🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
113. الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
وہ مسجد جو تقویٰ پر قائم کی گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3325
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدثنا عُمير بن مِرْداس، حدثنا مطرِّف بن عبد الله، حدثنا سَحبَل عبدُ الله بن محمد بن أبي يحيى، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: تَلاحَى رجلان في المسجد الذي أُسِّسَ على التقوى، فقال أحدهما: هو مسجدُ رسول الله، وقال الآخر: هو مسجدُ قُباءٍ، فتَساوَقا إلى رسول الله ﷺ، فسأَلاه عن ذلك، فقال رسول الله ﷺ: المسجدُ الذي أُسِّسَ على التقوى هو مَسجِدي هذا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3286 - إسناده جيد
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے اس مسجد کے بارے میں بحث کی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، ایک نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، جبکہ دوسرے نے کہا: وہ مسجدِ قبا ہے، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ میری یہی مسجد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3325]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد كما قال الذهبي في "تلخيصه"، إلّا أنَّ مطرِّف بن عبد الله -وهو ابن مطرف بن سليمان بن يسار- قد خولف فيه على عبد الله بن محمد بن أبي يحيى الملَّقب بسحبل، فقد رواه عبد الله بن وهب عند الطبري في "تفسيره" 11/ 28 والطحاوي في ...» [ترقيم الرساله 3325] [ترقيم الشركة 3305] [ترقيم العلميه 3286]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3326
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي (2) ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا هشام بن عمّار السُّلَمي، حدثنا صَدَقة بن خالد، عن عُتْبة بن أبي حَكيم، حدثني طلحة بن نافع، حدثني أبو أيوب الأنصاري وجابر بن عبد الله وأنس بن مالك: أنَّ هذه الآيةَ لما نزلت: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [التوبة: 108] ، قال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ الأنصار، إنَّ الله قد أثنى عليكم في الطُّهور خيرًا، فما طُهورُكم هذا؟" قالوا: نتوضَّأُ للصلاة، ونغتسلُ من الجَنَابة، ونستنجي بالماء، قال:"هو ذاكَ فعَليكُم به" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3287 - صحيح
سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ جب یہ آیت ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [سورة التوبة: 108] اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گروہِ انصار! اللہ تعالیٰ نے طہارت و پاکیزگی کے معاملے میں تمہاری بہترین تعریف فرمائی ہے، پس تمہاری وہ پاکیزگی کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی کے ساتھ استنجا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ (اعلیٰ طریقہ) ہے، پس تم اسے لازم پکڑ لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3326]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 3326] [ترقيم الشركة 3306] [ترقيم العلميه 3287]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3327
حدثنا أبو جعفر محمد بن سليمان بن موسى المذكِّر، حدثنا جُنَيد بن حَكيم الدَّقّاق، حدثنا حامد بن يحيى البَلْخي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو ابن دينار، عن عُبيد بن عُمير، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن السائِحِين، فقال:"هم الصائمونَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، على أنه ممّا أَرسلَه أكثرُ أصحاب ابن عُيينة ولم يذكروا أبا هريرة في إسناده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3288 - على شرط البخاري ومسلم أرسله أكثر أصحاب ابن عيينة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «سائحين» (سفر کرنے والوں) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ روزہ دار لوگ ہیں۔ [سورة التوبة: 112]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ابن عیینہ کے اکثر اصحاب نے اسے مرسل بیان کیا ہے اور اس کی سند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3327]
تخریج الحدیث: «إسناده مرفوعًا موصولًا ضعيف، أبو جعفر المذكِّر شيخ المصنف قال فيه المصنف نفسه فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان": يحدِّث بعجائب، وشيخه جنيد بن حكيم الدقاق قال الدارقطني: ليس بالقوي. قلنا: والمحفوظ عن سفيان بن عيينة عن عمرو عن عبيد ابن عمير عن النبي ﷺ مرسلًا، هكذا ...» [ترقيم الرساله 3327] [ترقيم الشركة 3307] [ترقيم العلميه 3288]

الحكم على الحديث: إسناده مرفوعًا موصولًا ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3328
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سفيان. وأخبرني علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الخَليل، عن عليٍّ قال: سمعتُ رجلًا يستغفرُ لأبويه وهما مُشرِكان، فقلت: لا تَستغفِرْ لأبويك وهما مشركان، فقال: أليس قد استَغفَر إبراهيمُ لأبيه وهو مشركٌ؟ فذَكَرتُه للنبي ﷺ، فنزلت: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ [التوبة: 113 - 114] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3289 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو اپنے والدین کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، میں نے کہا: تم اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کیوں کر رہے ہو جبکہ وہ مشرک ہیں؟ اس نے کہا: کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی حالانکہ وہ مشرک تھے؟ چنانچہ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 113 - 114] نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں، خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب ان پر یہ بات واضح ہو چکی کہ وہ جہنمی ہیں، اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا محض اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا، پھر جب ان پر یہ واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے دستبردار ہو گئے، بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بہت نرم دل اور بردبار تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3328]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل، وقيل: ابن الخليل. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 3328] [ترقيم الشركة 3308] [ترقيم العلميه 3289]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3329
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا المفضَّل (1) بن محمد الجَنَدي بمكة، حدثنا أبو حُمَةَ، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر قال: لما مات أبو طالبٍ قال رسول الله ﷺ:"رَحِمَك اللهُ وغَفَرَ لك يا عمّ، ولا أزالُ أستغفرُ لك حتى ينهانيَ اللهُ ﷿"، فأخذ المسلمون يستغفرون لموتاهم وهم مشركون، فأنزل الله: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقال لنا أبو علي على إثره: لا أعلمُ أحدًا وَصَلَ هذا الحديث عن سفيان غير أبي حُمَة اليَمَاني، وهو ثقة، وقد أرسَلَه أصحابُ ابن عُيينة عنه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3290 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابوطالب کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا! اللہ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کی مغفرت کرے، میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک اللہ عزوجل مجھے اس سے روک نہ دے، چنانچہ مسلمانوں نے بھی اپنے فوت شدہ مشرک رشتہ داروں کے لیے استغفار کرنا شروع کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ [سورة التوبة: 113]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابو علی رحمہ اللہ نے اس کے بعد ہمیں بتایا کہ میں ابو حمہ یمانی کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے سفیان سے اس حدیث کو متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہو، اور وہ ثقہ ہیں، جبکہ ابن عیینہ کے دیگر اصحاب نے اسے ان سے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3329]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، إن كان أبو حمة -واسمه محمد بن يوسف الزَّبيدي اليماني- حفظه عن سفيان موصولًا، فإنَّ أبا حمة هذا لما ذكره ابن حبان في "ثقاته" 9/ 104 قال: ربما أخطأ وأغرب. قلنا: وقد خالفه محمدُ بن عمر الواقدي عند ابن سعد في "الطبقات" 1/ 102، ومن طريقه ابن عساكر ...» [ترقيم الرساله 3329] [ترقيم الشركة 3309] [ترقيم العلميه 3290]

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
114. ذِكْرُ مَوْتِ أَبِي طَالِبٍ وَهِدَايَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ إِلَى الْإِيمَانِ
ابوطالب کی وفات اور نبی ﷺ کی ان کے ایمان کی خواہش کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3330
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: لما حَضَرَت أبا طالب الوفاةُ أتاه النبيُّ ﷺ وعنده عبد الله بن أبي أُمية وأبو جهل بن هشام، فقال له رسول الله ﷺ:"أيْ عمِّ، إنك أعظمُهم عليَّ حقًّا، وأحسنُهم عندي يدًا، ولَأنت أعظمُ عليَّ حقًّا من والدي، فقُلْ كلمةً تَجِبُ لك عليَّ بها الشفاعةُ يومَ القيامة، قل: لا إله إلَّا الله"، فقالا له: أترغَبُ عن مِلَّةِ عبد المطَّلِب؟ فسَكَتَ، فأعادَها عليه رسولُ الله ﷺ، فقال: أنا على مِلَّةِ عبد المطَّلِب، فمات، فقال النبي ﷺ:"لَأستغفِرَنَّ لك ما لم أُنهَ عنك"، فأنزل الله ﷿: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ الآية، ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ﴾ إلى آخر الآية [التوبة: 114] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنَّ يونسَ وعُقيلًا أَرسلاه عن الزُّهري عن سعيد (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3291 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس عبداللہ بن ابی امیہ اور ابو جہل بن ہشام موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے چچا! میرے اوپر آپ کا حق سب سے بڑا ہے، اور آپ کا مجھ پر بہت احسان ہے، آپ کا حق مجھ پر میرے والد سے بھی زیادہ ہے، پس آپ ایک کلمہ کہہ دیں جس کی بدولت قیامت کے دن آپ کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے، آپ کہہ دیں: «لا اله الا الله» ، تو ان دونوں نے کہا: کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ لیں گے؟ پس وہ خاموش ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی، تو انہوں نے کہا: میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں، اور اسی حال میں وفات پا گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کے لیے اس وقت تک مغفرت مانگتا رہوں گا جب تک مجھے آپ کے بارے میں روک نہ دیا جائے، پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ آخر تک، اور ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ﴾ آیت کے اختتام تک [سورة التوبة: 113 - 114]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ یونس اور عقیل نے اسے زہری سے، انہوں نے سعید سے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن من حديث سعيد بن المسيب عن أبيه المسيب بن حزن ﵁، هكذا رواه ثقات أصحاب الزهري عنه، وخالفهم سفيان بن حسين وهو ثقة إلّا في الزهري فضعيف، ولم نقف على روايته هذه عند غير المصنف.» [ترقيم الرساله 3330] [ترقيم الشركة 3310] [ترقيم العلميه 3291]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115. زِيَارَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ
نبی ﷺ کا اپنی والدہ آمنہ کی قبر کی زیارت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3331
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرنا ابن جُرَيج، عن أيوب بن هانئ، عن مسروق بن الأجدَع، عن عبد الله بن مسعود قال: خَرَجَ رسول الله ﷺ يَنظُر في المقابر، وخرجنا معه، فأمَرَنا فجَلَسْنا، ثم تَخطَّى القبورَ حتى انتهى إلى قبرٍ منها، فناجاهُ طويلًا، ثم ارتَفَع نَحيبُ رسول الله ﷺ باكيًا، فبَكينا لبكاء رسول الله ﷺ، ثم إنَّ رسول الله ﷺ أقبل إلينا فتلقَّاه عمرُ بن الخطاب، فقال: يا رسول الله، ما الذي أبكاكَ؟ فقد أبكانا وأفزَعَنا، فجاء فجلس إلينا فقال:"أفزَعَكُم بُكائي؟" فقلنا: نعم يا رسول الله، فقال:"إنَّ القبر الذي رأيتموني أُناجي فيه قبرُ أُمي آمنةَ بنتِ وَهْب، وإني استأذنتُ ربِّي في زيارتها فأَذِنَ لي فيه، واستأذنتُه في الاستغفار لها فلم يَأذَنْ لي فيه، ونزل عليَّ: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ -حتى ختم الآية- ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ﴾، فَأَخَذَني ما يأخُذُ الولدَ للوالدة من الرِّقَّة (1) ، فذلك الذي أبكاني" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه هكذا بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلم حديث يزيد بن كَيْسان عن أبي حازم عن أبي هريرة فيه مختصرًا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3292 - أيوب بن هانىء ضعفه ابن معين
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف معائنہ کرنے کے لیے نکلے، اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک مخصوص قبر کے پاس پہنچے اور وہاں دیر تک سرگوشی فرماتے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی آواز (سسکیاں) بلند ہوئی، تو ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی وجہ سے رونے لگے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ آپ کے رونے نے ہمیں بھی رلا دیا اور سخت پریشان کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا: کیا میرے رونے نے تمہیں پریشان کر دیا؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قبر جس کے پاس تم نے مجھے مناجات کرتے ہوئے دیکھا وہ میری والدہ آمنہ بنت وہب کی قبر ہے، میں نے اپنے رب سے ان کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اس کی اجازت عطا فرما دی، اور میں نے ان کے لیے مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی، اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ یہاں تک کہ آیت مکمل ہوئی ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ﴾، پس مجھ پر ویسی ہی رقت طاری ہو گئی جیسی ایک اولاد پر اپنی ماں کے لیے طاری ہوتی ہے، یہی وہ رقت تھی جس نے مجھے رلا دیا۔ [سورة التوبة: 113 - 114]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے یزید بن کیسان کی حدیث ابو حازم سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس موضوع پر مختصر روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، ابن جريج» [ترقيم الرساله 3331] [ترقيم الشركة 3311] [ترقيم العلميه 3292]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3332
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنه سُئِلَ عن قوله ﷿: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [هود: 7] ، على أيِّ شيء كان الماءُ؟ قال: على مَثْن الرِّيح (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3293 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [سورة هود: 7] اور اس کا عرش پانی پر تھا کے بارے میں پوچھا گیا کہ پانی کس چیز پر (ٹکا ہوا) تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: تیز ہوا کی پشت (سطح) پر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، أبو حذيفة -وهو موسى بن مسعود النهدي- وإن كان في روايته عن سفيان الثوري مقال قد تابعه عليه غير واحد من ثقات أصحاب سفيان، وهذا الخبر موقوف والغالب أنه مما تلَّقاه ابن عبَّاس عن أهل الكتاب فإنه لم يرد في شيء من الأحاديث عن النبي ﷺ ما يشير ...» [ترقيم الرساله 3332] [ترقيم الشركة 3312] [ترقيم العلميه 3293]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3333
حدثني الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايِيني، حدثنا عُمَير بن مِرداس، حدثنا محمد بن بُكَير الحضرمي، حدثنا عبد الله بن بُكَير الغَنَوي، حدثنا حَكيم بن جُبير (2) ، عن الحسن بن سعد مولى عليٍّ، عن علي: أنَّ رسول الله ﷺ أراد أن يغزوَ غَزاةً له، قال: فدعا جعفرًا فأمَره أن يَتخلَّفَ على المدينة، فقال: لا أتخلَّفُ بعدَك يا رسول الله أبدًا. قال: فدعاني رسول الله ﷺ، فعَزَمَ عليَّ لَمَا تَخلَّفْتُ قبل أن أتكلَّمَ، قال: فبكيتُ، فقال رسول الله ﷺ:"ما يُبكيكَ يا عليُّ؟" قلت: يا رسول الله، يُبكِيني خِصالٌ غيرُ واحدة: تقول قريشٌ غدًا: ما أسرَعَ ما تخلَّفَ عن ابن عمِّه وخَذَلَه، ويُبكيني خَصْلةٌ أخرى كنت أريد أن أتعرَّضَ للجهاد في سبيل الله، لأنَّ الله يقول: ﴿وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا﴾ إلى آخر الآية [التوبة:120] ، فكنت أريد أن أتعرَّضَ لفَضْل الله، فقال رسول الله ﷺ:"أمّا قولُك: تقول قريشٌ: ما أسرَعَ ما تخلَّفَ عن ابن عمِّه وخَذَلَه، فإنَّ لك بي أُسوةً، قد قالوا: ساحر وكاهن وكذّاب، أمَا تَرضَى أن تكون منى بمنزلةِ هارونَ من موسى؟ إلَّا أنه لا نبيَّ بعدي، وأما قولُك: أتعرَّضُ لفَضْل الله، فهذه أبْهارٌ من فُلفُل جاءنا من اليمن، فبِعْه واستمتِعْ به أنت وفاطمةُ حتى يأتيَكم الله من فَضْله، فإنَّ المدينة لا تَصلُحُ إلَّا بي أو بك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3294 - أنى له الصحبة والوضع لائح عليه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوے پر جانے کا ارادہ فرمایا تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو بلا کر مدینہ میں پیچھے رہنے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے بعد کبھی پیچھے نہیں رہوں گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی مجھ پر لازم کر دیا کہ میں پیچھے ٹھہروں، وہ کہتے ہیں کہ میں (یہ سن کر) رونے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے علی! تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایک سے زائد باتیں رلا رہی ہیں، ایک تو یہ کہ کل قریش کہیں گے کہ یہ کتنی جلدی اپنے چچا زاد بھائی سے پیچھے رہ گیا اور انہیں تنہا چھوڑ دیا، اور دوسری بات یہ ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کی سعادت پانا چاہتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا﴾ [سورة التوبة: 120] اور وہ کسی ایسی جگہ قدم نہیں رکھتے جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں (آیت کے آخر تک)، پس میں اللہ کا فضل حاصل کرنا چاہتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ قریش کہیں گے کہ تم نے اپنے بھائی کو چھوڑ دیا، تو تمہارے لیے میری ذات میں بہترین نمونہ ہے، انہوں نے تو مجھے جادوگر، کاہن اور جھوٹا بھی کہا، کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا؟ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور جہاں تک تمہارا اللہ کا فضل تلاش کرنے کا شوق ہے تو یہ یمن سے آئی ہوئی کالی مرچ کی کچھ بوریاں ہیں، انہیں بیچو اور تم اور فاطمہ اس سے فائدہ اٹھاؤ یہاں تک کہ اللہ تمہیں اپنے فضل سے مزید عطا فرما دے، کیونکہ مدینہ کی فلاح میرے یا تمہارے بغیر ممکن نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، عبد الله بن بكير الغنوي منكر الحديث كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وشيخه حكيم بن جبير متَّفق على ضعفه.» [ترقيم الرساله 3333] [ترقيم الشركة 3313] [ترقيم العلميه 3294]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3334
أخبرني الحسين بن حَلِيم (3) المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو خَلْدة، عن أبي العاليَةِ، قال: كنت أطوفُ مع ابن عبَّاس بالبيت، فكان يأخذُ بيدي، فيعلِّمُني لَحْنَ الكلام، فقال: يا أبا العاليَة، لا تقل: انصَرَفتُم من الصلاة، ولكن قل: قَضَيتُم الصلاة، فإنَّ الله يقول: ﴿انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [التوبة: 127] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3295 - صحيح
ابوالعالیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کلام کی باریکیاں سکھانے لگے، انہوں نے فرمایا: اے ابوالعالیہ! یوں نہ کہا کرو کہ تم نماز سے پھر گئے ( «انصَرَفتُم») بلکہ یوں کہا کرو کہ تم نے نماز مکمل کر لی ( «قَضَيتُم») کیونکہ (پھر جانے کے الفاظ اللہ نے منافقین کے لیے استعمال فرمائے ہیں جیسا کہ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 127] وہ پھر گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو خلدة: هو خالد بن دينار التميمي، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3334] [ترقيم الشركة 3314] [ترقيم العلميه 3295]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں