🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. شَأْنُ نُزُولِ: (إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ)
آیت“اگر تم فتح مانگتے تھے تو وہ فتح تمہارے پاس آچکی”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3305
أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن ابن ميمون، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن إسماعيل بن عُبيد بن رِفاعة، عن أبيه، عن جدِّه قال: جَمَعَ رسولُ الله ﷺ قُريشًا فقال:"هل فيكم من غيرِكم؟ قالوا: فينا ابنُ أختِنا وفينا حَليفُنا وفينا مَوْلانا، فقال:"حَليفُنا منَّا، وابنُ أختِنا منَّا، ومَوْلانا منَّا، إنَّ أوليائي منكم المتَّقون" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3266 - صحيح
اسماعیل بن عبید بن رفاعہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جمع کیا اور پوچھا: کیا تمہارے علاوہ کوئی اور بھی تمہارے ساتھ (اس محفل میں) ہے؟ انہوں نے عرض کی: ہمارے درمیان ہمارا بھانجا، ہمارا حلیف اور ہمارا آزاد کردہ غلام (مولیٰ) موجود ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا حلیف ہم میں سے ہے، ہمارا بھانجا ہم میں سے ہے اور ہمارا مولیٰ بھی ہم میں سے ہے، (لیکن یاد رکھو!) تم میں سے میرے حقیقی دوست اور قریبی تو صرف پرہیزگار ہی ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد بن رفاعة. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهدي، وسفيان: هو الثَّوري.» [ترقيم الرساله 3305] [ترقيم الشركة 3285] [ترقيم العلميه 3266]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد بن رفاعة. أبو حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3306
حدثني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّريُّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخير، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:" ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ﴾ [الأنفال: 60] ألَا إنَّ القوةَ الرَّمْيُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه البخاري لأنَّ صالح بن كَيْسان أَوقَفَه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3267 - على شرط البخاري ومسلم وبعضهم أوقفه
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ﴾ اور ان کے لیے جس قدر ہو سکے قوت مہیا کرو [سورة الأنفال: 60] ، خبردار! قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن امام بخاری نے اس کی تخریج اس لیے نہیں کی کیونکہ صالح بن کیسان نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، إلّا أنَّ السَّريَّ بن خزيمة» [ترقيم الرساله 3306] [ترقيم الشركة 3286] [ترقيم العلميه 3267]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3307
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: إنَّ الرَّحِمَ لتُقطَعُ، وإنَّ النِّعمةَ لتُكفَرُ، وإن الله إذا قارَبَ بين القلوب، لم يُزحزِحْها شيءٌ؛ ثم قرأ: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ [الأنفال: 63] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3268 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: بلاشبہ رشتہ داری کاٹ دی جاتی ہے اور نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جب دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دیتا ہے تو پھر کوئی چیز انہیں جدا نہیں کر سکتی، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ اگر آپ زمین میں موجود تمام خزانے بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے [سورة الأنفال: 63] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3307]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن طاووس: هو عبد الله. وقد سلف برقم (3218).» [ترقيم الرساله 3307] [ترقيم الشركة 3287] [ترقيم العلميه 3268]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3308
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثني محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، عن أبيه. وأخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثني فُضَيل بن غَزْوان قال: لَقِيتُ أبا إسحاق بعدما ذَهَبَ بصرُه، فقلت له: أتعرِفُني؟ فقال: إنِّي لَأعرِفُك (3) وأحبُّك، ثم قال: حدثني أبو الأَحوَص، عن عبد الله أنه قال: نزلت هذه الآيةُ في المتحابِّين في الله: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ الآية (4) . هذا لفظ حديث أبي حاتم.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3269 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ آیت اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ [سورة الأنفال: 63]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3308]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الأشجعي. وأخرجه بنحوه النسائي (11146) من طريق حفص بن غياث، عن فضيل بن غزوان، به.» [ترقيم الرساله 3308] [ترقيم الشركة 3288] [ترقيم العلميه 3269]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
108. شَأْنُ نُزُولِ: (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى) الْآيَةَ
آیت“کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3309
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مهاجِر، عن مجاهد، عن ابن عمر قال: استشارَ رسولُ الله ﷺ في الأُسارَى أبا بكر، فقال: قومُك وعشيرتُك، فخلِّ سبيلَهم، فاستشار عمرَ فقال: اقتُلهم قال: ففاداهم رسولُ الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ إِلى قوله: ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [الأنفال: 67 - 69] ، قال: فلَقيَ النبيُّ ﷺ عمرَ فقال:"كادَ أن يُصيبَنا في خِلافِك بَلاءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3270 - صحيح على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا، تو انہوں نے عرض کی: یہ آپ کی قوم اور آپ کے رشتہ دار ہیں، لہٰذا انہیں چھوڑ دیجیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کی: انہیں قتل کر دیجیے، راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فدیہ لے کر (انہیں چھوڑ دیا)، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں (دشمن کو کچل کر) خونریزی نہ کر لے سے لے کر ﴿فكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ پس جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے حلال و پاکیزہ سمجھ کر کھاؤ [سورة الأنفال: 67 - 69] تک۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا: قریب تھا کہ تمہاری رائے کی مخالفت کی وجہ سے ہم پر کوئی مصیبت (عذاب) نازل ہو جاتی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: فلقي النبي ﷺ عمر … إلخ، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن مهاجر -وهو البَجَلي- ففيه لين وقد انفرد بالحرف المشار إليه، وأصل الحديث قد صحَّ من رواية عمر نفسه عند مسلم في "صحيحه" (1763) من حديث ابن عبَّاس عنه.» [ترقيم الرساله 3309] [ترقيم الشركة 3289] [ترقيم العلميه 3270]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون قوله: فلقي النبي ﷺ عمر … إلخ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3310
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا زكريا بن عَدِيٍّ، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن عمرو بن مُرَّة، عن خَيْثمة قال: كان سعد بن أبي وقَّاص في نفرٍ فذَكَروا عليًّا فشَتَمُوه، فقال سعد: مهلًا عن أصحاب رسول الله ﷺ، فإنَّا أصَبْنا ذنبًا مع رسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [الأنفال:68] ، فأرجو أن تكون رحمةٌ من عند الله سَبَقَت لنا، فقال بعضهم: فوالله إنه كان يُبغِضُك ويُسمِّيك الأخنسَ، فضَحِكَ سعدٌ حتى استَعْلاه الضحكُ، ثم قال: أليس قد يَجِدُ [المَرْءُ] (1) على أخيه في الأمر يكون بينَه وبينَه ثم لا يَبلُغُ ذلك أمانتَه، وذكر كلمةً أخرى (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [9 - سورة براءة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3271 - على شرط البخاري ومسلم
خیثمہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے تو انہوں (تو کچھ لوگوں نے) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور انہیں برا بھلا کہا، سیدنا سعد نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں اپنی زبانیں روک لو، کیونکہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک گناہ سرزد ہوا تھا (قیدیوں کا فدیہ لینا)، جس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ اگر اللہ کا لکھا ہوا حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بدلے تمہیں بڑا عذاب پہنچتا [سورة الأنفال: 68] ، پس مجھے امید ہے کہ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے رحمت پہلے ہی لکھی جا چکی تھی، تو ان میں سے کسی نے کہا: اللہ کی قسم! وہ تو آپ سے بغض رکھتے تھے اور آپ کو «الاخنس» کہہ کر پکارتے تھے، اس پر سعد اتنا ہنسے کہ ان پر ہنسی کا غلبہ ہو گیا، پھر فرمایا: کیا ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے بھائی سے کسی معاملے میں ناراض ہو جاتا ہے جو ان کے درمیان پیش آتا ہے، مگر وہ بات اس (بھائی) کی امانت و دیانت پر اثر انداز نہیں ہوتی؟ اور انہوں نے ایک اور کلمہ بھی ارشاد فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،خيثمة: هو ابن عبد الرحمن بن أبي سَبْرة.» [ترقيم الرساله 3310] [ترقيم الشركة 3290] [ترقيم العلميه 3271]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
109. تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ - لِمَ لَمْ تُكْتَبْ فِي بَرَاءَةَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟
سورۂ توبہ کی تفسیر — اس سورت کے آغاز میں بسم اللہ کیوں نہیں لکھی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عَوْف بن أبي جَميلة، عن يزيد الفارسي قال: حدثنا ابن عبَّاس قال: قلتُ لعثمان بن عفَّان: ما حَمَلَكم على أن عَمَدتُم إلى الأنفال وهي من المَثاني وإلى براءةَ وهي من المِئين، فقَرَنتُم بينهما ولم تكتبوا بينهما سطرَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم، ووَضَعتُموها في السَّبع الطِّوَال، فما حَمَلَكم على ذلك؟ فقال عثمان: كان رسول الله ﷺ ممَّا يأتي عليه الزمانُ وهو يَنزِل عليه من السُّوَر ذواتِ العَدَد، قال: وكان إذا نَزَلَ عليه الشيءُ دعا بعضَ من يكتب له، فيقول:"ضَعُوا هؤلاء الآياتِ في السُّورة التي يُذكَرُ فيها كذا وكذا" فإذا نَزَلَت عليه الآية فيقول (3) :"ضَعُوا هذه في السورة التي يُذكَرُ فيها كذا وكذا"، وكانت الأنفالُ من أوائل ما نَزَلَت بالمدينة، وكانت براءةُ من آخر القرآن، وكانت قِصَّتُها شبيهةً بقصتِها، فظننتُ أنها منها، فقُبِضَ رسول الله ﷺ ولم يُبيِّن لنا أنها منها، فلم أكتبْ بينهما سطرَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم، فوضعتُها في السَّبْع الطُّوَل (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3272 - تقدم هذا وأنه صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے سورہ انفال کو، جو کہ مثانی (سو سے کم آیات والی سورتوں) میں سے ہے، اور سورہ براءت کو، جو کہ مئین (سو یا اس سے زائد آیات والی سورتوں) میں سے ہے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر بھی نہیں لکھی اور ان دونوں کو قرآن کی سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک طویل عرصے تک مختلف سورتیں نازل ہوتی رہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ کاتب وحی کو بلا کر فرماتے: ان آیات کو اس سورت میں رکھ دو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے، سورہ انفال مدینہ میں ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی اور سورہ براءت (توبہ) قرآن کے آخری حصے میں نازل ہوئی، ان دونوں کے قصے اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے اس لیے میں نے گمان کیا کہ یہ اسی کا حصہ ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ نے ہمارے لیے یہ واضح نہیں فرمایا تھا کہ یہ اسی کا حصہ ہے، اسی لیے میں نے ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور اسے سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: «من طريق هوذة بن خليفة عن عوف.» [ترقيم الرساله 3311] [ترقيم الشركة 3291] [ترقيم العلميه 3272]

الحكم على الحديث: من طريق هوذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3312
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا محمد بن زكريا بن دينار، حدثنا يعقوب بن جعفر بن سليمان الهاشمي، حدثني أَبي، عن أبيه، عن علي بن عبد الله بن عبَّاس قال: سمعت أَبي يقول: سألتُ عليَّ بن أبي طالب: لِمَ لَمْ يُكتَبْ في براءةَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم؟ قال: لأنَّ"بسم الله الرَّحمن الرَّحيم" أمانٌ، وبراءةُ أُنزِلَت بالسَّيف ليس فيها أمانٌ (2) .
سیدنا علی بن عبداللہ بن عباس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سورہ براءت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کیوں نہیں لکھی گئی؟ تو انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» امان و سلامتی ہے، جبکہ سورہ براءت تلوار (کے حکم اور اعلانِ جنگ) کے ساتھ نازل ہوئی ہے جس میں (مشرکین کے لیے) کوئی امان نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، آفته محمد بن زكريا بن دينار، واتَّهمه الدارقطني بالوضع، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (14530): إسناده ضعيف جدًا، ومحمد بن زكريا: هو الغَلّابي، وهو متروك.» [ترقيم الرساله 3312] [ترقيم الشركة 3292]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكَّري (3) ، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سفيان بن سعيد، عن الأعمش، عن عبد الله ابن مُرَّة (4) ، عن عبد الله بن سَلِمة، عن حذيفة قال: ما تقرؤون رُبعَها -يعني: براءة- وإنكم تُسمُّونها سورةَ التوبة وهي سورةُ العذاب (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3274 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: تم اس سورت کا چوتھائی حصہ بھی نہیں پڑھتے جسے تم سورہ توبہ کہتے ہو، حالانکہ وہ تو سورہ عذاب ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تفرَّد به عبد الله بن سلمة المرادي، وقد وقع له في أفراده مناكير، وانظر ترجمته فيما سلف عند الحديث (20). وأخرج أوله ابن أبي شيبة 10/ 509 عن عبد الله بن مهدي، عن سفيان بن سعيد ـ وهو الثوري -عن الأعمش، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله ...» [ترقيم الرساله 3313] [ترقيم الشركة 3293] [ترقيم العلميه 3274]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3314
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضْر بن شُميل، أخبرنا شُعبة، عن سليمان الشَّيباني، عن الشَّعْبي، عن المحرَّر بن أبي هريرة، عن أبيه قال: كنت في البَعْث الذين بَعَثَهم رسول الله ﷺ مع عليٍّ ببراءةَ إلى مكة، فقال له ابنه أو رجل آخر: فبِمَ كنتم تُنادُون؟ قال: كنا نقول: لا يَدخُلُ الجنةَ إلَّا مؤمنٌ، ولا يَحُجُّ بعد العام مشركٌ، ولا يطوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ومن كان بينه وبين رسول الله ﷺ، عهدٌ، فإنَّ أَجَلَه أربعةُ أشهر، فناديتُ حتى صَحِلَ صوتي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3275 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اس وفد میں شامل تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سورہ براءت کا اعلان کرنے کے لیے مکہ روانہ فرمایا تھا، ان کے بیٹے یا کسی اور شخص نے ان سے پوچھا کہ تم وہاں کیا پکارتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہم یہ اعلان کرتے تھے کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوگا، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، بیت اللہ کا طواف کوئی برہنہ شخص نہیں کرے گا، اور جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے، میں نے اس قدر بلند آواز سے یہ پکارا کہ میرا گلا بیٹھ گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل المحرَّر بن أبي هريرة، إلّا أنه وقع في روايته هنا نكارة من جهة قوله في الحديث: "ومن كان بينه وبين رسول الله ﷺ عهد فإنَّ أجله أربعة أشهر"، والصحيح أن أجله إلى أمَده بالغًا ما بلغ ولو زاد على أربعة أشهر، وذلك لقوله ...» [ترقيم الرساله 3314] [ترقيم الشركة 3294] [ترقيم العلميه 3275]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں