🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. خَلَقَ اللَّهُ أَرْبَعَةَ أَشْيَاءَ بِيَدِهِ
اللہ تعالیٰ نے چار چیزیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3285
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا شُعْبة، عن سَلَمة بن كُهَيل قال: سمعت مُسلِمًا البَطِين يحدِّث عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كانت المرأة تطوف بالبيت في الجاهلية وهي عُرْيانة وعلى فَرْجِها خِرقةٌ، وهي تقول: اليومَ يَبدُو بعضُه أو كلُّهُ … وما بَدَا منه فلا أُحِلُّهُ فنزلت هذه الآية: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ [الأعراف: 32] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3246 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جاہلیت میں عورت بیت اللہ کا طواف اس حال میں کرتی تھی کہ وہ برہنہ ہوتی اور اس نے اپنی شرمگاہ پر (محض) ایک چیتھڑا باندھا ہوتا، اور وہ (یہ شعر) کہتی: آج اس کا کچھ حصہ یا سارا ہی ظاہر ہو جائے گا... اور جو ظاہر ہو جائے اسے میں (کسی کے لیے) حلال نہیں سمجھتی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ آپ فرما دیں کہ اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے [سورة الأعراف: 32]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3285]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو داود الطيالسي: اسمه سليمان بن داود، ومسلم البطين: هو ابن عمران أو ابن أبي عمران.» [ترقيم الرساله 3285] [ترقيم الشركة 3265] [ترقيم العلميه 3246]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3286
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني، حدثنا الهيثم بن خالد، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن الشَّعْبي، عن صِلَة بن زُفَرَ، عن حُذَيفة قال: أصحابُ الأعراف قومٌ تجاوَزَت بهم حسناتُهم النارَ، وقَصَّرَت [بهم] سيئاتُهم عن الجنة، فإذا ﴿صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ [الأعراف: 47] ، فبينما هم كذلك إذِ اطَّلَعَ عليهم ربُّك، فيقال لهم: قوموا ادخُلوا الجنةَ، فإني قد غَفَرتُ لكم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3247 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اصحابِ اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیوں نے انہیں آگ سے تو بچا لیا لیکن ان کے گناہ انہیں جنت میں داخل ہونے سے روک دیں گے (یعنی دونوں برابر ہوں گے)، پس جب ﴿صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ ان کی نگاہیں اہل جہنم کی طرف پھیر دی جائیں گی تو وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرنا [سورة الأعراف: 47] ، وہ اسی حال میں ہوں گے کہ آپ کا رب ان پر (رحمت کی) نظر فرمائے گا اور کہا جائے گا: اٹھو اور جنت میں داخل ہو جاؤ، یقیناً میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3286]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق. الهيثم بن خالد: هو ابن يزيد الكوفي ورّاق أبي نعيم والشعبي: هو عامر بن شراحيل.» [ترقيم الرساله 3286] [ترقيم الشركة 3266] [ترقيم العلميه 3247]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3287
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله قال: لما مَرَّ النبيُّ ﷺ بالحِجْر قال:"لا تَسأَلوا الآياتِ، فقد سألها قومُ صالح، فكانت (1) تَرِدُ من هذا الفجِّ وتَصدُرُ من هذا الفجِّ، فعَتَوْا عن أمرِ ربِّهم فعَقَروها، فأخذتهم الصَّيحةُ، فأَهمَدَ اللهُ مَن تحتَ السماءِ منهم إلَّا رجلًا واحدًا كان في حَرَمِ الله" قيل: مَن هو؟ قال:"أبو رِغَالٍ، فلمَّا خرج من الحَرَم أَصابَه ما أصاب قومَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3248 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجر (قومِ ثمود کے علاقے) سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجزات کا مطالبہ نہ کرو، کیونکہ قومِ صالح نے (ایسے ہی) مطالبہ کیا تھا، پس وہ (اونٹنی) اس گھاٹی سے آتی اور اس گھاٹی سے جاتی تھی، پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اسے ذبح کر ڈالا، تو انہیں ایک ہولناک چنگھاڑ نے آ لیا، چنانچہ اللہ نے آسمان کے نیچے موجود ان کے تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا سوائے ایک شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا۔ عرض کیا گیا: وہ کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابورغال تھا، پھر جب وہ حرم سے نکلا تو اسے بھی وہی مصیبت پہنچی جو اس کی قوم کو پہنچی تھی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3287]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم، وتابعه ابن جريج فيما سيأتي عند المصنف برقم (4114)، وأبو الزبير» [ترقيم الرساله 3287] [ترقيم الشركة 3267] [ترقيم العلميه 3248]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. تَفْسِيرُ قَوْلِهِ تَعَالَى: (فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ)
آیت“جب اس کا رب پہاڑ پر جلوہ گر ہوا”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3288
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب وهشام بن علي قالا: حدثنا عفَّان بن مسلم، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة. وأخبرني محمد بن علي بن بَكْر العَدْل -واللفظ له- حدثنا الحُسين بن الفضل، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ [الأعراف: 143] ، قال حمادٌ: هكذا؛ فوضع الإبهامَ على مفصل الخِنصِر، الأيمن، قال: فقال حُمَيدٌ لثابت: تُحدِّث بمثل هذا؟! قال: فضَرَبَ ثابتٌ صدرَ حُميد ضربةً بيده وقال: رسولُ الله ﷺ يحدِّثُ به، وأنا لا أحدِّثُ به؟! (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3249 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ پس جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا [سورة الأعراف: 143] کے بارے میں (تشریح کرتے ہوئے) اپنے انگوٹھے کو دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے جوڑ پر رکھا (یعنی بہت تھوڑی تجلی فرمائی)، حماد کہتے ہیں: حمید نے ثابت (راوی) سے کہا: کیا آپ ایسی حدیث بیان کر رہے ہیں؟! تو ثابت نے حمید کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بیان فرماتے تھے اور میں اسے بیان نہ کروں؟!
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3288]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3288] [ترقيم الشركة 3268] [ترقيم العلميه 3249]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
100. لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ
سننا دیکھنے کے برابر نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3289
أخبرني علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا سُرَيج بن النعمان، حدثنا هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس الخَبرُ كالمُعايَنةِ، إنَّ الله خَبَّر موسى بما صَنَعَ قومُه في العِجُل، فلم يُلقِ الألواحَ، فلما عايَنَ ما صَنَعوا أَلقى الألواح" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3250 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنی سنائی خبر بچشمِ خود دیکھنے (مشاہدے) کی طرح نہیں ہوتی، اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم کے بچھڑا (معبود) بنا لینے کی خبر دی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے ان کا کرتوت دیکھ لیا تو (جلال میں آ کر) تختیاں پھینک دیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3289]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح ـ رجاله عن آخرهم ثقات إلّا أنَّ هشيمًا مع شهرة روايته عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية وسماعه منه، قد قال ابن عدي في حديثه هذا: يقال: إنه لم يسمعه من أبي بشر إنما سمعه من أبي عوانة عن أبي بشر فدلَّسه قلنا: وأبو عوانة -وهو وضّاح ...» [ترقيم الرساله 3289] [ترقيم الشركة 3269] [ترقيم العلميه 3250]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3290
حدثني عُمر (3) بن محمد بن صفوان الجُمَحي بمكة في دار أبي بكر الصِّدّيق ﵁، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا سِمَاك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أَتى هارونُ على السامِرِيِّ وهو يَصنَعُ العجلَ، فقال له: ما تصنعُ؟ قال: ما لا (1) يَنفَعُ ولا يضرُّ، فقال: اللهمَّ أَعطِه ما سألك [على ما] (2) في نفسِه، فلما ذهب قال: اللهمَّ إني أسألك أن يَخُورَ، فخار، فكان إذا سجد خارَ، وإذا رفع رأسَه خارَ، وذلك بدعوةِ هارون (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3251 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ہارون علیہ السلام سامری کے پاس پہنچے جبکہ وہ بچھڑا بنا رہا تھا، انہوں نے اس سے پوچھا: تم یہ کیا بنا رہے ہو؟ اس نے کہا: ایسی چیز جو نہ نفع پہنچاتی ہے نہ نقصان۔ ہارون علیہ السلام نے (بطور بد دعا) کہا: اے اللہ! اسے وہی دے دے جو اس نے اپنے دل میں (نیت کر کے) مانگا ہے، جب وہ چلا گیا تو کہنے لگا: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ یہ بولنے لگے، پس وہ بولنے لگا، چنانچہ جب کوئی سجدہ کرتا تو وہ بچھڑا آواز نکالتا اور جب کوئی سر اٹھاتا تب بھی وہ آواز نکالتا، اور یہ سیدنا ہارون علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے ہوا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3290]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سماك بن حرب، والخبر، موقوف، ولعلَّه ممّا أخذه ابن عباس عن أهل الكتاب.» [ترقيم الرساله 3290] [ترقيم الشركة 3270] [ترقيم العلميه 3251]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل سماك بن حرب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
101. قِصَّةُ أَصْحَابِ الْعِجْلِ
بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3291
أخبرنا أبو أحمد محمد بن إسحاق العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا أسباط بن نَصْر الهَمْداني، عن إسماعيل بن عبد الرحمن السُّدِّي، عن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود أنه قال: إنَّ أصحاب العِجل قالوا: هطا سمقا ثا أزيه مزبا، وهي بالعربية: حِنطة حمراء قوية فيها شَعرة سوداء، فذلك قوله ﷿: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ [الأعراف: 162] ، فلما أَبَوْا أن يَسجُدوا أمَرَ الله الجبل أن يَقَعَ عليهم، فنظروا إليه قد غَشِيَهم، فسَقَطَوا سُجَّدًا على شِقٍّ، ونظروا بالشِّق الآخر، فرَحِمَهم الله فكَشَفَه عنهم، فقالوا: ما سجدةٌ أحبَّ إلى الله من سجدةٍ كَشَفَ بها العذابَ عنكم، فهم يسجدون لذلك على شِقٍّ، وذلك قوله ﷿: ﴿وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ﴾ [الأعراف: 171] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3252 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں (بنی اسرائیل) نے ( «حطه» کے بدلے) «هطا سمقا ثا ازيه مزبا» کہا، جس کا عربی میں مطلب ہے: سرخ، مضبوط گندم جس میں سیاہ بال ہو، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ پھر ان میں سے ان ظالموں نے اس بات کو ایک دوسری بات سے بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی [سورة الأعراف: 162] ، پھر جب انہوں نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اللہ نے پہاڑ کو حکم دیا کہ وہ ان پر گر جائے، انہوں نے دیکھا کہ وہ ان پر چھا گیا ہے تو وہ ایک پہلو کے بل سجدے میں گر گئے اور دوسرے پہلو سے (اوپر پہاڑ کی طرف) دیکھنے لگے، پھر اللہ نے ان پر رحم کیا اور اس (عذاب) کو ان سے ٹال دیا، تو وہ کہنے لگے: اللہ کے نزدیک اس سجدے سے بڑھ کر کوئی سجدہ محبوب نہیں جس کے ذریعے اس نے تم سے عذاب کو ٹال دیا، چنانچہ وہ اسی وجہ سے (آج بھی) ایک پہلو پر سجدہ کرتے ہیں، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ﴾ اور جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان کے اوپر معلق کر دیا گویا کہ وہ ایک سائبان ہو [سورة الأعراف: 171]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3291]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أسباط بن نصر والسُّدِّي صدوقان.» [ترقيم الرساله 3291] [ترقيم الشركة 3271] [ترقيم العلميه 3252]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3292
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا﴾ [الأعراف: 155] ، قال: دعا موسى فبَعَثَ الله سبعين، فجعل دعاءَه حين دعاه لمن آمن بمحمدٍ ﷺ واتَّبَعه قولَه: ﴿فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ.. فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ﴾ [الأعراف: 155 - 156] ، والذين يتَّبعون محمدًا ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي الحِجّة سنة تسع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3253 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا﴾ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہماری مقررہ میعاد کے لیے اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کیے [سورة الأعراف: 155] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی اور اللہ نے ستر آدمی بھیجے، پھر انہوں نے اپنی دعا ان لوگوں کے لیے خاص کر دی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے اور آپ کی پیروی کریں گے، (تبھی اللہ نے فرمایا:) ﴿فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ .. فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ﴾ پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین بخشنے والا ہے... (فرمایا:) تو میں اسے (اپنی رحمت کو) ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں [سورة الأعراف: 155 - 156] اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3292]
تخریج الحدیث: «رجاله عن آخرهم ثقات، إلّا أنَّ عطاء بن السائب كان قد اختلط وسماع جرير منه -وهو ابن عبد الحميد- بعد الاختلاط، لكن تابعه عن عطاء على بعض هذا الخبر -وهو آخره- عمران ابن عيينة وحماد بن سلمة عند الطبري في "تفسيره" 9/ 82، وحماد ممّن سمع من عطاء قبل الاختلاط.» [ترقيم الرساله 3292] [ترقيم الشركة 3272] [ترقيم العلميه 3253]

الحكم على الحديث: رجاله عن آخرهم ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. قِصَّةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَسْخِهِمْ قِرَدَةً
بنی اسرائیل کا بندر بنا دیے جانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3293
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرني يحيى بن سُلَيم، حدثنا ابن جُرَيج، عن عِكْرمة قال: دخلتُ على ابن عبَّاس وهو يقرأ في المُصحَف قبل أن يذهب بصرُه وهو يبكي، فقلت: ما يبكيكَ يا أبا عبَّاس جعلني اللهُ فداكَ؟ قال: فقال: هل تعرفُ أَيْلةَ؟ قلت: وما أَيلةُ؟ قال: قريةٌ كان بها ناس من اليهود فحَرَّم الله عليهم الحيتان يوم السبت، فكانت حِيتانُهم تأتيهم يومَ سَبتِهم، شُرَّعًا بِيضًا سِمانًا كأمثال المَخَاض بأفنِياتِهم وأبنِياتِهم (1) ، فإذا كان في غير يوم السبت لم يَجِدُوها، ولم يُدرِكوها إلَّا في مَشَقَّة ومُؤْنة شديدة، فقال بعضهم لبعض، أو من قال ذلك منهم: لعلَّنا لو أخذناها يومَ السبت وأكلناها في غير يوم السبت، ففعل ذلك أهلُ بيتٍ منهم فأَخذوا فشَوَوْا فوَجَدَ جيرانُهم ريحَ الشِّواء، فقالوا: واللهِ -ما نُرَى أصاب (2) بني فلان شيءٌ، فأخذها آخرون، حتى فَشَا ذلك فيهم وكَثُر، فافترقوا فِرَقًا ثلاثًا: فِرقةً أكَلَت، وفرقةً نَهَتْ، وفرقةً قالت: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [الأعراف: 164] فقالت الفرقة التي نهت: إنّا نُحذِّركم غضبَ الله وعقابه، أن يصيبكم بخَسْفٍ أو قَذفٍ أو ببعضِ ما عندَه من العذاب، والله لا نُبايِتُكم في مكان وأنتم فيه، وخرجوا من السُّور. فغَدَوْا عليه من الغد، فضربوا بابَ السُّور فلم يُجِبْهم أحد، فأتَوْا بسَبَبٍ (3) فأَسنَدوه إلى السور، ثم رَقِيَ منهم راقٍ على السور، فقال: يا عبادَ الله، قِرَدةٌ واللهِ لها أذنابٌ تَعَاوَى، ثلاث مرات، ثم نزل من السور ففَتَح السور، فدخل الناس عليهم، فَعَرَفَت القردةُ أنسابها من الإنس ولم تعرف الإنسُ أنسابَها من القردة، قال: فيأتي القردُ إلى نَسيبِه وقريبِه من الإنس فيَحتَكُّ به ويَلصَقُ، ويقول الإنسان: أنتَ فلان؟ فيشير برأسه؛ أي: نَعَم، ويبكي، وتأتي القردةُ إلى نسيبها وقريبها من الإنس فيقول لها: أنتِ فلانة؟ فتشير برأسها؛ أي: نَعَم، وتبكي، فيقول لهم الإنس: أمَا إنَّا حذَّرناكم غضبَ الله وعقابَه أن يصيبَكم بخَسْف أو مَسْخ أو ببعضِ ما عندَه من العذاب، قال ابن عبَّاس: فاسمَع الله يقول: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ [الأعراف: 165] ، فلا أدري ما فَعَلَت الفِرقةُ الثالثةُ. قال ابن عبَّاس: فكم قد رأَينا من مُنكَرٍ، فلم نَنْه عنه! قال عكرمةُ: فقلت: ما ترى -جعلني اللهُ فداكَ- أنهم قد أَنكروا وكَرِهوا حين قالوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾؟ فأَعجبه قولي ذلك، وأَمَرَ لي ببُردينِ غليظين فكَسانِيهِما (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3254 - صحيح
عکرمہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ (نابینا ہونے سے پہلے) مصحف میں دیکھ کر تلاوت فرما رہے تھے اور رو رہے تھے، میں نے عرض کی: اے ابوعباس! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم ایلہ کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ایلہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ ایک بستی تھی جہاں یہودی رہتے تھے، اللہ نے ان پر ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنا حرام کر دیا تھا، تو ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے پاس سفید، موٹی تازی اور پیٹ بھرے اونٹوں کی طرح پانی کی سطح پر ابھر کر ان کے گھروں کے صحنوں اور عمارتوں کے سامنے آ جاتیں، لیکن جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو انہیں مچھلیاں نہ ملتیں اور وہ انہیں بڑی مشقت اور بھاری خرچ کے بغیر حاصل نہ کر پاتے، تو ان میں سے بعض نے آپس میں کہا: کیوں نہ ہم انہیں ہفتے کے دن پکڑ لیں اور کھائیں ہفتے کے دن کے علاوہ (کسی اور دن)، چنانچہ ان کے ایک گھرانے نے ایسا ہی کیا، انہوں نے مچھلیاں پکڑ کر بھونیں تو ان کے پڑوسیوں کو بھنے ہوئے گوشت کی خوشبو آئی، انہوں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلاں کے بیٹوں کو (مچھلی کھانے سے) کچھ نہیں ہوا (کوئی عذاب نہیں آیا)، پھر دوسروں نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ یہ بات ان میں عام ہو گئی اور کثرت اختیار کر گئی، پس وہ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے: ایک وہ جنہوں نے مچھلی کھائی، دوسرا وہ جنہوں نے (گناہ سے) روکا، اور تیسرا وہ جنہوں نے کہا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ [سورة الأعراف: 164] روکنے والے گروہ نے کہا: ہم تمہیں اللہ کے غضب اور سزا سے ڈراتے ہیں کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں دھنسا نہ دے یا تم پر (پتھر) نہ برسائے یا کوئی اور عذاب نہ بھیج دے، اللہ کی قسم! ہم تمہارے ساتھ اس جگہ رات نہیں گزاریں گے جہاں تم ہو، چنانچہ وہ بستی کی فصیل سے باہر نکل گئے، اگلی صبح جب وہ آئے اور فصیل کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کسی نے جواب نہ دیا، وہ ایک رسی لائے اور اسے فصیل سے لگا کر اوپر چڑھے، ایک شخص نے فصیل پر سے دیکھ کر پکارا: اے اللہ کے بندو! اللہ کی قسم! یہ تو بندر بن چکے ہیں جن کی دمیں ہیں اور وہ چیخ رہے ہیں، اس نے یہ تین بار کہا، پھر وہ نیچے اترا اور دروازہ کھول دیا، لوگ اندر داخل ہوئے تو بندروں نے انسانوں میں اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا مگر انسانوں نے بندروں میں اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچانا، ابن عباس فرماتے ہیں: بندر اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتا اور اس کے جسم سے اپنا جسم رگڑتا اور چمٹ جاتا، انسان پوچھتا: کیا تو فلاں ہے؟ وہ سر کے اشارے سے کہتا: ہاں (میں وہی ہوں)، اور روتا، اسی طرح مادہ بندر اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتی تو وہ کہتا: کیا تو فلاں ہے؟ وہ سر کے اشارے سے کہتی: ہاں، اور روتی، پھر ان کے انسانی رشتہ داروں نے ان سے کہا: کیا ہم نے تمہیں اللہ کے غضب اور سزا سے نہیں ڈرایا تھا کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے گا یا تمہاری صورتیں مسخ کر دے گا یا کوئی اور عذاب دے دے گا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا یہ ارشاد سنو: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان ظالموں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے برے عذاب میں پکڑ لیا [سورة الأعراف: 165] ، (ابن عباس نے روتے ہوئے کہا:) مجھے نہیں معلوم کہ اس تیسرے گروہ کا کیا بنا، ہم نے بھی کتنے ہی منکرات (برائیاں) دیکھیں اور ان سے نہیں روکا! عکرمہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب انہوں نے یہ کہا کہ تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو... تو یقیناً انہوں نے اس گناہ کا انکار کیا تھا اور اسے ناپسند کیا تھا (اسی لیے تو نصیحت کرنے والوں سے یہ سوال کیا تھا)؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو میری یہ بات بہت پسند آئی اور انہوں نے میرے لیے دو موٹی چادروں کا حکم دیا اور وہ مجھے پہنائیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3293]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، ابن جريج» [ترقيم الرساله 3293] [ترقيم الشركة 3273] [ترقيم العلميه 3254]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. شَرْحُ مَعْنَى آيَةِ: (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ) الْآيَةَ
آیت“اور جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد نکالی”کی تشریح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3294
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد (2) بن حازم الغِفَاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا أبو جعفر عيسى بن عبد الله بن ماهانَ، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب في قوله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (3) وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ إِلى قوله: ﴿أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [الأعراف: 172 - 173] ، قال: جَمَعَهم له يومئذٍ جميعًا ما هو كائنٌ إلى يوم القيامة فجعلهم أرواحًا، ثم صوَّرهم واستَنطَقَهم فتكلَّموا، وأَخذ عليهم العهدَ والميثاقَ ﴿وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾، قال: فإني أُشهِدُ عليكم السماواتِ السَّبعَ والأَرَضينَ السَّبعَ، وأُشهِدُ عليكم أباكم آدمَ، أن تقولوا يومَ القيامة: لم نَعلَمْ، أو تقولوا: إنَّا كنا عن هذا غافلين، فلا تُشرِكوا بي شيئًا، فإني أُرسل إليكم رُسُلي يُذكِّرونكم عَهْدي ومِيثاقي، وأُنزل عليكم كُتُبي، فقالوا: نَشهَدُ أنك ربُّنا وإلَهُنا، لا ربَّ لنا غيرُك، ولا إلهَ لنا غيرُك (1) . ورُفِعَ لهم أبوهم آدمُ، فنَظَرَ إليهم فرأى فيهم الغنيَّ والفقيرَ وحَسَنَ الصورةِ وغيرَ ذلك، فقال: ربِّ لو سوَّيتَ بين عبادك، فقال: إني أحبُّ أن أُشكَرَ، ورأى فيهم الأنبياءَ مثلَ السُّرُج، وخُصُّوا بميثاقٍ آخرَ بالرِّسالة والنُّبوة، فذلك قوله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ﴾ الآية [الأحزاب: 7] ، وهو قولُه: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [الروم:30] ، وذلك قولُه: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ [النجم: 56] ، وقولُه: ﴿وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ﴾ [الأعراف: 102] ، وهو قولُه: ﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ﴾ [يونس: 74] ، كان في علمه يومَ أقرُّوا بما أَقرُّوا به مَن يُكذِّبُ به ومن يُصدِّقُ به. فكان رُوحُ عيسى من تلك الأرواح التي أُخذ عليها الميثاقُ في زمن آدم، فأُرسِلَ ذلك الرُّوحُ إلى مريم حين ﴿انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (16) فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ إلى قوله: ﴿مَقْضِيًّا (21) فَحَمَلَتْهُ﴾ [مريم: 16 - 21] ، قال: حَمَلَت الذي خاطَبَها وهو روحُ عيسى ﵇. قال أبو جعفر: فحدَّثني الربيعُ بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبيِّ بن كعب قال: دَخَلَ مِن فيها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3255 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ سے لے کر ﴿أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [سورة الأعراف: 172 - 173] تک کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس دن تمام انسانوں کو جو قیامت تک پیدا ہونے والے تھے، جمع فرمایا، انہیں روحیں بنایا، پھر ان کی صورت گری کی اور انہیں قوتِ گویائی دی، پس وہ کلام کرنے لگے، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بناتے ہوئے فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں، تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم اس سے غافل تھے، یا یہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے، تو کیا تو ہمیں اس وجہ سے ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تم پر ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو گواہ بناتا ہوں تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہمیں علم نہیں تھا یا ہم اس سے غافل تھے، پس تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، میں تمہاری طرف اپنے رسول بھیجوں گا جو تمہیں میرا یہ عہد و میثاق یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں نازل کروں گا، تو سب نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب اور معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی رب ہے نہ تیرے سوا کوئی معبود ہے۔ (سیدنا ابی بن کعب فرماتے ہیں:) پھر ان کے سامنے ان کے والد آدم علیہ السلام کو پیش کیا گیا، انہوں نے اپنی اولاد کی طرف دیکھا تو ان میں غنی، فقیر، خوبصورت اور دیگر مختلف حالتوں والے لوگ دیکھے، تو انہوں نے عرض کی: اے میرے رب! اگر تو اپنے بندوں کو برابر رکھتا (تو کتنا اچھا ہوتا)؟ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ پسند ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے ان میں انبیاء کو دیکھا جو چراغوں کی مانند روشن تھے، ان سے رسالت اور نبوت کا ایک الگ میثاق لیا گیا، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ﴾ [سورة الأحزاب: 7] ، اور یہی اللہ کا یہ فرمان ہے: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [سورة الروم: 30] ، اور یہی اللہ کا یہ فرمان ہے: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ [سورة النجم: 56] ، اور اللہ کا فرمان: ﴿وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ﴾ [سورة الأعراف: 102] ، اور ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ﴾ [سورة يونس: 74] ۔ اللہ کے علم میں اس دن یہ بات موجود تھی جب انہوں نے اقرار کیا تھا کہ کون اس کی تکذیب کرے گا اور کون اس کی تصدیق کرے گا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی ان روحوں میں شامل تھی جن سے آدم علیہ السلام کے زمانے میں میثاق لیا گیا تھا، پھر وہی روح مریم علیہا السلام کی طرف اس وقت بھیجی گئی جب ﴿انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا﴾ سے لے کر ﴿مَقْضِيًّا فَحَمَلَتْهُ﴾ [سورة مريم: 16 - 21] تک کے واقعات پیش آئے۔ فرمایا: مریم علیہا السلام اس (روح) کی حامل ہوئیں جس نے ان سے کلام کیا تھا اور وہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح تھی۔ ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ (روح) ان کے منہ کے راستے داخل ہوئی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3294]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي جعفر» [ترقيم الرساله 3294] [ترقيم الشركة 3274] [ترقيم العلميه 3255]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں