عياض بأنهما ...» [ترقيم الرساله 2594] [ترقيم الشركة 2577] [ترقيم العلميه 2562]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن عياض. أبو قِلابةَ: هو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي
101. لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ .
ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیتے
حدیث نمبر: 2595
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا عبد الله بن روح المدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا المُستَلِم بن سعيد الثقفي، عن خُبيب بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن جده، قال: خرج رسولُ الله ﷺ في بعض غَزَواته، فأتيتُه أنا ورجلٌ قبل أن نُسلِمَ، فقلنا: إنا نستحيي أن يشهد قومُنا مشهدًا ولا نشهدُ، فقال:"أسْلِما" قلنا: لا، قال:"فإنا لا نستعينُ بالمشركين على المشركين"، فأسلمْنا، وشهِدنا مع رسول الله ﷺ، فقتلتُ رجلًا وضربَني الرجلُ ضربةً، فتزوجتُ ابنتَه، فكانت تقول: لا عَدِمْتُ رجلًا وَشَّحَك هذا الوِشاحَ، فقلت: لا عَدِمْتِ رجلًا عجَّل أباكِ إلى النار (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه. وخُبيب بن عبد الرحمن بن الأسود بن حارثة (2) جدُّه صحابي معروف. وله شاهد عن أبي حُميد الساعدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2563 - وجد خبيب بن أسود بن حارثة صحابي
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه. وخُبيب بن عبد الرحمن بن الأسود بن حارثة (2) جدُّه صحابي معروف. وله شاهد عن أبي حُميد الساعدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2563 - وجد خبيب بن أسود بن حارثة صحابي
خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد اور وہ اپنے دادا (خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے کے لیے نکلے، میں اور ایک دوسرا شخص اسلام لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم تو کسی معرکے میں شریک ہو اور ہم پیچھے رہ جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام لے آؤ“، ہم نے (اس وقت) انکار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیتے“، پھر ہم نے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوے میں شریک ہوئے، وہاں میں نے ایک شخص کو قتل کیا اور اس نے مجھے ایک زخم لگایا، بعد میں (اتفاق سے) میں نے اسی کی بیٹی سے نکاح کر لیا، وہ اکثر کہا کرتی تھی: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے تمہیں یہ زخم (بطور اعزاز) پہنایا ہو، تو میں کہتا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے تمہارے باپ کو تیزی سے جہنم پہنچایا ہو۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور خبیب بن عبدالرحمن کے دادا ایک معروف صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2595]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور خبیب بن عبدالرحمن کے دادا ایک معروف صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2595]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله. وعبد الرحمن والد خُبَيب: هو ابن خُبَيب بن إساف، ذكره ابن حبان في "الثقات"، وذُكر فيمن قتل يوم الحَرَّة.» [ترقيم الرساله 2595] [ترقيم الشركة 2578] [ترقيم العلميه 2563]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2596
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يوسف بن عيسى المروزي، حدثنا الفضل بن موسى السِّيْناني، عن محمد بن عمرو عن سعد (3) بن المنذر عن أبي حُميد الساعِدي، قال: خرج رسول الله ﷺ حتى إذا خَلَّف ثَنيّةَ الوَداع إذا كتيبةٌ، قال:"مَن هؤلاء؟" قالوا: بني (4) قَينُقاع، وهو رَهْط عبد الله بن سَلَام، قال:"وأسلَمُوا؟" قالوا: لا، بل هم على دينهم، قال:"قُل لهم فليَرجِعُوا، فإِنَّا لا نَستعينُ بالمشركين" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2564 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2564 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوے کے لیے) نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثنیۃ الوداع کو پیچھے چھوڑا تو وہاں ایک دستہ نظر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ صحابہ نے کہا: یہ بنو قینقاع (یہودی) ہیں جو عبداللہ بن سلام کے قبیلے سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ اسلام لے آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اپنے دین پر قائم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 2596] [ترقيم الشركة 2579] [ترقيم العلميه 2564]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
102. لَا يُقْتَلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفٌ
نہ بچوں کو قتل کیا جائے اور نہ مزدور کو
حدیث نمبر: 2597
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن المُرقَّع ابن صَيفيَّ بن ربَاح أخي حنظلة الكاتب، أنَّ جده رباحًا أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ غزا غزوةً كان على مُقدِّمتِه فيها خالد بن الوليد فمرَّ ربَاحٌ وأصحابُه على امرأة مقتولةٍ ممّا أصاب المقدِّمةُ، فوقَفوا عليها يتعجّبون من خَلْقِها، حتى لَحِقهم رسولُ الله صلى الله عليه سلم ففرّجوا له، حتى نظر إليها، فقال:"ها، ما كانت هذه تُقاتِلُ"، ثم نظر في وجوه القوم، فقال لأحدهم:"الحَقْ بخالدِ بن الوليد، فلا يَقتُلَنَّ ذُرِّيةً ولا عَسِيفًا" (1) . وهكذا رواه المغيرة بن عبد الرحمن وابن جُرَيج عن أبي الزِّناد، فصار الحديث صحيحًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2565 - رواه ابن جريج وغيره عن أبي الزناد على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2565 - رواه ابن جريج وغيره عن أبي الزناد على شرط البخاري ومسلم
سیدنا رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ کیا جس میں خالد بن ولید ہراول دستے (مقدمہ) کے امیر تھے، رباح اور ان کے ساتھیوں کا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا جو ہراول دستے کی کارروائی میں ماری گئی تھی، وہ سب کھڑے ہو کر اس کی بناوٹ پر تعجب کرنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے راستہ چھوڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”افسوس! یہ تو لڑنے والوں میں سے نہیں تھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا اور ایک شخص سے فرمایا: ”خالد بن ولید کو جا کر ملو اور ان سے کہو کہ کسی بچے (ذریت) اور کسی مزدور (خادم) کو ہرگز قتل نہ کریں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2597]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2597]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن أبي أُوَيس - وهو إسماعيل بن عبد الله - ومن أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، وقد توبعا. والمرقَّع هذا قال عنه يحيى بن سعيد الأنصاري: كان رجلًا مَرضيًّا، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ووثقه الذهبي.» [ترقيم الرساله 2597] [ترقيم الشركة 2580] [ترقيم العلميه 2565]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
103. مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ
ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2598
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله بن المُنادي، حدثنا يونس بن محمد ابنُ المؤدِّب، حدثنا أبان بن يزيد عن قَتَادة، عن الحسن، عن الأسود بن سَريع: أنَّ رسول الله ﷺ بعثَ سريةً يومَ حُنين (1) فقاتَلُوا المشركين، فأفضى بهم القتلُ إلى الذُّرِّية، فلما جاؤوا قال النبي ﷺ"ما حَمَلَكم على قتل الذُّرِّية؟" قالوا: يا رسول الله، إنما كانوا أولادَ المشركين، قال:"وهل خيارُكم إلَّا أولادُ المشركين؟ والذي نفسُ محمدٍ بيَدِه ما من نَسَمَةٍ تُولد إلَّا على الفِطْرة، حتى يُعرِبَ عنها لِسانُها" (2) .
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین (یا کسی معرکے) کے دن ایک دستہ بھیجا، انہوں نے مشرکین سے قتال کیا یہاں تک کہ قتل و غارت میں بچوں (ذریت) تک نوبت پہنچ گئی، جب وہ واپس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ مشرکین کی اولاد ہی تو تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان (بات کرنے کے قابل ہو کر) اس کا اظہار کرتی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2598]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وقد اختُلف في سماع الحسن -وهو البصري- من الأسود بن سَريع، فقد نفى سماعَه منه عليُّ بن المديني في "علله" (63)، ويحيى بن معين في رواية العباس الدُّوري عنه (4094)، وأبو داود في "سؤالات الآجري" له (727)، وابن مَنْدَه في "معرفة الصحابة" 1/ 186، والذهبي في "سير أعلام ...» [ترقيم الرساله 2598] [ترقيم الشركة 2581]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 2599
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحَسَن (1) ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَون، حدثنا هُشَيم، أخبرنا يونس بن عُبَيد، عن الحسن، قال: حدثنا الأسودُ بن سَريع، قال: كنا في غزوة لنا، فذكر الحديثَ بنحوه (2) . حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2566 - تابعه يونس عن الحسن ثنا الأسود بهذا على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2566 - تابعه يونس عن الحسن ثنا الأسود بهذا على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے اس کے مانند مروی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2599]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2599]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات كسابقه.» [ترقيم الرساله 2599] [ترقيم الشركة 2582] [ترقيم العلميه 2566]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
104. حُكْمُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ
حدیث نمبر: 2600
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضر بن شُميل، أخبرنا شعبة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عُمير، عن عطية القُرظي، قال: عُرضتُ على رسول الله ﷺ يوم قريظة، فشَكُّوا فيَّ، فأمر النبي ﷺ أن يُنظر إليَّ هل أَنبَتُّ؟ فنظروا إلىَّ، فلم يجدوني أنبتُّ، فخلَّى عني والحقَني بالسَّبْي (1) . حديث رواه جماعة من أئمة المسلمين عن عبد الملك بن عُمير، ولم يُخرجاه، وكأنهما لم يتأمّلا متابعة مجاهد بن جَبْر عبدَ الملك على روايته عن عطية القُرَظي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2568 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2568 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بنو قریظہ (کے فیصلے) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، انہیں میرے بارے میں شک تھا (کہ میں بالغ ہوں یا نہیں)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیکھا جائے کہ کیا میرے زیرِ ناف بال نکل آئے ہیں؟ انہوں نے دیکھا تو ابھی بال نہیں نکلے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھے قیدیوں (سَبْی) میں شامل کر دیا۔
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، گویا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مجاہد بن جبر نے اس روایت میں عبدالملک بن عمیر کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2600]
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، گویا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مجاہد بن جبر نے اس روایت میں عبدالملک بن عمیر کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2600] [ترقيم الشركة 2583] [ترقيم العلميه 2568]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2601
كما حدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب وأخبرني ابن جُرَيج وابن عُيينة، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن عطيةَ رجلٍ من بني قُريظة أخبره: أنَّ أصحاب رسول الله ﷺ جَرَّدُوه يوم قُريظة فلم يَرُوا المَوَاسي جَرَتْ على شعره - يعني عانَتَه - تركوه مِن القتل (2) . فصار الحديث بمتابعة مجاهد صحيحًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2569 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2569 - على شرط البخاري ومسلم
مجاہد سے روایت ہے کہ بنو قریظہ کے ایک شخص عطیہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بنو قریظہ کے دن ان کے کپڑے اتار کر (بالوں کا) جائزہ لیا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے زیرِ ناف بالوں پر ابھی استرا نہیں چلا تھا (یعنی وہ ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے) تو انہوں نے انہیں قتل کرنے سے چھوڑ دیا۔
پس یہ حدیث مجاہد کی متابعت کی وجہ سے شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2601]
پس یہ حدیث مجاہد کی متابعت کی وجہ سے شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2601]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد سمع مجاهد من عطية هذا الخبر، كما صرَّح بذلك عند أبي نعيم في "معرفة الصحابة" (5534). ابن وهب هو عبد الله، وابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز، وابن عُيينة: هو سفيان، وابن أبي نجيح: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2601] [ترقيم الشركة 2584] [ترقيم العلميه 2569]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2602
أخبرَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسدي الحافظ بَهَمذان، حدثنا إبراهيم ابن الحسين بن دِيْزِيل، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي وإسماعيل بن أبي أُوَيس، قالا: حدثنا محمد بن صالح التمار، عن سعد بن إبراهيم، عن عامر بن سعد، عن أبيه: أنَّ سعد بن معاذ حَكَم على بني قُريظة أن يُقتل منهم كلُّ مَن جَرَت عليه المُوسَى، وأن تُقْسَم أموالُهم وذَراريُّهم، فذُكر ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"لقد حَكَمَ اليومَ فيهم بحُكم الله الذي حَكَمَ به من فوقِ سبع سماوات" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2570 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2570 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر وہ شخص قتل کر دیا جائے جس پر استرا چل چکا ہو (یعنی جو بالغ ہو چکا ہو) اور ان کے اموال اور اولاد کو (مسلمانوں میں) تقسیم کر دیا جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے آج ان کے بارے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر سے (ان کے حق میں) فرمایا تھا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف فيه على سعد بن إبراهيم -وهو ابن عبد الرحمن بن عوف- فرواه محمد بن صالح التمار عنه، كما وقع عند المصنف، ورواه شعبة بن الحجاج عنه عن أبي أمامة بن سهل بن حُنيف عن أبي سعيد الخُذري، وخطّأ أبو حاتم فيما نقله عنه ابنُه في ...» [ترقيم الرساله 2602] [ترقيم الشركة 2585] [ترقيم العلميه 2570]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2603
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا أبو مَعمَر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يعقوب بن عُتبة، عن مسلم بن عبد الله بن خُبيب، عن جُندب بن مَكِيث، قال: بعث رسولُ الله ﷺ عبدَ الله بن غالب الليثيَّ في سريّة، وكنتُ فيهم، وأمَرهم أن يشُنُّوا الغارةَ على بني المُلوِّح بالكَدِيد، فخرجنا حتى إذا كنا بالكَدِيد لَقِيْنا الحارثَ ابن البَرْصاء الليثيَّ، فأخذناه، فقال: إنما جئتُ أريدُ الإسلامَ، وإنما خرجتُ إلى رسول الله ﷺ، فقلنا: إن تكن مُسلمًا لم يضُرَّك رباطنا يومًا وليلةً، وإن تكن غيرَ ذلك نَستَوثِق منك، فَشَدَدْناه وَثَاقًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2571 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2571 - على شرط مسلم
سیدنا جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کا امیر بنا کر بھیجا، میں بھی ان میں شامل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کدید کے مقام پر بنو ملوح پر چھاپہ مارنے کا حکم دیا، ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم کدید پہنچے تو ہماری ملاقات حارث بن برساء لیثی سے ہوئی، ہم نے اسے پکڑ لیا، اس نے کہا: میں تو اسلام لانے کی نیت سے نکلا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا رہا ہوں، ہم نے کہا: اگر تم سچے مسلمان ہو تو ہمارا ایک دن اور ایک رات تمہیں باندھ کر رکھنا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر تم کچھ اور ہوئے تو ہم تم سے (حفاظتی طور پر) نپٹ لیں گے، چنانچہ ہم نے اسے مضبوطی سے باندھ دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2603]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله، وقد حسَّنه الحافظ في "الإصابة" 5/ 316 في ترجمة غالب بن عبد الله الليثي، ومسلم بن عبد الله بن خُبيب -وإن لم يرو عنه غير يعقوب بن عتبة- هو أحد ولد عبد الله بن خُبيب الصحابي، ولا يُعرف فيه جَرحة.» [ترقيم الرساله 2603] [ترقيم الشركة 2586] [ترقيم العلميه 2571]
الحكم على الحديث: إسناده حسن