المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
110. خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
نبی ﷺ کا خطبۂ حجۃ الوداع
حدیث نمبر: 3315
حدثني أبو النضر محمد بن محمد الفقيه بالطابَرانِ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مُسلِم، حدثنا هشام بن الغازِ، أخبرني نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ وَقَفَ يومَ النَّحْر بين الجَمَرات في الحَجَّة التي حجَّ، فقال للناس:"أيُّ يومٍ هذا؟" قالوا: هذا يومُ النَّحر، قال:"فأيُّ بلدٍ هذا؟" قالوا: هذا البلدُ الحرام، قال:"فأيُّ شهرٍ هذا؟" قالوا: الشهرُ الحرام، قال:"هذا يومُ الحجِّ الأكبَرِ، فدماؤُكم وأموالُكم وأعراضُكم عليكم حرامٌ، كحُرْمة هذا البلدِ في هذا اليوم" ثم قال:"هل بَلَّغتُ؟" قالوا: نعم، فطَفِقَ رسولُ الله ﷺ يقول:"اللهمَّ اشْهَدْ"، ثم وَدَّعَ الناسَ، فقالوا: هذه حجَّةُ الوداع (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وأكثرُ هذا المتن مخرَّج في"الصحيحين" (1) إِلَّا قولَه:"إنَّ يومَ الحجِّ الأكبر يومُ النحر" مسنَدًا (2) ، فإنَّ الأقاويل فيه عن الصحابة والتابعين ﵃ على خلافٍ بينهم فيه، فمنهم من قال: يومُ عَرَفة، ومنهم من قال: يومُ النَّحر (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3276 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وأكثرُ هذا المتن مخرَّج في"الصحيحين" (1) إِلَّا قولَه:"إنَّ يومَ الحجِّ الأكبر يومُ النحر" مسنَدًا (2) ، فإنَّ الأقاويل فيه عن الصحابة والتابعين ﵃ على خلافٍ بينهم فيه، فمنهم من قال: يومُ عَرَفة، ومنهم من قال: يومُ النَّحر (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3276 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر یوم النحر (قربانی کے دن) جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ قربانی کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یہ شہرِ حرام (مکہ) ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یہ مہینہ حرام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حجِ اکبر کا دن ہے، پس تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت اس دن میں ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو الوداع کہا تو لوگوں نے کہا کہ یہ حجۃ الوداع ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ اس متن کا اکثر حصہ صحیحین میں موجود ہے سوائے اس قول کے کہ ”حج اکبر کا دن یوم النحر ہے“، کیونکہ اس بارے میں صحابہ اور تابعین کے اقوال میں اختلاف ہے، بعض نے اسے عرفہ کا دن کہا ہے اور بعض نے یوم النحر۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3315]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ اس متن کا اکثر حصہ صحیحین میں موجود ہے سوائے اس قول کے کہ ”حج اکبر کا دن یوم النحر ہے“، کیونکہ اس بارے میں صحابہ اور تابعین کے اقوال میں اختلاف ہے، بعض نے اسے عرفہ کا دن کہا ہے اور بعض نے یوم النحر۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3315] [ترقيم الشركة 3295] [ترقيم العلميه 3276]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3316
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا أبو جعفر الرازي. وأخبرني عبد الرحمن بن حمدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد الخرَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ -قال:"مَن فارقَ الدنيا على الإخلاصِ لله وحدَه لا شريك له، وإقامِ الصلاة، وإيتاءِ الزكاة، فارَقَها واللهُ عنه راضٍ". وهو دِينُ الله الذي جاءت به الرسلُ، وبَلَّغوه عن ربهم قبل هَرْجِ الأحاديث، واختلافِ الأهواء، وتصديقُ ذلك في كتاب الله: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ [التوبة: 5] ، وقولُه ﷿: ﴿فَإِنْ تَابُوا﴾ يقول: خَلَعوا الأوثانَ وعِبادتَها ﴿وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾، وقال ﷿ في آية أخرى: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ [التوبة:11] (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3277 - صدر الخبر مرفوع وسائره مدرج فيما أرى
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3277 - صدر الخبر مرفوع وسائره مدرج فيما أرى
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دنیا سے اس حال میں رخصت ہوا کہ وہ اکیلے اللہ کے لیے اخلاص رکھتا ہو جس کا کوئی شریک نہیں، اور نماز قائم کرنے والا اور زکوٰۃ ادا کرنے والا ہو، تو وہ اس حال میں رخصت ہوگا کہ اللہ اس سے راضی ہوگا“، اور یہی اللہ کا وہ اصل دین ہے جسے تمام رسول لے کر آئے اور انہوں نے اسے اپنے رب کی طرف سے باتوں کے خلط ملط ہونے اور مختلف خواہشات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی پہنچا دیا، اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ان آیات سے ہوتی ہے: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ ”پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو“ [سورة التوبة: 5] ، اور فرمایا: ﴿فَإِنْ تَابُوا﴾ یعنی وہ بتوں اور ان کی عبادت سے دستبردار ہو جائیں، اور دوسری جگہ فرمایا: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ ”پس اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں“ [سورة التوبة: 11]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3316]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله، من أجل أبي جعفر الرازي: وهو عيسى بن عبد الله بن ماهان. وحسَّنه الحافظ الذهبي في "معجم شيوخه" 2/ 36. وأخرجه أبو الحسن القطان في زياداته على "سنن ابن ماجه" بإثر الحديث (70) عن أبي حاتم الرازي، عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3316] [ترقيم الشركة 3296] [ترقيم العلميه 3277]
الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله
حدیث نمبر: 3317
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن صِلَة بن زُفَر، عن حُذيفة: ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ﴾ [التوبة:12] ، قال: لا عهدَ لهم، قال حذيفة: ما قُوتِلوا بعدُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3278 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3278 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ﴾ ”پس تم کفر کے سرغنوں سے لڑو، یقیناً ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں“ [سورة التوبة: 12] کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ان کے لیے کوئی عہد نہیں ہے“، اور فرمایا: ”ابھی ان سے قتال نہیں کیا گیا (یعنی یہ حکم مستقبل کے فتنوں کے لیے ہے)“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3317]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل محمد بن سابق. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي. وأخرجه ابن أبي شيبة 15/ 22 و 108، والطبري في "تفسيره" 10/ 88، وكذا ابن أبي حاتم 6/ 1761 من طريقين عن زيد بن وهب، عن حذيفة -دون قوله: "لا عهد لهم"، وأخرج هذا الأخير ...» [ترقيم الرساله 3317] [ترقيم الشركة 3297] [ترقيم العلميه 3278]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
111. أَسْمَاءُ صَنَادِيدِ الْكُفْرِ وَالْأَمْرُ بِقِتَالِهِمْ
کفر کے بڑے سرداروں کے نام اور ان سے قتال کا حکم
حدیث نمبر: 3318
وحدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذانَ، حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا أبو داود، حدثنا شُعبة، عن أبي بِشْر، عن مجاهد، عن ابن عمر: ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [التوبة: 12] ، قال: أبو جهل بن هشام وأُمَيَّة بن خلف وعُتْبة بن رَبيعة وأبو سفيان بن حَرْب وسُهيل بن عمرو، وهم الذين نَكَثُوا عهدَ الله وهَمُّوا بإخراج الرسول من مكة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3279 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3279 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 12] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(اس سے مراد) ابوجہل بن ہشام، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب اور سہیل بن عمرو ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3318]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،علي بن عبد الله: هو ابن المديني، وأبو داود: هو سليمان بن داود الجارود الطيالسي، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشيّة.» [ترقيم الرساله 3318] [ترقيم الشركة 3298] [ترقيم العلميه 3279]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3319
حدثنا دَعلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا أحمد بن بشر بن سعد المَرثَدي، حدثنا خالد بن خِدَاش، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا رأيتم الرجلَ يَلزَمُ المسجدَ، فلا تَحرَّجُوا أن تَشهَدوا أنه مؤمنٌ، فإنَّ الله يقول: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ﴾ [التوبة: 18] " (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3280 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3280 - صحيح
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کا پابند ہے، تو بلا جھجھک اس کے مومن ہونے کی گواہی دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ﴾ ”اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ہوں“ [سورة التوبة: 18]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3319]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وقد سلف عند المصنف برقم (864).» [ترقيم الرساله 3319] [ترقيم الشركة 3299] [ترقيم العلميه 3280]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
112. خَيْرُ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ
آدمی کے لیے سب سے بہترین خزانہ نیک بیوی ہے
حدیث نمبر: 3320
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا يحيى بن يعلى بن الحارث المُحارِبي، حدثنا أَبي، حدثنا غَيْلان بن جامع، عن عثمان أبي اليَقْظان الخُزاعي (2) ، عن جعفر بن إياس، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس قال: لما نزلت: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: 34] ، كَبُرَ ذلك على المسلمين وقالوا: ما يستطيع أحدُنا أن يتركَ مالًا لولده يبقى بعدَه، فقال عمر: أنا أُفرِّجُ عنكم، قال: فانطَلَقوا وانطلقَ عمرُ واتَّبعه ثوبانُ، فأَتَوْا رسولَ الله ﷺ فقال عمر: يا نبيَّ الله، قد كَبُرَ على أصحابك هذه الآيةُ، فقال نبي الله ﷺ:"إنَّ الله لم يَفرِضِ الزكاةَ إلَّا ليُطيِّبَ بها ما بقيَ من أموالكم، وإنما فَرَضَ المواريثَ في أموالٍ تبقى بعدَكم"، قال: فكَبَّر عمرُ، ثم قال له النبي ﷺ:"ألا أخبِرُك بخير ما يَكنِزُه المَرْءُ؟ المرأةُ الصالحة: إذا نَظَرَ إليها سَرَّتْه، وإذا أمرَها أطاعَتْه، وإذا غاب عنها حَفِظَتْه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3281 - عثمان لا أعرفه والخبر عجيب
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3281 - عثمان لا أعرفه والخبر عجيب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ”اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ [سورة التوبة: 34] ، تو یہ مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور انہوں نے کہا: ”ہم میں سے کوئی بھی اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنی اولاد کے لیے ایسا مال چھوڑے جو اس کے بعد باقی رہے (یعنی جمع شدہ مال پر عذاب کی وعید سے وہ پریشان ہو گئے)“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہاری یہ پریشانی دور کرتا ہوں“، راوی کہتے ہیں: وہ سب چلے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بھی ہو لیے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت شاق گزری ہے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ نے زکوٰۃ صرف اس لیے فرض کی ہے تاکہ وہ تمہارے بقیہ مال کو پاک کر دے، اور اس نے وراثت کے احکام صرف ان مالوں کے لیے فرض کیے ہیں جو تمہارے بعد باقی رہ جائیں“، راوی کہتے ہیں: اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (خوشی سے) اللہ اکبر کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس بہترین چیز کی خبر نہ دوں جسے انسان بطور خزانہ (اپنے پاس) رکھتا ہے؟ وہ نیک بیوی ہے: جب شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، جب وہ اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جب وہ اس سے غائب ہو تو وہ اس (کی عزت و مال) کی حفاظت کرے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3320]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة، عثمان أبو اليقظان» [ترقيم الرساله 3320] [ترقيم الشركة 3300] [ترقيم العلميه 3281]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرَّة
حدیث نمبر: 3321
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، أخبرني عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه قال: جَلَسْنا إلى المِقْداد بن الأسود بدمشقَ وهو على تابوتٍ ما به عنه فَضْلٌ، فقال له رجل: لو قعدتَ العامَ عن الغزو قال: أَبَتْ علينا البَحُوثُ -يعني: سورةَ التوبة- قال الله ﷿: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] ، ولا أَجِدُني إلَّا خفيفًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3282 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3282 - صحيح
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دمشق میں ایک چھوٹے سے صندوق پر بیٹھے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: ”کاش کہ آپ اس سال جہاد سے رک کر بیٹھ جاتے“، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں «البحوث» یعنی سورہ توبہ نے (گھر بیٹھنے سے) روک دیا ہے، اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ”نکلو خواہ تم ہلکے ہو یا بوجھل“ [سورة التوبة: 41] ، اور میں تو خود کو صرف ہلکا (تیار اور چاق و چوبند) ہی پاتا ہوں“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3321]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3321] [ترقيم الشركة 3301] [ترقيم العلميه 3282]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3322
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا مَعمَر، عن أيوب، عن القاسم بن محمد، عن أبي هريرة في قوله ﷿: ﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ﴾ [التوبة: 104] ، قال: إنَّ الله يَقبَلُ الصَّدقةَ إذا كانت من طيِّب، فيأخذُها بيمينه، وإنَّ الرجل لَيَتصدَّقُ بمثل اللُّقْمة، فيُربِّيها اللهُ له كما يُربِّي أحدُكم فَصِيلَه أو مُهْرَه، فَتَرْبُو في كفِّ الله -أو قال: في يد الله- حتى تكونَ مثلَ أُحدٍ (1) . قد اتفق الشيخانِ (2) على إخراج حديث أبي الحُباب سعيد بن يَسَار عن أبي هريرة بغير هذا اللفظ. هذا الحديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3283 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3283 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ﴾ ”کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات وصول کرتا ہے“ [سورة التوبة: 104] کے بارے میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ صدقہ قبول فرماتا ہے بشرطیکہ وہ پاکیزہ (حلال) کمائی سے ہو، تو وہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، اور یقیناً اگر کوئی شخص ایک لقمے کے برابر بھی صدقہ کرے تو اللہ اسے اس کے لیے اس طرح پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے یا گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کی ہتھیلی میں -یا فرمایا: اللہ کے ہاتھ میں- بڑھ کر احد پہاڑ جتنا ہو جاتا ہے“۔
شیخین نے اس حدیث کو ابو الحباب سعید بن یسار کی ابوہریرہ سے روایت کے ذریعے انہی الفاظ کے علاوہ (دوسرے الفاظ) سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3322]
شیخین نے اس حدیث کو ابو الحباب سعید بن یسار کی ابوہریرہ سے روایت کے ذریعے انہی الفاظ کے علاوہ (دوسرے الفاظ) سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3322]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وساقه هنا موقوفًا، وهو في الأصل مرفوع، هكذا وقع مرفوعًا في "مسند أحمد" 13/ (7634) بهذا الإسناد، إلّا أنه لم يذكر فيه الآية، وهو كذلك في "جامع معمر" برواية عبد الرزاق برقم (20050). وانظر تتمة تخريجه في "مسند أحمد".» [ترقيم الرساله 3322] [ترقيم الشركة 3302] [ترقيم العلميه 3283]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح وساقه هنا موقوفًا
113. الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
وہ مسجد جو تقویٰ پر قائم کی گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے
حدیث نمبر: 3323
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ وأبو عبد الله محمد بن عبد الله ابن دينار قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الله (1) بن عامر الأسلَمي، عن عِمْران بن أبي أنس، عن سَهْل بن سعد الساعدي، عن أُبيِّ بن كعب قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن المسجد الذي أُسِّسَ على التَّقوى، قال:"هو مَسجِدي هذا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه وشاهده حديث أبي سعيد الخُدْري أصحُّ منه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3284 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه وشاهده حديث أبي سعيد الخُدْري أصحُّ منه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3284 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسجد کے بارے میں پوچھا گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری یہی مسجد ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیث جو کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3323]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیث جو کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3323]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الأسلمي، لكنه لم ينفرد به فقد توبع عليه لكن من حديث سهل بن سعد بإسقاط أُبي بن كعب.» [ترقيم الرساله 3323] [ترقيم الشركة 3303] [ترقيم العلميه 3284]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3324
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا وَكيع، حدثنا أسامة بن زيد، عن عبد الرحمن ابن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه قال: المسجد الذي أُسِّسَ على التقوى مسجدُ رسول الله ﷺ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3285 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3285 - صحيح
سیدنا عبد الرحمن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3324]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد» [ترقيم الرساله 3324] [ترقيم الشركة 3304] [ترقيم العلميه 3285]
الحكم على الحديث: إسناده حسن