المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
103. شَرْحُ مَعْنَى آيَةِ: (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ) الْآيَةَ
آیت“اور جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد نکالی”کی تشریح
حدیث نمبر: 3295
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعت مالكَ بن أنس يَذكُر. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسي، حدثنا عبد الله ابن مَسلَمة فيما قَرأ على مالك، عن زيد بن أبي أُنيسة، أنَّ عبد الحميد بن عبد الرحمن ابن زيد بن الخطَّاب أخبره عن مسلم بن يَسَار الجُهَني: أنَّ عمر بن الخطَّاب سُئِلَ عن هذه الآية: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (2) وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾، فقال عمر بن الخطَّاب: سمعت رسول الله ﷺ وسُئِلَ عنها، فقال رسول الله ﷺ:"خَلَقَ اللهُ آدمَ، ثم مَسَحَ ظهرَه بيمينه فاستَخرَجَ منه ذُرِّيّةً، فقال: خلقتُ هؤلاءِ للجنَّة، وبعمل أهلِ الجنة يَعمَلون، ثم مَسَحَ على ظهرِه فاستَخرَجَ منه ذُريةً، فقال: خلقتُ هؤلاءِ للنار وبعمل أهل النار يَعمَلون"، فقال رجل: يا رسول الله، ففِيمَ العملُ؟ فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله إذا خَلَقَ الرجلَ للجنَّة، استَعمَلَه بعمل أهل الجنة.." الحديث (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3256 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3256 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾ [سورة الأعراف: 172] کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے ان کی پشت پر مسح فرمایا اور اس سے ان کی اولاد نکالی، پھر فرمایا: میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جنت والے عمل ہی کریں گے، پھر دوبارہ ان کی پشت پر مسح فرمایا اور اس سے (کچھ اور) اولاد نکالی اور فرمایا: میں نے ان کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم والے عمل کریں گے“، اس پر ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا فرماتا ہے، تو اس سے اہل جنت والے کام ہی لیتا ہے...“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3295]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3295]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وإسناده ضعيف لانقطاعه كما سلف بيانه برقم (74).» [ترقيم الرساله 3295] [ترقيم الشركة 3275] [ترقيم العلميه 3256]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
104. عَطَاءُ آدَمَ أَرْبَعِينَ عَامًا مِنْ عُمُرِهِ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
سیدنا آدم علیہ السلام کا اپنی عمر کے چالیس سال سیدنا داؤد علیہ السلام کو دینا
حدیث نمبر: 3296
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى الأَسَدي وعلي بن عبد العزيز قالا: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلَمَ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لمَّا خَلَقَ اللهُ آدمَ مَسَحَ ظهرَه، فسَقَط من ظهره كلُّ نَسَمةٍ هو خالقُها إلى يوم القيامة أمثالَ الذَّرِّ، ثم جعل بين عينَيْ كلِّ إنسانٍ منهم وَبِيصًا من نور، ثم عَرَضَهم على آدم، فقال آدم: مَن هؤلاء يا رب؟ قال: هؤلاء ذُرِّيتُك، فرأى آدمُ رجلًا منهم أعجبَه وَبِيصُ ما بينَ عينيه، فقال: يا ربِّ، من هذا؟ قال: هذا ابنُك داود يكون في آخر الأُمم، قال آدم: كم جعلتَ له من العُمر؟ قال: ستين سنة، قال: يا ربِّ زِدْه من عُمري أربعين سنةً حتى يكون عمرُه مئة سنة، فقال الله ﷿: إذًا يُكتَبَ ويُختَمَ فلا يُبدَّلُ، فلما انقضى عمرُ آدم جاءه مَلَكُ الموت لقَبْض روحه، قال: آدم: أوَلَم يَبْقَ من عمري أربعون سنة؟ قال له ملكُ الموت: أوَلَم تَجعَلْها لابنِك داود؟ قال: فجَحَدَ فجَحَدَت ذُرِّيتُه، ونَسِيَ فنَسِيَت ذريتُه، وخَطِئَ فخَطِئَت ذريتُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3257 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3257 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت پر مسح کیا، اس سے وہ تمام روحیں (چیونٹیوں کی مانند) گر پڑیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدا فرمانے والا تھا، پھر اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی ایک چمک پیدا کر دی، پھر انہیں آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا، آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون لوگ ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ تیری اولاد ہے، تو آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کی آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت پسند آئی، انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا داود ہے جو آخری امتوں میں ہوگا، آدم علیہ السلام نے پوچھا: آپ نے اس کی عمر کتنی مقرر کی ہے؟ اللہ نے فرمایا: ساٹھ سال، آدم علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال اس (کی عمر) میں بڑھا دیں تاکہ اس کی عمر سو سال ہو جائے، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: تب (یہ فیصلہ) لکھ دیا جائے گا اور اس پر مہر لگا دی جائے گی پھر اسے بدلا نہیں جائے گا، پس جب آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہو گئی تو ان کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے آئے، آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ ملک الموت نے ان سے کہا: کیا آپ نے وہ اپنے بیٹے داود کو نہیں دے دیے تھے؟ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: پس آدم علیہ السلام نے انکار کر دیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگی، وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولنے لگی، اور ان سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطائیں ہونے لگیں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3296]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لين من أجل هشام بن سعد، وقد اختُلف عليه فيه:» [ترقيم الرساله 3296] [ترقيم الشركة 3276] [ترقيم العلميه 3257]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لين من أجل هشام بن سعد
حدیث نمبر: 3297
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن الأعمشِ ومنصورٍ، عن أبي الضُّحَى، عن مسروق، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ [الأعراف: 175] ، قال: هو بَلعَم بن أبر (1) . [8 - سورة الأنفال] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3258 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3258 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ ”اور آپ انہیں اس شخص کا حال سنائیں جسے ہم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں پھر وہ ان سے نکل بھاگا“ [سورة الأعراف: 175] کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”وہ بلعم بن ابر (نامی شخص) ہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: «والخبر إسناده صحيح،منصور: هو ابن المعتمر، وأبو الضحى: هو مسلم بن صُبيح، وعبد الله: هو ابن مسعود. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 1/ 243.» [ترقيم الرساله 3297] [ترقيم الشركة 3277] [ترقيم العلميه 3258]
الحكم على الحديث: والخبر إسناده صحيح
105. صورة تقسيم الغنائم
سورۂ انفال کی تفسیر — مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 3298
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّورِي، حدثنا وهب بن جَرير بن حازم، حدثني أبي قال: سمعت محمدَ بن إسحاق يقول: حدثني الحارث بن عبد الرحمن (1) ، عن مكحول، عن أبي أُمامة، عن عُبادة بن الصامت قال: سألتُه عن الأنفال قال: فينا يومَ بدرٍ، نزلت، كان الناس على ثلاث منازلَ: ثُلُث يقاتل العدوَّ، وثلثٌ يَجمَع المَتاعَ ويأخذ الأُسارَى، وثلثٌ عند الخيمة يحرُسُون رسولَ الله ﷺ، فلما جُمِعَ المتاعُ اختَلفوا فيه، فقال الذين جمعوه وأَخذوه: قد نَفَّلَ رسولُ الله ﷺ كلَّ امرِئٍ منّا ما أصاب، فهو لنا دونَكم، وقال الذين يقاتلون العدوَّ ويَطلُبونه: واللهِ لولا نحنُ ما أَصبتُموه، فنحن شَغَلْنا القومَ عنكم، وقال الحَرَس: واللهِ ما أنتم بأحقِّ به منا، لقد رأيتُنا إنْ نقاتل العدوَّ حين مَنَحَنا اللهُ أكتافَهم أن نأخذَ المتاعَ حين لم يكن أحد يَمنَع دونَه، ولكنّا خِفْنا غِرَّةَ العدوِّ على رسول الله ﷺ فقمنا، دونَه، قال: فانتَزَعَها اللهُ من أيدينا فجعله إلى رسول الله ﷺ، فقَسَمَه على السَّوَاء لم يكن فيه يومئذٍ خُمُس، كان فيه تَقْوى الله وطاعتُه وطاعةُ رسول الله ﷺ وصلاحُ ذاتِ البَيْن (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3259 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3259 - على شرط مسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے انفال (مالِ غنیمت) کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت ہمارے بارے میں بدر کے دن نازل ہوئی، اس وقت لوگ تین گروہوں میں (تقسیم) تھے: ایک تہائی دشمن سے لڑ رہے تھے، ایک تہائی سامانِ غنیمت جمع کر رہے تھے اور قیدیوں کو پکڑ رہے تھے، جبکہ ایک تہائی خیمے کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے، جب سامان جمع ہو گیا تو اس کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو گیا، جن لوگوں نے اسے جمع کیا اور پکڑا تھا وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کو وہی کچھ عطا فرمایا ہے جو اس نے حاصل کیا ہے، لہٰذا یہ تمہارے بجائے ہمارا حق ہے، اور جو لوگ دشمن سے لڑ رہے تھے اور ان کا تعاقب کر رہے تھے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نہ ہوتے تو تم اسے حاصل نہ کر پاتے، ہم نے ہی تو دشمن کو تم سے الجھائے رکھا تھا، اور پہرے داروں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ اس کے حقدار نہیں ہو، ہم نے خود کو اس حال میں دیکھا کہ جب اللہ نے دشمن کو ہمارے قابو میں کر دیا تو ہم بھی سامان پکڑ سکتے تھے کیونکہ وہاں کوئی روکنے والا نہ تھا، لیکن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دشمن کے اچانک حملے کا خوف تھا اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں کھڑے رہے، (سیدنا عبادہ نے) فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے وہ مال ہمارے ہاتھوں سے چھین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (سب میں) برابر تقسیم فرما دیا، اس دن اس میں پانچواں حصہ (خمس) نہیں تھا، اس (حکم) میں اللہ کا تقویٰ، اس کی اطاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور آپس کے تعلقات کی اصلاح (کا درس) تھا“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3298]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3298]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد إلّا أنَّ جرير بن حازم قصَّر في إسناده كما قال البيهقي في "سننه" 6/ 292، فإنَّ فيه بين عبد الرحمن بن الحارث ومكحول سليمان بن موسى الأشدق، وبين مكحول وأبي أمامة -وهو صُدَيّ بن عجلان- أبا سلّام ممطورًا الحبشي، كما سلف برقم (2640) من طريق ...» [ترقيم الرساله 3298] [ترقيم الشركة 3278] [ترقيم العلميه 3259]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3299
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمر بن سليمان قال: سمعت داود بن أبي هند يحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: من فعل كذا وكذا، أو أَتى مكانَ كذا وكذا، فله كذا وكذا"، فسَارَعَ الشُّبّانُ إلى ذلك وثَبَتَ الشيوخُ تحت الرايات، فلما فَتَحَ الله عليهم جاؤوا (1) الشُّبّانُ يطلبون ما جُعِل لهم، وقالت الشيوخ: إنا كنَّا رِدْءًا لكم وكنَّا تحتَ الرايات، فأنزل الله ﷿: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3260 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3260 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فلاں فلاں کام کرے گا یا فلاں فلاں جگہ پہنچے گا، اس کے لیے اتنا اتنا انعام ہوگا“، تو نوجوان تو (انعامات کی خاطر) اس کی طرف تیزی سے لپکے مگر معمر بزرگ جھنڈوں تلے (اپنی جگہوں پر) ثابت قدم رہے، پھر جب اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی تو نوجوان اپنا وہ حصہ مانگنے آئے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ بزرگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے قوت و پشت پناہ تھے اور ہم جھنڈوں کے نیچے موجود رہے، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ ”وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیجیے: غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات درست کرو“ [سورة الأنفال: 1]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3299]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري.» [ترقيم الرساله 3299] [ترقيم الشركة 3279] [ترقيم العلميه 3260]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3300
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما فَرَغَ رسول الله ﷺ من القتلى قيل له: عليك العِيرَ، ليس دونَها شيءٌ، فناداه العبَّاسُ وهو في وَثَاقه: إنه لا يَصلُحُ لك، قال:"لِمَ؟" قال: لأنَّ الله وَعَدَك إحدى الطائفتين، وقد أَنجَزَ لك ما وَعَدَك (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3261 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3261 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقتولین (کے معاملے) سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: آپ قافلے کا پیچھا کریں، اب اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے، جبکہ وہ قید میں بندھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: یہ آپ کے لیے درست نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اللہ نے آپ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا تھا اور جو وعدہ اس نے آپ سے کیا تھا وہ آپ کے لیے پورا فرما چکا ہے (یعنی اب قافلے کا پیچھا کرنا وعدے میں شامل نہیں)۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3300]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3300]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فقد انفرد به سِماك بن حرب عن عكرمة، وفي روايته عنه اضطراب، ومع ذلك فقد حسَّن الحديث الترمذي وجوَّد إسناده الحافظ ابن كثير في "تفسيره" 3/ 556. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 3300] [ترقيم الشركة 3280] [ترقيم العلميه 3261]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3301
أخبرنا محمد بن علي بن مَخلَد القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّورَقي، حدثنا يعقوب بن يوسف (4) السَّدُوسي، حدثنا شُعْبة، عن داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري في هذه الآية: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ [الأنفال: 16] قال: نَزَلَت فينا يومَ بدر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3262 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3262 - على شرط مسلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس آیت: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ ”اور جو شخص اس دن ان (کافروں) سے اپنی پیٹھ پھیرے گا“ [سورة الأنفال: 16] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت ہمارے بارے میں غزوہ بدر کے دن نازل ہوئی تھی“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3301]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3301]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل شيخ المصنف. أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة.» [ترقيم الرساله 3301] [ترقيم الشركة 3281] [ترقيم العلميه 3262]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
106. طَعْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ بِيَدِهِ حَتَّى مَاتَ مِنْهُ
رسول اللہ ﷺ نے اُبی بن خلف کو اپنے ہاتھ سے نیزہ مارا جس سے وہ ہلاک ہوا
حدیث نمبر: 3302
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقْبة، عن ابن شِهاب، عن سعيد بن المسيّب، عن أبيه قال: أقبَلَ أُبَيُّ بن خَلَف يومَ أُحد إلى النبي ﷺ يريده، فاعتَرَض له رجال من المؤمنين، فأَمَرهم رسول الله ﷺ فخَلَّوا سبيلَه، فاستَقبَله مصعبُ بن عُمير أخو بني عبد الدَّار ورأَى رسولُ الله ﷺ تَرقُوَةَ أُبيٍّ من فُرْجةٍ بين سابغةِ الدَّرْع والبَيْضة، فطَعَنه بحَرْبته، فسقط أُبيٌّ عن فرسه ولم يَخرُجُ من طَعْنته دم، فكَسَرَ ضِلَعًا من أضلاعه، فأتاه أصحابه وهو يَخُور خُوَارَ الثَّور، فقالوا له: ما أَعجَزَك! إنما هو خَدْشٌ، فَذَكَرَ لهم قولَ رسول الله ﷺ:"بل أنا أَقتُلُ أُبيًّا"، ثم قال: والذي نفسي بيده لو كان هذا الذي بي بأَهل ذي المَجَازِ لماتوا أجمعين؛ فمات أُبيٌّ إلى النار -فسُحقًا لأصحاب السَّعير- قبل أن يَقدَمَ مكةَ، فأنزل الله: ﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾ الآية [الأنفال: 17] (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3263 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3263 - على شرط البخاري ومسلم
سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن ابی بن خلف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف (حملہ کرنے کے ارادے سے) بڑھا، تو کچھ مومنین اس کے سامنے آڑے آئے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا، پھر اس کا سامنا بنو عبدالدار کے بھائی مصعب بن عمیر سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن خلف کی ہنسلی کی ہڈی کے پاس زرہ اور خود (ہیلمٹ) کے درمیان کچھ جگہ خالی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی برچھی سے مارا، جس سے ابی اپنے گھوڑے سے گر پڑا، اس کے زخم سے خون تو نہیں نکلا تھا مگر اس کی ایک پسلی ٹوٹ گئی تھی، اس کے ساتھی اس کے پاس آئے تو وہ بیل کی طرح ڈکار رہا تھا، انہوں نے اس سے کہا: تم اتنے کمزور تو نہ بنو! یہ تو محض ایک خراش ہے، تو اس نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان یاد دلایا (جس میں آپ نے فرمایا تھا): ”بلکہ میں ہی ابی کو قتل کروں گا“، پھر اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر یہ (تکلیف) جو مجھے پہنچی ہے، ذو المجاز کے تمام رہنے والوں کو پہنچتی تو وہ سب کے سب مر جاتے، چنانچہ ابی مکہ پہنچنے سے پہلے ہی مر کر واصلِ جہنم ہوا، پس دوزخیوں کے لیے ہلاکت ہو، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾ ”اور (اے حبیب!) آپ نے نہیں پھینکا تھا جب آپ نے پھینکا تھا“ [سورة الأنفال: 17]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3302]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3302]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 3302] [ترقيم الشركة 3282] [ترقيم العلميه 3263]
الحكم على الحديث: إسناده قوي.
107. شَأْنُ نُزُولِ: (إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ)
آیت“اگر تم فتح مانگتے تھے تو وہ فتح تمہارے پاس آچکی”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3303
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي -واللفظ له- حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثني يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثني أَبي، حدثني صالح، عن ابن شهاب، حدثني عبد الله بن ثَعْلبة بن أبي صُعَير العُذْري قال: كان المستفتِحَ أبو جهل، فإنه قال حين الْتَقى القومُ: اللهمَّ أيُّنا كان أقطع للرَّحِم، وآتانا بما لا نَعرِف، فأَحِنْه الغَداةَ، فكان ذلك استفتاحَه، فأنزل الله: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ﴾ إلى قوله: ﴿وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأنفال: 19] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3264 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3264 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر عذری سے روایت ہے کہ (بدر میں) فتح کی دعا مانگنے والا ابوجہل تھا، کیونکہ جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو اس نے کہا تھا: اے اللہ! ہم میں سے جو رشتہ داری کو زیادہ توڑنے والا ہے اور ایسی بات لایا ہے جسے ہم نہیں جانتے، آج صبح اسے ہلاک کر دے، تو یہ اس کی طرف سے فتح (فیصلے) کی طلب تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ﴾ ”اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو تمہارے پاس فیصلہ آ چکا ہے“ سے لے کر ﴿وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”اور یہ کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے“ [سورة الأنفال: 19] تک۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3303]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3303]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وعبد الله بن ثعلبة قيل: له صحبة، وقيل: بل رؤية. صالح: هو ابن كيسان.» [ترقيم الرساله 3303] [ترقيم الشركة 3283] [ترقيم العلميه 3264]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3304
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ﴾ [الأنفال: 24] ، قال: يَحُول بين الكافر وبين الإيمان، ويَحُول بين المؤمن وبين المعاصي (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3265 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3265 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ﴾ ”وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے“ [سورة الأنفال: 24] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ کافر اور ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے (اگر اسے ہدایت نہ دینی ہو) اور مومن اور گناہوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے (تاکہ اسے بچا لے)“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3304]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3304]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وعبد الله بن عبد الله: هو الرازي مولى بني هاشم.» [ترقيم الرساله 3304] [ترقيم الشركة 3284] [ترقيم العلميه 3265]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح