🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنِ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2647
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حدثنا ابن أبي غَرَزة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبعي بن حِراش، عن علي، قال: لمَّا افتَتَح رسولُ الله ﷺ مكة، أتاهُ ناسٌ من قريش فقالوا: يا محمد، إنا حُلفاؤُك وقومُك، وإنه لَحِقَ بك أرِقّاؤُنا ليس لهم رغبةٌ في الإسلام، وإنهم فَرُّوا من العَمَل فاردُدْهم علينا، فشاوَرَ أبا بكر في أمرهم، فقال: صدَقوا يا رسول الله، وقال لعُمر:"ما تَرى؟" فقال مثلَ قول أبي بكر، فقال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ قُريش، لَيَبعثَنَّ الله عليكم رجلًا منكم امتَحَنَ اللهُ قلبَه للإيمان، يضربُ رقابَكم على الدِّين"، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول الله؟ قال:"لا" قال عمر: أنا هو يا رسول الله؟ قال:"لا، ولكن خاصِفُ النَّعْل في المسجد"، وقد كان ألقَى نعلَه إلى عليٍّ يَخصِفُها. ثم قال: أما إني سمعتُه يقول:"لا تَكذِبُوا عليَّ، فإنه مَن يَكذِبْ عليَّ يَلِجِ النارَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2614 - على شرط مسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو قریش کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے محمد! ہم آپ کے حلیف اور آپ کی قوم ہیں، اور یہ کہ ہمارے کچھ غلام بھاگ کر آپ کے پاس آ ملے ہیں جنہیں اسلام کی کوئی تڑپ نہیں بلکہ وہ کام سے جان چھڑا کر بھاگے ہیں، لہٰذا آپ انہیں ہمیں واپس کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ سچ کہہ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: تمہاری کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے بھی ابوبکر (رضی اللہ عنہ) جیسی بات کہی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گروہِ قریش! اللہ تم پر ضرور ایسا شخص بھیجے گا جس کا دل اللہ نے ایمان کے لیے پرکھ لیا ہے، وہ دین کی خاطر تمہاری گردنیں مارے گا۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ عمر (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: کیا وہ میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ وہ شخص ہے جو مسجد میں جوتی ٹانک رہا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جوتی مرمت کے لیے سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) کو دی ہوئی تھی۔ پھر علی (رضی اللہ عنہ) نے کہا: آگاہ رہو! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: مجھ پر جھوٹ نہ بولو، کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ آگ میں داخل ہوتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2647]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بهذا السياق، تفرّد به شريك النخعي وهو سيّئ الحفظ، وقد اضطرب في متنه فأدخل حديثًا في حديث، فقد روى الحديثَ عن منصور بن المعتمر أبانُ بنُ صالح - وهو أحد الثقات - فيما سلف برقم (2608) وفيه أنَّ القصة حدثت في صلح الحديبية وليس فيه ذكر عليٍّ في وعيده ﷺ لقريش.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بهذا السياق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2648
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، قال: قال لي يحيى بن أيوب: حدثني إبراهيم بن سعد، عن كثير مولى بني مَخزُوم، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قَسَمَ لمئتَي فرسٍ يومَ خيبر سهمَين سهمَين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وقد احتجَّ البخاري بيحيى بن أيوب وكثير بن كثير المخزومي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2615 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن دو سو گھوڑوں کے لیے دو دو حصے تقسیم فرمائے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور امام بخاری نے یحییٰ بن ایوب اور کثیر بن کثیر مخزومی سے استدلال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد لا بأس برجاله غير كثير مولى بني مخزوم، فلم يرو عنه غير إبراهيم بن سعد - وهو ابن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف - ولم يؤثر توثيقه عن أحد، وليس هو كثير بن كثير المخزومي، كما جزم به المصنف بإثر الحديث، لأنَّ كثير بن كثير سهمي من أنفسهم، لا مخزوميٌّ، ولا مولى لبني مخزوم، وفرَّق بينهما البخاري وغيره، ومع ذلك صحَّح إسناده الطبريُّ في "تهذيب الآثار" في القسم المفرد الذي حققه علي رضا (996) و (997)! وقد روي ما يشهد لروايته.»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2649
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعت عبد الله بن مَلَاذٍ يحدّث عن نُمير بن أوس، عن مالك بن مَسرُوح، عن عامر بن أبي عامر الأشعري، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الحيُّ الأَسْدُ والأشعرِيّون، لا يَفِرُّون في القتال، ولا يُخِلّون، هم مني وأنا منهم". قال: فحدّثتُ به معاوية، فقال: ليس هكذا، إنما قال رسول الله ﷺ:"هم مني وإليّ"، فقلتُ: ليس هكذا حدثني أبي، ولكن حدثني أنه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"هم مني وأنا منهم"، قال: فأنت إذًا أعلمُ بحديثِ أبيك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2616 - صحيح
عامر بن ابی عامر اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ازد اور اشعری بہترین لوگ ہیں، وہ میدانِ جنگ سے فرار نہیں ہوتے اور نہ ہی خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ بات معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو بتائی تو انہوں نے کہا: ایسا نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف (رجوع کرنے والے) ہیں، تو میں نے کہا: میرے والد نے مجھے ایسے نہیں بتایا بلکہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود فرماتے سنا: وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے کہا: پھر تم اپنے والد کی حدیث کو زیادہ بہتر جانتے ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن مَلاذٍ ومالك بن مسروح. جرير: هو ابن حازم.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2650
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا عبد الله بن شَوذَب، عن عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان النبي ﷺ إذا أصابَ غنيمةً أمر بلالًا فنادى ثلاثًا، فيرفعُ الناسُ ما أصابُوا، ثم يأمُر به فيُخمَّس، فأتاهُ رجلٌ بزِمَامٍ من شَعر، وقد قُسمتِ الغَنيمةُ، فقال له:"هل سمعتَ بلالًا ينادي ثلاثًا؟" قال: نعم، قال:"فما مَنَعَك أن تأتيَ به؟" فاعتَذَر إليه، فقال له:"كن أنت الذي تُوافي به يومَ القيامة، فإني لن أقبلَه منك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غنیمت حاصل ہوتی تو آپ بلال (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیتے اور وہ تین مرتبہ پکارتے، پھر لوگ اپنا حاصل کردہ مال لے آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا خمس نکالنے کا حکم دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص بالوں کی بنی ہوئی ایک رسی لے کر آیا جبکہ غنیمت تقسیم ہو چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے بلال کو تین مرتبہ پکارتے ہوئے سنا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تمہیں یہ لانے سے کس چیز نے روکا؟ اس نے عذر پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم ہی اس (خیانت) کو لے کر آنا، میں اب یہ تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن سُويد، لكنه لم ينفرد به، فقد توبع فيما تقدَّم برقم (2615)، وعامر بن عبد الواحد صدوق حسن الحديث.»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2651
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا الهيثم بن جَميل، حدثنا مُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله (2) بن عمر، عن سعيد المقبُري، قال: سمعت أبا هريرة، وكنت جالسًا عنده، فقال أبو هريرة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ نبيًّا من الأنبياء قاتَلَ أهلَ مدينةٍ، حتى إذا كاد أن يَفتَتحَها خشيَ أن تَغرُبَ الشمسُ، فقال لها: أيّتها الشمسُ، إنك مأمُورةٌ وأنا مأمُورٌ، بحُرْمتي عليكِ إلّا رَكَدْتِ ساعةً من النهار. قال: فحَبَسها الله حتى افتتح المدينة. وكانوا إذا أصابُوا الغنائمَ قَرَّبوها في القُربان، فجاءتِ النارُ فأكلتْها، فلما أصابوا وَضَعُوا القُربان، فلم تجيءِ النارُ تأكلُه، فقالوا: يا نبيَّ الله، ما لنا لا يُقبلُ قُربانُنا؟ قال: فيكم غُلول، قالوا: وكيف لنا أن نعلمَ مَن عنده الغُلُول؟ قال: وهم اثنا عشر سِبْطًا، قال: يُبايِعُني رأسُ كل سِبْطٍ منكم، فبايَعَه رأسُ كلِّ سِبْطٍ" قال:"فَلَزِقَت كفُّ النبي بكفِّ رجل منهم، فقال له: عندك الغُلول، فقال: كيف لي أن أعلمَ عند أي سِبْطٍ هو؟ قال: تدعو سِبْطك فتبايعُهم رجلًا رجلًا، قال: ففعل، فلزِقَتْ كفُّه بكفِّ رجلٍ منهم، قال: عندك الغُلول؟ قال: نعم، عندي الغُلول، قال: وما هو؟ قال: رأسُ ثورٍ من ذهب أعجبَني، فغلَلْتُه، فجاء به فوضعه في الغنائم، فجاءتِ النارُ فأكلتْه". فقال كعب: صدق اللهُ ورسولُه، هكذا واللهِ في كتاب الله - يعني في التوراة - قال: يا أبا هريرة، أحدَّثكُم النبي ﷺ أيَّ نبي كان؟ قال: لا، قال كعب: هو يُوشَع بن نُون، قال: فحدَّثكُم أيُّ قرية هي؟ [قال: لا] (1) قال: هي مدينة أَريحا (2) .
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2618 - صحيح غريب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی نے ایک بستی والوں سے جہاد کیا، یہاں تک کہ جب وہ اسے فتح کرنے کے قریب پہنچے تو انہیں خدشہ ہوا کہ سورج غروب ہو جائے گا، چنانچہ انہوں نے سورج سے کہا: اے سورج! تو بھی (اللہ کے حکم کا) پابند ہے اور میں بھی پابند ہوں، تجھے میری حرمت کا واسطہ! دن کی ایک گھڑی کے لیے رک جا۔ راوی کہتے ہیں: پس اللہ نے اسے روک دیا یہاں تک کہ انہوں نے وہ بستی فتح کر لی۔ اور (پہلی امتوں میں) قاعدہ یہ تھا کہ جب انہیں غنیمت حاصل ہوتی تو وہ اسے قربانی کے لیے پیش کرتے، پھر (آسمان سے) آگ آتی اور اسے کھا (کر قبول کر) لیتی، لیکن اس بار جب انہوں نے غنیمت کا مال رکھا تو آگ اسے کھانے نہ آئی، اس پر انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا بات ہے کہ ہماری قربانی قبول نہیں ہوئی؟ انہوں نے فرمایا: تم میں خیانت (مالِ غنیمت کی چوری) ہوئی ہے، انہوں نے پوچھا: ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ خیانت کس کے پاس ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم بارہ قبائل ہو، ہر قبیلے کا سردار مجھ سے بیعت کرے۔ پس ہر قبیلے کے سردار نے ان سے بیعت کی، تو اس نبی کا ہاتھ ان میں سے ایک شخص کے ہاتھ سے چمٹ گیا، انہوں نے فرمایا: تمہارے قبیلے کے ہاں خیانت ہوئی ہے، اس نے پوچھا: مجھے کیسے معلوم ہو کہ وہ کس شخص کے پاس ہے؟ فرمایا: اپنے قبیلے کو بلاؤ اور ایک ایک کر کے ان سے بیعت لو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو ان کا ہاتھ ایک شخص کے ہاتھ سے چمٹ گیا، انہوں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس خیانت کا مال ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میرے پاس ہے، پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: سونے سے بنا بیل کا ایک سر ہے جو مجھے پسند آ گیا تھا تو میں نے اسے چھپا لیا تھا، چنانچہ وہ اسے لے آیا اور غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ آئی اور اسے کھا گئی۔ اس پر کعب احبار نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اللہ کی قسم! اللہ کی کتاب یعنی تورات میں ایسے ہی ہے، انہوں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بتایا تھا کہ وہ کون سے نبی تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کعب نے کہا: وہ یوشع بن نون علیہ السلام تھے، پھر انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو بتایا تھا کہ وہ کون سی بستی تھی؟ (انہوں نے کہا: نہیں) کعب نے کہا: وہ اریحا شہر تھا۔
یہ حدیث غریب اور صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2651]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة مبارك بن فَضَالة - وهو البصري - وقد تابعه محمد بن عجلان، فتُغتفَر بذلك عنعنته إن شاء الله، وروي الحديث من وجه آخر عن أبي هريرة كما سيأتي.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2652
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن عَرْعَرة السامي، حدثنا أزهر (1) بن سعْد السَّمّان، حدثنا ابن عَون، عن محمد، عن (2) عُبيدة، عن علي، قال: قال النبي ﷺ في الأُسارى يوم بدرٍ:"إن شئتم قَتلْتُموهم، وإن شئتم فاديتُم، واستمتعتُم بالفِداء، واستُشهِد منكم بعِدَّتهم"، فكان آخرَ السبعين ثابتُ بنُ قيس، استُشهِد باليَمامة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2619 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا: اگر تم چاہو تو انہیں قتل کر دو، اور اگر چاہو تو ان سے فدیہ لے لو اور اس فدیہ سے فائدہ اٹھاؤ، لیکن (اس صورت میں) تم میں سے اتنے ہی لوگ شہید ہوں گے جتنی ان کی تعداد (ستر) ہے۔ چنانچہ ان میں سے سب سے آخر میں شہید ہونے والے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تھے جو جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2652]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد اختُلف في وصل هذا الحديث وإرساله، فوصله ابن عون - وهو عبد الله - في رواية أزهر بن سعْد عنه كما في رواية المصنف هنا، ووافقه على وصله هشام بن حسان في رواية سفيان الثَّوري وأبي أسامة حماد بن أسامة، كما أشار إليه الدارقطني في "العلل" (418)، ووافقه على وصله أيضًا جرير بن حازم عند الطبري في "تفسيره" 4/ 166.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2653
أخبرني عبد الله بن سعد الحافظ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي وأحمد بن المِقْدام، قالا: حدثنا أبو بحر البَكْراوي، حدثنا شعبة، حدثنا أبو العَنْبس، عن أبي الشَّعْثاء، عن ابن عباس، قال: جعلَ رسولُ الله ﷺ في فِداء الأُسارى أهلِ الجاهلية أربعَ مئة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2620 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورِ جاہلیت کے طریقے کے مطابق قیدیوں کا فدیہ چار سو (درہم) مقرر فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وقد تقدَّم برقم (2605) من طريق سفيان بن حبيب عن شعبة.»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2654
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتّاب العَبْدي، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا داود بن أبي هند. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن المسيّب، حدثنا إسحاق بن شاهين، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: كان ناسٌ من الأُسارى يوم بدر ليس لهم فِداءٌ، فجعلَ رسول الله ﷺ فِداءَهم أن يُعلِّموا أولادَ الأنصار الكتابةَ، قال: فجاء غلامٌ من أولاد الأنصار إلى أبيه، فقال: ما شأنُك؟ قال: ضربني مُعلِّمي، قال: الخبيثُ يَطلبُ بِذَحْلِ بدرٍ، والله لا تأتيه أبدًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2621 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنگِ بدر کے کچھ قیدی ایسے تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، راوی کہتے ہیں: ایک مرتبہ انصار کا ایک بچہ اپنے والد کے پاس آیا تو اس نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے معلم نے مجھے مارا ہے، تو اس کے والد نے (غصے میں) کہا: یہ خبیث شخص جنگِ بدر کا بدلہ لینا چاہتا ہے، اللہ کی قسم! تم اب کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2654]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،من جهة خالد بن عبد الله: وهو الواسطي الطحّان.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2655
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأسدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كان رسول الله ﷺ إذا جاءه فَيءٌ قَسَمه من يومِه، فأعطى الآهِلَ حَظَّين والعَزَبَ حظًّا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد أخرج بهذا الإسناد بعَينِه أربعةَ أحاديث، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2622 - على شرط مسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی مالِ فئی آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شادی شدہ شخص کو دو حصے اور غیر شادی شدہ کو ایک حصہ عطا فرماتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اسی سند کے ساتھ چار احادیث روایت کی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ .
کسی کافر کے بدلے مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی عہد والے کو اس کے عہد کے دوران
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2656
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا رَوْح بن عُبادة وعبد الوهاب الخَفَّاف، قالا: حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى عن سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن قيس بن عُبَاد، قال: دخلتُ أنا والأشْتَرُ على عليّ بن أبي طالب يومَ الجَمَل، فقلت: هل عَهِد إليك رسولُ الله ﷺ عهدًا دون العامّة؟ فقال: لا، إلّا هذا، وأخرج من قِرابِ سيفه، فإذا فيها:"المؤمنون تَكَافأُ دماؤُهم، يَسعى بذِمَّتِهم أدناهُم، وهم يدٌ على مَن سِواهم، لا يُقتَلُ مؤمنٌ بكافر، ولا ذو عَهْدٍ في عَهْدِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1) . وله شاهد عن أبي هريرة وعمرو بن العاص، أما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2623 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور اشتر (نخعی) جنگِ جمل کے دن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کے علاوہ خصوصی طور پر آپ کو کوئی وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس تحریر کے، اور انہوں نے اپنی تلوار کی میان سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا: تمام مومنوں کے خون (قصاص میں) برابر ہیں، ان میں سے ایک ادنیٰ شخص بھی (کسی کو) پناہ دینے کی کوشش کرے تو وہ سب کی طرف سے معتبر ہو گی، اور وہ اپنے دشمنوں کے خلاف ایک جان کی طرح (متحد) ہیں، کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کسی ذمی (معاہد) کو اس کے عہد کی حالت میں قتل کیا جائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2656]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يحيى: هو ابن سعيد القطان، وسعيد: هو ابن أبي عَروبة، والحسن: هو البصري، والأشتر المذكور: هو مالك بن الحارث النخعي.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں