🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. أخبار الأنبياء ومناقبهم - ذِكْرُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
انبیاء کے حالات اور ان کی فضیلتیں — سیدنا آدم علیہ السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4036
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي وموسى بن الحسن بن عَبّاد، قالا: حدَّثنا عفان بن مُسلِم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، أن رسول الله ﷺ قال:"لما صَوَّرَ الله آدمَ تركَه، فجَعَل إبليسُ يُطِيفُ به، يَنظُر إليه، فلما رآه أجوفَ قال: ظَفِرتُ به، خَلْقٌ لا يَتمالَك" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3992 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کا جسم بنا لیا تو (کئی عرصہ تک) اسی طرح چھوڑے رکھا، شیطان نے اس کا چکر لگایا اور اس کی طرف (بڑی غور سے) دیکھا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے خالی ہے تو بولا: میں ایسی مخلوق پر کامیاب ہو گیا جو اپنے آپ کو روک نہیں سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4036]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4037
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا محمد بن أحمد بن النضر الأزدي، حدَّثنا معاوية بن عمرو، حدَّثنا زائدة، حدَّثنا عمار بن أبي معاوية البَجَلي، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: ما أُسكِنَ آدمُ الجنةَ إِلَّا ما بين صلاةِ العصر إلى غُروب الشمسِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3993 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا آدم علیہ السلام جنت میں صرف اتنی ہی دیر ٹھہرے جتنا وقت عصر سے مغرب کے درمیان ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4037]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4038
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا موسى بن هارون، حدَّثنا عمرٌو بن علي، حدَّثنا عِمران بن عُيَينة، أخبرنا عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: إِنَّ أول ما أهبَطَ الله آدمَ إلى أرض الهند (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3994 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سب سے پہلی وہ جگہ جہاں سیدنا آدم علیہ السلام کو اتارا گیا وہ ہندوستان کی سرزمین تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4038]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. أَطْيَبُ رِيحٍ فِي الْأَرْضِ الْهِنْدُ
زمین میں سب سے خوشبودار خوشبو: ہند
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4039
حدَّثنا محمد بن الحسن الكارِزِيّ، حدَّثنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا حجاج بن مِنْهال، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن حُميد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عباس، قال: قال علي بن أبي طالب: أطيبُ ريحٍ في الأرض الهندُ، أُهبط بها آدمُ ﷺ، فعَلِقَ شجرَها مِن ريح الجنة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3995 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سب سے زیادہ خوشبودار ہوا، سرزمین ہندوستان میں ہے۔ وہاں پر سیدنا آدم علیہ السلام کو اتارا گیا۔ آپ نے وہاں جنت کا خوشبودار پودا اگایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4039]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. ثِمَارُكُمْ هَذِهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ
تمہاری یہ کھجوریں جنت کے پھلوں میں سے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4040
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا هَوْذة بن خليفة، حدثنا عوف، عن قَسَامة بن زهير، عن أبي موسى (1) الأشعري، قال: إنَّ الله لما أخرج آدمَ من الجنة زوّده من ثمار الجنة، وعلمه صنعة كل شيء، فثمارُكم هذه من ثمار الجنة، غير أنَّ هذه تَغَيَرُ، وتلك لا تَغَيّرُ (2) . صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3996 - صحيح
سیدنا ابوبکر بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا تو ان کو جنتی پھل کھانے کے لئے دئیے اور آپ کو ہر چیز کی صنعت سکھائی تو تمہارے یہ پھل جنت کے پھل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ خراب ہو جاتے ہیں اور وہ خراب نہیں ہوتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4040]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَيَانُ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَآدَمَ
آسمانوں، زمین اور سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4041
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمَسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا هناد بن السَّرِي، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن أبي سعد (1) ، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ اليهود أتت النبي ﷺ، فسألته عن خَلْقٍ السماوات والأرض، فقال:"خلَقَ اللهُ الأرضَ يوم الأحد والاثنين، وخلق الله الجبال يوم الثلاثاء وما فيهنَّ من منافع، وخلَقَ يومَ الأربعاء الشجر والماء والمدائن والعُمران والخراب، فهذه أربعة، فقال ﷿: ﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا﴾ إلى آخر الآية قال الله ﷿: ﴿فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ﴾ [فصلت:9 - 10] وخلق يوم الخميس السماء، وخلَقَ يومَ الجمعة النجوم والشمس والقمر والملائكة، إلى ثلاث ساعات بقين منه، فخلَقَ في أول ساعة من هذه الثلاث ساعات الآجال حين يموتُ مَن مات، وفي الثانية ألقى الآفة على كل شيء مما ينتفع به الناسُ، وفي الثالثة آدم وأسكنه الجنة وأمر إبليس بالسجود له، وأخرجه منها في آخر ساعة" ثم قالت اليهود: ثم ماذا يا محمد؟ قال:"ثم استوى على العرش" قالوا: قد أصبت لو أتممت، قالوا: ثم استراح، قال: فغضب النبي ﷺ غضبًا شديدًا، فنزلت: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38) فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ﴾ [ق: 38 - 39] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3997 - أبو سعيد البقال قال ابن معين لا يكتب حديثه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے متعلق آپ سے سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو اور ان میں جتنے بھی منافع ہیں، سب کو منگل کے دن پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے بدھ کے دن درخت، پانی، میدان، آبادیاں اور جنگل پیدا کئے۔ یہ چار دن ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: قُلْ اَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَندَادًا ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ وَ جَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَ ٰبرَکَ فِیْھَا وَ قَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ) (حم السجدۃ: 10، 9) تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو وہ ہے سارے جہان کا رب، اور اس میں اس کے اوپر لنگر ڈالے اور اس میں برکت رکھی اور اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملا کر چار دن ہیں ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو اور جمعرات کے دن آسمان بنایا اور جمعہ کے دن ستارے، سورج، چاند اور فرشتے بنائے حتیٰ کہ اس دن کی صرف تین ساعتیں باقی رہ گئیں۔ تو ان تین ساعتوں میں سے پہلی ساعت میں موت کا وقت بنایا کہ کون کب مرے گا اور دوسری ساعت میں ہر اس چیز پر آفت پیدا کی جس سے انسان کو کوئی فائدہ ہو سکتا تھا اور تیسری ساعت میں آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھا اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرے اور اس ساعت کے آخری وقت میں آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال دیا۔ پھر یہودیوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پھر کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان بنایا۔ انہوں نے کہا: آپ نے بالکل درست فرمایا اگر بات پوری کر دیتے۔ انہوں نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے آرام کیا۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید ناراض ہوئے تب یہ آیت نازل ہوئی: وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (ق: 38، 39) اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی، تو ان کی باتوں پر صبر کرو ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4041]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4042
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عباد بن العوام، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عُتَيّ السَّعدي، عن أبي بن كعب، قال: كان آدم رجلًا طوالًا، كثير شعر الرأس، كأنه نخلةٌ جَوفاء (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3998 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا آدم علیہ السلام کھجور کے لمبے درخت کی طرح دراز قد تھے اور آپ کے سر کے بال بہت گھنے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4042]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4043
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا محمد بن بشر العَبْدي، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"خير يوم طلعت الشمسُ فيه يوم الجمعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه أهبط إلى الأرض" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقد أخرجاه (3) من حديث الزهري بغير هذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3999 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو زہری کی سند سے روایت کیا ہے اور الفاظ اس سے مختلف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4043]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِعَرَفَةَ
اللہ تعالیٰ کا عرفات میں سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے عہد لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4044
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكْرَم ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد الصائغ، حدثنا الحسين بن محمد المَرْوَرُّوذي، حدثنا جرير بن حازم، عن كُلثوم بن جبر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال:"أخذ الله الميثاق من ظَهْر آدم ﵇ بنَعْمان - يعني: بعَرَفة - فأَخرَجَ مِن صُلْبِهِ كلَّ ذُريَّةٍ ذَرَأها، فنثرهم بين يديه كالذَّرُ، ثم كلمهم قبلًا، وقال: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ إلى قوله: ﴿بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [الأعراف: 172 - 173] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4000 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے نعمان یعنی عرفات میں میثاق لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پشت سے وہ تمام مخلوق نکال لی جو اس نے پیدا کی ہے پھر ان کو آدم علیہ السلام کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی مانند پھیلا دیا پھر ان کو متوجہ کر کے ان سے فرمایا: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْآ بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ اَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَآ اَشْرَکَ ٰابَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِھِمْ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (الاعراف: 172,173) کیا میں تمہارا رب نہیں۔ سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی، یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4044]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
جب اللہ کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اسے جنت والوں کے عمل پر لگا دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4045
أخبرنا أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا القعنبي ويحيى بن بكير، عن مالك، عن زيد بن أبي أنيسة، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن مسلم بن يسار الجهني: أن عمر بن الخطاب سُئل عن هذه الآية: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (2)[الأعراف: 172] ، فقال عمر بن الخطاب: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنّ الله خَلَقَ آدمَ، ثم مسح ظهره، بيمينه، فاستخرج منه ذُرِّيَّةً، فقال: خلقتُ هؤلاء للجنة، وبعمل أهل الجنة يعملون، ثم مسح ظهره، فاستخرج منه ذُرِّيةً، فقال: خلقت هؤلاء للنار، وبعمل أهل النار يعملون"، فقال رجلٌ: يا رسول الله، ففيم العمل؟ قال:"إنَّ الله إذا خلَقَ العبد للجنة، استعمله بعمل أهل الجنة [حتى يموت على عمل من أعمال أهل الجنة] (1) فيدخل الجنةَ، وإذا خَلَقَ العبد للنارِ، استعمله بعمل أهل النار حتى يموتَ على عمل أهل النار، فيدخل النار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4001 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مسلم بن یسار الجہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ ٰادَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ پھر اپنے ہاتھ سے ان کی پشت کو مسلا اور اس میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے اعمال ہی کریں گے۔ دوبارہ پھر ان کی پشت کو مسلا اور اس میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: میں نے ان کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے عمل ہی کریں گے۔ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو عمل کس لئے ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو جنت کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے عمل بھی جنتیوں والے کرواتا ہے حتیٰ کہ جنتیوں والے اعمال پر ہی اس کا انتقال ہوتا ہے تو اس کو جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے اور جب وہ کسی بندے کو دوزخ کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے دوزخیوں والے اعمال کرواتا ہے حتیٰ کہ دوزخیوں والے اعمال پر اس کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کو دوزخ میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4045]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں